جانئے کون ہیں ولی عہد محمد بن سلمان ، جو بدل رہے ہیں سعودی عرب کا چہرہ

Nov 12, 2017 08:49 PM IST
1 of 10
  • سعودی عرب کے ولی عہد بننے سے قبل شاید ہی کسی نے شہزادہ محمد بن سلمان کا نام سنا ہوگا ، لیکن اس وقت سے لے کر اب تک 32 سال کایہ شہزادہ سعودی حکومت کی سب سے طاقتور شخصیت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے ۔ آئیے جانتے ہیں شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں ۔ (تصاویر : گیٹی امیجز ) ۔

    سعودی عرب کے ولی عہد بننے سے قبل شاید ہی کسی نے شہزادہ محمد بن سلمان کا نام سنا ہوگا ، لیکن اس وقت سے لے کر اب تک 32 سال کایہ شہزادہ سعودی حکومت کی سب سے طاقتور شخصیت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے ۔ آئیے جانتے ہیں شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں ۔ (تصاویر : گیٹی امیجز ) ۔

  • سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ذریعہ چھیڑی گئی بدعنوانی مہم میں ملک کے متعدد شہزادوں سمیت اعلی افسران پر شکنجہ کستا جارہا ہے ۔ بدعنوانی کے الزامات میں سعودی کے امیر ترین شخص الولید بن طلال بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں شہزادہ مطب بھی زد میں ہیں ، جنہیں پچھلے ہفتہ ہی نیشنل گارڈ چیف کے عہدہ سے ہٹادیا گیا تھا ۔

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ذریعہ چھیڑی گئی بدعنوانی مہم میں ملک کے متعدد شہزادوں سمیت اعلی افسران پر شکنجہ کستا جارہا ہے ۔ بدعنوانی کے الزامات میں سعودی کے امیر ترین شخص الولید بن طلال بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں شہزادہ مطب بھی زد میں ہیں ، جنہیں پچھلے ہفتہ ہی نیشنل گارڈ چیف کے عہدہ سے ہٹادیا گیا تھا ۔

  • تاہم بدعنوانی مخالف مہم کی وجہ سے محمد بن سلمان تنقید کی زد پر بھی آگئے ہیں اور اس کو اقتدار کیلئے رسہ کشی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔  جانکاروں کا ماننا ہے کہ یہ بدعنوانی مخالف مہم کم اور اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹانے کی مہم زیادہ لگتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اندر سینکڑوں افراد کی گرفتاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اپنے مخالفین کو راہ سے ہٹانے کی ہی ایک کوشش ہے ۔

    تاہم بدعنوانی مخالف مہم کی وجہ سے محمد بن سلمان تنقید کی زد پر بھی آگئے ہیں اور اس کو اقتدار کیلئے رسہ کشی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ یہ بدعنوانی مخالف مہم کم اور اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹانے کی مہم زیادہ لگتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اندر سینکڑوں افراد کی گرفتاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اپنے مخالفین کو راہ سے ہٹانے کی ہی ایک کوشش ہے ۔

  • شہزادہ محمد بن سلمان کی پیدائش 31 اگست 1985 کو ہوئی تھی اور وہ شاہ سلمان کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ ریاض میں واقع کنگ سعود یونیورسٹی سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد محمد بن سلمان نے متعدد سرکاری محکموں میں کام کیا ۔

    شہزادہ محمد بن سلمان کی پیدائش 31 اگست 1985 کو ہوئی تھی اور وہ شاہ سلمان کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ ریاض میں واقع کنگ سعود یونیورسٹی سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد محمد بن سلمان نے متعدد سرکاری محکموں میں کام کیا ۔

  • محمد بن سلمان کی ایک اہلیہ ہیں ، جن سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔ شاہ سلمان نے 2015 میں عہدہ سنبھالتے ہی دو اہم تبدیلیاں کی تھیں اور اپنے بیٹے کو اقتدار کے مزید قریب کردیا تھا ۔ اس وقت شہزادہ سلمان صرف 29 سال کے تھے اور دنیا کے سب سے کم عمر وزیر دفاع بنے تھے ۔

    محمد بن سلمان کی ایک اہلیہ ہیں ، جن سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔ شاہ سلمان نے 2015 میں عہدہ سنبھالتے ہی دو اہم تبدیلیاں کی تھیں اور اپنے بیٹے کو اقتدار کے مزید قریب کردیا تھا ۔ اس وقت شہزادہ سلمان صرف 29 سال کے تھے اور دنیا کے سب سے کم عمر وزیر دفاع بنے تھے ۔

  • وزارت دفاع کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے مارچ 2015 میں یمن میں جنگ کا اعلان کردیا ۔ حوثی باغیوں نے راجدھانی صنعا سمیت یمن کے کئی علاقوں پر قبضہ لرکیا اور یمن کے صدر عبد الرحمان منصور کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور سعودی عرب میں انہوں نے پناہ لی تھی ۔

    وزارت دفاع کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے مارچ 2015 میں یمن میں جنگ کا اعلان کردیا ۔ حوثی باغیوں نے راجدھانی صنعا سمیت یمن کے کئی علاقوں پر قبضہ لرکیا اور یمن کے صدر عبد الرحمان منصور کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور سعودی عرب میں انہوں نے پناہ لی تھی ۔

  • ولی عہد محمد بن سلمان نے بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی اور سماجی اصلاح کا کام شروع کیا ، جس کا مقصد سعودی عرب کے تیل پر انحصار کو کم کرنا تھا ۔ محمد بن سلمان نے ویزن 2030 نام سے ملک میں کئی منصوبے شروع کئے ، جس کے تحت 2020 تک سعودی عرب کا تیل پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان اپنے ویزن کو لے کر پوری طرح مطمئن ہیں اور جو کوئی ان کی راہ میں روکاوٹ بنے گا ، اسے راستے سے ہٹادیا جائے گا۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نے بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی اور سماجی اصلاح کا کام شروع کیا ، جس کا مقصد سعودی عرب کے تیل پر انحصار کو کم کرنا تھا ۔ محمد بن سلمان نے ویزن 2030 نام سے ملک میں کئی منصوبے شروع کئے ، جس کے تحت 2020 تک سعودی عرب کا تیل پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان اپنے ویزن کو لے کر پوری طرح مطمئن ہیں اور جو کوئی ان کی راہ میں روکاوٹ بنے گا ، اسے راستے سے ہٹادیا جائے گا۔

  • انہوں نے اس کیلئے ریگستان میں نصف کھرب ڈالر کا ایک شہر بسانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ اس شہر میں خواتین اور مردو کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی آزادی ہوگی ۔ اس سے پہلے وہاں ایسی باتیں کبھی نہیں سنی گئی تھیں۔

    انہوں نے اس کیلئے ریگستان میں نصف کھرب ڈالر کا ایک شہر بسانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ اس شہر میں خواتین اور مردو کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی آزادی ہوگی ۔ اس سے پہلے وہاں ایسی باتیں کبھی نہیں سنی گئی تھیں۔

  • محمد بن سلمان: تصویر، پی ٹی آئی

    محمد بن سلمان: تصویر، پی ٹی آئی

  • محمد بن سلمان خواتین کو آزادی دینے کے حق میں بھی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی ہی وجہ سے سعودی عرب میں خواتین کو کھیل میدانوں میں جانے اور ڈرائیونگ کرنے جیسی آزادی ملنے جارہی ہے ۔

    محمد بن سلمان خواتین کو آزادی دینے کے حق میں بھی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی ہی وجہ سے سعودی عرب میں خواتین کو کھیل میدانوں میں جانے اور ڈرائیونگ کرنے جیسی آزادی ملنے جارہی ہے ۔

  • سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ذریعہ چھیڑی گئی بدعنوانی مہم میں ملک کے متعدد شہزادوں سمیت اعلی افسران پر شکنجہ کستا جارہا ہے ۔ بدعنوانی کے الزامات میں سعودی کے امیر ترین شخص الولید بن طلال بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں شہزادہ مطب بھی زد میں ہیں ، جنہیں پچھلے ہفتہ ہی نیشنل گارڈ چیف کے عہدہ سے ہٹادیا گیا تھا ۔
  • تاہم بدعنوانی مخالف مہم کی وجہ سے محمد بن سلمان تنقید کی زد پر بھی آگئے ہیں اور اس کو اقتدار کیلئے رسہ کشی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔  جانکاروں کا ماننا ہے کہ یہ بدعنوانی مخالف مہم کم اور اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹانے کی مہم زیادہ لگتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اندر سینکڑوں افراد کی گرفتاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اپنے مخالفین کو راہ سے ہٹانے کی ہی ایک کوشش ہے ۔
  • شہزادہ محمد بن سلمان کی پیدائش 31 اگست 1985 کو ہوئی تھی اور وہ شاہ سلمان کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ ریاض میں واقع کنگ سعود یونیورسٹی سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد محمد بن سلمان نے متعدد سرکاری محکموں میں کام کیا ۔
  • محمد بن سلمان کی ایک اہلیہ ہیں ، جن سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔ شاہ سلمان نے 2015 میں عہدہ سنبھالتے ہی دو اہم تبدیلیاں کی تھیں اور اپنے بیٹے کو اقتدار کے مزید قریب کردیا تھا ۔ اس وقت شہزادہ سلمان صرف 29 سال کے تھے اور دنیا کے سب سے کم عمر وزیر دفاع بنے تھے ۔
  • وزارت دفاع کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے مارچ 2015 میں یمن میں جنگ کا اعلان کردیا ۔ حوثی باغیوں نے راجدھانی صنعا سمیت یمن کے کئی علاقوں پر قبضہ لرکیا اور یمن کے صدر عبد الرحمان منصور کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور سعودی عرب میں انہوں نے پناہ لی تھی ۔
  • ولی عہد محمد بن سلمان نے بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی اور سماجی اصلاح کا کام شروع کیا ، جس کا مقصد سعودی عرب کے تیل پر انحصار کو کم کرنا تھا ۔ محمد بن سلمان نے ویزن 2030 نام سے ملک میں کئی منصوبے شروع کئے ، جس کے تحت 2020 تک سعودی عرب کا تیل پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان اپنے ویزن کو لے کر پوری طرح مطمئن ہیں اور جو کوئی ان کی راہ میں روکاوٹ بنے گا ، اسے راستے سے ہٹادیا جائے گا۔
  • انہوں نے اس کیلئے ریگستان میں نصف کھرب ڈالر کا ایک شہر بسانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ اس شہر میں خواتین اور مردو کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی آزادی ہوگی ۔ اس سے پہلے وہاں ایسی باتیں کبھی نہیں سنی گئی تھیں۔
  • محمد بن سلمان: تصویر، پی ٹی آئی
  • محمد بن سلمان خواتین کو آزادی دینے کے حق میں بھی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی ہی وجہ سے سعودی عرب میں خواتین کو کھیل میدانوں میں جانے اور ڈرائیونگ کرنے جیسی آزادی ملنے جارہی ہے ۔

تازہ ترین تصاویر