سری نگر میں یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس پر بھی قدغن ، پولیس کا عزاداروں پر شدید لاٹھی چارج

Oct 01, 2017 06:57 PM IST
1 of 13
  • جموں وکشمیر حکومت نے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں پر قدغن کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کو یوم عاشورہ کے موقع پر تاریخی لال چوک کے آبی گذر سے برآمد ہونے والے یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس کو بھی برآمد ہونے سے روک لیا۔ اگرچہ کم از کم ایک سو شیعہ عزاداروں نے سری نگر کے 13 پولیس تھانوں میں گذشتہ تین دنوں سے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت عائد پابندیاں توڑتے ہوئے ہوئے اس تاریخی ماتمی جلوس کو نکالنے کی کوشش کی ۔

    جموں وکشمیر حکومت نے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں پر قدغن کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کو یوم عاشورہ کے موقع پر تاریخی لال چوک کے آبی گذر سے برآمد ہونے والے یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس کو بھی برآمد ہونے سے روک لیا۔ اگرچہ کم از کم ایک سو شیعہ عزاداروں نے سری نگر کے 13 پولیس تھانوں میں گذشتہ تین دنوں سے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت عائد پابندیاں توڑتے ہوئے ہوئے اس تاریخی ماتمی جلوس کو نکالنے کی کوشش کی ۔

  •  تاہم سیکورٹی فورسز بالخصوص ریاستی پولیس نے عزاداروں کے خلاف شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنے کے علاوہ درجن بھر کو حراست میں لیکر اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ شدید لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد عزادار زخمی ہوگئے۔

    تاہم سیکورٹی فورسز بالخصوص ریاستی پولیس نے عزاداروں کے خلاف شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنے کے علاوہ درجن بھر کو حراست میں لیکر اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ شدید لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد عزادار زخمی ہوگئے۔

  •  ریاستی حکومت نے 27 ستمبر کو ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘۔ تاہم اس دعوے کے برخلاف انتظامیہ نے سری نگر سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں کو مسلسل 28 ویں دفعہ برآمد ہونے سے روک لیا۔

    ریاستی حکومت نے 27 ستمبر کو ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘۔ تاہم اس دعوے کے برخلاف انتظامیہ نے سری نگر سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں کو مسلسل 28 ویں دفعہ برآمد ہونے سے روک لیا۔

  •  محرم کے قدیم و تاریخی ماتمی جلوسوں پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے پر وادی میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔اہلیان وادی کا کہنا ہے کہ جب لال چوک میں دسہرہ تہوار منانے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو محرم کے تاریخی ماتمی جلوسوں کو برآمد ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی جاسکتی ہے۔

    محرم کے قدیم و تاریخی ماتمی جلوسوں پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے پر وادی میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔اہلیان وادی کا کہنا ہے کہ جب لال چوک میں دسہرہ تہوار منانے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو محرم کے تاریخی ماتمی جلوسوں کو برآمد ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی جاسکتی ہے۔

  • قابل ذکر ہے کہ بدی پر نیکی کی فتح کی علامت کے طور جانے والا تہوار دسہرہ ہفتہ کی شام تاریخی لال سے کچھ دوری پر واقع پولو گراؤنڈ میں منایا گیا۔

    قابل ذکر ہے کہ بدی پر نیکی کی فتح کی علامت کے طور جانے والا تہوار دسہرہ ہفتہ کی شام تاریخی لال سے کچھ دوری پر واقع پولو گراؤنڈ میں منایا گیا۔

  •  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب کے سینکڑوں شرکاء میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شامل تھیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب کے سینکڑوں شرکاء میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شامل تھیں۔

  • میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم ایک سو عزادار اتوار کو لال چوک میں واقع تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے نمودار ہوئے اور ’یا حسین یاحسین، یا عباس یاعباس‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ تاہم پولیس کی ایک پارٹی نے موقع پر پہنچ کر عزاداروں پر لاٹھیاں برسانی شروع کردیں۔ پولیس نے آنسو گیس کا ایک شیل داغنے کے بعد کم از کم ایک درجن عزاداروں کو حراست میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم ایک سو عزادار اتوار کو لال چوک میں واقع تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے نمودار ہوئے اور ’یا حسین یاحسین، یا عباس یاعباس‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ تاہم پولیس کی ایک پارٹی نے موقع پر پہنچ کر عزاداروں پر لاٹھیاں برسانی شروع کردیں۔ پولیس نے آنسو گیس کا ایک شیل داغنے کے بعد کم از کم ایک درجن عزاداروں کو حراست میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔

  • قابل ذکر ہے کہ تاریخی لال چوک کے آبی گذر سے برآمد ہونے والے یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ پابندی سے قبل یہ ماتمی جلوس سری نگر کے شیعہ اکثریتی علاقہ جڈی بل میں اختتام پذیر ہوتا تھا۔

    قابل ذکر ہے کہ تاریخی لال چوک کے آبی گذر سے برآمد ہونے والے یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ پابندی سے قبل یہ ماتمی جلوس سری نگر کے شیعہ اکثریتی علاقہ جڈی بل میں اختتام پذیر ہوتا تھا۔

  • سری نگر میں یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس کو چھوڑ کر اتوار کو وادی کے تمام شیعہ آبادی والے علاقوں سے درجنوں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوئے جن میں عزاداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ماتمی جلوسوں میں شبیہہ علم ، ذوالجناح اور شبیہہ تابوت شامل تھے جبکہ عزادارنوحہ خوانی اور سینہ کوبی کررہے تھے۔ جلوسوں کے راستوں پر جگہ جگہ نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔

    سری نگر میں یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس کو چھوڑ کر اتوار کو وادی کے تمام شیعہ آبادی والے علاقوں سے درجنوں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوئے جن میں عزاداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ماتمی جلوسوں میں شبیہہ علم ، ذوالجناح اور شبیہہ تابوت شامل تھے جبکہ عزادارنوحہ خوانی اور سینہ کوبی کررہے تھے۔ جلوسوں کے راستوں پر جگہ جگہ نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔

  •  وسطی کشمیر کے شیعہ اکثریتی قصبہ بڈگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق قصبے میں تاریخی ماتمی جلوس میرگنڈ سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی ڈی سی آفس روڑ سے ہوتے ہوئے اتوار کی رات دیر گئے بڈگام میں اختتام پذیر ہوگا۔ اس تاریخی ماتمی جلوس میں شامل عزاداروں کو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے دیکھا گیا

    وسطی کشمیر کے شیعہ اکثریتی قصبہ بڈگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق قصبے میں تاریخی ماتمی جلوس میرگنڈ سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی ڈی سی آفس روڑ سے ہوتے ہوئے اتوار کی رات دیر گئے بڈگام میں اختتام پذیر ہوگا۔ اس تاریخی ماتمی جلوس میں شامل عزاداروں کو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے دیکھا گیا

  • ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے 13 پولیس تھانوں کرن نگر، شہید گنج، بتہ مالو، شیر گڈھی، مائسمہ، کوٹھی باغ، کرال کھڈ، رام منشی باغ، رعناواری، نوہٹہ، خانیار، ایم آر گنج اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی کا اطلاق اتوار کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔

    ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے 13 پولیس تھانوں کرن نگر، شہید گنج، بتہ مالو، شیر گڈھی، مائسمہ، کوٹھی باغ، کرال کھڈ، رام منشی باغ، رعناواری، نوہٹہ، خانیار، ایم آر گنج اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی کا اطلاق اتوار کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔

  •  انہوں نے بتایا کہ یہ پابندیاں نقص امن کے خدشے کے پیش نظر نافذ کی گئیں۔  پائین شہر کے چند علاقوں بالخصوص نوہٹہ کو چھوڑ کر سری نگر کے کسی بھی حصے میں اتوار کو لوگوں کی آزانہ نقل وحرکت پر پابندیاں نہیں تھیں۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ پابندیاں نقص امن کے خدشے کے پیش نظر نافذ کی گئیں۔ پائین شہر کے چند علاقوں بالخصوص نوہٹہ کو چھوڑ کر سری نگر کے کسی بھی حصے میں اتوار کو لوگوں کی آزانہ نقل وحرکت پر پابندیاں نہیں تھیں۔

  • کشمیر میں سری نگر کے گروبازار اور آبی گذر (تاریخی لال چوک) علاقوں سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ اِن دو تاریخی ماتمی جلوسوں پر 1989 میں اُس وقت کے ریاستی گورنر جگ موہن نے پابندی عائد کردی تھی۔

    کشمیر میں سری نگر کے گروبازار اور آبی گذر (تاریخی لال چوک) علاقوں سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ اِن دو تاریخی ماتمی جلوسوں پر 1989 میں اُس وقت کے ریاستی گورنر جگ موہن نے پابندی عائد کردی تھی۔

  •  تاہم سیکورٹی فورسز بالخصوص ریاستی پولیس نے عزاداروں کے خلاف شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنے کے علاوہ درجن بھر کو حراست میں لیکر اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ شدید لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد عزادار زخمی ہوگئے۔
  •  ریاستی حکومت نے 27 ستمبر کو ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘۔ تاہم اس دعوے کے برخلاف انتظامیہ نے سری نگر سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں کو مسلسل 28 ویں دفعہ برآمد ہونے سے روک لیا۔
  •  محرم کے قدیم و تاریخی ماتمی جلوسوں پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے پر وادی میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔اہلیان وادی کا کہنا ہے کہ جب لال چوک میں دسہرہ تہوار منانے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو محرم کے تاریخی ماتمی جلوسوں کو برآمد ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی جاسکتی ہے۔
  • قابل ذکر ہے کہ بدی پر نیکی کی فتح کی علامت کے طور جانے والا تہوار دسہرہ ہفتہ کی شام تاریخی لال سے کچھ دوری پر واقع پولو گراؤنڈ میں منایا گیا۔
  •  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب کے سینکڑوں شرکاء میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شامل تھیں۔
  • میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم ایک سو عزادار اتوار کو لال چوک میں واقع تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے نمودار ہوئے اور ’یا حسین یاحسین، یا عباس یاعباس‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ تاہم پولیس کی ایک پارٹی نے موقع پر پہنچ کر عزاداروں پر لاٹھیاں برسانی شروع کردیں۔ پولیس نے آنسو گیس کا ایک شیل داغنے کے بعد کم از کم ایک درجن عزاداروں کو حراست میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔
  • قابل ذکر ہے کہ تاریخی لال چوک کے آبی گذر سے برآمد ہونے والے یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ پابندی سے قبل یہ ماتمی جلوس سری نگر کے شیعہ اکثریتی علاقہ جڈی بل میں اختتام پذیر ہوتا تھا۔
  • سری نگر میں یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس کو چھوڑ کر اتوار کو وادی کے تمام شیعہ آبادی والے علاقوں سے درجنوں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوئے جن میں عزاداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ماتمی جلوسوں میں شبیہہ علم ، ذوالجناح اور شبیہہ تابوت شامل تھے جبکہ عزادارنوحہ خوانی اور سینہ کوبی کررہے تھے۔ جلوسوں کے راستوں پر جگہ جگہ نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔
  •  وسطی کشمیر کے شیعہ اکثریتی قصبہ بڈگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق قصبے میں تاریخی ماتمی جلوس میرگنڈ سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی ڈی سی آفس روڑ سے ہوتے ہوئے اتوار کی رات دیر گئے بڈگام میں اختتام پذیر ہوگا۔ اس تاریخی ماتمی جلوس میں شامل عزاداروں کو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے دیکھا گیا
  • ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے 13 پولیس تھانوں کرن نگر، شہید گنج، بتہ مالو، شیر گڈھی، مائسمہ، کوٹھی باغ، کرال کھڈ، رام منشی باغ، رعناواری، نوہٹہ، خانیار، ایم آر گنج اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی کا اطلاق اتوار کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔
  •  انہوں نے بتایا کہ یہ پابندیاں نقص امن کے خدشے کے پیش نظر نافذ کی گئیں۔  پائین شہر کے چند علاقوں بالخصوص نوہٹہ کو چھوڑ کر سری نگر کے کسی بھی حصے میں اتوار کو لوگوں کی آزانہ نقل وحرکت پر پابندیاں نہیں تھیں۔
  • کشمیر میں سری نگر کے گروبازار اور آبی گذر (تاریخی لال چوک) علاقوں سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔ اِن دو تاریخی ماتمی جلوسوں پر 1989 میں اُس وقت کے ریاستی گورنر جگ موہن نے پابندی عائد کردی تھی۔

تازہ ترین تصاویر