انتخابی ضابطہ اخلاق کا حوالہ دے کر حجاب ڈے منانے سے لکھنؤ انتظامیہ نے روکا

Feb 02, 2017 12:44 PM IST
1 of 7
  • عالمی یوم حجاب کے موقع پر لکھنؤ میں خواتین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہاں ضلع انتظامیہ نےحجاب ڈے  منانے سے خواتین کو روک دیا۔ حجاب پوش مسلم خواتین کے ساتھ غیر مسلم و غیرملکی خواتین کو بھی واپس لوٹنا پڑا۔ پروگرام کی آرگنائزر نے حسین آباد ٹرسٹ اور ضلع انتظامیہ پر تعصب پسندی کا الزام لگایا ہے۔

    عالمی یوم حجاب کے موقع پر لکھنؤ میں خواتین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہاں ضلع انتظامیہ نےحجاب ڈے منانے سے خواتین کو روک دیا۔ حجاب پوش مسلم خواتین کے ساتھ غیر مسلم و غیرملکی خواتین کو بھی واپس لوٹنا پڑا۔ پروگرام کی آرگنائزر نے حسین آباد ٹرسٹ اور ضلع انتظامیہ پر تعصب پسندی کا الزام لگایا ہے۔

  • لکھنؤ شہرایک ایسا شہر ہے جہاں تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں قصہ پارینہ نہیں بلکہ جیتا جاگتا نمونہ ہیں ۔ یہاں مسلم معاشرے کی علامتیں صرف مسجد و مینارتک ہی محدود نہیں ہیں  بلکہ اسی کے ساتھ  چلتی پھرتی زندگیاں بھی ہیں۔ خاص کر برقعہ اورحجاب پوش خواتین پرانے لکھنؤ کی زینت مانی جاتی ہیں ۔ مگر افسوس کہ موجودہ سیاست نے اس روایتی ثقافت کو بھی نگلنا شروع کردیا ہے۔

    لکھنؤ شہرایک ایسا شہر ہے جہاں تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں قصہ پارینہ نہیں بلکہ جیتا جاگتا نمونہ ہیں ۔ یہاں مسلم معاشرے کی علامتیں صرف مسجد و مینارتک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اسی کے ساتھ چلتی پھرتی زندگیاں بھی ہیں۔ خاص کر برقعہ اورحجاب پوش خواتین پرانے لکھنؤ کی زینت مانی جاتی ہیں ۔ مگر افسوس کہ موجودہ سیاست نے اس روایتی ثقافت کو بھی نگلنا شروع کردیا ہے۔

  •  اس کی ایک مثال لکھنؤ  میں چھوٹے امام باڑے کے گیٹ پر دیکھنے کو ملی ۔ عالمی یوم حجاب کی مناسبت سےچھوٹے امام باڑے کے احاطے میں حجاب ڈے منانے کے لئے یہ عورتیں جمع  ہوئیں مگرضلع انتظامیہ اورحسین آباد ٹرسٹ نے پروگرام منعقد ہونے نہیں دیا ۔

    اس کی ایک مثال لکھنؤ میں چھوٹے امام باڑے کے گیٹ پر دیکھنے کو ملی ۔ عالمی یوم حجاب کی مناسبت سےچھوٹے امام باڑے کے احاطے میں حجاب ڈے منانے کے لئے یہ عورتیں جمع ہوئیں مگرضلع انتظامیہ اورحسین آباد ٹرسٹ نے پروگرام منعقد ہونے نہیں دیا ۔

  • جبکہ حجاب ڈے پرہونے والی تقریب کوئی سیاسی تقریب نہیں تھی، یہ خواتین کا پروگرام تھا،  لہٰذا نظم و نسق میں خلل کا کوئی خدشہ بھی نہیں تھا ،مگر انتظامیہ نے اجازت نہ دے کر خواتین کو خوشی کا ایک موقع بھی نہیں دیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق  کے نفاذ کا بہانہ بنا دیا۔

    جبکہ حجاب ڈے پرہونے والی تقریب کوئی سیاسی تقریب نہیں تھی، یہ خواتین کا پروگرام تھا، لہٰذا نظم و نسق میں خلل کا کوئی خدشہ بھی نہیں تھا ،مگر انتظامیہ نے اجازت نہ دے کر خواتین کو خوشی کا ایک موقع بھی نہیں دیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کا بہانہ بنا دیا۔

  • یہاں خواتین یہ بتانے اور جاننے کے لئے اکٹھا ہو رہی تھیں کہ حجاب کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں، بلکہ یہ ہندستانی کلچرکا بھی ایک اہم حصہ ہے۔

    یہاں خواتین یہ بتانے اور جاننے کے لئے اکٹھا ہو رہی تھیں کہ حجاب کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں، بلکہ یہ ہندستانی کلچرکا بھی ایک اہم حصہ ہے۔

  •  حجاب  کو صرف شرعی فریضہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کا  سماجی اورسائنسی پہلو بھی ہے۔ کوشش  یہ بھی تھی کہ غیر مسلم اورغیرملکی خواتین کو بھی حجاب کی افادیت سے واقف کرایا جائے۔

    حجاب کو صرف شرعی فریضہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کا سماجی اورسائنسی پہلو بھی ہے۔ کوشش یہ بھی تھی کہ غیر مسلم اورغیرملکی خواتین کو بھی حجاب کی افادیت سے واقف کرایا جائے۔

  • مگر انتظامیہ کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے خواتین اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پائیں۔

    مگر انتظامیہ کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے خواتین اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پائیں۔

  • لکھنؤ شہرایک ایسا شہر ہے جہاں تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں قصہ پارینہ نہیں بلکہ جیتا جاگتا نمونہ ہیں ۔ یہاں مسلم معاشرے کی علامتیں صرف مسجد و مینارتک ہی محدود نہیں ہیں  بلکہ اسی کے ساتھ  چلتی پھرتی زندگیاں بھی ہیں۔ خاص کر برقعہ اورحجاب پوش خواتین پرانے لکھنؤ کی زینت مانی جاتی ہیں ۔ مگر افسوس کہ موجودہ سیاست نے اس روایتی ثقافت کو بھی نگلنا شروع کردیا ہے۔
  •  اس کی ایک مثال لکھنؤ  میں چھوٹے امام باڑے کے گیٹ پر دیکھنے کو ملی ۔ عالمی یوم حجاب کی مناسبت سےچھوٹے امام باڑے کے احاطے میں حجاب ڈے منانے کے لئے یہ عورتیں جمع  ہوئیں مگرضلع انتظامیہ اورحسین آباد ٹرسٹ نے پروگرام منعقد ہونے نہیں دیا ۔
  • جبکہ حجاب ڈے پرہونے والی تقریب کوئی سیاسی تقریب نہیں تھی، یہ خواتین کا پروگرام تھا،  لہٰذا نظم و نسق میں خلل کا کوئی خدشہ بھی نہیں تھا ،مگر انتظامیہ نے اجازت نہ دے کر خواتین کو خوشی کا ایک موقع بھی نہیں دیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق  کے نفاذ کا بہانہ بنا دیا۔
  • یہاں خواتین یہ بتانے اور جاننے کے لئے اکٹھا ہو رہی تھیں کہ حجاب کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں، بلکہ یہ ہندستانی کلچرکا بھی ایک اہم حصہ ہے۔
  •  حجاب  کو صرف شرعی فریضہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کا  سماجی اورسائنسی پہلو بھی ہے۔ کوشش  یہ بھی تھی کہ غیر مسلم اورغیرملکی خواتین کو بھی حجاب کی افادیت سے واقف کرایا جائے۔
  • مگر انتظامیہ کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے خواتین اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پائیں۔

تازہ ترین تصاویر