دارالعلوم ندوۃ العلما کے مولانا سلمان حسینی ندوی کی بی ایس پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل

Jan 18, 2017 01:11 PM IST
1 of 7
  • ایک طرف ایشیا کی عظیم دینی دانشگاہ دارالعلوم دیو بند نے تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کےلئے الیکشن تک اپنے دروازے بند کر لئے ہیں تو وہیں لکھنؤ میں واقع ایک دیگر عظیم دینی ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلما نے سیاسی اپیل کر کے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ندوۃ العلما کے ڈین مولانا سلمان حسینی ندوی نے بی ایس پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ مولانا کی اس اپیل پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

    ایک طرف ایشیا کی عظیم دینی دانشگاہ دارالعلوم دیو بند نے تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کےلئے الیکشن تک اپنے دروازے بند کر لئے ہیں تو وہیں لکھنؤ میں واقع ایک دیگر عظیم دینی ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلما نے سیاسی اپیل کر کے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ندوۃ العلما کے ڈین مولانا سلمان حسینی ندوی نے بی ایس پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ مولانا کی اس اپیل پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

  • حالانکہ بعض شیعہ و سنی علما یہ مانتے ہیں کہ سیاسی اپیلوں سے یا تو علما کو گریز کرنا چاہئے یا پھر متفقہ طور پرکوئی اعلان کیا جائے۔ لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلما بھی ایک ایسا دینی ادارہ ہے جو کسی بھی الیکشن میں کھل کر نہ تو کسی پارٹی کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی مخالفت۔

    حالانکہ بعض شیعہ و سنی علما یہ مانتے ہیں کہ سیاسی اپیلوں سے یا تو علما کو گریز کرنا چاہئے یا پھر متفقہ طور پرکوئی اعلان کیا جائے۔ لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلما بھی ایک ایسا دینی ادارہ ہے جو کسی بھی الیکشن میں کھل کر نہ تو کسی پارٹی کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی مخالفت۔

  • لیکن اب یہاں کے ہی پریچنگ اینڈ انفارمیشن شعبہ کے ڈین مولانا سلمان حسینی ندوی نے مسلمانوں سے بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کر کے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

    لیکن اب یہاں کے ہی پریچنگ اینڈ انفارمیشن شعبہ کے ڈین مولانا سلمان حسینی ندوی نے مسلمانوں سے بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کر کے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

  • حالانکہ ان کی یہ اپیل  ذاتی ہے  اور ’ایکتا منچ‘ نامی تنظیم کے سرپرست کے طور پر انہوں نے یہ اپیل کی ہے لیکن چونکہ مولانا کا تعلق ملک کے ایک عظیم الشان ادارے سے ہے اور خود مولانا بھی ایک بلند پایہ عالم دین ہیں، اس لئے ان کی اس اپیل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    حالانکہ ان کی یہ اپیل ذاتی ہے اور ’ایکتا منچ‘ نامی تنظیم کے سرپرست کے طور پر انہوں نے یہ اپیل کی ہے لیکن چونکہ مولانا کا تعلق ملک کے ایک عظیم الشان ادارے سے ہے اور خود مولانا بھی ایک بلند پایہ عالم دین ہیں، اس لئے ان کی اس اپیل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • خیال رہے کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کی کسی خاص پارٹی کے حق میں اپیل کودیگرعلما نے نامناسب بتایا ہے۔ شیعہ رہنما مولانا یعسوب عباس کا کہنا ہے کہ مسلمان کسی مولانا یا سجادہ نشین کی اپیل پر نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں و فلاحی اسکیموں کے مدنظر ووٹ ڈالتے ہیں۔

    خیال رہے کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کی کسی خاص پارٹی کے حق میں اپیل کودیگرعلما نے نامناسب بتایا ہے۔ شیعہ رہنما مولانا یعسوب عباس کا کہنا ہے کہ مسلمان کسی مولانا یا سجادہ نشین کی اپیل پر نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں و فلاحی اسکیموں کے مدنظر ووٹ ڈالتے ہیں۔

  • وہیں، لکھنؤ کی تاریخی مسجد ٹیلے شاہ کے پیش امام مولانا فضل المناّن کا کہنا ہے کہ  کوئی بھی سیاسی اپیل انفرادی طور پر نہیں بلکہ مسلم دانشوروں کے آپسی اتفاق رائے سے اجتماعی طورپر ہونی چاہئے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دی جا سکے۔

    وہیں، لکھنؤ کی تاریخی مسجد ٹیلے شاہ کے پیش امام مولانا فضل المناّن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سیاسی اپیل انفرادی طور پر نہیں بلکہ مسلم دانشوروں کے آپسی اتفاق رائے سے اجتماعی طورپر ہونی چاہئے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دی جا سکے۔

  • مولانا سلمان حسینی ندوی کی علمی و تعلیمی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پرکیا جاتا ہے لیکن ریاستی سطح پران کے ذریعہ کی گئی ایک سیاسی اپیل کہیں ان کی قدر و منزلت پر اثرانداز نہ ہوجائے، یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاست کو مذہب سے دوررکھنے کا عمومی رحجان بھی کتنا درست ہے،اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

    مولانا سلمان حسینی ندوی کی علمی و تعلیمی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پرکیا جاتا ہے لیکن ریاستی سطح پران کے ذریعہ کی گئی ایک سیاسی اپیل کہیں ان کی قدر و منزلت پر اثرانداز نہ ہوجائے، یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاست کو مذہب سے دوررکھنے کا عمومی رحجان بھی کتنا درست ہے،اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

  • حالانکہ بعض شیعہ و سنی علما یہ مانتے ہیں کہ سیاسی اپیلوں سے یا تو علما کو گریز کرنا چاہئے یا پھر متفقہ طور پرکوئی اعلان کیا جائے۔ لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلما بھی ایک ایسا دینی ادارہ ہے جو کسی بھی الیکشن میں کھل کر نہ تو کسی پارٹی کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی مخالفت۔
  • لیکن اب یہاں کے ہی پریچنگ اینڈ انفارمیشن شعبہ کے ڈین مولانا سلمان حسینی ندوی نے مسلمانوں سے بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کر کے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
  • حالانکہ ان کی یہ اپیل  ذاتی ہے  اور ’ایکتا منچ‘ نامی تنظیم کے سرپرست کے طور پر انہوں نے یہ اپیل کی ہے لیکن چونکہ مولانا کا تعلق ملک کے ایک عظیم الشان ادارے سے ہے اور خود مولانا بھی ایک بلند پایہ عالم دین ہیں، اس لئے ان کی اس اپیل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
  • خیال رہے کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کی کسی خاص پارٹی کے حق میں اپیل کودیگرعلما نے نامناسب بتایا ہے۔ شیعہ رہنما مولانا یعسوب عباس کا کہنا ہے کہ مسلمان کسی مولانا یا سجادہ نشین کی اپیل پر نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں و فلاحی اسکیموں کے مدنظر ووٹ ڈالتے ہیں۔
  • وہیں، لکھنؤ کی تاریخی مسجد ٹیلے شاہ کے پیش امام مولانا فضل المناّن کا کہنا ہے کہ  کوئی بھی سیاسی اپیل انفرادی طور پر نہیں بلکہ مسلم دانشوروں کے آپسی اتفاق رائے سے اجتماعی طورپر ہونی چاہئے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دی جا سکے۔
  • مولانا سلمان حسینی ندوی کی علمی و تعلیمی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پرکیا جاتا ہے لیکن ریاستی سطح پران کے ذریعہ کی گئی ایک سیاسی اپیل کہیں ان کی قدر و منزلت پر اثرانداز نہ ہوجائے، یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاست کو مذہب سے دوررکھنے کا عمومی رحجان بھی کتنا درست ہے،اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین تصاویر