کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف نیشنل کانفرنس کی احتجاجی ریلی

Oct 21, 2017 07:20 PM IST
1 of 6
  • وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کا سراغ لگانے میں حکومت کی مبینہ ناکامی کے خلاف ہفتہ کے روز ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کی طرف سے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بھاری احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی قیادت میں پارٹی ہیڈکوارٹر سے برآمد ہوئی ریلی کو پولیس کی بھاری جمعیت نے شیر کشمیر پارک (پولو گراؤنڈ) کے نزدیک روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ریلی کے شرکاء نے بال تراشی کے واقعات کا سراغ لگانے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف نعرے بازی کی اور اس سنگین مسئلے کی طرف حکومت کی غیر سنجیدگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کا سراغ لگانے میں حکومت کی مبینہ ناکامی کے خلاف ہفتہ کے روز ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کی طرف سے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بھاری احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی قیادت میں پارٹی ہیڈکوارٹر سے برآمد ہوئی ریلی کو پولیس کی بھاری جمعیت نے شیر کشمیر پارک (پولو گراؤنڈ) کے نزدیک روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ریلی کے شرکاء نے بال تراشی کے واقعات کا سراغ لگانے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف نعرے بازی کی اور اس سنگین مسئلے کی طرف حکومت کی غیر سنجیدگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

  • ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ بال تراشی کے پیچھے اصل محرکات کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکمران ٹولہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ کیونکہ کرسی کو بچائے رکھنا حکمران جماعت کا واحد کام رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ حکومت کی بنیادی ذمہ داری لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ اور اُن کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ہوتا ہے‘۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کشمیر کو وادی کی تشویشناک صورتحال یاد دلاتے ہوئے این سی جنرل سکریٹری نے کہا کہ موجودہ حالات کے خلاف صرف نیشنل کانفرنس ہی وادی بھر میں احتجاج نہیں کررہی ہے بلکہ دوسری جماعتیں بھی حکومت کو اپنی بنیادی ذمہ داری یاد دلانے کے لئے اس مہم میں جڑ گئی ہیں۔

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ بال تراشی کے پیچھے اصل محرکات کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکمران ٹولہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ کیونکہ کرسی کو بچائے رکھنا حکمران جماعت کا واحد کام رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ حکومت کی بنیادی ذمہ داری لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ اور اُن کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ہوتا ہے‘۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کشمیر کو وادی کی تشویشناک صورتحال یاد دلاتے ہوئے این سی جنرل سکریٹری نے کہا کہ موجودہ حالات کے خلاف صرف نیشنل کانفرنس ہی وادی بھر میں احتجاج نہیں کررہی ہے بلکہ دوسری جماعتیں بھی حکومت کو اپنی بنیادی ذمہ داری یاد دلانے کے لئے اس مہم میں جڑ گئی ہیں۔

  • انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، مین اسٹریم، مذہبی اور سماجی و دیگر جماعتیں وادی میں جاری تشویشناک لہر کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ نیز ہر ایک صحیح سوچ رکھنے والے شہری کے لئے یہ حالات لمحہ فکریہ ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں 150سے زائد واقعات رونما ہوئے لیکن حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی بھی ٹھوس اقدام دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں آگے آئے اور اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں تاکہ یہ معاملہ مزید سنگین نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے گھروں میں بھی عدم تحفظ کی شکار ہیں۔ خواتین کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا ہے، طالبات اسکول اور کالج جانے سے کترا رہی ہیں۔  ریلی سے پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران مبارک گل، علی محمد ڈار، محمد اکبر لون، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، شمیمہ فردوس، شوکت حسین گنائی، محمد سعید آخون اور پیر آفاق احمد نے خطاب کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، مین اسٹریم، مذہبی اور سماجی و دیگر جماعتیں وادی میں جاری تشویشناک لہر کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ نیز ہر ایک صحیح سوچ رکھنے والے شہری کے لئے یہ حالات لمحہ فکریہ ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں 150سے زائد واقعات رونما ہوئے لیکن حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی بھی ٹھوس اقدام دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں آگے آئے اور اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں تاکہ یہ معاملہ مزید سنگین نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے گھروں میں بھی عدم تحفظ کی شکار ہیں۔ خواتین کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا ہے، طالبات اسکول اور کالج جانے سے کترا رہی ہیں۔ ریلی سے پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران مبارک گل، علی محمد ڈار، محمد اکبر لون، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، شمیمہ فردوس، شوکت حسین گنائی، محمد سعید آخون اور پیر آفاق احمد نے خطاب کیا۔

  •  وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

  •  وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

  •  وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

  • ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ بال تراشی کے پیچھے اصل محرکات کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکمران ٹولہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ کیونکہ کرسی کو بچائے رکھنا حکمران جماعت کا واحد کام رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ حکومت کی بنیادی ذمہ داری لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ اور اُن کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ہوتا ہے‘۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کشمیر کو وادی کی تشویشناک صورتحال یاد دلاتے ہوئے این سی جنرل سکریٹری نے کہا کہ موجودہ حالات کے خلاف صرف نیشنل کانفرنس ہی وادی بھر میں احتجاج نہیں کررہی ہے بلکہ دوسری جماعتیں بھی حکومت کو اپنی بنیادی ذمہ داری یاد دلانے کے لئے اس مہم میں جڑ گئی ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، مین اسٹریم، مذہبی اور سماجی و دیگر جماعتیں وادی میں جاری تشویشناک لہر کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ نیز ہر ایک صحیح سوچ رکھنے والے شہری کے لئے یہ حالات لمحہ فکریہ ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکمرانوں کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں 150سے زائد واقعات رونما ہوئے لیکن حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی بھی ٹھوس اقدام دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں آگے آئے اور اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں تاکہ یہ معاملہ مزید سنگین نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے گھروں میں بھی عدم تحفظ کی شکار ہیں۔ خواتین کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا ہے، طالبات اسکول اور کالج جانے سے کترا رہی ہیں۔  ریلی سے پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران مبارک گل، علی محمد ڈار، محمد اکبر لون، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، شمیمہ فردوس، شوکت حسین گنائی، محمد سعید آخون اور پیر آفاق احمد نے خطاب کیا۔
  •  وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
  •  وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
  •  وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی کے خلاف علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کے بعد کسی بھی قسم کے ممکنہ تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسیز نے ہفتہ کے روز سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

تازہ ترین تصاویر