دہلی سے صرف 4 گھنٹے کی دوری پر ہے یہ سیاحتی مقام ، دیکھیں یہ تصویریں

May 05, 2018 06:30 PM IST
1 of 15
  •  کیا آپ روز کی بور زندگی سے تھک چکے ہیں اور دل کر رہا ہے پہاڑوں کی سیر کرنے کا تو رخ کریں مسوری کو۔دہلی سے صرف 300 کلو میٹر دور پہاڑوں سے گھرا مسوری شہر ایک سپر ہٹ سمر وکیشن ڈیسٹینیشن ہے۔

    کیا آپ روز کی بور زندگی سے تھک چکے ہیں اور دل کر رہا ہے پہاڑوں کی سیر کرنے کا تو رخ کریں مسوری کو۔دہلی سے صرف 300 کلو میٹر دور پہاڑوں سے گھرا مسوری شہر ایک سپر ہٹ سمر وکیشن ڈیسٹینیشن ہے۔

  • بتادیں کہ 6000 فٹ کی اونچائی پر بسا مسوری گرمیوں میں سیاحوں کو بیحد اچھا احساس دیتا ہے۔1825 میں مسوری کی سب سے پہلے کھوج کیپٹن ینگ نے کی۔

    بتادیں کہ 6000 فٹ کی اونچائی پر بسا مسوری گرمیوں میں سیاحوں کو بیحد اچھا احساس دیتا ہے۔1825 میں مسوری کی سب سے پہلے کھوج کیپٹن ینگ نے کی۔

  • اتراکھنڈ کے مسوری میں آکر آپ کو وہ سکون ملے گا جو شاید ہی اور کہیں ملے۔یہ شہر وشال ہمالیہ کا اینٹری پوائنٹ ہے۔

    اتراکھنڈ کے مسوری میں آکر آپ کو وہ سکون ملے گا جو شاید ہی اور کہیں ملے۔یہ شہر وشال ہمالیہ کا اینٹری پوائنٹ ہے۔

  • مسوری میں گھومنے اور دیکھنے کیلئے کافی کچھ ہے۔ایڈوینچر اسپورٹس سے لیکرقدرتی خوبصورتی،موج مستی اور پکنک منانے کیلئے لوکیشن ہے۔یہاں پیراگلائڈنگ کر کے آپ کا دل خوش ہو جائے گا۔

    مسوری میں گھومنے اور دیکھنے کیلئے کافی کچھ ہے۔ایڈوینچر اسپورٹس سے لیکرقدرتی خوبصورتی،موج مستی اور پکنک منانے کیلئے لوکیشن ہے۔یہاں پیراگلائڈنگ کر کے آپ کا دل خوش ہو جائے گا۔

  • اس رائڈ میں آپ مست نظاروں کا دیدار کرتے ہوئے کیمپٹی واٹر فالس پپہنچیں گے۔مسوری سے 15 کلومیٹر دور یہ فالس 12 میٹر کی اونچائی سے بہتی ہوئی آتی ہیں۔لوگ اس بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    اس رائڈ میں آپ مست نظاروں کا دیدار کرتے ہوئے کیمپٹی واٹر فالس پپہنچیں گے۔مسوری سے 15 کلومیٹر دور یہ فالس 12 میٹر کی اونچائی سے بہتی ہوئی آتی ہیں۔لوگ اس بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

  • کیمپٹی فالس مسوری کی سب سے مشہور جگہ ہے۔یہاں سینکڑوں سیاح ہر وقت رہتے ہیں۔

    کیمپٹی فالس مسوری کی سب سے مشہور جگہ ہے۔یہاں سینکڑوں سیاح ہر وقت رہتے ہیں۔

  • کیمپٹی واٹر فالس کے آس پاس شاپنگ کا بھی پورا انتظام ہے۔موج مستی کے بعد اپنے دوستوں کیلئے تحفہ بھی خرید سکتے ہیں یا اپنے گھر کیلئے یہاں سے کچھ خاص لکڑی کا سامان لے جا سکتے ہیں۔

    کیمپٹی واٹر فالس کے آس پاس شاپنگ کا بھی پورا انتظام ہے۔موج مستی کے بعد اپنے دوستوں کیلئے تحفہ بھی خرید سکتے ہیں یا اپنے گھر کیلئے یہاں سے کچھ خاص لکڑی کا سامان لے جا سکتے ہیں۔

  • کیمپٹی فالس کے راستے میں ایک چھوٹا سا اسٹاپ لیکر اتراکھنڈ میں منائی گئی چھٹیوں کی یادوں کو یہاں کے رنگ ،روپ کے ساتھ فوٹو میں قید کر سکتے ہیں۔

    کیمپٹی فالس کے راستے میں ایک چھوٹا سا اسٹاپ لیکر اتراکھنڈ میں منائی گئی چھٹیوں کی یادوں کو یہاں کے رنگ ،روپ کے ساتھ فوٹو میں قید کر سکتے ہیں۔

  • کیمپٹی فالس تک جانے اور واپس اوپرآنے کیلئے ایک مزیدار کیبل کا رائڈر ہے ۔گرمیوں کی چھٹی میں یہاں اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ آپ کو اپنی گاڑی پارک کرنے کی جگہ ہی نہیں ملے گی یونی واٹر فالس تک آپ کو چل کر ہی جانا ہوگا۔ایسے میں یہ کیبل کار رائڈ آپ کو مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    کیمپٹی فالس تک جانے اور واپس اوپرآنے کیلئے ایک مزیدار کیبل کا رائڈر ہے ۔گرمیوں کی چھٹی میں یہاں اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ آپ کو اپنی گاڑی پارک کرنے کی جگہ ہی نہیں ملے گی یونی واٹر فالس تک آپ کو چل کر ہی جانا ہوگا۔ایسے میں یہ کیبل کار رائڈ آپ کو مددگار ثابت ہوتی ہے۔

  • مسوری کے مال روڈ میں ہمیشہ سیلانیوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔یہاں زیادہ تر عمارتیں انگریزوں کے وقتر کی ہیں۔یہاں گھومنے کیلئے رکشہ بھی ملتے ہیں۔

    مسوری کے مال روڈ میں ہمیشہ سیلانیوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔یہاں زیادہ تر عمارتیں انگریزوں کے وقتر کی ہیں۔یہاں گھومنے کیلئے رکشہ بھی ملتے ہیں۔

  • مسوری جانے کیلئے آپ دہلی سے ٹرین پکڑ سکتے ہیں یا پھر کار بک کر کے گھوم سکتے ہیں۔نزدیکی ایئر پورٹ دہرادون کا جولی گرامنٹ ایئر پورٹ ہے۔مسوری میں سورج کا اگنا اور اسے ڈھلتے ہوئے دیکھنے کا تجربہ آپ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔

    مسوری جانے کیلئے آپ دہلی سے ٹرین پکڑ سکتے ہیں یا پھر کار بک کر کے گھوم سکتے ہیں۔نزدیکی ایئر پورٹ دہرادون کا جولی گرامنٹ ایئر پورٹ ہے۔مسوری میں سورج کا اگنا اور اسے ڈھلتے ہوئے دیکھنے کا تجربہ آپ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔

  • اپریل 1959 میں دلائی لامہ چین اکٹیار شدہ طبت سے خارج ہونے پرم سوری ہی آئے تھے۔بعد میں یہاں سے دلائی لامہ ہماچل پردیش کے دھرم شالا چلے گئے۔مسوری میں ہی پہلا طبت اسکول 1960 میں کھلا تھا۔آج بھی تقریبا 5000طبت لوگ مسوری کے ہیپی ویلی میں بسے ہیں۔

    اپریل 1959 میں دلائی لامہ چین اکٹیار شدہ طبت سے خارج ہونے پرم سوری ہی آئے تھے۔بعد میں یہاں سے دلائی لامہ ہماچل پردیش کے دھرم شالا چلے گئے۔مسوری میں ہی پہلا طبت اسکول 1960 میں کھلا تھا۔آج بھی تقریبا 5000طبت لوگ مسوری کے ہیپی ویلی میں بسے ہیں۔

  • مسوری سچن تیندل کر کا بھی پسندیدہ شہر رہا ہے۔اکثر سچن گرمیوں کی چھٹیوں میں اہل خانہ لے ستاھ یہاں آتے رہتے ہیں۔

    مسوری سچن تیندل کر کا بھی پسندیدہ شہر رہا ہے۔اکثر سچن گرمیوں کی چھٹیوں میں اہل خانہ لے ستاھ یہاں آتے رہتے ہیں۔

  • سچن کے یہاں آنے پر سیاحوں ک یہاں ان سے  ملنے کا خواب پورا ہوجاتا ہے۔سچن یہاں مداحون کو آٹو گراف بھیکئی مرتبہ دے چکے ہیں۔

    سچن کے یہاں آنے پر سیاحوں ک یہاں ان سے ملنے کا خواب پورا ہوجاتا ہے۔سچن یہاں مداحون کو آٹو گراف بھیکئی مرتبہ دے چکے ہیں۔

  • مسوری کے گن ہل پر یہ پاروتی مندر عقیدتمندوں کا مرکز ہے۔یہ مندر کافی اونچائی پر بنا ہے۔کہتے ہیں کہ یہاں جانے سے اکھنڈ سو بھاگیہ وتی کا آشیروارد ملتا ہے۔

    مسوری کے گن ہل پر یہ پاروتی مندر عقیدتمندوں کا مرکز ہے۔یہ مندر کافی اونچائی پر بنا ہے۔کہتے ہیں کہ یہاں جانے سے اکھنڈ سو بھاگیہ وتی کا آشیروارد ملتا ہے۔

  • بتادیں کہ 6000 فٹ کی اونچائی پر بسا مسوری گرمیوں میں سیاحوں کو بیحد اچھا احساس دیتا ہے۔1825 میں مسوری کی سب سے پہلے کھوج کیپٹن ینگ نے کی۔
  • اتراکھنڈ کے مسوری میں آکر آپ کو وہ سکون ملے گا جو شاید ہی اور کہیں ملے۔یہ شہر وشال ہمالیہ کا اینٹری پوائنٹ ہے۔
  • مسوری میں گھومنے اور دیکھنے کیلئے کافی کچھ ہے۔ایڈوینچر اسپورٹس سے لیکرقدرتی خوبصورتی،موج مستی اور پکنک منانے کیلئے لوکیشن ہے۔یہاں پیراگلائڈنگ کر کے آپ کا دل خوش ہو جائے گا۔
  • اس رائڈ میں آپ مست نظاروں کا دیدار کرتے ہوئے کیمپٹی واٹر فالس پپہنچیں گے۔مسوری سے 15 کلومیٹر دور یہ فالس 12 میٹر کی اونچائی سے بہتی ہوئی آتی ہیں۔لوگ اس بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔
  • کیمپٹی فالس مسوری کی سب سے مشہور جگہ ہے۔یہاں سینکڑوں سیاح ہر وقت رہتے ہیں۔
  • کیمپٹی واٹر فالس کے آس پاس شاپنگ کا بھی پورا انتظام ہے۔موج مستی کے بعد اپنے دوستوں کیلئے تحفہ بھی خرید سکتے ہیں یا اپنے گھر کیلئے یہاں سے کچھ خاص لکڑی کا سامان لے جا سکتے ہیں۔
  • کیمپٹی فالس کے راستے میں ایک چھوٹا سا اسٹاپ لیکر اتراکھنڈ میں منائی گئی چھٹیوں کی یادوں کو یہاں کے رنگ ،روپ کے ساتھ فوٹو میں قید کر سکتے ہیں۔
  • کیمپٹی فالس تک جانے اور واپس اوپرآنے کیلئے ایک مزیدار کیبل کا رائڈر ہے ۔گرمیوں کی چھٹی میں یہاں اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ آپ کو اپنی گاڑی پارک کرنے کی جگہ ہی نہیں ملے گی یونی واٹر فالس تک آپ کو چل کر ہی جانا ہوگا۔ایسے میں یہ کیبل کار رائڈ آپ کو مددگار ثابت ہوتی ہے۔
  • مسوری کے مال روڈ میں ہمیشہ سیلانیوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔یہاں زیادہ تر عمارتیں انگریزوں کے وقتر کی ہیں۔یہاں گھومنے کیلئے رکشہ بھی ملتے ہیں۔
  • مسوری جانے کیلئے آپ دہلی سے ٹرین پکڑ سکتے ہیں یا پھر کار بک کر کے گھوم سکتے ہیں۔نزدیکی ایئر پورٹ دہرادون کا جولی گرامنٹ ایئر پورٹ ہے۔مسوری میں سورج کا اگنا اور اسے ڈھلتے ہوئے دیکھنے کا تجربہ آپ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔
  • اپریل 1959 میں دلائی لامہ چین اکٹیار شدہ طبت سے خارج ہونے پرم سوری ہی آئے تھے۔بعد میں یہاں سے دلائی لامہ ہماچل پردیش کے دھرم شالا چلے گئے۔مسوری میں ہی پہلا طبت اسکول 1960 میں کھلا تھا۔آج بھی تقریبا 5000طبت لوگ مسوری کے ہیپی ویلی میں بسے ہیں۔
  • مسوری سچن تیندل کر کا بھی پسندیدہ شہر رہا ہے۔اکثر سچن گرمیوں کی چھٹیوں میں اہل خانہ لے ستاھ یہاں آتے رہتے ہیں۔
  • سچن کے یہاں آنے پر سیاحوں ک یہاں ان سے  ملنے کا خواب پورا ہوجاتا ہے۔سچن یہاں مداحون کو آٹو گراف بھیکئی مرتبہ دے چکے ہیں۔
  • مسوری کے گن ہل پر یہ پاروتی مندر عقیدتمندوں کا مرکز ہے۔یہ مندر کافی اونچائی پر بنا ہے۔کہتے ہیں کہ یہاں جانے سے اکھنڈ سو بھاگیہ وتی کا آشیروارد ملتا ہے۔

تازہ ترین تصاویر