اپنی نوعیت کی پہلی مہم ، میسور کو فضائی آلودگی سے پاک بنانے کیلئے پبلک سائیکل شیئرنگ سسٹم کا نفاذ جلد

Jan 20, 2017 08:04 PM IST
1 of 8
  • تاریخی شہر میسور کو فضائی آلودگی سے پاک بنانے کے لیے میسور مہانگر پالیکا ملک میں پہلی مرتبہ پبلک سائیکل شیئرنگ سسٹم نافذ کرنے جارہی ہے ۔ ـ عالمی بینک اور میسور مہانگر پالیکا کے اشتراک سے نافذ کیے گئےاس نظام کے تحت عوام سائیکل کا باقاعدہ استعمال کرسکتے ہیں ۔ـ

    تاریخی شہر میسور کو فضائی آلودگی سے پاک بنانے کے لیے میسور مہانگر پالیکا ملک میں پہلی مرتبہ پبلک سائیکل شیئرنگ سسٹم نافذ کرنے جارہی ہے ۔ ـ عالمی بینک اور میسور مہانگر پالیکا کے اشتراک سے نافذ کیے گئےاس نظام کے تحت عوام سائیکل کا باقاعدہ استعمال کرسکتے ہیں ۔ـ

  • پبلک شیئرنگ سسٹم کے نفاذ کیلئے 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ـ

    پبلک شیئرنگ سسٹم کے نفاذ کیلئے 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ـ

  • اس اسکیم کے تحت میسور میں 48 ڈاکنگ سنٹرس قائم کئے جارہے ہیں۔  ـ ان میں سے تقریباً 40 سنٹرس کا کام مکمل ہوچکاہے ۔ جبکہ باقی ماندہ سنٹرس کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

    اس اسکیم کے تحت میسور میں 48 ڈاکنگ سنٹرس قائم کئے جارہے ہیں۔ ـ ان میں سے تقریباً 40 سنٹرس کا کام مکمل ہوچکاہے ۔ جبکہ باقی ماندہ سنٹرس کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

  • ان سنٹرس میں 450 سائیکلوں کو بندوبست کیاجائے گا۔

    ان سنٹرس میں 450 سائیکلوں کو بندوبست کیاجائے گا۔

  • ـ ان سائیکلوں پرسواری کرنے کے خواہشمند افراد کو سب سے پہلے ایک ہزار روپے ادا کرکے ممبرشپ حاصل کرنی ہوگی ۔ ـ اس کے بعد اراکین کو پری پیڈ کی طرز پر اے ٹی ایم کارڈس دئے جائیں گے ۔

    ـ ان سائیکلوں پرسواری کرنے کے خواہشمند افراد کو سب سے پہلے ایک ہزار روپے ادا کرکے ممبرشپ حاصل کرنی ہوگی ۔ ـ اس کے بعد اراکین کو پری پیڈ کی طرز پر اے ٹی ایم کارڈس دئے جائیں گے ۔

  • سائیکل کا کرایہ فی گھنٹہ دس روپئے مقرر کیا گیا ہےـ ۔اراکین فی گھنٹہ دس روپے کے حساب سے 250 روپیوں میں تقریباً بارہ گھنٹوں تک یہ سائیکل کا استعمال کرسکتے ہیں ۔

    سائیکل کا کرایہ فی گھنٹہ دس روپئے مقرر کیا گیا ہےـ ۔اراکین فی گھنٹہ دس روپے کے حساب سے 250 روپیوں میں تقریباً بارہ گھنٹوں تک یہ سائیکل کا استعمال کرسکتے ہیں ۔

  • ـ تاہم سائیکل کا استعمال کرنے سے قبل اراکین کو اے ٹی ایم کارڈ میں رقم جمع کرنی ہوگی ،ـ اس کے بعد اراکین جتنے گھنٹے اس کا استعمال کریں گے ، اتنی ہی رقم ان کے اے ٹی ایم کارڈ سے کاٹ لی جائے گی ۔ـ

    ـ تاہم سائیکل کا استعمال کرنے سے قبل اراکین کو اے ٹی ایم کارڈ میں رقم جمع کرنی ہوگی ،ـ اس کے بعد اراکین جتنے گھنٹے اس کا استعمال کریں گے ، اتنی ہی رقم ان کے اے ٹی ایم کارڈ سے کاٹ لی جائے گی ۔ـ

  • پبلک شیئرنگ سائیکل کے تحفظ کے لیے جی پی ایس کی طرز والا نیا آلہ نصب کیا گیا ہے ۔ ـ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعہ ٹِرن ٹِرن نامی ویب سائٹ بھی تیار کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سائیکل کے چوری ہونے کا خدشہ نہیں رہے گا۔

    پبلک شیئرنگ سائیکل کے تحفظ کے لیے جی پی ایس کی طرز والا نیا آلہ نصب کیا گیا ہے ۔ ـ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعہ ٹِرن ٹِرن نامی ویب سائٹ بھی تیار کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سائیکل کے چوری ہونے کا خدشہ نہیں رہے گا۔

  • پبلک شیئرنگ سسٹم کے نفاذ کیلئے 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ـ
  • اس اسکیم کے تحت میسور میں 48 ڈاکنگ سنٹرس قائم کئے جارہے ہیں۔  ـ ان میں سے تقریباً 40 سنٹرس کا کام مکمل ہوچکاہے ۔ جبکہ باقی ماندہ سنٹرس کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔
  • ان سنٹرس میں 450 سائیکلوں کو بندوبست کیاجائے گا۔
  • ـ ان سائیکلوں پرسواری کرنے کے خواہشمند افراد کو سب سے پہلے ایک ہزار روپے ادا کرکے ممبرشپ حاصل کرنی ہوگی ۔ ـ اس کے بعد اراکین کو پری پیڈ کی طرز پر اے ٹی ایم کارڈس دئے جائیں گے ۔
  • سائیکل کا کرایہ فی گھنٹہ دس روپئے مقرر کیا گیا ہےـ ۔اراکین فی گھنٹہ دس روپے کے حساب سے 250 روپیوں میں تقریباً بارہ گھنٹوں تک یہ سائیکل کا استعمال کرسکتے ہیں ۔
  • ـ تاہم سائیکل کا استعمال کرنے سے قبل اراکین کو اے ٹی ایم کارڈ میں رقم جمع کرنی ہوگی ،ـ اس کے بعد اراکین جتنے گھنٹے اس کا استعمال کریں گے ، اتنی ہی رقم ان کے اے ٹی ایم کارڈ سے کاٹ لی جائے گی ۔ـ
  • پبلک شیئرنگ سائیکل کے تحفظ کے لیے جی پی ایس کی طرز والا نیا آلہ نصب کیا گیا ہے ۔ ـ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعہ ٹِرن ٹِرن نامی ویب سائٹ بھی تیار کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سائیکل کے چوری ہونے کا خدشہ نہیں رہے گا۔

تازہ ترین تصاویر