سالگرہ کے موقع پر: دلکش اداؤں سے دیوانہ بنایا مادھوری دکشت نے

May 15, 2017 03:45 PM IST
1 of 8
  • بالی ووڈ میں مادھوری دکشت کا نام ایک ایسی اداکارہ کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی دلکش اداؤں سے تقریباً تین دہائی سے ناظرین کے دلوں میں اپنی خاص شناخت بنائی ہے۔ مادھوری دکشت کی پیدائش 15 مئی 1967 کو ممبئی میں ایک متوسط طبقہ کے مراٹھی برہمن خاندان میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ممبئی سے حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے ممبئی یونیورسٹی میں 'مائکرو بایولوجسٹ' بننے کے لیے داخلہ لے لیا۔ اس درمیان انہوں نے تقریباً آٹھ سال تک كتھك ڈانس کی تربیت بھی حاصل کی۔

    بالی ووڈ میں مادھوری دکشت کا نام ایک ایسی اداکارہ کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی دلکش اداؤں سے تقریباً تین دہائی سے ناظرین کے دلوں میں اپنی خاص شناخت بنائی ہے۔ مادھوری دکشت کی پیدائش 15 مئی 1967 کو ممبئی میں ایک متوسط طبقہ کے مراٹھی برہمن خاندان میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ممبئی سے حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے ممبئی یونیورسٹی میں 'مائکرو بایولوجسٹ' بننے کے لیے داخلہ لے لیا۔ اس درمیان انہوں نے تقریباً آٹھ سال تک كتھك ڈانس کی تربیت بھی حاصل کی۔

  • مادھوری دکشت نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1984 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم 'معصوم' سے کیا لیکن کمزورا سکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس پر بری طرح ردکردی گئی۔سال1984 سے 1988 تک وہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کیلئے جدوجہد کرتی رہیں۔ 'معصوم' کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا وہ اسے قبول کرتی چلی گئیں۔

    مادھوری دکشت نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1984 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم 'معصوم' سے کیا لیکن کمزورا سکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس پر بری طرح ردکردی گئی۔سال1984 سے 1988 تک وہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کیلئے جدوجہد کرتی رہیں۔ 'معصوم' کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا وہ اسے قبول کرتی چلی گئیں۔

  •  اس دوران انہوں نے 'سواتی'، 'آوارہ '، 'باپ'، 'زمین'، 'مہرے'، 'حفاظت' اور 'اتردکشن' جیسی کئی دوسرے درجے کی فلموں میں اداکاری کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ سال 1988 میں انہیں ونود کھنہ کے ساتھ فلم 'دیاوان ' میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔

    اس دوران انہوں نے 'سواتی'، 'آوارہ '، 'باپ'، 'زمین'، 'مہرے'، 'حفاظت' اور 'اتردکشن' جیسی کئی دوسرے درجے کی فلموں میں اداکاری کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ سال 1988 میں انہیں ونود کھنہ کے ساتھ فلم 'دیاوان ' میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔

  • مادھوری دکشت کی قسمت کا ستارہ سال 1988 میں آئی فلم 'تیزاب' سے چمکا۔ فلم میں مادھوری دکشت نے انل کپور کی محبوبہ کا کردار اداکیا تھا۔ فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ'ایک دو تین' ان دنوں سامعین کے درمیان چھا گیا تھا۔ فلم کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت فلم انڈسٹری میں اپنی صحیح شناخت حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئیں۔

    مادھوری دکشت کی قسمت کا ستارہ سال 1988 میں آئی فلم 'تیزاب' سے چمکا۔ فلم میں مادھوری دکشت نے انل کپور کی محبوبہ کا کردار اداکیا تھا۔ فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ'ایک دو تین' ان دنوں سامعین کے درمیان چھا گیا تھا۔ فلم کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت فلم انڈسٹری میں اپنی صحیح شناخت حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئیں۔

  • سال 1990 میں مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم 'دل' ریلیز ہوئی۔ فلم میں مادھوری دکشت اور عامر خان کی جوڑی کو شائقین نے کافی پسند کیا۔ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی ساتھ ہی فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے مادھوری دکشت کو اپنے فلمی کیریئر کا پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا۔ فوٹو کریڈٹ: یوٹیوب۔

    سال 1990 میں مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم 'دل' ریلیز ہوئی۔ فلم میں مادھوری دکشت اور عامر خان کی جوڑی کو شائقین نے کافی پسند کیا۔ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی ساتھ ہی فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے مادھوری دکشت کو اپنے فلمی کیریئر کا پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا۔ فوٹو کریڈٹ: یوٹیوب۔

  • سال 1991 مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی اداکاری کے نئے رنگ ناظرین کو دیکھنے کو ملے۔ اس سال ان کی '100 ڈیز'، 'ساجن'، 'پرہار' جیسی فلمیں ریلیزہوئی۔ ان فلموں کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت شہرت کی بلنديوں پر جا پہنچی۔ سال 1992 میں مادھوری دکشت کی ایک اور اہم فلم 'بیٹا' ریلیز ہوئی۔ سال 1994 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم 'ہم آپ کے ہیں کون' مادھوری دیکشت کی بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔خاندانی پس منظر پر بنی اس فلم میں ان کی جوڑی سلمان خان کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ ’’دیدی تیرا دیور دیوانہ 'ان دنوں سامعین کے درمیان بہت مقبول ہو گیا تھا۔ فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور آل ٹائم گریٹیسٹ ہٹس میں شمار ہو گئی۔

    سال 1991 مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی اداکاری کے نئے رنگ ناظرین کو دیکھنے کو ملے۔ اس سال ان کی '100 ڈیز'، 'ساجن'، 'پرہار' جیسی فلمیں ریلیزہوئی۔ ان فلموں کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت شہرت کی بلنديوں پر جا پہنچی۔ سال 1992 میں مادھوری دکشت کی ایک اور اہم فلم 'بیٹا' ریلیز ہوئی۔ سال 1994 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم 'ہم آپ کے ہیں کون' مادھوری دیکشت کی بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔خاندانی پس منظر پر بنی اس فلم میں ان کی جوڑی سلمان خان کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ ’’دیدی تیرا دیور دیوانہ 'ان دنوں سامعین کے درمیان بہت مقبول ہو گیا تھا۔ فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور آل ٹائم گریٹیسٹ ہٹس میں شمار ہو گئی۔

  • نوے کی دہائی میں مادھوری دکشت پر یہ الزام لگنے لگے کہ وہ صرف گلیمرس کردار ہی ادا کرسکی ہیں۔اس تصویر سے باہر نکلنے میں ہدایت کار پرکاش جھا نے ان کی مدد کی اور انہیں لے کر فلم 'مرتیو دنڈ' بنائی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا جو اپنے شوہر کی موت کا بدلہ لیتی ہے۔اسکے علاوہ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی فلم انجام بھی اچھی ہٹ رہی۔  2002 میں مادھوری دکشت کو شرت چندر کے مشہور ناول 'دیوداس' پر بنی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔سنجے لیلا بھنسالی کی اس فلم میں 'چندرمكھي' کے اپنے کردار سے انہوں نے شائقین کا دل جیت لیا اور اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین معاون اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گئیں۔

    نوے کی دہائی میں مادھوری دکشت پر یہ الزام لگنے لگے کہ وہ صرف گلیمرس کردار ہی ادا کرسکی ہیں۔اس تصویر سے باہر نکلنے میں ہدایت کار پرکاش جھا نے ان کی مدد کی اور انہیں لے کر فلم 'مرتیو دنڈ' بنائی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا جو اپنے شوہر کی موت کا بدلہ لیتی ہے۔اسکے علاوہ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی فلم انجام بھی اچھی ہٹ رہی۔ 2002 میں مادھوری دکشت کو شرت چندر کے مشہور ناول 'دیوداس' پر بنی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔سنجے لیلا بھنسالی کی اس فلم میں 'چندرمكھي' کے اپنے کردار سے انہوں نے شائقین کا دل جیت لیا اور اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین معاون اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گئیں۔

  • مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکار انیل کپورکے ساتھ کافی پسند کی گئی۔انہیں پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ہندوستانی سنیما میں ان کی شراکت کے پیش نظر 2008 میں انہیں پدم بھوشن ساتھ کے اعزاز سے نوازا گیا۔  2002 میں آئی فلم 'ہم تمہارے ہیں صنم' کے بعد مادھوری دکشت نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا اور ازدواجی زندگی میں مصروف ہوگئیں۔ سال 2007 میں فلم 'آجا نچ لے' کے ذریعے انہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنے فلمی کیریئر کی دوسری اننگز شروع کی لیکن اس فلم کی میں انہیں کچھ خاص کامیابی نہیں ملی جس کے بعد انہوں نے پھر فلم انڈسٹری سے کچھ دنوں کے لئے کنارا کر لیا۔مادھوری دکشت نے سال 2013 میں ریلیز ہوئی فلم 'یہ جوانی ہے دیوانی' سے انڈسٹری میں 'واپسی کی ہے۔اس کے بعد انہوں نے 'ڈیڑھ عشقیہ' اور 'گلاب گینگ' جیسی فلموں میں کام کیا۔

    مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکار انیل کپورکے ساتھ کافی پسند کی گئی۔انہیں پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ہندوستانی سنیما میں ان کی شراکت کے پیش نظر 2008 میں انہیں پدم بھوشن ساتھ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 2002 میں آئی فلم 'ہم تمہارے ہیں صنم' کے بعد مادھوری دکشت نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا اور ازدواجی زندگی میں مصروف ہوگئیں۔ سال 2007 میں فلم 'آجا نچ لے' کے ذریعے انہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنے فلمی کیریئر کی دوسری اننگز شروع کی لیکن اس فلم کی میں انہیں کچھ خاص کامیابی نہیں ملی جس کے بعد انہوں نے پھر فلم انڈسٹری سے کچھ دنوں کے لئے کنارا کر لیا۔مادھوری دکشت نے سال 2013 میں ریلیز ہوئی فلم 'یہ جوانی ہے دیوانی' سے انڈسٹری میں 'واپسی کی ہے۔اس کے بعد انہوں نے 'ڈیڑھ عشقیہ' اور 'گلاب گینگ' جیسی فلموں میں کام کیا۔

  • مادھوری دکشت نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1984 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم 'معصوم' سے کیا لیکن کمزورا سکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس پر بری طرح ردکردی گئی۔سال1984 سے 1988 تک وہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کیلئے جدوجہد کرتی رہیں۔ 'معصوم' کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا وہ اسے قبول کرتی چلی گئیں۔
  •  اس دوران انہوں نے 'سواتی'، 'آوارہ '، 'باپ'، 'زمین'، 'مہرے'، 'حفاظت' اور 'اتردکشن' جیسی کئی دوسرے درجے کی فلموں میں اداکاری کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ سال 1988 میں انہیں ونود کھنہ کے ساتھ فلم 'دیاوان ' میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔
  • مادھوری دکشت کی قسمت کا ستارہ سال 1988 میں آئی فلم 'تیزاب' سے چمکا۔ فلم میں مادھوری دکشت نے انل کپور کی محبوبہ کا کردار اداکیا تھا۔ فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ'ایک دو تین' ان دنوں سامعین کے درمیان چھا گیا تھا۔ فلم کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت فلم انڈسٹری میں اپنی صحیح شناخت حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئیں۔
  • سال 1990 میں مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم 'دل' ریلیز ہوئی۔ فلم میں مادھوری دکشت اور عامر خان کی جوڑی کو شائقین نے کافی پسند کیا۔ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی ساتھ ہی فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے مادھوری دکشت کو اپنے فلمی کیریئر کا پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا۔ فوٹو کریڈٹ: یوٹیوب۔
  • سال 1991 مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی اداکاری کے نئے رنگ ناظرین کو دیکھنے کو ملے۔ اس سال ان کی '100 ڈیز'، 'ساجن'، 'پرہار' جیسی فلمیں ریلیزہوئی۔ ان فلموں کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت شہرت کی بلنديوں پر جا پہنچی۔ سال 1992 میں مادھوری دکشت کی ایک اور اہم فلم 'بیٹا' ریلیز ہوئی۔ سال 1994 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم 'ہم آپ کے ہیں کون' مادھوری دیکشت کی بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔خاندانی پس منظر پر بنی اس فلم میں ان کی جوڑی سلمان خان کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ ’’دیدی تیرا دیور دیوانہ 'ان دنوں سامعین کے درمیان بہت مقبول ہو گیا تھا۔ فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور آل ٹائم گریٹیسٹ ہٹس میں شمار ہو گئی۔
  • نوے کی دہائی میں مادھوری دکشت پر یہ الزام لگنے لگے کہ وہ صرف گلیمرس کردار ہی ادا کرسکی ہیں۔اس تصویر سے باہر نکلنے میں ہدایت کار پرکاش جھا نے ان کی مدد کی اور انہیں لے کر فلم 'مرتیو دنڈ' بنائی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا جو اپنے شوہر کی موت کا بدلہ لیتی ہے۔اسکے علاوہ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی فلم انجام بھی اچھی ہٹ رہی۔  2002 میں مادھوری دکشت کو شرت چندر کے مشہور ناول 'دیوداس' پر بنی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔سنجے لیلا بھنسالی کی اس فلم میں 'چندرمكھي' کے اپنے کردار سے انہوں نے شائقین کا دل جیت لیا اور اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین معاون اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گئیں۔
  • مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکار انیل کپورکے ساتھ کافی پسند کی گئی۔انہیں پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ہندوستانی سنیما میں ان کی شراکت کے پیش نظر 2008 میں انہیں پدم بھوشن ساتھ کے اعزاز سے نوازا گیا۔  2002 میں آئی فلم 'ہم تمہارے ہیں صنم' کے بعد مادھوری دکشت نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا اور ازدواجی زندگی میں مصروف ہوگئیں۔ سال 2007 میں فلم 'آجا نچ لے' کے ذریعے انہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنے فلمی کیریئر کی دوسری اننگز شروع کی لیکن اس فلم کی میں انہیں کچھ خاص کامیابی نہیں ملی جس کے بعد انہوں نے پھر فلم انڈسٹری سے کچھ دنوں کے لئے کنارا کر لیا۔مادھوری دکشت نے سال 2013 میں ریلیز ہوئی فلم 'یہ جوانی ہے دیوانی' سے انڈسٹری میں 'واپسی کی ہے۔اس کے بعد انہوں نے 'ڈیڑھ عشقیہ' اور 'گلاب گینگ' جیسی فلموں میں کام کیا۔

تازہ ترین تصاویر