کشمیری عوام اورشہید فوجی جوانوں کے خاندانوں کے دکھ درد کوسمجھنے کے لئے ’ پیغام محبت‘ مہم

Nov 11, 2017 08:21 PM IST
1 of 9
  •  کشمیر میں امن وامان قائم کرنے، کشمیری عوام اورشہید فوجی جوانوں کے خاندانوں کے دکھ اور درد کوسمجھنے کے لئے ’ پیغام محبت‘ مہم کا آغاز ہوا ہے۔  بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکرگروجی نے اس مہم کا آغازکیا ہے۔

    کشمیر میں امن وامان قائم کرنے، کشمیری عوام اورشہید فوجی جوانوں کے خاندانوں کے دکھ اور درد کوسمجھنے کے لئے ’ پیغام محبت‘ مہم کا آغاز ہوا ہے۔ بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکرگروجی نے اس مہم کا آغازکیا ہے۔

  •  بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ آشرم نے محبت اورانسانیت کی بنیاد پرایک حساس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

    بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ آشرم نے محبت اورانسانیت کی بنیاد پرایک حساس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

  • اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر گروجی کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کےآشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔

    اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر گروجی کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کےآشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔

  • اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر گروجی کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کےآشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔

    اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر گروجی کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کےآشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔

  •  ’ پیغام محبت‘ عنوان سے ہوئے اس پروگرام میں ایک جانب ملیٹنسی سے متاثر افراد موجود تھے تو دوسری طرف شہید فوجی جوانوں کے اہل خانہ۔

    ’ پیغام محبت‘ عنوان سے ہوئے اس پروگرام میں ایک جانب ملیٹنسی سے متاثر افراد موجود تھے تو دوسری طرف شہید فوجی جوانوں کے اہل خانہ۔

  •  اس موقع پر کہا گیا کہ خون چاہئےملیٹنٹوں کا بہے یا فوجی جوانوں کا۔ خون ایک ہی ہے، دکھ درد ایک ہی ہے۔  لہذا آشرم نے ملیٹنسی میں اپنوں کو کھونے والےمتاثرہ خاندانوں اورفوجی جوانوں کے خاندانوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کی ہے۔

    اس موقع پر کہا گیا کہ خون چاہئےملیٹنٹوں کا بہے یا فوجی جوانوں کا۔ خون ایک ہی ہے، دکھ درد ایک ہی ہے۔ لہذا آشرم نے ملیٹنسی میں اپنوں کو کھونے والےمتاثرہ خاندانوں اورفوجی جوانوں کے خاندانوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کی ہے۔

  • شری شری روی شنکر نے کہا کہ مسئلہ کے حل کی جانب انہوں نے ایک چھوٹا قدم اٹھایا ہے۔ اس پروگرام سے قبل آرٹ آف لیونگ آشرم کے رضاکاروں نے ملیٹنسی سے متاثر خاندان اورشہید فوجی جوان کے خاندانوں کی آپس میں ملاقاتیں کروائیں۔

    شری شری روی شنکر نے کہا کہ مسئلہ کے حل کی جانب انہوں نے ایک چھوٹا قدم اٹھایا ہے۔ اس پروگرام سے قبل آرٹ آف لیونگ آشرم کے رضاکاروں نے ملیٹنسی سے متاثر خاندان اورشہید فوجی جوان کے خاندانوں کی آپس میں ملاقاتیں کروائیں۔

  • ایک دوسرے سےملنے، آپس میں بات چیت کرنے کے بعد متاثرہ خاندان کے افراد آشرم آئے ہوئے تھے۔

    ایک دوسرے سےملنے، آپس میں بات چیت کرنے کے بعد متاثرہ خاندان کے افراد آشرم آئے ہوئے تھے۔

  •  شری شری روی شنکر کی کوشش کو سراہتے ہوئے متاثرہ افراد نے کہا کہ کشمیر میں خوان خرابہ بند ہونا چاہئے، مسئلہ کا حل گولی سے نہیں بات چیت سے ہونا چاہئے۔ شری شری روی شنکر نے کہا کہ اُنکا آشرم سال 2004 سے کشمیرعوام سے بات چیت کرتا آ رہا ہے۔ آشرم کے نمائندوں نے کشمیر کے ہرطبقہ سے مذاکرات کئے ہیں۔ آرٹ آف لیونگ کے گروجی نے کہا کہ انکی اس پہل کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی وہ حکومت کے ایجنٹ کے طور پرکام کر رہے ہیں۔

    شری شری روی شنکر کی کوشش کو سراہتے ہوئے متاثرہ افراد نے کہا کہ کشمیر میں خوان خرابہ بند ہونا چاہئے، مسئلہ کا حل گولی سے نہیں بات چیت سے ہونا چاہئے۔ شری شری روی شنکر نے کہا کہ اُنکا آشرم سال 2004 سے کشمیرعوام سے بات چیت کرتا آ رہا ہے۔ آشرم کے نمائندوں نے کشمیر کے ہرطبقہ سے مذاکرات کئے ہیں۔ آرٹ آف لیونگ کے گروجی نے کہا کہ انکی اس پہل کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی وہ حکومت کے ایجنٹ کے طور پرکام کر رہے ہیں۔

  •  بنگلورو کے آرٹ آف لیونگ آشرم نے محبت اورانسانیت کی بنیاد پرایک حساس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
  • اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر گروجی کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کےآشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔
  • اسی کوشش کے تحت شری شری روی شنکر گروجی کی قیادت میں آرٹ آف لیونگ کےآشرم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔
  •  ’ پیغام محبت‘ عنوان سے ہوئے اس پروگرام میں ایک جانب ملیٹنسی سے متاثر افراد موجود تھے تو دوسری طرف شہید فوجی جوانوں کے اہل خانہ۔
  •  اس موقع پر کہا گیا کہ خون چاہئےملیٹنٹوں کا بہے یا فوجی جوانوں کا۔ خون ایک ہی ہے، دکھ درد ایک ہی ہے۔  لہذا آشرم نے ملیٹنسی میں اپنوں کو کھونے والےمتاثرہ خاندانوں اورفوجی جوانوں کے خاندانوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کی ہے۔
  • شری شری روی شنکر نے کہا کہ مسئلہ کے حل کی جانب انہوں نے ایک چھوٹا قدم اٹھایا ہے۔ اس پروگرام سے قبل آرٹ آف لیونگ آشرم کے رضاکاروں نے ملیٹنسی سے متاثر خاندان اورشہید فوجی جوان کے خاندانوں کی آپس میں ملاقاتیں کروائیں۔
  • ایک دوسرے سےملنے، آپس میں بات چیت کرنے کے بعد متاثرہ خاندان کے افراد آشرم آئے ہوئے تھے۔
  •  شری شری روی شنکر کی کوشش کو سراہتے ہوئے متاثرہ افراد نے کہا کہ کشمیر میں خوان خرابہ بند ہونا چاہئے، مسئلہ کا حل گولی سے نہیں بات چیت سے ہونا چاہئے۔ شری شری روی شنکر نے کہا کہ اُنکا آشرم سال 2004 سے کشمیرعوام سے بات چیت کرتا آ رہا ہے۔ آشرم کے نمائندوں نے کشمیر کے ہرطبقہ سے مذاکرات کئے ہیں۔ آرٹ آف لیونگ کے گروجی نے کہا کہ انکی اس پہل کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی وہ حکومت کے ایجنٹ کے طور پرکام کر رہے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر