تصویریں: ہیلی کاپٹر سے رائے پور لائے گئے سکما حملے میں زخمی جوان

Apr 24, 2017 09:35 PM IST
1 of 7
  • چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں آج دوپہر نکسلیوں کے حملے میں سینٹرل ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف) کے 26 جوان شہید ہو گئے اور چھ جوان زخمی ہیں، جبکہ حملے کے بعد سے آٹھ جوان لاپتہ ہیں۔ پولس نے مڈبھیڑ میں 5 نکسلیوں کے مارے جانے کا دعوی کیا ہے۔ حملہ آور نکسلی جوانوں کے ہتھیار بھی لوٹ کر لے گئے۔ پولس ذرائع کے مطابق چنتاگپھا تھانہ سے جوائنٹ پولس ٹیم سرچ آپریشن کے لئے روانہ ہو ئی تھی۔ گرام بركاپال کے نزدیک جنگل میں گھات لگا کرنکسلیوں نے پولس پر فائرنگ شروع کر دی۔

    چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں آج دوپہر نکسلیوں کے حملے میں سینٹرل ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف) کے 26 جوان شہید ہو گئے اور چھ جوان زخمی ہیں، جبکہ حملے کے بعد سے آٹھ جوان لاپتہ ہیں۔ پولس نے مڈبھیڑ میں 5 نکسلیوں کے مارے جانے کا دعوی کیا ہے۔ حملہ آور نکسلی جوانوں کے ہتھیار بھی لوٹ کر لے گئے۔ پولس ذرائع کے مطابق چنتاگپھا تھانہ سے جوائنٹ پولس ٹیم سرچ آپریشن کے لئے روانہ ہو ئی تھی۔ گرام بركاپال کے نزدیک جنگل میں گھات لگا کرنکسلیوں نے پولس پر فائرنگ شروع کر دی۔

  •  ذرائع کے مطابق حملے کے وقت 200-250 سے زیادہ نکسلی موجود تھے، جو جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ نکسلیوں نے یہاں جوانوں کے لئے پہلے سے ہی گھات لگا رکھا تھا۔ جیسے ہی پولس ٹیم نکسلیوں کے اس گھات میں آئی نکسلیوں نے بارودی سرنگ دھماکہ کر دیا۔ جوان جب تک سنبھل پاتے پہاڑیوں میں چھپے نکسلیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

    ذرائع کے مطابق حملے کے وقت 200-250 سے زیادہ نکسلی موجود تھے، جو جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ نکسلیوں نے یہاں جوانوں کے لئے پہلے سے ہی گھات لگا رکھا تھا۔ جیسے ہی پولس ٹیم نکسلیوں کے اس گھات میں آئی نکسلیوں نے بارودی سرنگ دھماکہ کر دیا۔ جوان جب تک سنبھل پاتے پہاڑیوں میں چھپے نکسلیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

  • بستر ڈویژن کے پولس ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پی سندرراج اور سکما کے پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ابھیشیک مینا نے بتایا کہ مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 74 ویں بٹالین کے 26 جوان شہید ہوئے ہیں، ساتھ ہی چھ جوان شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی جوانوں کو ہیلی کاپٹر سے رائے پور ر یفر کیا گیا ہے۔

    بستر ڈویژن کے پولس ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پی سندرراج اور سکما کے پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ابھیشیک مینا نے بتایا کہ مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 74 ویں بٹالین کے 26 جوان شہید ہوئے ہیں، ساتھ ہی چھ جوان شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی جوانوں کو ہیلی کاپٹر سے رائے پور ر یفر کیا گیا ہے۔

  • انہوں نے بتایا کہ مڈبھیڑ کے مقام پر حالات کے ثبوت، خون کے داغ اور گھسیٹے جانے کے نشانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم 4-5 نکسلی ہلاک اور بہت سے لهولهان ہوئے ہیں، ساتھیوں کی لاشیں نکسلی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس واقعہ کو نکسلیوں کی ملٹری بٹالین کی کمپنی نمبر ایک نے انجام دیا ہے اور اس پورے حملے کی قیادت نکسلی لیڈر سوستانی نے کی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ مڈبھیڑ کے مقام پر حالات کے ثبوت، خون کے داغ اور گھسیٹے جانے کے نشانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم 4-5 نکسلی ہلاک اور بہت سے لهولهان ہوئے ہیں، ساتھیوں کی لاشیں نکسلی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس واقعہ کو نکسلیوں کی ملٹری بٹالین کی کمپنی نمبر ایک نے انجام دیا ہے اور اس پورے حملے کی قیادت نکسلی لیڈر سوستانی نے کی ہے۔

  •  اس علاقے کی مکمل کمان ویسے تو هڑما کے ہاتھوں میں ہے اور هڑما ہی علاقے میں نکسلیوں کی قیادت کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ ارجن اور سوستانی عرف سونو بھی یہاں سرگرم ہے۔

    اس علاقے کی مکمل کمان ویسے تو هڑما کے ہاتھوں میں ہے اور هڑما ہی علاقے میں نکسلیوں کی قیادت کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ ارجن اور سوستانی عرف سونو بھی یہاں سرگرم ہے۔

  • بركاپال کے قریب جس جگہ جوانوں پر نکسلیوں کا حملہ ہوا، اس کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کے کئی کیمپ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں ہر پانچ کلومیٹر میں ایک کیمپ ہے۔ ایسے میں نکسلیوں نے چنتاگپھا تھانہ سے محض ڈیڑھ کلومیٹر دور ہی جوانوں کو پھنسانے کے لئے گھات لگایا تھا۔ یہاں تقریبا دو گھنٹے تک گولہ باری جاری رہی۔

    بركاپال کے قریب جس جگہ جوانوں پر نکسلیوں کا حملہ ہوا، اس کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کے کئی کیمپ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں ہر پانچ کلومیٹر میں ایک کیمپ ہے۔ ایسے میں نکسلیوں نے چنتاگپھا تھانہ سے محض ڈیڑھ کلومیٹر دور ہی جوانوں کو پھنسانے کے لئے گھات لگایا تھا۔ یہاں تقریبا دو گھنٹے تک گولہ باری جاری رہی۔

  • ذرائع نے بتایا کہ چونکہ مڈبھیڑ کا مقام نکسل متاثرہ اور ناقابل رسائی علاقے میں واقع ہے، اسی لیے فی الحال شہیدوں کی لاشوں کو لانا سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ممکن نہیں ہے۔ اس مقام پر ہیلی کاپٹر اتارنا بھی ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ 11 مارچ کو ہی ضلع سکما میں انجرم- بھیجی روڈ کی تعمیر کو سکیورٹی فراہم کرنے روانہ کی گئی سی آر پی ایف 219 ویں بٹالین کی تقریب سے پہلے ہونے والی مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 12 جوان شہید ہو گئے تھے اور تین دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی نکسلی شہید جوانوں کے ہتھیار لوٹ کر لے گئے تھے۔

    ذرائع نے بتایا کہ چونکہ مڈبھیڑ کا مقام نکسل متاثرہ اور ناقابل رسائی علاقے میں واقع ہے، اسی لیے فی الحال شہیدوں کی لاشوں کو لانا سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ممکن نہیں ہے۔ اس مقام پر ہیلی کاپٹر اتارنا بھی ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ 11 مارچ کو ہی ضلع سکما میں انجرم- بھیجی روڈ کی تعمیر کو سکیورٹی فراہم کرنے روانہ کی گئی سی آر پی ایف 219 ویں بٹالین کی تقریب سے پہلے ہونے والی مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 12 جوان شہید ہو گئے تھے اور تین دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی نکسلی شہید جوانوں کے ہتھیار لوٹ کر لے گئے تھے۔

  •  ذرائع کے مطابق حملے کے وقت 200-250 سے زیادہ نکسلی موجود تھے، جو جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ نکسلیوں نے یہاں جوانوں کے لئے پہلے سے ہی گھات لگا رکھا تھا۔ جیسے ہی پولس ٹیم نکسلیوں کے اس گھات میں آئی نکسلیوں نے بارودی سرنگ دھماکہ کر دیا۔ جوان جب تک سنبھل پاتے پہاڑیوں میں چھپے نکسلیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
  • بستر ڈویژن کے پولس ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پی سندرراج اور سکما کے پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ابھیشیک مینا نے بتایا کہ مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 74 ویں بٹالین کے 26 جوان شہید ہوئے ہیں، ساتھ ہی چھ جوان شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی جوانوں کو ہیلی کاپٹر سے رائے پور ر یفر کیا گیا ہے۔
  • انہوں نے بتایا کہ مڈبھیڑ کے مقام پر حالات کے ثبوت، خون کے داغ اور گھسیٹے جانے کے نشانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم 4-5 نکسلی ہلاک اور بہت سے لهولهان ہوئے ہیں، ساتھیوں کی لاشیں نکسلی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس واقعہ کو نکسلیوں کی ملٹری بٹالین کی کمپنی نمبر ایک نے انجام دیا ہے اور اس پورے حملے کی قیادت نکسلی لیڈر سوستانی نے کی ہے۔
  •  اس علاقے کی مکمل کمان ویسے تو هڑما کے ہاتھوں میں ہے اور هڑما ہی علاقے میں نکسلیوں کی قیادت کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ ارجن اور سوستانی عرف سونو بھی یہاں سرگرم ہے۔
  • بركاپال کے قریب جس جگہ جوانوں پر نکسلیوں کا حملہ ہوا، اس کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کے کئی کیمپ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں ہر پانچ کلومیٹر میں ایک کیمپ ہے۔ ایسے میں نکسلیوں نے چنتاگپھا تھانہ سے محض ڈیڑھ کلومیٹر دور ہی جوانوں کو پھنسانے کے لئے گھات لگایا تھا۔ یہاں تقریبا دو گھنٹے تک گولہ باری جاری رہی۔
  • ذرائع نے بتایا کہ چونکہ مڈبھیڑ کا مقام نکسل متاثرہ اور ناقابل رسائی علاقے میں واقع ہے، اسی لیے فی الحال شہیدوں کی لاشوں کو لانا سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ممکن نہیں ہے۔ اس مقام پر ہیلی کاپٹر اتارنا بھی ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ 11 مارچ کو ہی ضلع سکما میں انجرم- بھیجی روڈ کی تعمیر کو سکیورٹی فراہم کرنے روانہ کی گئی سی آر پی ایف 219 ویں بٹالین کی تقریب سے پہلے ہونے والی مڈبھیڑ میں سی آر پی ایف کے 12 جوان شہید ہو گئے تھے اور تین دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی نکسلی شہید جوانوں کے ہتھیار لوٹ کر لے گئے تھے۔

تازہ ترین تصاویر