ایک مسیحا ایسا بھی : جذام سے متاثرہ افراد کی کسی معاوضہ کے بغیر دن رات خدمت میں مصروف ہیں بسماں

Mar 12, 2017 04:35 PM IST
1 of 13
  • سماج میں آج بھی ایسی خواتین موجود ہیں ، جو انسانیت کی خدمت کو ہی نجات کا راستہ سمجھتی ہیں۔ گلبرگہ میں بھی بسماں نامی خاتون نے جذام کے مریضوں کی خدمت کیلئے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ بسماں جذام سے متاثرہ چالیس سے زائد خواتین کی زچگی بھی کراچکی ہیں ۔

    سماج میں آج بھی ایسی خواتین موجود ہیں ، جو انسانیت کی خدمت کو ہی نجات کا راستہ سمجھتی ہیں۔ گلبرگہ میں بھی بسماں نامی خاتون نے جذام کے مریضوں کی خدمت کیلئے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ بسماں جذام سے متاثرہ چالیس سے زائد خواتین کی زچگی بھی کراچکی ہیں ۔

  • چوبیسوں گھنٹے یہ جذام کے مریضوں کی خدمت میں ہی لگی رہتی ہیں ۔

    چوبیسوں گھنٹے یہ جذام کے مریضوں کی خدمت میں ہی لگی رہتی ہیں ۔

  • ا پنوں سے ٹھکرائے جانے کے بعد غیروں سے محبت ملتی ہے تو دل سے دعائیں ہی نکلتی ہیں۔ جذام سے متاثرہ افراد بسماں کو ایک مسیحا قرار دے رہے ہیں ۔

    ا پنوں سے ٹھکرائے جانے کے بعد غیروں سے محبت ملتی ہے تو دل سے دعائیں ہی نکلتی ہیں۔ جذام سے متاثرہ افراد بسماں کو ایک مسیحا قرار دے رہے ہیں ۔

  • اس بستی کے بے بس ولاچار افراد کو قدرت نے درد دیا ، تو اپنے بے درد ہو گئے۔  ان کو جذام ہوگیا توخود ساختہ مہذب سماج نے انھیں نکال باہر کر دیا۔ آج کانٹے ہی کانٹے ان کا مقدر بن چکے ہیں۔

    اس بستی کے بے بس ولاچار افراد کو قدرت نے درد دیا ، تو اپنے بے درد ہو گئے۔ ان کو جذام ہوگیا توخود ساختہ مہذب سماج نے انھیں نکال باہر کر دیا۔ آج کانٹے ہی کانٹے ان کا مقدر بن چکے ہیں۔

  •  جذام کے مریضوں کے لیے شیخ روضہ میں بنائی گئی سرکاری کالونی ہی ان کا مسکن ہے۔

    جذام کے مریضوں کے لیے شیخ روضہ میں بنائی گئی سرکاری کالونی ہی ان کا مسکن ہے۔

  • یہاں ان کی اولادیں یا رشتہ داران کی دیکھ بھال کو نہیں آتے ، پھر بھی یہ لوگ لاوارث نہیں ہیں ۔ کیونکہ کوئی تو ہے خدا کا بھیجا ہوا جو انھیں اپنا سمجھتا ہے۔

    یہاں ان کی اولادیں یا رشتہ داران کی دیکھ بھال کو نہیں آتے ، پھر بھی یہ لوگ لاوارث نہیں ہیں ۔ کیونکہ کوئی تو ہے خدا کا بھیجا ہوا جو انھیں اپنا سمجھتا ہے۔

  •  ہوش سنبھالنے کے سا تھ ہی بسماں ان معذوروں کی خدمت کررہی ہیں ۔

    ہوش سنبھالنے کے سا تھ ہی بسماں ان معذوروں کی خدمت کررہی ہیں ۔

  •  اس خدمت کے لیے انھیں کہیں سے کوئی معاوضہ، مشاہرہ یا تنخواہ نہیں ملتی ۔

    اس خدمت کے لیے انھیں کہیں سے کوئی معاوضہ، مشاہرہ یا تنخواہ نہیں ملتی ۔

  •  عموما جذام کے مریضوں کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے ۔  تنگ نظر افراد ان معذوروں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ خود ان سے دور بھاگتے ہیں اور ان کو قریب آنے نہیں دیتے۔

    عموما جذام کے مریضوں کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے ۔ تنگ نظر افراد ان معذوروں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ خود ان سے دور بھاگتے ہیں اور ان کو قریب آنے نہیں دیتے۔

  • اسے بسماں کی فراخدلی ہی کہئے کہ وہ ان مریضوں کی اپنا ئیت کے ساتھ تیمارداری کر رہی ہیں ۔

    اسے بسماں کی فراخدلی ہی کہئے کہ وہ ان مریضوں کی اپنا ئیت کے ساتھ تیمارداری کر رہی ہیں ۔

  •  بسماں کے مطابق ان کے والدین بھی جذام سے متاثر تھے ، اس لیے وہ ہر ایک متاثر کو اپنے والد یا والدہ کے برابر مانتی  ہیں ۔

    بسماں کے مطابق ان کے والدین بھی جذام سے متاثر تھے ، اس لیے وہ ہر ایک متاثر کو اپنے والد یا والدہ کے برابر مانتی ہیں ۔

  • بسماں کے شوہر بھی ان متاثرین کی خدمت میں لگے رہتے ہیں ۔

    بسماں کے شوہر بھی ان متاثرین کی خدمت میں لگے رہتے ہیں ۔

  • بسماں سماج کے اس اندیشے کو مسترد کرتی ہیں کہ جذام چھونے سے پھیلتا ہے یا یہ ایک متعدی بیماری ہے۔

    بسماں سماج کے اس اندیشے کو مسترد کرتی ہیں کہ جذام چھونے سے پھیلتا ہے یا یہ ایک متعدی بیماری ہے۔

  • چوبیسوں گھنٹے یہ جذام کے مریضوں کی خدمت میں ہی لگی رہتی ہیں ۔
  • ا پنوں سے ٹھکرائے جانے کے بعد غیروں سے محبت ملتی ہے تو دل سے دعائیں ہی نکلتی ہیں۔ جذام سے متاثرہ افراد بسماں کو ایک مسیحا قرار دے رہے ہیں ۔
  • اس بستی کے بے بس ولاچار افراد کو قدرت نے درد دیا ، تو اپنے بے درد ہو گئے۔  ان کو جذام ہوگیا توخود ساختہ مہذب سماج نے انھیں نکال باہر کر دیا۔ آج کانٹے ہی کانٹے ان کا مقدر بن چکے ہیں۔
  •  جذام کے مریضوں کے لیے شیخ روضہ میں بنائی گئی سرکاری کالونی ہی ان کا مسکن ہے۔
  • یہاں ان کی اولادیں یا رشتہ داران کی دیکھ بھال کو نہیں آتے ، پھر بھی یہ لوگ لاوارث نہیں ہیں ۔ کیونکہ کوئی تو ہے خدا کا بھیجا ہوا جو انھیں اپنا سمجھتا ہے۔
  •  ہوش سنبھالنے کے سا تھ ہی بسماں ان معذوروں کی خدمت کررہی ہیں ۔
  •  اس خدمت کے لیے انھیں کہیں سے کوئی معاوضہ، مشاہرہ یا تنخواہ نہیں ملتی ۔
  •  عموما جذام کے مریضوں کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے ۔  تنگ نظر افراد ان معذوروں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ خود ان سے دور بھاگتے ہیں اور ان کو قریب آنے نہیں دیتے۔
  • اسے بسماں کی فراخدلی ہی کہئے کہ وہ ان مریضوں کی اپنا ئیت کے ساتھ تیمارداری کر رہی ہیں ۔
  •  بسماں کے مطابق ان کے والدین بھی جذام سے متاثر تھے ، اس لیے وہ ہر ایک متاثر کو اپنے والد یا والدہ کے برابر مانتی  ہیں ۔
  • بسماں کے شوہر بھی ان متاثرین کی خدمت میں لگے رہتے ہیں ۔
  • بسماں سماج کے اس اندیشے کو مسترد کرتی ہیں کہ جذام چھونے سے پھیلتا ہے یا یہ ایک متعدی بیماری ہے۔

تازہ ترین تصاویر