بالی ووڈ اداکار ونود کھنہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، دیکھیں خاص تصویریں

Apr 27, 2017 01:59 PM IST
1 of 12
  • بالی ووڈ کی 60 کی دہائی کے سپر اسٹار ونود کھنہ کا آج ممبئی میں انتقال ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ ان کی حالت سدھر رہی ہے لیکن تازہ خبروں کے مطابق وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

    بالی ووڈ کی 60 کی دہائی کے سپر اسٹار ونود کھنہ کا آج ممبئی میں انتقال ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد یہ کہا گیا تھا کہ ان کی حالت سدھر رہی ہے لیکن تازہ خبروں کے مطابق وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

  • بالی ووڈ دنیا کو جیسے جیسے اپنے اس ستارہ کے جانے کا اندازہ ہوا ، ویسے ویسے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے والوں کا تانتا لگ گیا ہے۔

    بالی ووڈ دنیا کو جیسے جیسے اپنے اس ستارہ کے جانے کا اندازہ ہوا ، ویسے ویسے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے والوں کا تانتا لگ گیا ہے۔

  • بگ بی امیتابھ بچن نے بھی کچھ دنوں پہلے اپنے اس پرانے دوست اور کئی سپر ہٹ فلموں میں شریک -اداکار رہے ستارے کے لئے جذباتی کر دینے والا پوسٹ سوشل میڈیا پر لکھا تھا۔ اس پوسٹ میں ونود کھنہ کی خراب صحت کو لے کر امیتابھ کا درد صاف چھلک رہا ہے۔ امیتابھ نے لکھا کہ اپنے دوست کو اس حال میں دیکھ کے تکلیف بھی ہوتی ہے اور خود کی بے ثباتی کا احساس بھی ہوتا ہے۔

    بگ بی امیتابھ بچن نے بھی کچھ دنوں پہلے اپنے اس پرانے دوست اور کئی سپر ہٹ فلموں میں شریک -اداکار رہے ستارے کے لئے جذباتی کر دینے والا پوسٹ سوشل میڈیا پر لکھا تھا۔ اس پوسٹ میں ونود کھنہ کی خراب صحت کو لے کر امیتابھ کا درد صاف چھلک رہا ہے۔ امیتابھ نے لکھا کہ اپنے دوست کو اس حال میں دیکھ کے تکلیف بھی ہوتی ہے اور خود کی بے ثباتی کا احساس بھی ہوتا ہے۔

  • انیس سو انہتر میں آئی فلم 'من کی میت' سے اپنے فلمی کیریئر کی شروعات کرنے والے ونود کھنہ کے لئے امیتابھ کی جذباتیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں نے ایک ساتھ کئی فلموں میں کام کیا ہے جس میں مقدر کا سکندر، ہیرا پھیری، امر اکبر انتھونی، ریشما اور شیرا جیسی بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔

    انیس سو انہتر میں آئی فلم 'من کی میت' سے اپنے فلمی کیریئر کی شروعات کرنے والے ونود کھنہ کے لئے امیتابھ کی جذباتیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں نے ایک ساتھ کئی فلموں میں کام کیا ہے جس میں مقدر کا سکندر، ہیرا پھیری، امر اکبر انتھونی، ریشما اور شیرا جیسی بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔

  • انیس سو چھہتر میں فلم آئی 'ہیرا پھیری' کامیڈی، ایکشن اور جذباتیت سے بھرپور تھی۔ لوگوں نے ونود کھنہ اور امیتابھ کی جوڑی کو کافی پسند کیا تھا اور اگر آپ آج کے زمانے میں اس جوڑے کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ سلمان اور شاہ رخ کے ساتھ آنے جیسا معاملہ ہے۔

    انیس سو چھہتر میں فلم آئی 'ہیرا پھیری' کامیڈی، ایکشن اور جذباتیت سے بھرپور تھی۔ لوگوں نے ونود کھنہ اور امیتابھ کی جوڑی کو کافی پسند کیا تھا اور اگر آپ آج کے زمانے میں اس جوڑے کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ سلمان اور شاہ رخ کے ساتھ آنے جیسا معاملہ ہے۔

  • انیس سو ستہتر میں فلم 'خون پسینہ' میں پھر ایک بار امیتابھ اور ونود کھنہ کی جوڑی نے لوگوں کو لطف اندوز کیا۔ اس فلم میں امیتابھ اور ونود ایک دوسرے کے دوست نہیں دشمن تھے اور بالی وڈ کی گپ شپ اگر مانیں تو اس فلم کی شوٹنگ کے دوران دونوں کے درمیان اصل میں من مٹاو ہو گیا تھا۔

    انیس سو ستہتر میں فلم 'خون پسینہ' میں پھر ایک بار امیتابھ اور ونود کھنہ کی جوڑی نے لوگوں کو لطف اندوز کیا۔ اس فلم میں امیتابھ اور ونود ایک دوسرے کے دوست نہیں دشمن تھے اور بالی وڈ کی گپ شپ اگر مانیں تو اس فلم کی شوٹنگ کے دوران دونوں کے درمیان اصل میں من مٹاو ہو گیا تھا۔

  • انیس سو ستہتر میں آئی ڈائریکٹر منموہن دیسائی کی 'امر اکبر انتھونی'۔ اس فلم میں امیتابھ، ونود کھنہ کے ساتھ ساتھ رشی کپور بھی تھے اور ونود کھنہ اور امیتابھ کے اس فلم میں پہلے دشمن اور پھر دوست یا یوں کہئے بھائی نکل جانے پر ہال میں جو سیٹیاں بجی تھیں، وہ کمال کا نظارہ تھا۔ اسی فلم میں ونود کھنہ اور امیتابھ کے درمیان ایک فايٹ سین تھا، جسے امیتابھ کی شیشے کے آگے کھڑے ہو کر کی گئی ایکٹنگ نے امر بنا دیا ہے۔

    انیس سو ستہتر میں آئی ڈائریکٹر منموہن دیسائی کی 'امر اکبر انتھونی'۔ اس فلم میں امیتابھ، ونود کھنہ کے ساتھ ساتھ رشی کپور بھی تھے اور ونود کھنہ اور امیتابھ کے اس فلم میں پہلے دشمن اور پھر دوست یا یوں کہئے بھائی نکل جانے پر ہال میں جو سیٹیاں بجی تھیں، وہ کمال کا نظارہ تھا۔ اسی فلم میں ونود کھنہ اور امیتابھ کے درمیان ایک فايٹ سین تھا، جسے امیتابھ کی شیشے کے آگے کھڑے ہو کر کی گئی ایکٹنگ نے امر بنا دیا ہے۔

  • پرکاش مہرا کی فلم 'مقدر کا سکندر' 1978 میں آئی سب سے بڑی ہٹ فلم تھی۔ اس فلم کے گیت جتنے مقبول تھے، اتنے ہی مقبول اس فلم کے ڈائیلاگ بھی تھے۔ پیار، غلط فہمی اور ایکشن کے اس کاک ٹیل میں لوگ ایسے الجھے تھے کہ اس فلم کو سلور جوبلی ملی تھی۔

    پرکاش مہرا کی فلم 'مقدر کا سکندر' 1978 میں آئی سب سے بڑی ہٹ فلم تھی۔ اس فلم کے گیت جتنے مقبول تھے، اتنے ہی مقبول اس فلم کے ڈائیلاگ بھی تھے۔ پیار، غلط فہمی اور ایکشن کے اس کاک ٹیل میں لوگ ایسے الجھے تھے کہ اس فلم کو سلور جوبلی ملی تھی۔

  • امیتابھ بچن اور ونود کھنہ کی آن اسکرین کیمسٹری زبردست تھی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اگر ونود کھنہ نے اپنی زندگی میں وہ ایک فیصلہ نہیں لیا ہوتا تو وہ آج اپنے فلمی کیریئر میں امیتابھ سے کہیں زیادہ کامیاب ہوتے۔

    امیتابھ بچن اور ونود کھنہ کی آن اسکرین کیمسٹری زبردست تھی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اگر ونود کھنہ نے اپنی زندگی میں وہ ایک فیصلہ نہیں لیا ہوتا تو وہ آج اپنے فلمی کیریئر میں امیتابھ سے کہیں زیادہ کامیاب ہوتے۔

  • ونود کا وہ فیصلہ تھا فلمی دنیا چھوڑ کر آچاریہ رجنیش کے ساتھ امریکہ جا کر اوشو کے آشرم میں رہنے کا۔ اس فیصلے کے بعد ونود کھنہ کے فلمی کیریئر پر تو بریک لگا ہی ان کی ذاتی زندگی بھی اس سے مجروح ہوئی۔

    ونود کا وہ فیصلہ تھا فلمی دنیا چھوڑ کر آچاریہ رجنیش کے ساتھ امریکہ جا کر اوشو کے آشرم میں رہنے کا۔ اس فیصلے کے بعد ونود کھنہ کے فلمی کیریئر پر تو بریک لگا ہی ان کی ذاتی زندگی بھی اس سے مجروح ہوئی۔

  • حالانکہ کچھ وقفے کے بعد ونود کھنہ کی آشرم اور اوشو میں دلچسپی ختم ہو گئی اور انہوں نے فلموں میں واپسی بھی کی لیکن یہ واپسی اتنی بااثر نہیں رہی۔ وقت آگے جا چکا تھا اور دیاوان اور چاندنی چھوڑ کر کوئی اور ہٹ فلم وہ نہیں دے پائے۔

    حالانکہ کچھ وقفے کے بعد ونود کھنہ کی آشرم اور اوشو میں دلچسپی ختم ہو گئی اور انہوں نے فلموں میں واپسی بھی کی لیکن یہ واپسی اتنی بااثر نہیں رہی۔ وقت آگے جا چکا تھا اور دیاوان اور چاندنی چھوڑ کر کوئی اور ہٹ فلم وہ نہیں دے پائے۔

  • ونود کھنہ نے اس کے بعد سیاست میں ہاتھ آزمایا اور وہ گرداس پور سے ممبر پارلیمنٹ بھی تھے۔ طویل عرصہ سے وہ کیمرے سے دور رہے اور اس کا سبب ان کا کینسر بھی تھا۔

    ونود کھنہ نے اس کے بعد سیاست میں ہاتھ آزمایا اور وہ گرداس پور سے ممبر پارلیمنٹ بھی تھے۔ طویل عرصہ سے وہ کیمرے سے دور رہے اور اس کا سبب ان کا کینسر بھی تھا۔

  • بالی ووڈ دنیا کو جیسے جیسے اپنے اس ستارہ کے جانے کا اندازہ ہوا ، ویسے ویسے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے والوں کا تانتا لگ گیا ہے۔
  • بگ بی امیتابھ بچن نے بھی کچھ دنوں پہلے اپنے اس پرانے دوست اور کئی سپر ہٹ فلموں میں شریک -اداکار رہے ستارے کے لئے جذباتی کر دینے والا پوسٹ سوشل میڈیا پر لکھا تھا۔ اس پوسٹ میں ونود کھنہ کی خراب صحت کو لے کر امیتابھ کا درد صاف چھلک رہا ہے۔ امیتابھ نے لکھا کہ اپنے دوست کو اس حال میں دیکھ کے تکلیف بھی ہوتی ہے اور خود کی بے ثباتی کا احساس بھی ہوتا ہے۔
  • انیس سو انہتر میں آئی فلم 'من کی میت' سے اپنے فلمی کیریئر کی شروعات کرنے والے ونود کھنہ کے لئے امیتابھ کی جذباتیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں نے ایک ساتھ کئی فلموں میں کام کیا ہے جس میں مقدر کا سکندر، ہیرا پھیری، امر اکبر انتھونی، ریشما اور شیرا جیسی بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔
  • انیس سو چھہتر میں فلم آئی 'ہیرا پھیری' کامیڈی، ایکشن اور جذباتیت سے بھرپور تھی۔ لوگوں نے ونود کھنہ اور امیتابھ کی جوڑی کو کافی پسند کیا تھا اور اگر آپ آج کے زمانے میں اس جوڑے کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ سلمان اور شاہ رخ کے ساتھ آنے جیسا معاملہ ہے۔
  • انیس سو ستہتر میں فلم 'خون پسینہ' میں پھر ایک بار امیتابھ اور ونود کھنہ کی جوڑی نے لوگوں کو لطف اندوز کیا۔ اس فلم میں امیتابھ اور ونود ایک دوسرے کے دوست نہیں دشمن تھے اور بالی وڈ کی گپ شپ اگر مانیں تو اس فلم کی شوٹنگ کے دوران دونوں کے درمیان اصل میں من مٹاو ہو گیا تھا۔
  • انیس سو ستہتر میں آئی ڈائریکٹر منموہن دیسائی کی 'امر اکبر انتھونی'۔ اس فلم میں امیتابھ، ونود کھنہ کے ساتھ ساتھ رشی کپور بھی تھے اور ونود کھنہ اور امیتابھ کے اس فلم میں پہلے دشمن اور پھر دوست یا یوں کہئے بھائی نکل جانے پر ہال میں جو سیٹیاں بجی تھیں، وہ کمال کا نظارہ تھا۔ اسی فلم میں ونود کھنہ اور امیتابھ کے درمیان ایک فايٹ سین تھا، جسے امیتابھ کی شیشے کے آگے کھڑے ہو کر کی گئی ایکٹنگ نے امر بنا دیا ہے۔
  • پرکاش مہرا کی فلم 'مقدر کا سکندر' 1978 میں آئی سب سے بڑی ہٹ فلم تھی۔ اس فلم کے گیت جتنے مقبول تھے، اتنے ہی مقبول اس فلم کے ڈائیلاگ بھی تھے۔ پیار، غلط فہمی اور ایکشن کے اس کاک ٹیل میں لوگ ایسے الجھے تھے کہ اس فلم کو سلور جوبلی ملی تھی۔
  • امیتابھ بچن اور ونود کھنہ کی آن اسکرین کیمسٹری زبردست تھی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اگر ونود کھنہ نے اپنی زندگی میں وہ ایک فیصلہ نہیں لیا ہوتا تو وہ آج اپنے فلمی کیریئر میں امیتابھ سے کہیں زیادہ کامیاب ہوتے۔
  • ونود کا وہ فیصلہ تھا فلمی دنیا چھوڑ کر آچاریہ رجنیش کے ساتھ امریکہ جا کر اوشو کے آشرم میں رہنے کا۔ اس فیصلے کے بعد ونود کھنہ کے فلمی کیریئر پر تو بریک لگا ہی ان کی ذاتی زندگی بھی اس سے مجروح ہوئی۔
  • حالانکہ کچھ وقفے کے بعد ونود کھنہ کی آشرم اور اوشو میں دلچسپی ختم ہو گئی اور انہوں نے فلموں میں واپسی بھی کی لیکن یہ واپسی اتنی بااثر نہیں رہی۔ وقت آگے جا چکا تھا اور دیاوان اور چاندنی چھوڑ کر کوئی اور ہٹ فلم وہ نہیں دے پائے۔
  • ونود کھنہ نے اس کے بعد سیاست میں ہاتھ آزمایا اور وہ گرداس پور سے ممبر پارلیمنٹ بھی تھے۔ طویل عرصہ سے وہ کیمرے سے دور رہے اور اس کا سبب ان کا کینسر بھی تھا۔

تازہ ترین تصاویر