برتھ ڈے اسپیشل: بے پناہ حسن کی ملکہ مدھوبالا کی اندیکھی تصویریں

Feb 14, 2017 04:04 PM IST
1 of 15
  • آج ہے ویلیںٹائن ڈے، پوری دنیا 14 فروری کو پیار کے دن کے طور پر مناتی ہے، لیکن آج کی تاریخ ایک اور شخصیت کے لئے یاد کی جاتی ہے، جس کی آج سالگرہ ہے۔ اپنی خوبصورتی اور بے مثال اداکاری سے بالی ووڈ میں سالوں تک راج کرنے والی مدھوبالا کی سالگرہ بھی آج ہی کے دن پڑتی ہے۔

    آج ہے ویلیںٹائن ڈے، پوری دنیا 14 فروری کو پیار کے دن کے طور پر مناتی ہے، لیکن آج کی تاریخ ایک اور شخصیت کے لئے یاد کی جاتی ہے، جس کی آج سالگرہ ہے۔ اپنی خوبصورتی اور بے مثال اداکاری سے بالی ووڈ میں سالوں تک راج کرنے والی مدھوبالا کی سالگرہ بھی آج ہی کے دن پڑتی ہے۔

  • وہ مدھوبالا جس کی ایک مسکراہٹ لاکھوں کے چہرے پر مسکراہٹ لا دیتی تھی۔ اس دور میں مدھوبالا کو دیکھنے کے لئے لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی، جسے سب سے زیادہ خوبصورت ہیروئین کہا جاتا ہے۔

    وہ مدھوبالا جس کی ایک مسکراہٹ لاکھوں کے چہرے پر مسکراہٹ لا دیتی تھی۔ اس دور میں مدھوبالا کو دیکھنے کے لئے لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی، جسے سب سے زیادہ خوبصورت ہیروئین کہا جاتا ہے۔

  • مدھوبالا کی پیدائش 14 فروری 1933 کو دہلی میں ہوئی تھی۔ مدھوبالا کا اصلی نام ممتاز بیگم دہلوی تھا، ان کے والد عطاء اللہ خان رکشہ چلایا کرتے تھے۔ بچپن سے ہی مدھوبالا اداکارہ بننا چاہتی تھیں، وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر ایکٹنگ کیا کرتی تھیں۔

    مدھوبالا کی پیدائش 14 فروری 1933 کو دہلی میں ہوئی تھی۔ مدھوبالا کا اصلی نام ممتاز بیگم دہلوی تھا، ان کے والد عطاء اللہ خان رکشہ چلایا کرتے تھے۔ بچپن سے ہی مدھوبالا اداکارہ بننا چاہتی تھیں، وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر ایکٹنگ کیا کرتی تھیں۔

  • کام کی تلاش میں مدھوبالا کے والد دہلی سے ممبئی پہنچے۔ اسٹوڈیو کا چکر لگاتے لگاتے ایک دن ان کی بیٹی کو 9 سال کی عمر میں فلم بسنت میں کام مل گیا۔

    کام کی تلاش میں مدھوبالا کے والد دہلی سے ممبئی پہنچے۔ اسٹوڈیو کا چکر لگاتے لگاتے ایک دن ان کی بیٹی کو 9 سال کی عمر میں فلم بسنت میں کام مل گیا۔

  • بامبے ٹاکیز کی مالکن دیویکا رانی مدھوبالا کی اداکاری سے کافی متاثر ہوئیں۔ دیویکا نے ہی ان کا نام مدھوبالا رکھا تھا۔

    بامبے ٹاکیز کی مالکن دیویکا رانی مدھوبالا کی اداکاری سے کافی متاثر ہوئیں۔ دیویکا نے ہی ان کا نام مدھوبالا رکھا تھا۔

  • انیس سو سینتالیس میں فلم 'نیل کمل' میں مدھوبالا کو بڑا رول ملا۔ اس کے بعد جس فلم نے مدھو کو شہرت دلائی وہ تھی بمبئی ٹاکیز کی فلم محل۔ مدھوبالا کو اس فلم سے خوب اسٹارڈم ملا۔

    انیس سو سینتالیس میں فلم 'نیل کمل' میں مدھوبالا کو بڑا رول ملا۔ اس کے بعد جس فلم نے مدھو کو شہرت دلائی وہ تھی بمبئی ٹاکیز کی فلم محل۔ مدھوبالا کو اس فلم سے خوب اسٹارڈم ملا۔

  • انیس سو پچاس کے دور میں مدھوبالا بالی ووڈ پر راج کر رہی تھیں، یہی نہیں ہالی ووڈ کے کئی ڈائریکٹر مدھوبالا کو اپنی فلموں میں لینا چاہتے تھے، لیکن ان کے والد نے انکار کر دیا۔

    انیس سو پچاس کے دور میں مدھوبالا بالی ووڈ پر راج کر رہی تھیں، یہی نہیں ہالی ووڈ کے کئی ڈائریکٹر مدھوبالا کو اپنی فلموں میں لینا چاہتے تھے، لیکن ان کے والد نے انکار کر دیا۔

  • فلموں کے ساتھ ساتھ مدھوبالا کے افیئر کی خبریں بھی آتی رہیں، کئی ڈائریکٹر اور ایکٹر کے ساتھ مدھوبالا کا نام جڑا۔

    فلموں کے ساتھ ساتھ مدھوبالا کے افیئر کی خبریں بھی آتی رہیں، کئی ڈائریکٹر اور ایکٹر کے ساتھ مدھوبالا کا نام جڑا۔

  • تاہم مدھوبالا کا دل دلیپ کمار کے لئے دھڑک رہا تھا۔ انہوں نے خود پھول بھیج کر دلیپ کمار کے سامنے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا۔

    تاہم مدھوبالا کا دل دلیپ کمار کے لئے دھڑک رہا تھا۔ انہوں نے خود پھول بھیج کر دلیپ کمار کے سامنے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا۔

  • مدھوبالا اور دلیپ کمار کا پیار7 سالوں تک چلا، لیکن ان کے والد کو یہ رشتہ گوارا نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مدھو کی شادی ہو کیونکہ ان کے علاوہ گھر کا خرچ سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔

    مدھوبالا اور دلیپ کمار کا پیار7 سالوں تک چلا، لیکن ان کے والد کو یہ رشتہ گوارا نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مدھو کی شادی ہو کیونکہ ان کے علاوہ گھر کا خرچ سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔

  • دونوں کے تعلقات اتنے تلخ ہو گئے تھے کہ کہا جاتا ہے کہ مغل اعظم کے سیٹ پر ایک سین میں دلیپ نے مدھوبالا کو اتنے زور سے تھپڑ مارا کہ سب لوگ چونک گئے۔

    دونوں کے تعلقات اتنے تلخ ہو گئے تھے کہ کہا جاتا ہے کہ مغل اعظم کے سیٹ پر ایک سین میں دلیپ نے مدھوبالا کو اتنے زور سے تھپڑ مارا کہ سب لوگ چونک گئے۔

  • ٹوٹے ہوئے دل کو لے کر مدھوبالا آگے بڑھ رہی تھیں تبھی ان کے دلوں پر مرہم لگانے کے لئے ایک شخص آیا۔ وہ شخص تھے کشور کمار۔ فلموں میں کام کرتے ہوئے دونوں میں پیار ہوا اور دونوں نے شادی کر لی۔

    ٹوٹے ہوئے دل کو لے کر مدھوبالا آگے بڑھ رہی تھیں تبھی ان کے دلوں پر مرہم لگانے کے لئے ایک شخص آیا۔ وہ شخص تھے کشور کمار۔ فلموں میں کام کرتے ہوئے دونوں میں پیار ہوا اور دونوں نے شادی کر لی۔

  • کہتے ہیں کہ مدھوبالا نے بھلے ہی کشور سے شادی کی تھی، لیکن ان سے پیار نہیں کر پائیں۔ ایک تو شوہر کا ساتھ نہیں ملا، تو وہیں مدھو کو بیماری نے آ گھیرا۔

    کہتے ہیں کہ مدھوبالا نے بھلے ہی کشور سے شادی کی تھی، لیکن ان سے پیار نہیں کر پائیں۔ ایک تو شوہر کا ساتھ نہیں ملا، تو وہیں مدھو کو بیماری نے آ گھیرا۔

  • ان کے دل میں سوراخ تھا، ان کی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ فلم مغل اعظم کے دوران باڈی ڈبل کا استعمال کرنا پڑا۔

    ان کے دل میں سوراخ تھا، ان کی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ فلم مغل اعظم کے دوران باڈی ڈبل کا استعمال کرنا پڑا۔

  • کہتے ہیں کہ جو مدھوبالا اپنی خوبصورتی کے لیے جانی جاتی تھیں، وہ بیماری کی وجہ سے ایسی ہو گئی تھیں کہ وہ خود کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ 23 فروری 1969 میں مدھوبالا نے بالآخر زندگی کو الوداع کہہ دیا۔

    کہتے ہیں کہ جو مدھوبالا اپنی خوبصورتی کے لیے جانی جاتی تھیں، وہ بیماری کی وجہ سے ایسی ہو گئی تھیں کہ وہ خود کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ 23 فروری 1969 میں مدھوبالا نے بالآخر زندگی کو الوداع کہہ دیا۔

  • وہ مدھوبالا جس کی ایک مسکراہٹ لاکھوں کے چہرے پر مسکراہٹ لا دیتی تھی۔ اس دور میں مدھوبالا کو دیکھنے کے لئے لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی، جسے سب سے زیادہ خوبصورت ہیروئین کہا جاتا ہے۔
  • مدھوبالا کی پیدائش 14 فروری 1933 کو دہلی میں ہوئی تھی۔ مدھوبالا کا اصلی نام ممتاز بیگم دہلوی تھا، ان کے والد عطاء اللہ خان رکشہ چلایا کرتے تھے۔ بچپن سے ہی مدھوبالا اداکارہ بننا چاہتی تھیں، وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر ایکٹنگ کیا کرتی تھیں۔
  • کام کی تلاش میں مدھوبالا کے والد دہلی سے ممبئی پہنچے۔ اسٹوڈیو کا چکر لگاتے لگاتے ایک دن ان کی بیٹی کو 9 سال کی عمر میں فلم بسنت میں کام مل گیا۔
  • بامبے ٹاکیز کی مالکن دیویکا رانی مدھوبالا کی اداکاری سے کافی متاثر ہوئیں۔ دیویکا نے ہی ان کا نام مدھوبالا رکھا تھا۔
  • انیس سو سینتالیس میں فلم 'نیل کمل' میں مدھوبالا کو بڑا رول ملا۔ اس کے بعد جس فلم نے مدھو کو شہرت دلائی وہ تھی بمبئی ٹاکیز کی فلم محل۔ مدھوبالا کو اس فلم سے خوب اسٹارڈم ملا۔
  • انیس سو پچاس کے دور میں مدھوبالا بالی ووڈ پر راج کر رہی تھیں، یہی نہیں ہالی ووڈ کے کئی ڈائریکٹر مدھوبالا کو اپنی فلموں میں لینا چاہتے تھے، لیکن ان کے والد نے انکار کر دیا۔
  • فلموں کے ساتھ ساتھ مدھوبالا کے افیئر کی خبریں بھی آتی رہیں، کئی ڈائریکٹر اور ایکٹر کے ساتھ مدھوبالا کا نام جڑا۔
  • تاہم مدھوبالا کا دل دلیپ کمار کے لئے دھڑک رہا تھا۔ انہوں نے خود پھول بھیج کر دلیپ کمار کے سامنے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا۔
  • مدھوبالا اور دلیپ کمار کا پیار7 سالوں تک چلا، لیکن ان کے والد کو یہ رشتہ گوارا نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مدھو کی شادی ہو کیونکہ ان کے علاوہ گھر کا خرچ سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔
  • دونوں کے تعلقات اتنے تلخ ہو گئے تھے کہ کہا جاتا ہے کہ مغل اعظم کے سیٹ پر ایک سین میں دلیپ نے مدھوبالا کو اتنے زور سے تھپڑ مارا کہ سب لوگ چونک گئے۔
  • ٹوٹے ہوئے دل کو لے کر مدھوبالا آگے بڑھ رہی تھیں تبھی ان کے دلوں پر مرہم لگانے کے لئے ایک شخص آیا۔ وہ شخص تھے کشور کمار۔ فلموں میں کام کرتے ہوئے دونوں میں پیار ہوا اور دونوں نے شادی کر لی۔
  • کہتے ہیں کہ مدھوبالا نے بھلے ہی کشور سے شادی کی تھی، لیکن ان سے پیار نہیں کر پائیں۔ ایک تو شوہر کا ساتھ نہیں ملا، تو وہیں مدھو کو بیماری نے آ گھیرا۔
  • ان کے دل میں سوراخ تھا، ان کی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ فلم مغل اعظم کے دوران باڈی ڈبل کا استعمال کرنا پڑا۔
  • کہتے ہیں کہ جو مدھوبالا اپنی خوبصورتی کے لیے جانی جاتی تھیں، وہ بیماری کی وجہ سے ایسی ہو گئی تھیں کہ وہ خود کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ 23 فروری 1969 میں مدھوبالا نے بالآخر زندگی کو الوداع کہہ دیا۔

تازہ ترین تصاویر