اترپردیش میں یوگی کی پولیس ایک مخصوص طبقہ کو کر رہی ہے پریشان: کلب جواد

Mar 29, 2017 09:45 AM IST
1 of 9
  • غیر قانونی مذبح خانوں اور غیر لائسنسی دکانوں کے خلاف پولیس کی کاروائی نے ایسے گوشت کاروباریوں میں بھی دہشت پیدا کر دی ہے جن کے پاس لائسنس ہیں لیکن رینیول نہیں ہوئے ہیں ۔ پولیس کے ساتھ محکمہ صحت کی کاروائی سے خوفزدہ مٹن اور چکن دکانداروں نے بھی اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں اور اسکا براہ راست اثر گوشت کاروبار کے ساتھ روزگار پر بھی نظر آ رہا ہے۔

    غیر قانونی مذبح خانوں اور غیر لائسنسی دکانوں کے خلاف پولیس کی کاروائی نے ایسے گوشت کاروباریوں میں بھی دہشت پیدا کر دی ہے جن کے پاس لائسنس ہیں لیکن رینیول نہیں ہوئے ہیں ۔ پولیس کے ساتھ محکمہ صحت کی کاروائی سے خوفزدہ مٹن اور چکن دکانداروں نے بھی اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں اور اسکا براہ راست اثر گوشت کاروبار کے ساتھ روزگار پر بھی نظر آ رہا ہے۔

  • حکومت کی سختی کے بعد  مذبح خانوں پر پولیس کی کاروائی نے سرکاری محکموں کے لائسنس سسٹم کے طریقوں اور بدعنوانی کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ پولیس کی تیز رفتار کاروائی سے دہشت زدہ لائسنس  گوشت کاروباریوں کا کاروبار ہی متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ دکانوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کے روزگار پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔

    حکومت کی سختی کے بعد مذبح خانوں پر پولیس کی کاروائی نے سرکاری محکموں کے لائسنس سسٹم کے طریقوں اور بدعنوانی کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ پولیس کی تیز رفتار کاروائی سے دہشت زدہ لائسنس گوشت کاروباریوں کا کاروبار ہی متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ دکانوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کے روزگار پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔

  • لائسنس والے گوشت دکاندار غیر قانونی مذبح خانوں اور دکانوں کے خلاف پولیس کی کاروائی کی حمایت کرتے ہیں لیکن لائسنسی دکانداروں کو بھی ہراساں کئے جانے سے پریشان ہیں اور حکومت سے لائسنس سسٹم کو بہتر کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

    لائسنس والے گوشت دکاندار غیر قانونی مذبح خانوں اور دکانوں کے خلاف پولیس کی کاروائی کی حمایت کرتے ہیں لیکن لائسنسی دکانداروں کو بھی ہراساں کئے جانے سے پریشان ہیں اور حکومت سے لائسنس سسٹم کو بہتر کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

  • وہیں لائسنس جاری کرنے والے محکمہ کے ذمہ داران خود اعتراف کرتے ہیں کہ زیادہ تر گوشت کاروباریوں کے پاس لائسنس موجود ہیں تاہم رینیول نہ ہونے سے سرکاری محکموں اور پولیس کی کاروائی کا وہ نشانہ بن رہے ہیں ۔

    وہیں لائسنس جاری کرنے والے محکمہ کے ذمہ داران خود اعتراف کرتے ہیں کہ زیادہ تر گوشت کاروباریوں کے پاس لائسنس موجود ہیں تاہم رینیول نہ ہونے سے سرکاری محکموں اور پولیس کی کاروائی کا وہ نشانہ بن رہے ہیں ۔

  • ادھر آل انڈیامائنارٹیز فورم نے  بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوشت کے چھوٹے تاجروں اور ان لوگوں کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے جن کے لئے روزی روٹی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

    ادھر آل انڈیامائنارٹیز فورم نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوشت کے چھوٹے تاجروں اور ان لوگوں کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے جن کے لئے روزی روٹی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

  •  فورم کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا ہے کہ گوشت فروخت کرکے روز مرہ کی زندگی گزارنے والے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ۔

    فورم کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا ہے کہ گوشت فروخت کرکے روز مرہ کی زندگی گزارنے والے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ۔

  • انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں ضابطوں کی خلاف ورزی ہورہی ہے وہاں پابندی ضرور لگائی جائے لیکن غیر ضروری طور پر لوگوں کوپریشان بھی نہ کیاجائے ۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں ضابطوں کی خلاف ورزی ہورہی ہے وہاں پابندی ضرور لگائی جائے لیکن غیر ضروری طور پر لوگوں کوپریشان بھی نہ کیاجائے ۔

  •  ڈاکٹر عمار رضوی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں فورم کا وفد جلد ہی وزیر اعلیٰ سے ملکر انہیں مکمل حالات سے واقف کرائے گا ۔

    ڈاکٹر عمار رضوی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں فورم کا وفد جلد ہی وزیر اعلیٰ سے ملکر انہیں مکمل حالات سے واقف کرائے گا ۔

  • وہیں معروف عالم دین مولانا کلب جواد نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں گوشت کے تاجروں کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے ۔ بغیر کسی حکم نامے کے پولس چھوٹے گوشت  فروشوں اور تاجروں پر کارروائی کر رہی ہے جس سے ایک مخصوص طبقے کے لوگ پریشان ہیں۔

    وہیں معروف عالم دین مولانا کلب جواد نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں گوشت کے تاجروں کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے ۔ بغیر کسی حکم نامے کے پولس چھوٹے گوشت فروشوں اور تاجروں پر کارروائی کر رہی ہے جس سے ایک مخصوص طبقے کے لوگ پریشان ہیں۔

  • حکومت کی سختی کے بعد  مذبح خانوں پر پولیس کی کاروائی نے سرکاری محکموں کے لائسنس سسٹم کے طریقوں اور بدعنوانی کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ پولیس کی تیز رفتار کاروائی سے دہشت زدہ لائسنس  گوشت کاروباریوں کا کاروبار ہی متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ دکانوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کے روزگار پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔
  • لائسنس والے گوشت دکاندار غیر قانونی مذبح خانوں اور دکانوں کے خلاف پولیس کی کاروائی کی حمایت کرتے ہیں لیکن لائسنسی دکانداروں کو بھی ہراساں کئے جانے سے پریشان ہیں اور حکومت سے لائسنس سسٹم کو بہتر کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
  • وہیں لائسنس جاری کرنے والے محکمہ کے ذمہ داران خود اعتراف کرتے ہیں کہ زیادہ تر گوشت کاروباریوں کے پاس لائسنس موجود ہیں تاہم رینیول نہ ہونے سے سرکاری محکموں اور پولیس کی کاروائی کا وہ نشانہ بن رہے ہیں ۔
  • ادھر آل انڈیامائنارٹیز فورم نے  بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوشت کے چھوٹے تاجروں اور ان لوگوں کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے جن کے لئے روزی روٹی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
  •  فورم کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا ہے کہ گوشت فروخت کرکے روز مرہ کی زندگی گزارنے والے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ۔
  • انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں ضابطوں کی خلاف ورزی ہورہی ہے وہاں پابندی ضرور لگائی جائے لیکن غیر ضروری طور پر لوگوں کوپریشان بھی نہ کیاجائے ۔
  •  ڈاکٹر عمار رضوی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں فورم کا وفد جلد ہی وزیر اعلیٰ سے ملکر انہیں مکمل حالات سے واقف کرائے گا ۔
  • وہیں معروف عالم دین مولانا کلب جواد نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں گوشت کے تاجروں کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے ۔ بغیر کسی حکم نامے کے پولس چھوٹے گوشت  فروشوں اور تاجروں پر کارروائی کر رہی ہے جس سے ایک مخصوص طبقے کے لوگ پریشان ہیں۔

تازہ ترین تصاویر