کیوں کیمرے کے سامنے آئے سپریم کورٹ کے ججز ، 10 پوائنٹس میں جانیں پورا تنازع

Jan 12, 2018 04:36 PM IST
1 of 11
  • ملک کی عدالت عظمی اپنے تاریخی فیصلوں سے اور احکامات سے عوام کے دل و دماغ میں ایک اچھی شبیہ بناچکی ہے ۔ آج عوام کی اسی عدالت سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں اور اس پر ہی ان کا اعتماد ہے ۔ لیکن 12 جنوری 2018 کا دن ہندوستانی عدالتی نظام کی تاریخ میں ایک تنازع کی وجہ سے درج ہوگیا ۔ آئیے جانتے ہیں سپریم کورٹ کا پورا تنازع ۔

    ملک کی عدالت عظمی اپنے تاریخی فیصلوں سے اور احکامات سے عوام کے دل و دماغ میں ایک اچھی شبیہ بناچکی ہے ۔ آج عوام کی اسی عدالت سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں اور اس پر ہی ان کا اعتماد ہے ۔ لیکن 12 جنوری 2018 کا دن ہندوستانی عدالتی نظام کی تاریخ میں ایک تنازع کی وجہ سے درج ہوگیا ۔ آئیے جانتے ہیں سپریم کورٹ کا پورا تنازع ۔

  • ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پریس کانفرنس کی ۔ پریس کانفرنس جسٹس جے چلامیشور کے گھر پر منعقد کی گئی تھی ۔ ان کے ساتھ دیگر تین جج جسٹس رنجن گوگوئی ، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزیف موجود تھے ۔

    ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پریس کانفرنس کی ۔ پریس کانفرنس جسٹس جے چلامیشور کے گھر پر منعقد کی گئی تھی ۔ ان کے ساتھ دیگر تین جج جسٹس رنجن گوگوئی ، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزیف موجود تھے ۔

  •  ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں حکومت اور عدالت کے درمیان جاری ٹکراو کی وجہ سے یہ پریس کانفرنس کی گئی تھی۔

    ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں حکومت اور عدالت کے درمیان جاری ٹکراو کی وجہ سے یہ پریس کانفرنس کی گئی تھی۔

  • پریس کانفرنس میں چاروں ججوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سپریم کورٹ کی انتظامی کارروائی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں چل رہی ہے۔

    پریس کانفرنس میں چاروں ججوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سپریم کورٹ کی انتظامی کارروائی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں چل رہی ہے۔

  • پریس کانفرنس میں چاروں ججوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ، ہمیں لگا ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اور ہم نے چیف جسٹس کو منانے کی کوشش بھی کی ، لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہوجائے گی ۔

    پریس کانفرنس میں چاروں ججوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ، ہمیں لگا ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اور ہم نے چیف جسٹس کو منانے کی کوشش بھی کی ، لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہوجائے گی ۔

  • چاروں ججوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا پر ایک خط کے ذریعہ الزام لگایا کہ چیف جسٹس روایتوں سے باہر جارہے ہیں ، جس میں اہم معاملوں میں اجتماعی طور پر فیصلہ لیا جاتا ہے۔

    چاروں ججوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا پر ایک خط کے ذریعہ الزام لگایا کہ چیف جسٹس روایتوں سے باہر جارہے ہیں ، جس میں اہم معاملوں میں اجتماعی طور پر فیصلہ لیا جاتا ہے۔

  • ججوں نے الزام لگایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا اہم معاملات جو سپریم کورٹ کے اتحاد کو متاثر کرتے ہیں ، وہ کسی معقول وجہ کے بغیر ان بینچوں کو دیدیتے ہیں جو چیف جسٹس کی پریفرینس کی ہیں۔

    ججوں نے الزام لگایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا اہم معاملات جو سپریم کورٹ کے اتحاد کو متاثر کرتے ہیں ، وہ کسی معقول وجہ کے بغیر ان بینچوں کو دیدیتے ہیں جو چیف جسٹس کی پریفرینس کی ہیں۔

  • خیال رہے کہ جسٹس جے ایس کیہر کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد ملک کے  45 ویں چیف جسٹس بنے دیپک مشرا ، سی جے آئی بننے والے اڈیشہ کے تیسرے جج ہیں۔

    خیال رہے کہ جسٹس جے ایس کیہر کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد ملک کے 45 ویں چیف جسٹس بنے دیپک مشرا ، سی جے آئی بننے والے اڈیشہ کے تیسرے جج ہیں۔

  • بطور جج دیپک مشرا کی مدت کار میں کئی اتار چڑھاو دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ان کے کچھ فیصلوں کو بہت ترقی پذیر مانا گیا تو وہیں کچھ کو اس کے بالکل برعکس ، کئی فیصلوں کی وجہ سے ان پر کئی سنگین الزامات بھی لگتے رہے ہیں ۔

    بطور جج دیپک مشرا کی مدت کار میں کئی اتار چڑھاو دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ان کے کچھ فیصلوں کو بہت ترقی پذیر مانا گیا تو وہیں کچھ کو اس کے بالکل برعکس ، کئی فیصلوں کی وجہ سے ان پر کئی سنگین الزامات بھی لگتے رہے ہیں ۔

  • پریس کانفرنس کے ذریعہ سپریم کورٹ کے چاروں ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے ذریعہ معاملات کی تقسیم سمیت کئی مسئلے اٹھائے۔

    پریس کانفرنس کے ذریعہ سپریم کورٹ کے چاروں ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے ذریعہ معاملات کی تقسیم سمیت کئی مسئلے اٹھائے۔

  • سپریم کورٹ کے ججوں کی جانب سے اچانک منعقد کی گئی پریس کانفرنس سے حکومت سمیت پورا ملک حیران ہے ۔ ملک کے معروف قانونی ماہرین اور وکیلوں نے اس معاملہ پر الگ الگ رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے ججوں کی جانب سے اچانک منعقد کی گئی پریس کانفرنس سے حکومت سمیت پورا ملک حیران ہے ۔ ملک کے معروف قانونی ماہرین اور وکیلوں نے اس معاملہ پر الگ الگ رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

  • ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پریس کانفرنس کی ۔ پریس کانفرنس جسٹس جے چلامیشور کے گھر پر منعقد کی گئی تھی ۔ ان کے ساتھ دیگر تین جج جسٹس رنجن گوگوئی ، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزیف موجود تھے ۔
  •  ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں حکومت اور عدالت کے درمیان جاری ٹکراو کی وجہ سے یہ پریس کانفرنس کی گئی تھی۔
  • پریس کانفرنس میں چاروں ججوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سپریم کورٹ کی انتظامی کارروائی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں چل رہی ہے۔
  • پریس کانفرنس میں چاروں ججوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا ، ہمیں لگا ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اور ہم نے چیف جسٹس کو منانے کی کوشش بھی کی ، لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہوجائے گی ۔
  • چاروں ججوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا پر ایک خط کے ذریعہ الزام لگایا کہ چیف جسٹس روایتوں سے باہر جارہے ہیں ، جس میں اہم معاملوں میں اجتماعی طور پر فیصلہ لیا جاتا ہے۔
  • ججوں نے الزام لگایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا اہم معاملات جو سپریم کورٹ کے اتحاد کو متاثر کرتے ہیں ، وہ کسی معقول وجہ کے بغیر ان بینچوں کو دیدیتے ہیں جو چیف جسٹس کی پریفرینس کی ہیں۔
  • خیال رہے کہ جسٹس جے ایس کیہر کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد ملک کے  45 ویں چیف جسٹس بنے دیپک مشرا ، سی جے آئی بننے والے اڈیشہ کے تیسرے جج ہیں۔
  • بطور جج دیپک مشرا کی مدت کار میں کئی اتار چڑھاو دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ان کے کچھ فیصلوں کو بہت ترقی پذیر مانا گیا تو وہیں کچھ کو اس کے بالکل برعکس ، کئی فیصلوں کی وجہ سے ان پر کئی سنگین الزامات بھی لگتے رہے ہیں ۔
  • پریس کانفرنس کے ذریعہ سپریم کورٹ کے چاروں ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے ذریعہ معاملات کی تقسیم سمیت کئی مسئلے اٹھائے۔
  • سپریم کورٹ کے ججوں کی جانب سے اچانک منعقد کی گئی پریس کانفرنس سے حکومت سمیت پورا ملک حیران ہے ۔ ملک کے معروف قانونی ماہرین اور وکیلوں نے اس معاملہ پر الگ الگ رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

تازہ ترین تصاویر