نذیرفتحپوری سے ملئے ، پانچویں پاس ہیں ، مگر مختلف موضوعات پر اب تک تصنیف کرچکے ہیں 80 کتابیں

Jul 16, 2017 09:27 PM IST
1 of 13
  • ہمارے سماج میں کچھ ایسے لوگ ہیں ، جنہیں با قاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع تو نہیں ملا ، لیکن انہوں نے اپنے کارناموں سے ادبی دنیا کو اپنی طرف متوجہ ضرور کیا ہے۔ پونہ کے نذیرفتحپوری کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے ، جنہوں نے تعلیم تو پانچویں جماعت تک حاصل کی ہے ، لیکن اب تک مختلف موضوعات پر ان کی 80 کتابیں منظرعام پرآ چکی ہیں۔

    ہمارے سماج میں کچھ ایسے لوگ ہیں ، جنہیں با قاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع تو نہیں ملا ، لیکن انہوں نے اپنے کارناموں سے ادبی دنیا کو اپنی طرف متوجہ ضرور کیا ہے۔ پونہ کے نذیرفتحپوری کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے ، جنہوں نے تعلیم تو پانچویں جماعت تک حاصل کی ہے ، لیکن اب تک مختلف موضوعات پر ان کی 80 کتابیں منظرعام پرآ چکی ہیں۔

  • نذیر فتح پوری کا شمار اردو کے اہم ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ عام طور پر جب نذیر فتحپوری کی بات کی جاتی ہے ، تو لوگوں کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نذیر فتحپوری کو با قاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا ۔

    نذیر فتح پوری کا شمار اردو کے اہم ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ عام طور پر جب نذیر فتحپوری کی بات کی جاتی ہے ، تو لوگوں کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نذیر فتحپوری کو با قاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا ۔

  •  نذیرفتحپوری کی ولادت یکم دسمبر1946 کو راجستھان کے فتحپور میں ہوئی ۔ یہیں پر انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال گزارے اور کچھ تعلیم حاصل کی۔

    نذیرفتحپوری کی ولادت یکم دسمبر1946 کو راجستھان کے فتحپور میں ہوئی ۔ یہیں پر انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال گزارے اور کچھ تعلیم حاصل کی۔

  • نذیرفتحپوری نے اپنی زندگی کے چودہ سال راجستھان کے فتحپور میں گزارے۔ اس کے بعد مہاراشٹر کے تاریخی شہر پونے آ گئے۔ پونہ میں نذیر فتحپوری کے والد عمارت سازی کا کام کرتے تھے۔

    نذیرفتحپوری نے اپنی زندگی کے چودہ سال راجستھان کے فتحپور میں گزارے۔ اس کے بعد مہاراشٹر کے تاریخی شہر پونے آ گئے۔ پونہ میں نذیر فتحپوری کے والد عمارت سازی کا کام کرتے تھے۔

  • نذیر فتحپوری نے بھی اپنے والد کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ، تاکہ ان کی اور گھرکی ضروریات پوری ہو سکیں۔ انہی دنوں نذیر فتحپوری پونے سے فتحپو ر آئے اور یہاں کے ایک مقامی مشاعرہ کو سننے کے غرض سے گئے ۔ وہاں انہوں نے اپنے ہم عمر ایک لڑکے کو مشاعرہ کے اسٹیج پر غزل پڑھتے دیکھا تو انہیں بھی احساس ہوا کہ جب ان کا ہم عمر شاعری کر سکتا ہے ، تو وہ کیوں نہیں ۔

    نذیر فتحپوری نے بھی اپنے والد کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ، تاکہ ان کی اور گھرکی ضروریات پوری ہو سکیں۔ انہی دنوں نذیر فتحپوری پونے سے فتحپو ر آئے اور یہاں کے ایک مقامی مشاعرہ کو سننے کے غرض سے گئے ۔ وہاں انہوں نے اپنے ہم عمر ایک لڑکے کو مشاعرہ کے اسٹیج پر غزل پڑھتے دیکھا تو انہیں بھی احساس ہوا کہ جب ان کا ہم عمر شاعری کر سکتا ہے ، تو وہ کیوں نہیں ۔

  •  اسی خیال میں وہ سوائی مادھو پور اسٹیشن گئے اور وہیں سے پرکاش پنڈٹ کی کتاب خرید کر شاعری کے آداب کو سیکھا ۔

    اسی خیال میں وہ سوائی مادھو پور اسٹیشن گئے اور وہیں سے پرکاش پنڈٹ کی کتاب خرید کر شاعری کے آداب کو سیکھا ۔

  • نذیر فتحپوری نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور مختلف مو ضوعات پر اب تک ان کی 80 کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ نذیر فتحپوری نے شاعر ی سے اپنے ادبی سفر کا آغاز ضرور کیا ، لیکن ان کی پہلی تخلیق کتابی صورت میں جو 1975 میں منظرعام پرآئی ، وہ شاعری نہیں بلکہ ان کا ناول ہے۔

    نذیر فتحپوری نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور مختلف مو ضوعات پر اب تک ان کی 80 کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ نذیر فتحپوری نے شاعر ی سے اپنے ادبی سفر کا آغاز ضرور کیا ، لیکن ان کی پہلی تخلیق کتابی صورت میں جو 1975 میں منظرعام پرآئی ، وہ شاعری نہیں بلکہ ان کا ناول ہے۔

  • نذیر فتحپوری کا ناول چٹانوں کے بیچ  کے نام سے شائع ہوا ۔ اس کے بعد نذیرفتحپوری نے تحقیق، تنقید اور شخصیات پر بھی بہت سی کتابیں لکھیں ، جسے ادبی دنیا میں کافی پسند کیا گیا۔

    نذیر فتحپوری کا ناول چٹانوں کے بیچ کے نام سے شائع ہوا ۔ اس کے بعد نذیرفتحپوری نے تحقیق، تنقید اور شخصیات پر بھی بہت سی کتابیں لکھیں ، جسے ادبی دنیا میں کافی پسند کیا گیا۔

  • نذیر فتحپوری نے کل پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے ، لیکن ان کی ادبی تخلیقات اتنی اہم ہیں کہ اب تک ان کے تحقیق اور فکر و فن پر کئی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جا چکا ہے۔

    نذیر فتحپوری نے کل پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے ، لیکن ان کی ادبی تخلیقات اتنی اہم ہیں کہ اب تک ان کے تحقیق اور فکر و فن پر کئی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جا چکا ہے۔

  • نذیر فتحپوری نے شاعری، افسانہ، ناول، ماہیہ، نظم، غزل، تحقیق، تنقید کے ساتھ بچوں کے ادب پر بھی کام کیا ہے۔ بچوں کے ادب پر ان کی چھ کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں ۔

    نذیر فتحپوری نے شاعری، افسانہ، ناول، ماہیہ، نظم، غزل، تحقیق، تنقید کے ساتھ بچوں کے ادب پر بھی کام کیا ہے۔ بچوں کے ادب پر ان کی چھ کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں ۔

  • ادب اطفال کے میدان میں نذیر فتحپوری کے کام کا اعتراف کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی دہلی نے اس سال انہیں اعزاز سے سرفراز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف اردو اکادمیاں نذیر فتحپوری کو اعزاز سے سرفراز کر چکی ہیں۔

    ادب اطفال کے میدان میں نذیر فتحپوری کے کام کا اعتراف کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی دہلی نے اس سال انہیں اعزاز سے سرفراز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف اردو اکادمیاں نذیر فتحپوری کو اعزاز سے سرفراز کر چکی ہیں۔

  • نذیر فتحپوری کہتےہیں کہ ملک میں اردو کے فروغ و اشاعت کے لئے بہت سے ادارے کام تو کر رہے ہیں ، لیکن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کا کام سب پرغالب ہے۔ کونسل کےدائرہ اختیار میں پورا ملک اور پورے ملک کے ادبا و شعرا ہیں ، جو کونسل کی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    نذیر فتحپوری کہتےہیں کہ ملک میں اردو کے فروغ و اشاعت کے لئے بہت سے ادارے کام تو کر رہے ہیں ، لیکن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کا کام سب پرغالب ہے۔ کونسل کےدائرہ اختیار میں پورا ملک اور پورے ملک کے ادبا و شعرا ہیں ، جو کونسل کی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

  • خود نذیر فتحپوری نے اردو کا اثر راجستھان کی بولیوں پر کے نام سے جو کام کیا تھا وہ کونسل کے تعاون سے ہی کیا تھا۔ اب وہ جو نیا کام سیکر، جھنجھنو اور چورو کی ادبی خدمات کے حوالے سے کر رہے ہیں، وہ بھی کونسل کے تعاون سے ہی ہے۔

    خود نذیر فتحپوری نے اردو کا اثر راجستھان کی بولیوں پر کے نام سے جو کام کیا تھا وہ کونسل کے تعاون سے ہی کیا تھا۔ اب وہ جو نیا کام سیکر، جھنجھنو اور چورو کی ادبی خدمات کے حوالے سے کر رہے ہیں، وہ بھی کونسل کے تعاون سے ہی ہے۔

  • نذیر فتح پوری کا شمار اردو کے اہم ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ عام طور پر جب نذیر فتحپوری کی بات کی جاتی ہے ، تو لوگوں کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نذیر فتحپوری کو با قاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا ۔
  •  نذیرفتحپوری کی ولادت یکم دسمبر1946 کو راجستھان کے فتحپور میں ہوئی ۔ یہیں پر انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال گزارے اور کچھ تعلیم حاصل کی۔
  • نذیرفتحپوری نے اپنی زندگی کے چودہ سال راجستھان کے فتحپور میں گزارے۔ اس کے بعد مہاراشٹر کے تاریخی شہر پونے آ گئے۔ پونہ میں نذیر فتحپوری کے والد عمارت سازی کا کام کرتے تھے۔
  • نذیر فتحپوری نے بھی اپنے والد کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ، تاکہ ان کی اور گھرکی ضروریات پوری ہو سکیں۔ انہی دنوں نذیر فتحپوری پونے سے فتحپو ر آئے اور یہاں کے ایک مقامی مشاعرہ کو سننے کے غرض سے گئے ۔ وہاں انہوں نے اپنے ہم عمر ایک لڑکے کو مشاعرہ کے اسٹیج پر غزل پڑھتے دیکھا تو انہیں بھی احساس ہوا کہ جب ان کا ہم عمر شاعری کر سکتا ہے ، تو وہ کیوں نہیں ۔
  •  اسی خیال میں وہ سوائی مادھو پور اسٹیشن گئے اور وہیں سے پرکاش پنڈٹ کی کتاب خرید کر شاعری کے آداب کو سیکھا ۔
  • نذیر فتحپوری نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور مختلف مو ضوعات پر اب تک ان کی 80 کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ نذیر فتحپوری نے شاعر ی سے اپنے ادبی سفر کا آغاز ضرور کیا ، لیکن ان کی پہلی تخلیق کتابی صورت میں جو 1975 میں منظرعام پرآئی ، وہ شاعری نہیں بلکہ ان کا ناول ہے۔
  • نذیر فتحپوری کا ناول چٹانوں کے بیچ  کے نام سے شائع ہوا ۔ اس کے بعد نذیرفتحپوری نے تحقیق، تنقید اور شخصیات پر بھی بہت سی کتابیں لکھیں ، جسے ادبی دنیا میں کافی پسند کیا گیا۔
  • نذیر فتحپوری نے کل پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے ، لیکن ان کی ادبی تخلیقات اتنی اہم ہیں کہ اب تک ان کے تحقیق اور فکر و فن پر کئی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جا چکا ہے۔
  • نذیر فتحپوری نے شاعری، افسانہ، ناول، ماہیہ، نظم، غزل، تحقیق، تنقید کے ساتھ بچوں کے ادب پر بھی کام کیا ہے۔ بچوں کے ادب پر ان کی چھ کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں ۔
  • ادب اطفال کے میدان میں نذیر فتحپوری کے کام کا اعتراف کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی دہلی نے اس سال انہیں اعزاز سے سرفراز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف اردو اکادمیاں نذیر فتحپوری کو اعزاز سے سرفراز کر چکی ہیں۔
  • نذیر فتحپوری کہتےہیں کہ ملک میں اردو کے فروغ و اشاعت کے لئے بہت سے ادارے کام تو کر رہے ہیں ، لیکن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کا کام سب پرغالب ہے۔ کونسل کےدائرہ اختیار میں پورا ملک اور پورے ملک کے ادبا و شعرا ہیں ، جو کونسل کی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
  • خود نذیر فتحپوری نے اردو کا اثر راجستھان کی بولیوں پر کے نام سے جو کام کیا تھا وہ کونسل کے تعاون سے ہی کیا تھا۔ اب وہ جو نیا کام سیکر، جھنجھنو اور چورو کی ادبی خدمات کے حوالے سے کر رہے ہیں، وہ بھی کونسل کے تعاون سے ہی ہے۔

تازہ ترین تصاویر