شیخ بھیکاری : ایک جانباز مجاہد آزادی ، جو ہنستے ہنسے تختہ دار پر چڑھ گیا ، مگر تاریخ نے فراموش کردیا

Jan 09, 2017 11:22 PM IST
1 of 7
  • ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی تحریک میں ایک نام شیخ بھیکاری کا بھی ہے ۔ جھارکھنڈ کے شیخ بھیکاری کو آج ہی دن ان کے ساتھی ٹکیت امرائوں سنگھ کے ساتھ پھانسی دیدی گئی تھی۔ لیکن کی ملک کی خاطر جان نچھاور کردینے والے اس مجاہد آزادی کو تاریخ نے فراموش کردیا ہے۔

    ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی تحریک میں ایک نام شیخ بھیکاری کا بھی ہے ۔ جھارکھنڈ کے شیخ بھیکاری کو آج ہی دن ان کے ساتھی ٹکیت امرائوں سنگھ کے ساتھ پھانسی دیدی گئی تھی۔ لیکن کی ملک کی خاطر جان نچھاور کردینے والے اس مجاہد آزادی کو تاریخ نے فراموش کردیا ہے۔

  • ملک کی آزادی کے لئے ہونے والی تحریک میں شہادت پانے والوں میں شیخ بھیکاری اور ٹکیٹ امرائوں سنگھ کا نام شامل ہے۔

    ملک کی آزادی کے لئے ہونے والی تحریک میں شہادت پانے والوں میں شیخ بھیکاری اور ٹکیٹ امرائوں سنگھ کا نام شامل ہے۔

  • ان دونوں جانبازوں کو انگریزی حکومت نے گرفتار کرکے آج ہی کے دن سن 1858 میں رانچی کے قریب چٹوپالو گھانٹی میں درخت پر لٹکاکر پھانسی دے دی تھی۔

    ان دونوں جانبازوں کو انگریزی حکومت نے گرفتار کرکے آج ہی کے دن سن 1858 میں رانچی کے قریب چٹوپالو گھانٹی میں درخت پر لٹکاکر پھانسی دے دی تھی۔

  • ہر سال کچھ سماجی و سیاسی تنظیموں کے لوگ یہاں پہنچ کرخراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، لیکن سرکاری سطح پر انہیں یاد نہیں کیا جاتا ہے۔

    ہر سال کچھ سماجی و سیاسی تنظیموں کے لوگ یہاں پہنچ کرخراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، لیکن سرکاری سطح پر انہیں یاد نہیں کیا جاتا ہے۔

  • شہید شیخ بھیکاری رانچی سے تقریباً 25 کیلومیٹر دور کھدیا نامی گائوں کے رہنے والے تھے ۔ یہ قصبہ شہید شیخ بھیکاری کے وارثین پر مشتمل ہے ۔ اس کے باوجود یہ قصبہ اور ان کے وارثین آج بھی پسماندگی کے شکار ہیں۔

    شہید شیخ بھیکاری رانچی سے تقریباً 25 کیلومیٹر دور کھدیا نامی گائوں کے رہنے والے تھے ۔ یہ قصبہ شہید شیخ بھیکاری کے وارثین پر مشتمل ہے ۔ اس کے باوجود یہ قصبہ اور ان کے وارثین آج بھی پسماندگی کے شکار ہیں۔

  • یوم شہادت کے موقع پر اس قصبہ اور رانچی میں مختلف سماجی تنظیموں کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔

    یوم شہادت کے موقع پر اس قصبہ اور رانچی میں مختلف سماجی تنظیموں کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔

  • ماہرین اور سماجی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ شہید شیخ بھیکاری کے نام پر ریاست میں ایسی یادگار قائم کی جائے گی ، جس سے نئی نسل فائدہ حاصل اٹھاسکے اور ملک کی خاطر پیش کی گئی ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جاسکے ۔(رپورٹ : نوشاد عالم )۔

    ماہرین اور سماجی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ شہید شیخ بھیکاری کے نام پر ریاست میں ایسی یادگار قائم کی جائے گی ، جس سے نئی نسل فائدہ حاصل اٹھاسکے اور ملک کی خاطر پیش کی گئی ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جاسکے ۔(رپورٹ : نوشاد عالم )۔

  • ملک کی آزادی کے لئے ہونے والی تحریک میں شہادت پانے والوں میں شیخ بھیکاری اور ٹکیٹ امرائوں سنگھ کا نام شامل ہے۔
  • ان دونوں جانبازوں کو انگریزی حکومت نے گرفتار کرکے آج ہی کے دن سن 1858 میں رانچی کے قریب چٹوپالو گھانٹی میں درخت پر لٹکاکر پھانسی دے دی تھی۔
  • ہر سال کچھ سماجی و سیاسی تنظیموں کے لوگ یہاں پہنچ کرخراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، لیکن سرکاری سطح پر انہیں یاد نہیں کیا جاتا ہے۔
  • شہید شیخ بھیکاری رانچی سے تقریباً 25 کیلومیٹر دور کھدیا نامی گائوں کے رہنے والے تھے ۔ یہ قصبہ شہید شیخ بھیکاری کے وارثین پر مشتمل ہے ۔ اس کے باوجود یہ قصبہ اور ان کے وارثین آج بھی پسماندگی کے شکار ہیں۔
  • یوم شہادت کے موقع پر اس قصبہ اور رانچی میں مختلف سماجی تنظیموں کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔
  • ماہرین اور سماجی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ شہید شیخ بھیکاری کے نام پر ریاست میں ایسی یادگار قائم کی جائے گی ، جس سے نئی نسل فائدہ حاصل اٹھاسکے اور ملک کی خاطر پیش کی گئی ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جاسکے ۔(رپورٹ : نوشاد عالم )۔

تازہ ترین تصاویر