کرناٹک : پینے کے پانی کی شدید قلت ، دیہاتوں میں بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں لوگ

Mar 03, 2017 09:38 PM IST
1 of 7
  • کرناٹک میں پینے کے پانی کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جارہا ہے ۔ ـ لوگوں کو ایک گھڑا پانی کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ ـ گدگ ضلع میں لوگ پینے کے پانی کے لیے کافی پریشان ہیں ۔ ـ ضلع میں بوند بوند پانی کیلئے ترسنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ـ

    کرناٹک میں پینے کے پانی کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جارہا ہے ۔ ـ لوگوں کو ایک گھڑا پانی کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ ـ گدگ ضلع میں لوگ پینے کے پانی کے لیے کافی پریشان ہیں ۔ ـ ضلع میں بوند بوند پانی کیلئے ترسنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ـ

  • شمالی کرناٹک کے گدگ ضلع کے چکاوڈٹی دیہات میں پینے کے پانی کے لیے جانوروں کو بھی در در بھٹکنا پڑرہا ہے ۔ـ اس دیہات میں تقریباً تین ہزار لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔

    شمالی کرناٹک کے گدگ ضلع کے چکاوڈٹی دیہات میں پینے کے پانی کے لیے جانوروں کو بھی در در بھٹکنا پڑرہا ہے ۔ـ اس دیہات میں تقریباً تین ہزار لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔

  • لوگوں کو روزانہ پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ـ شہر میں جس طرح ہر گھر میں ایک گاڑی ہوتی ہے۔ اسی طری اس دیہات میں ہر گھر میں پانی کے گھڑے لادنے والی سائیکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ـ لوگ انہیں سائیکلوں میں پانی کے گھڑے لادکر لے جاتے ہیں۔

    لوگوں کو روزانہ پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ـ شہر میں جس طرح ہر گھر میں ایک گاڑی ہوتی ہے۔ اسی طری اس دیہات میں ہر گھر میں پانی کے گھڑے لادنے والی سائیکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ـ لوگ انہیں سائیکلوں میں پانی کے گھڑے لادکر لے جاتے ہیں۔

  • مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ روزانہ دوپہر تین بجے سے شام پانچ بجے اور دیر رات دو بجے سے صبح پانچ بجے تک تھری فیس بجلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔ اسی وقت پورے دیہات کو بورویل کا پانی سپلائی ہوتا ہے ۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ روزانہ دوپہر تین بجے سے شام پانچ بجے اور دیر رات دو بجے سے صبح پانچ بجے تک تھری فیس بجلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔ اسی وقت پورے دیہات کو بورویل کا پانی سپلائی ہوتا ہے ۔

  •  ـ چند گھڑے پانی کے لیے لوگوں کو نیندیں قربان کرنی پڑ رہی ہیں ۔ ـ صرف چھ گھڑے پانی میں کس طرح زندگی گزاری جاسکتی ہے ، کوئی یہاں آکر دیکھے۔

    ـ چند گھڑے پانی کے لیے لوگوں کو نیندیں قربان کرنی پڑ رہی ہیں ۔ ـ صرف چھ گھڑے پانی میں کس طرح زندگی گزاری جاسکتی ہے ، کوئی یہاں آکر دیکھے۔

  • یہی پانی نہ صرف پینے بلکہ پکوان، کپڑوں کی صفائی اور جانوروں کی پینے کے لیے استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ـ پانی کے معاملہ کو لے کر مقامی عوام نے پنچایت کا بھی بائیکاٹ کیا ہے ۔

    یہی پانی نہ صرف پینے بلکہ پکوان، کپڑوں کی صفائی اور جانوروں کی پینے کے لیے استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ـ پانی کے معاملہ کو لے کر مقامی عوام نے پنچایت کا بھی بائیکاٹ کیا ہے ۔

  • مقررہ وقت پر بارش نہ ہونے کی وجہ سے آج کرناٹک کے عوام کو بوند بوند پانی کے لیے ترسنا پڑتا ہے ۔ـ گرمی کے موسم میں لوگوں کی پریشانی مزید بڑھ جائے گی ، ـ اسلئے اس سے قبل ہی عوامی نمائندوں اورمتعلقہ افسروں کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے لئے مناسب اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

    مقررہ وقت پر بارش نہ ہونے کی وجہ سے آج کرناٹک کے عوام کو بوند بوند پانی کے لیے ترسنا پڑتا ہے ۔ـ گرمی کے موسم میں لوگوں کی پریشانی مزید بڑھ جائے گی ، ـ اسلئے اس سے قبل ہی عوامی نمائندوں اورمتعلقہ افسروں کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے لئے مناسب اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

  • شمالی کرناٹک کے گدگ ضلع کے چکاوڈٹی دیہات میں پینے کے پانی کے لیے جانوروں کو بھی در در بھٹکنا پڑرہا ہے ۔ـ اس دیہات میں تقریباً تین ہزار لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔
  • لوگوں کو روزانہ پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ـ شہر میں جس طرح ہر گھر میں ایک گاڑی ہوتی ہے۔ اسی طری اس دیہات میں ہر گھر میں پانی کے گھڑے لادنے والی سائیکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ـ لوگ انہیں سائیکلوں میں پانی کے گھڑے لادکر لے جاتے ہیں۔
  • مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ روزانہ دوپہر تین بجے سے شام پانچ بجے اور دیر رات دو بجے سے صبح پانچ بجے تک تھری فیس بجلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔ اسی وقت پورے دیہات کو بورویل کا پانی سپلائی ہوتا ہے ۔
  •  ـ چند گھڑے پانی کے لیے لوگوں کو نیندیں قربان کرنی پڑ رہی ہیں ۔ ـ صرف چھ گھڑے پانی میں کس طرح زندگی گزاری جاسکتی ہے ، کوئی یہاں آکر دیکھے۔
  • یہی پانی نہ صرف پینے بلکہ پکوان، کپڑوں کی صفائی اور جانوروں کی پینے کے لیے استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ـ پانی کے معاملہ کو لے کر مقامی عوام نے پنچایت کا بھی بائیکاٹ کیا ہے ۔
  • مقررہ وقت پر بارش نہ ہونے کی وجہ سے آج کرناٹک کے عوام کو بوند بوند پانی کے لیے ترسنا پڑتا ہے ۔ـ گرمی کے موسم میں لوگوں کی پریشانی مزید بڑھ جائے گی ، ـ اسلئے اس سے قبل ہی عوامی نمائندوں اورمتعلقہ افسروں کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے لئے مناسب اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

تازہ ترین تصاویر