اورنگ آباد :باشندگان شہر سے تین گنا وصولا جاتا ہے واٹر ٹیکس ، لیکن چاردنوں میں صرف ایک مرتبہ ملتا ہے پینے کا پانی

Feb 07, 2018 11:17 PM IST
1 of 10
  •  اورنگ آباد کے باشندوں  کو پینے کا پانی وقت پر ملے، اس کیلئے سیاست سے بالاتر ہوکر ایک رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ کمیٹی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شامل ہیں ۔ کمیٹی کے ذمہ داروں نے پانی کے لیےعوامی تحریک چلانےکا انتباہ دیا ہے ۔ اورنگ آباد مہاراشٹر کا واحد شہر ہے ، جہاں پینے کے پانی کا ٹیکس دیگر شہروں سے دوگنا وصول کیا جاتا ہے ۔

    اورنگ آباد کے باشندوں کو پینے کا پانی وقت پر ملے، اس کیلئے سیاست سے بالاتر ہوکر ایک رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ کمیٹی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شامل ہیں ۔ کمیٹی کے ذمہ داروں نے پانی کے لیےعوامی تحریک چلانےکا انتباہ دیا ہے ۔ اورنگ آباد مہاراشٹر کا واحد شہر ہے ، جہاں پینے کے پانی کا ٹیکس دیگر شہروں سے دوگنا وصول کیا جاتا ہے ۔

  • سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پونے ، کلیان، الہاس نگر اور  ڈومبیولی میں سالانہ واٹر ٹیکس 1200 روپئے ہے۔ ناسک میں 1600روپئے، مالیگاؤں میں 1800 روپئے ہے ۔ جبکہ اورنگ آباد میں یہ 4050 روپئے ہے ، جو کئی گنا زیادہ ہے ۔

    سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پونے ، کلیان، الہاس نگر اور ڈومبیولی میں سالانہ واٹر ٹیکس 1200 روپئے ہے۔ ناسک میں 1600روپئے، مالیگاؤں میں 1800 روپئے ہے ۔ جبکہ اورنگ آباد میں یہ 4050 روپئے ہے ، جو کئی گنا زیادہ ہے ۔

  • اس کے باوجود باشندوں کو چاردن میں ایک مرتبہ پینےکا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

    اس کے باوجود باشندوں کو چاردن میں ایک مرتبہ پینےکا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

  •  ایم آئی ایم نےاس کےخلاف آوازاٹھائی لیکن یہ نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ تاہم  اب تمام سیاسی پارٹیوں اورسماجی کارکنوں نےمتحد ہوکر پانی کے لیےتحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    ایم آئی ایم نےاس کےخلاف آوازاٹھائی لیکن یہ نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ تاہم اب تمام سیاسی پارٹیوں اورسماجی کارکنوں نےمتحد ہوکر پانی کے لیےتحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

  • پینے کے پانی کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات بھی سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو بھی باہمی اتحاد پرمجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

    پینے کے پانی کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات بھی سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو بھی باہمی اتحاد پرمجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

  • سمنوئے سمیتی کے ذمہ داروں نے واٹر ٹیکس کو فوری 1800 روپئے کرنے اورشہر کو ٹینکر سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

    سمنوئے سمیتی کے ذمہ داروں نے واٹر ٹیکس کو فوری 1800 روپئے کرنے اورشہر کو ٹینکر سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  •  واضح رہے کہ شہر کی دو درجن بستیوں میں آج بھی ٹینکر سے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔

    واضح رہے کہ شہر کی دو درجن بستیوں میں آج بھی ٹینکر سے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔

  • طے ہوا کہ 23 فروری کو اورنگ آباد میں ایک عوامی احتجاج کے ذریعہ انتظامیہ کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    طے ہوا کہ 23 فروری کو اورنگ آباد میں ایک عوامی احتجاج کے ذریعہ انتظامیہ کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

  • کمیٹی کے ذمہ داروں کا دعوی ہے کہ اس مہم میں شہر کےتمام طبقات ان کے ساتھ ہیں۔

    کمیٹی کے ذمہ داروں کا دعوی ہے کہ اس مہم میں شہر کےتمام طبقات ان کے ساتھ ہیں۔

  • کمیٹی نے انتباہ دیا ہے کہ اگر واٹر ٹیکس میں کمی نہیں کی گئی ، تو کارپوریشن کو عدالت میں کھینچا جائیگا۔

    کمیٹی نے انتباہ دیا ہے کہ اگر واٹر ٹیکس میں کمی نہیں کی گئی ، تو کارپوریشن کو عدالت میں کھینچا جائیگا۔

  • سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پونے ، کلیان، الہاس نگر اور  ڈومبیولی میں سالانہ واٹر ٹیکس 1200 روپئے ہے۔ ناسک میں 1600روپئے، مالیگاؤں میں 1800 روپئے ہے ۔ جبکہ اورنگ آباد میں یہ 4050 روپئے ہے ، جو کئی گنا زیادہ ہے ۔
  • اس کے باوجود باشندوں کو چاردن میں ایک مرتبہ پینےکا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
  •  ایم آئی ایم نےاس کےخلاف آوازاٹھائی لیکن یہ نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ تاہم  اب تمام سیاسی پارٹیوں اورسماجی کارکنوں نےمتحد ہوکر پانی کے لیےتحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
  • پینے کے پانی کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات بھی سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو بھی باہمی اتحاد پرمجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
  • سمنوئے سمیتی کے ذمہ داروں نے واٹر ٹیکس کو فوری 1800 روپئے کرنے اورشہر کو ٹینکر سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
  •  واضح رہے کہ شہر کی دو درجن بستیوں میں آج بھی ٹینکر سے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔
  • طے ہوا کہ 23 فروری کو اورنگ آباد میں ایک عوامی احتجاج کے ذریعہ انتظامیہ کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
  • کمیٹی کے ذمہ داروں کا دعوی ہے کہ اس مہم میں شہر کےتمام طبقات ان کے ساتھ ہیں۔
  • کمیٹی نے انتباہ دیا ہے کہ اگر واٹر ٹیکس میں کمی نہیں کی گئی ، تو کارپوریشن کو عدالت میں کھینچا جائیگا۔

تازہ ترین تصاویر