اب جلد ہی مان لیں سرکار کا یہ نیا فرمان ، نہیں تو بند ہوجائے گا آپ کا موبائل نمبر

Mar 25, 2017 05:19 PM IST
1 of 10
  • پہلے پین کارڈ نمبر کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کی ہدایت کے بعد اب نئے سرکاری فرمان کے مطابق ہر موبائل صارف کو آدھار نمبر سے اپنے موبائل نمبر کو جوڑنا ہوگا ۔ اگر ایسا نہیں کیا تو آپ کا نمبر بند ہو جائے گا۔

    پہلے پین کارڈ نمبر کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کی ہدایت کے بعد اب نئے سرکاری فرمان کے مطابق ہر موبائل صارف کو آدھار نمبر سے اپنے موبائل نمبر کو جوڑنا ہوگا ۔ اگر ایسا نہیں کیا تو آپ کا نمبر بند ہو جائے گا۔

  • انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے کے لئے آدھار کو لازمی قرار دینے کے بعد اب حکومت نے ایک اور بڑا فرمان سنایا ہے۔ اب اگر آپ نے موبائل نمبر کو آدھار سے نہیں جوڑا ، تو وہ بند ہو جائے گا۔ ایک سال کے اندر یہ عمل پورا کرنا ہوگا۔

    انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے کے لئے آدھار کو لازمی قرار دینے کے بعد اب حکومت نے ایک اور بڑا فرمان سنایا ہے۔ اب اگر آپ نے موبائل نمبر کو آدھار سے نہیں جوڑا ، تو وہ بند ہو جائے گا۔ ایک سال کے اندر یہ عمل پورا کرنا ہوگا۔

  • حکومت کے نئے فرمان کے مطابق تمام موجودہ موبائل سبسكرائبرس کا ویریفکیشن کیا جائے گا اور یہ ویریفکیشن آدھارکی بنیاد پر كےوائی سی کے ذریعہ ہوگا۔

    حکومت کے نئے فرمان کے مطابق تمام موجودہ موبائل سبسكرائبرس کا ویریفکیشن کیا جائے گا اور یہ ویریفکیشن آدھارکی بنیاد پر كےوائی سی کے ذریعہ ہوگا۔

  • تمام سروس پرووائیڈرس کو اشتہارات اور ایس ایم ایس سے سبسكرائبرس کو معلومات دینی ہوگی۔

    تمام سروس پرووائیڈرس کو اشتہارات اور ایس ایم ایس سے سبسكرائبرس کو معلومات دینی ہوگی۔

  • ویریفکیشن کا کام 6 فروری 2018 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    ویریفکیشن کا کام 6 فروری 2018 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  • ٹیلی محکمہ نے اس معاملہ پر یو آئی ڈی اے آئی ، ٹرائی اور ٹیلی کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

    ٹیلی محکمہ نے اس معاملہ پر یو آئی ڈی اے آئی ، ٹرائی اور ٹیلی کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

  •  ٹیلی محکمہ نے سپریم کورٹ کے 6 فروری کو دئے ہدایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ٹیلی کمپنیوں کو ہر ہفتہ ری ویریفائیڈ سبسكرائبرس کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔

    ٹیلی محکمہ نے سپریم کورٹ کے 6 فروری کو دئے ہدایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ٹیلی کمپنیوں کو ہر ہفتہ ری ویریفائیڈ سبسكرائبرس کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔

  • پہلے کمپنیاں ویریفکیشن کوڈ دیکھیں گی اور ای ویریفکیشن کے عمل کے تحت موبائل نمبر پر ویریفکیشن کوڈ بھیجا جائے گا۔

    پہلے کمپنیاں ویریفکیشن کوڈ دیکھیں گی اور ای ویریفکیشن کے عمل کے تحت موبائل نمبر پر ویریفکیشن کوڈ بھیجا جائے گا۔

  • ای كےوائی سی کے لئے الگ سے ایپلی کیشن فارم ہوگا اور ایپلی کیشن فارم میں آدھار نمبر کے علاوہ دیگر تفصیلات بھی دینی ہوں گی ۔

    ای كےوائی سی کے لئے الگ سے ایپلی کیشن فارم ہوگا اور ایپلی کیشن فارم میں آدھار نمبر کے علاوہ دیگر تفصیلات بھی دینی ہوں گی ۔

  • ای کے وائی سی کے بعد سبسکرائبر ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ ایک سے زیادہ موبائل نمبر ہونے پر دوبارہ ویریفکیشن کرنا ہوگا۔

    ای کے وائی سی کے بعد سبسکرائبر ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ ایک سے زیادہ موبائل نمبر ہونے پر دوبارہ ویریفکیشن کرنا ہوگا۔

  • انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے کے لئے آدھار کو لازمی قرار دینے کے بعد اب حکومت نے ایک اور بڑا فرمان سنایا ہے۔ اب اگر آپ نے موبائل نمبر کو آدھار سے نہیں جوڑا ، تو وہ بند ہو جائے گا۔ ایک سال کے اندر یہ عمل پورا کرنا ہوگا۔
  • حکومت کے نئے فرمان کے مطابق تمام موجودہ موبائل سبسكرائبرس کا ویریفکیشن کیا جائے گا اور یہ ویریفکیشن آدھارکی بنیاد پر كےوائی سی کے ذریعہ ہوگا۔
  • تمام سروس پرووائیڈرس کو اشتہارات اور ایس ایم ایس سے سبسكرائبرس کو معلومات دینی ہوگی۔
  • ویریفکیشن کا کام 6 فروری 2018 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
  • ٹیلی محکمہ نے اس معاملہ پر یو آئی ڈی اے آئی ، ٹرائی اور ٹیلی کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
  •  ٹیلی محکمہ نے سپریم کورٹ کے 6 فروری کو دئے ہدایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ٹیلی کمپنیوں کو ہر ہفتہ ری ویریفائیڈ سبسكرائبرس کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
  • پہلے کمپنیاں ویریفکیشن کوڈ دیکھیں گی اور ای ویریفکیشن کے عمل کے تحت موبائل نمبر پر ویریفکیشن کوڈ بھیجا جائے گا۔
  • ای كےوائی سی کے لئے الگ سے ایپلی کیشن فارم ہوگا اور ایپلی کیشن فارم میں آدھار نمبر کے علاوہ دیگر تفصیلات بھی دینی ہوں گی ۔
  • ای کے وائی سی کے بعد سبسکرائبر ڈیٹا بیس میں اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ ایک سے زیادہ موبائل نمبر ہونے پر دوبارہ ویریفکیشن کرنا ہوگا۔

تازہ ترین تصاویر