سوئٹزرلینڈ سے کم نہیں سری نگر کا یہ باغ گل لالہ ، 46اقسام کے 1.5ملین پھولوں سے ہوسکتے ہیں آپ لطف اندوز

Apr 02, 2017 11:18 AM IST
1 of 10
  • گرمائی دارالحکومت سری نگر میں زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اندراگاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن کو ہفتہ کے روز سیاحوں اور عام لوگوں کے لئے کھول دیا گیا۔600کنال اراضی پر پھیلے ہوئے اس باغ گل لالہ میں 46اقسام کے 1.5ملین پھول کھلے ہوئے ہیں۔

    گرمائی دارالحکومت سری نگر میں زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اندراگاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن کو ہفتہ کے روز سیاحوں اور عام لوگوں کے لئے کھول دیا گیا۔600کنال اراضی پر پھیلے ہوئے اس باغ گل لالہ میں 46اقسام کے 1.5ملین پھول کھلے ہوئے ہیں۔

  • ریاستی محکمہ سیاحت کے سکریٹری فاروق شاہ نے کہا کہ اس باغ میں ’بہارِ کشمیر‘ کے تحت ایک 15 روزہ ’گل لالہ فیسٹول‘کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔

    ریاستی محکمہ سیاحت کے سکریٹری فاروق شاہ نے کہا کہ اس باغ میں ’بہارِ کشمیر‘ کے تحت ایک 15 روزہ ’گل لالہ فیسٹول‘کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔

  • ا س دوران سیاحوں کی کشش کے لئے باغ میں کئی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔با غ کی سیاحت پر آنے والے لوگ صوفی اورلوک موسیقی سے محظو ظ ہونے کے علاوہ جے کے ٹی ڈی سی،ہینڈی کرافٹس اوردیگر محکموں کی طرف سے لگائے گئے سٹالوں سے اپنی من پسند مصنوعات خرید سکتے ہیں۔

    ا س دوران سیاحوں کی کشش کے لئے باغ میں کئی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔با غ کی سیاحت پر آنے والے لوگ صوفی اورلوک موسیقی سے محظو ظ ہونے کے علاوہ جے کے ٹی ڈی سی،ہینڈی کرافٹس اوردیگر محکموں کی طرف سے لگائے گئے سٹالوں سے اپنی من پسند مصنوعات خرید سکتے ہیں۔

  • اس باغ میں داخل ہونے کے لئے بالغان کے لئے 50روپے اور بچوں کے لئے 20روپے فیس مقرر ہے۔ یہ باغ سیاحوں کی سیر وتفریح کے لئے قریب ایک ماہ تک کھلا رہے گا۔

    اس باغ میں داخل ہونے کے لئے بالغان کے لئے 50روپے اور بچوں کے لئے 20روپے فیس مقرر ہے۔ یہ باغ سیاحوں کی سیر وتفریح کے لئے قریب ایک ماہ تک کھلا رہے گا۔

  • باغ گل لالہ میں سرخ، پیلے ، سنتری، جامنی، سفید، گلابی، طوطے ، پیلے، دو رنگی اور سہ رنگی پھولوں نے پہلے ہی چاروں اطراف دھنک کے رنگوں کے دلکش نظارے بکھیردیے ہیں‘۔

    باغ گل لالہ میں سرخ، پیلے ، سنتری، جامنی، سفید، گلابی، طوطے ، پیلے، دو رنگی اور سہ رنگی پھولوں نے پہلے ہی چاروں اطراف دھنک کے رنگوں کے دلکش نظارے بکھیردیے ہیں‘۔

  • محکمہ پھولبانی کے اہلکاروں کے مطابق ہمیں امید ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاح ایشیا کے اس سب سے بڑے باغ گل لالہ کی سیر کرنے کی غرض سے وادی کا رخ کریں گے۔

    محکمہ پھولبانی کے اہلکاروں کے مطابق ہمیں امید ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاح ایشیا کے اس سب سے بڑے باغ گل لالہ کی سیر کرنے کی غرض سے وادی کا رخ کریں گے۔

  •  یہ باغ 30 ہیکٹر (602 کنال) رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں سے 18 ہیکٹر کو سیاحوں کی دلچسپی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ 124 کنال زمین پر ٹیولپ بیڈ بنائے جاتے ہیں۔ اور باقی اراضی پر پارکیں بنائی گئی ہیں۔

    یہ باغ 30 ہیکٹر (602 کنال) رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں سے 18 ہیکٹر کو سیاحوں کی دلچسپی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ 124 کنال زمین پر ٹیولپ بیڈ بنائے جاتے ہیں۔ اور باقی اراضی پر پارکیں بنائی گئی ہیں۔

  • گل لالہ کا پھول بہت ہی نازک ہونے کے ساتھ ساتھ اِس کی زندگی صرف 15 سے 17 دنوں پر ہی محیط ہوتی ہے۔

    گل لالہ کا پھول بہت ہی نازک ہونے کے ساتھ ساتھ اِس کی زندگی صرف 15 سے 17 دنوں پر ہی محیط ہوتی ہے۔

  • تاہم ٹیولپ کی زندگی اس کے قسم اور موسمی صورتحال پر منحصر ہے۔ اگر موسم سرد رہا تو اس کی زندگی بڑھ سکتی ہے۔ اگر درجہ حرارت 20 ڈگری سے اوپر چلا گیا تو اس کی زندگی کچھ دن مختصر ہوجاتی ہے‘۔

    تاہم ٹیولپ کی زندگی اس کے قسم اور موسمی صورتحال پر منحصر ہے۔ اگر موسم سرد رہا تو اس کی زندگی بڑھ سکتی ہے۔ اگر درجہ حرارت 20 ڈگری سے اوپر چلا گیا تو اس کی زندگی کچھ دن مختصر ہوجاتی ہے‘۔

  • اس مشہور باغ گل لالہ کا افتتاح یو پی اے چیرپرسن اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے 29 مارچ 2008 کو انجام دیا تھا۔ یہ باغ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے ذہن کی پیداوار ہے جنہوں نے اس پر سنہ 2005 میں کام شروع کروایا تھا۔

    اس مشہور باغ گل لالہ کا افتتاح یو پی اے چیرپرسن اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے 29 مارچ 2008 کو انجام دیا تھا۔ یہ باغ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے ذہن کی پیداوار ہے جنہوں نے اس پر سنہ 2005 میں کام شروع کروایا تھا۔

  • ریاستی محکمہ سیاحت کے سکریٹری فاروق شاہ نے کہا کہ اس باغ میں ’بہارِ کشمیر‘ کے تحت ایک 15 روزہ ’گل لالہ فیسٹول‘کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔
  • ا س دوران سیاحوں کی کشش کے لئے باغ میں کئی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔با غ کی سیاحت پر آنے والے لوگ صوفی اورلوک موسیقی سے محظو ظ ہونے کے علاوہ جے کے ٹی ڈی سی،ہینڈی کرافٹس اوردیگر محکموں کی طرف سے لگائے گئے سٹالوں سے اپنی من پسند مصنوعات خرید سکتے ہیں۔
  • اس باغ میں داخل ہونے کے لئے بالغان کے لئے 50روپے اور بچوں کے لئے 20روپے فیس مقرر ہے۔ یہ باغ سیاحوں کی سیر وتفریح کے لئے قریب ایک ماہ تک کھلا رہے گا۔
  • باغ گل لالہ میں سرخ، پیلے ، سنتری، جامنی، سفید، گلابی، طوطے ، پیلے، دو رنگی اور سہ رنگی پھولوں نے پہلے ہی چاروں اطراف دھنک کے رنگوں کے دلکش نظارے بکھیردیے ہیں‘۔
  • محکمہ پھولبانی کے اہلکاروں کے مطابق ہمیں امید ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاح ایشیا کے اس سب سے بڑے باغ گل لالہ کی سیر کرنے کی غرض سے وادی کا رخ کریں گے۔
  •  یہ باغ 30 ہیکٹر (602 کنال) رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں سے 18 ہیکٹر کو سیاحوں کی دلچسپی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ 124 کنال زمین پر ٹیولپ بیڈ بنائے جاتے ہیں۔ اور باقی اراضی پر پارکیں بنائی گئی ہیں۔
  • گل لالہ کا پھول بہت ہی نازک ہونے کے ساتھ ساتھ اِس کی زندگی صرف 15 سے 17 دنوں پر ہی محیط ہوتی ہے۔
  • تاہم ٹیولپ کی زندگی اس کے قسم اور موسمی صورتحال پر منحصر ہے۔ اگر موسم سرد رہا تو اس کی زندگی بڑھ سکتی ہے۔ اگر درجہ حرارت 20 ڈگری سے اوپر چلا گیا تو اس کی زندگی کچھ دن مختصر ہوجاتی ہے‘۔
  • اس مشہور باغ گل لالہ کا افتتاح یو پی اے چیرپرسن اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے 29 مارچ 2008 کو انجام دیا تھا۔ یہ باغ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے ذہن کی پیداوار ہے جنہوں نے اس پر سنہ 2005 میں کام شروع کروایا تھا۔

تازہ ترین تصاویر