آخرکار مرشدآباد کو مل ہی گیا نواب ، سید عباس علی مرزا کو سپریم کورٹ نےتسلیم کیا نواب حسن علی مرزا کا جانشیں

Jan 18, 2017 11:02 PM IST
1 of 12
  •  نوابوں کی نگری مرشداباد کو آخر کار نواب مل ہی گیا ۔ میر قاسم کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مرشدآباد کے پہلے نواب نواب حسن علی مرزا کے نواسے کو سپریم کورٹ نے جانشین بتاتے ہوئے مرشدآباد کا نواب قرار دیا ہے ۔

    نوابوں کی نگری مرشداباد کو آخر کار نواب مل ہی گیا ۔ میر قاسم کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مرشدآباد کے پہلے نواب نواب حسن علی مرزا کے نواسے کو سپریم کورٹ نے جانشین بتاتے ہوئے مرشدآباد کا نواب قرار دیا ہے ۔

  • ملک کی تاریخ میں مرشدآباد کو تاریخی مقام حاصل ہے ۔ اورنگ زیب کے زمانہ میں مرشد قلی خان کو یہاں کا گورنر بناکر بھیجا گیا تھا۔ اس وقت اس شہرکا نام مقصود باغ تھا ، جو بعد میں مرشدقلی خان کے نام پرمرشدآباد کے نام سے مشہور ہوا۔

    ملک کی تاریخ میں مرشدآباد کو تاریخی مقام حاصل ہے ۔ اورنگ زیب کے زمانہ میں مرشد قلی خان کو یہاں کا گورنر بناکر بھیجا گیا تھا۔ اس وقت اس شہرکا نام مقصود باغ تھا ، جو بعد میں مرشدقلی خان کے نام پرمرشدآباد کے نام سے مشہور ہوا۔

  • سراج الدولہ نے یہاں سے ہی پلاسی کی جنگ کی لڑی ، جس میں انہیں شہید کردیا گیا۔ یہاں آج بھی انکا مقبرہ موجود ہے۔

    سراج الدولہ نے یہاں سے ہی پلاسی کی جنگ کی لڑی ، جس میں انہیں شہید کردیا گیا۔ یہاں آج بھی انکا مقبرہ موجود ہے۔

  • میر قاسم انگریزوں کے اقتدار میں یہاں کے نواب بنے ، لیکن برائے نام کیونکہ حقوق مالگذاری پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔

    میر قاسم انگریزوں کے اقتدار میں یہاں کے نواب بنے ، لیکن برائے نام کیونکہ حقوق مالگذاری پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔

  • تاہم اس کے بعد نواب تو خاندان کے فرد کو ہی مقرر کیا جانے لگا ،  لیکن پنشن کے علاوہ دیگر مراعات حاصل نہیں تھی۔

    تاہم اس کے بعد نواب تو خاندان کے فرد کو ہی مقرر کیا جانے لگا ، لیکن پنشن کے علاوہ دیگر مراعات حاصل نہیں تھی۔

  •  خاندان کے فرد کے نواب کے دعویداری کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

    خاندان کے فرد کے نواب کے دعویداری کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

  • سال 1949 سے 2015 تک یہاں کا کوئی نواب نہیں رہا ، لیکن سپریم کورٹ نے سید عباس علی مرزا کے نواب کے دعویداری کے دعوی پر مہر لگاتے ہوئے انہیں تمام تر مراعات کے ساتھ مرشدآباد کا نواب تسلیم کئے جانے کی ہدایت دی۔

    سال 1949 سے 2015 تک یہاں کا کوئی نواب نہیں رہا ، لیکن سپریم کورٹ نے سید عباس علی مرزا کے نواب کے دعویداری کے دعوی پر مہر لگاتے ہوئے انہیں تمام تر مراعات کے ساتھ مرشدآباد کا نواب تسلیم کئے جانے کی ہدایت دی۔

  • مغربی بنگال میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے ۔ آج بھی یہ ضلع تاریخی اعتبار سے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے ۔ یہاں ہر طرف نوابی ادوار کی یادگاریں بکھری پڑی ہیں ۔

    مغربی بنگال میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے ۔ آج بھی یہ ضلع تاریخی اعتبار سے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے ۔ یہاں ہر طرف نوابی ادوار کی یادگاریں بکھری پڑی ہیں ۔

  • نوابوں کی سب سے بڑی ملکیت ہزار دواری پیلیس بھی محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت ہے۔

    نوابوں کی سب سے بڑی ملکیت ہزار دواری پیلیس بھی محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت ہے۔

  • بائیں بازو کی سابقہ حکومت میں ہزار دواری کو مرکز کے سپرد کئے جانے کو حیران کن بتاتے ہوئے عباس علی مرزا نے ملک کے قانون پر بھروسہ کا اظہار کیا تھا ۔

    بائیں بازو کی سابقہ حکومت میں ہزار دواری کو مرکز کے سپرد کئے جانے کو حیران کن بتاتے ہوئے عباس علی مرزا نے ملک کے قانون پر بھروسہ کا اظہار کیا تھا ۔

  • مرشدآباد کی نوابی محلیں جہاں زندگی تو آباد ہے ، لیکن دیواریں یہاں کے مکینوں کی پسماندگی کا حال بیان کرتی ہیں۔

    مرشدآباد کی نوابی محلیں جہاں زندگی تو آباد ہے ، لیکن دیواریں یہاں کے مکینوں کی پسماندگی کا حال بیان کرتی ہیں۔

  • ایسے میںاب کسمپرسی کی زندگی گزار رہے اس نئے نواب کونوابی شان و شوکت ملتی ہے یا نہیں ، اور یہ نواب مرشداباد کی تصویر بدلنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ، یہ دیکھنا اہم ہوگا  ۔

    ایسے میںاب کسمپرسی کی زندگی گزار رہے اس نئے نواب کونوابی شان و شوکت ملتی ہے یا نہیں ، اور یہ نواب مرشداباد کی تصویر بدلنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ، یہ دیکھنا اہم ہوگا ۔

  • ملک کی تاریخ میں مرشدآباد کو تاریخی مقام حاصل ہے ۔ اورنگ زیب کے زمانہ میں مرشد قلی خان کو یہاں کا گورنر بناکر بھیجا گیا تھا۔ اس وقت اس شہرکا نام مقصود باغ تھا ، جو بعد میں مرشدقلی خان کے نام پرمرشدآباد کے نام سے مشہور ہوا۔
  • سراج الدولہ نے یہاں سے ہی پلاسی کی جنگ کی لڑی ، جس میں انہیں شہید کردیا گیا۔ یہاں آج بھی انکا مقبرہ موجود ہے۔
  • میر قاسم انگریزوں کے اقتدار میں یہاں کے نواب بنے ، لیکن برائے نام کیونکہ حقوق مالگذاری پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔
  • تاہم اس کے بعد نواب تو خاندان کے فرد کو ہی مقرر کیا جانے لگا ،  لیکن پنشن کے علاوہ دیگر مراعات حاصل نہیں تھی۔
  •  خاندان کے فرد کے نواب کے دعویداری کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔
  • سال 1949 سے 2015 تک یہاں کا کوئی نواب نہیں رہا ، لیکن سپریم کورٹ نے سید عباس علی مرزا کے نواب کے دعویداری کے دعوی پر مہر لگاتے ہوئے انہیں تمام تر مراعات کے ساتھ مرشدآباد کا نواب تسلیم کئے جانے کی ہدایت دی۔
  • مغربی بنگال میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے ۔ آج بھی یہ ضلع تاریخی اعتبار سے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے ۔ یہاں ہر طرف نوابی ادوار کی یادگاریں بکھری پڑی ہیں ۔
  • نوابوں کی سب سے بڑی ملکیت ہزار دواری پیلیس بھی محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت ہے۔
  • بائیں بازو کی سابقہ حکومت میں ہزار دواری کو مرکز کے سپرد کئے جانے کو حیران کن بتاتے ہوئے عباس علی مرزا نے ملک کے قانون پر بھروسہ کا اظہار کیا تھا ۔
  • مرشدآباد کی نوابی محلیں جہاں زندگی تو آباد ہے ، لیکن دیواریں یہاں کے مکینوں کی پسماندگی کا حال بیان کرتی ہیں۔
  • ایسے میںاب کسمپرسی کی زندگی گزار رہے اس نئے نواب کونوابی شان و شوکت ملتی ہے یا نہیں ، اور یہ نواب مرشداباد کی تصویر بدلنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ، یہ دیکھنا اہم ہوگا  ۔

تازہ ترین تصاویر