ہندوستانی اور پاکستانی دوست نے شروع کی تھی یہ کمپنی ، آج 80 ممالک میں ہے کاروبار

Aug 05, 2018 12:16 PM IST
1 of 5
  • ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر بھلے ہی گولیوں اور بموں کی آواز آپ کو پریشان کرسکتی ہے ، لیکن یہ جانکار آپ کو حیرانی ہوگی کہ ملک کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک مہندرا اینڈ مہندرا کی بنیاد ایسے دو عزیز دوستوں نے مل کر رکھی تھی ، جن میں سے ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی تھا ۔ آج فرینڈ شپ ڈے کے موقع پر نیوز 18 انہیں دوستوں کے ذریعہ شروع کی گئی کمپنی مہندرا اینڈ مہندرا کے سفر کی دلچسپ کہانی بتارہا ہے۔

    ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر بھلے ہی گولیوں اور بموں کی آواز آپ کو پریشان کرسکتی ہے ، لیکن یہ جانکار آپ کو حیرانی ہوگی کہ ملک کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک مہندرا اینڈ مہندرا کی بنیاد ایسے دو عزیز دوستوں نے مل کر رکھی تھی ، جن میں سے ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی تھا ۔ آج فرینڈ شپ ڈے کے موقع پر نیوز 18 انہیں دوستوں کے ذریعہ شروع کی گئی کمپنی مہندرا اینڈ مہندرا کے سفر کی دلچسپ کہانی بتارہا ہے۔

  • ہندوستان کی تقسیم سے پہلے 1945 میں لدھیانہ کے دو بھائیوں کے سی مہندرا  اور  جے سی مہندرا نے ملک غلام محمد کے ساتھ مل کر مہندرا اینڈ محمد کے نام پر کمپنی کی بنیاد رکھی تھی ۔ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان بننے کے بعد غلام محمد پاکستان چلے گئے اور وہاں کے پہلے وزیر خزانہ بن گئے ۔ 1948 میں کمپنی کا نام بدل کر مہندرا اینڈ مہندرا کردیا گیا۔

    ہندوستان کی تقسیم سے پہلے 1945 میں لدھیانہ کے دو بھائیوں کے سی مہندرا اور جے سی مہندرا نے ملک غلام محمد کے ساتھ مل کر مہندرا اینڈ محمد کے نام پر کمپنی کی بنیاد رکھی تھی ۔ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان بننے کے بعد غلام محمد پاکستان چلے گئے اور وہاں کے پہلے وزیر خزانہ بن گئے ۔ 1948 میں کمپنی کا نام بدل کر مہندرا اینڈ مہندرا کردیا گیا۔

  • محمد کے پاکستان میں بسنے کے بعد کمپنی کی ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ مگر 1991 میں آنند مہندرا اس گروپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بنے ، اس وقت سے لے کر آج تک مہندرا گروپ نئی اونچائیوں کو چھونے میں لگا ہوا ہے۔

    محمد کے پاکستان میں بسنے کے بعد کمپنی کی ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ مگر 1991 میں آنند مہندرا اس گروپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بنے ، اس وقت سے لے کر آج تک مہندرا گروپ نئی اونچائیوں کو چھونے میں لگا ہوا ہے۔

  • مہندرا برادران اور ملک محمدکا خواب ایم اینڈ ایم کو ملک کے بہترین اسٹیل کمپنی بنانا تھا ، لیکن جب 15 اگست 1947 کو ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ، تو اس کمپنی کے ہندو - مسلم دوست بھی تقسیم ہوگئے ۔ غلام محمد جہاں گروپ سے الگ ہوکر پاکستان چلے گئے وہیں مہندرا بھائیوں نے کمپنی کو اکیلے دم پر ہندوستان میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

    مہندرا برادران اور ملک محمدکا خواب ایم اینڈ ایم کو ملک کے بہترین اسٹیل کمپنی بنانا تھا ، لیکن جب 15 اگست 1947 کو ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ، تو اس کمپنی کے ہندو - مسلم دوست بھی تقسیم ہوگئے ۔ غلام محمد جہاں گروپ سے الگ ہوکر پاکستان چلے گئے وہیں مہندرا بھائیوں نے کمپنی کو اکیلے دم پر ہندوستان میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

  • نام بدلنے کے بعد مہندرا برادران نے آٹو انڈسٹری میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دراصل امریکی کمپنی میں کام کرنے کے دوران کے سی مہندرا نے امریکہ میں جیپ دیکھی تھی ، اسی کے بعد انہوں نے ہندوستان میں جیپ بنانے کا خواب دیکھا اور خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے کمپنی نے ہندوستان میں جیپ کا پروڈکشن شروع کردیا ۔ کچھ وقت بعد کمپنی نے لائٹ کمرشیل وہیکل اور ٹریکٹر کی منیوفیکچرنگ شروع کی ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کا سفر آگے بڑھتا چلا گیا۔

    نام بدلنے کے بعد مہندرا برادران نے آٹو انڈسٹری میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دراصل امریکی کمپنی میں کام کرنے کے دوران کے سی مہندرا نے امریکہ میں جیپ دیکھی تھی ، اسی کے بعد انہوں نے ہندوستان میں جیپ بنانے کا خواب دیکھا اور خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے کمپنی نے ہندوستان میں جیپ کا پروڈکشن شروع کردیا ۔ کچھ وقت بعد کمپنی نے لائٹ کمرشیل وہیکل اور ٹریکٹر کی منیوفیکچرنگ شروع کی ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کا سفر آگے بڑھتا چلا گیا۔

  • ہندوستان کی تقسیم سے پہلے 1945 میں لدھیانہ کے دو بھائیوں کے سی مہندرا  اور  جے سی مہندرا نے ملک غلام محمد کے ساتھ مل کر مہندرا اینڈ محمد کے نام پر کمپنی کی بنیاد رکھی تھی ۔ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان بننے کے بعد غلام محمد پاکستان چلے گئے اور وہاں کے پہلے وزیر خزانہ بن گئے ۔ 1948 میں کمپنی کا نام بدل کر مہندرا اینڈ مہندرا کردیا گیا۔
  • محمد کے پاکستان میں بسنے کے بعد کمپنی کی ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ مگر 1991 میں آنند مہندرا اس گروپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بنے ، اس وقت سے لے کر آج تک مہندرا گروپ نئی اونچائیوں کو چھونے میں لگا ہوا ہے۔
  • مہندرا برادران اور ملک محمدکا خواب ایم اینڈ ایم کو ملک کے بہترین اسٹیل کمپنی بنانا تھا ، لیکن جب 15 اگست 1947 کو ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ، تو اس کمپنی کے ہندو - مسلم دوست بھی تقسیم ہوگئے ۔ غلام محمد جہاں گروپ سے الگ ہوکر پاکستان چلے گئے وہیں مہندرا بھائیوں نے کمپنی کو اکیلے دم پر ہندوستان میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
  • نام بدلنے کے بعد مہندرا برادران نے آٹو انڈسٹری میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دراصل امریکی کمپنی میں کام کرنے کے دوران کے سی مہندرا نے امریکہ میں جیپ دیکھی تھی ، اسی کے بعد انہوں نے ہندوستان میں جیپ بنانے کا خواب دیکھا اور خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے کمپنی نے ہندوستان میں جیپ کا پروڈکشن شروع کردیا ۔ کچھ وقت بعد کمپنی نے لائٹ کمرشیل وہیکل اور ٹریکٹر کی منیوفیکچرنگ شروع کی ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کا سفر آگے بڑھتا چلا گیا۔

تازہ ترین تصاویر