ہنر ہاٹ ملک بھر کے ہنر مند استادوں کی حوصلہ افزائی اور مارکیٹ فراہم کرانے کی ایک بڑی مہم : نقوی

Feb 26, 2017 07:33 PM IST
1 of 20
  • مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور(آزادانہ چارج) مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ وزارت اقلیتی امور کی طر ف سےلگایا گیا ’ہنر ہاٹ ‘ ملک بھر کے ہنر مند استادوں کی حوصلہ افزائی ، مارکیٹ اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کرانے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوا۔ مسٹر نقوی نے ہنرہاٹ کے اختتامی دن یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کناٹ پلیس کے بابا کھڑگ سنگھ مارگ پر لگائے گئے ہنر ہاٹ سے جہاں ملک کے فنکاروںاور دست کاروں کو موقع اور مارکیٹ کا ایک پلیٹ فارم ملا وہیں اس نے سماجی اور فرقہ وارانہ خیر سگالی کو بھی بڑھاوا دیا۔

    مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور(آزادانہ چارج) مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ وزارت اقلیتی امور کی طر ف سےلگایا گیا ’ہنر ہاٹ ‘ ملک بھر کے ہنر مند استادوں کی حوصلہ افزائی ، مارکیٹ اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کرانے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوا۔ مسٹر نقوی نے ہنرہاٹ کے اختتامی دن یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کناٹ پلیس کے بابا کھڑگ سنگھ مارگ پر لگائے گئے ہنر ہاٹ سے جہاں ملک کے فنکاروںاور دست کاروں کو موقع اور مارکیٹ کا ایک پلیٹ فارم ملا وہیں اس نے سماجی اور فرقہ وارانہ خیر سگالی کو بھی بڑھاوا دیا۔

  •  انہوں نے کہا کہ اس ہنر ہاٹ میں 26 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جن میں ملک وبیرون ملک کے لوگ بھی شامل تھے۔

    انہوں نے کہا کہ اس ہنر ہاٹ میں 26 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جن میں ملک وبیرون ملک کے لوگ بھی شامل تھے۔

  •  لوگوں نے دستکاروں اور ہاتھ سے بنایا گئی چیزوں کی لاکھوں روپے کی خریداری کی اور انہیں ملک وبیرون ملک سے لاکھوں روپے کے سازوسامان کے آرڈر بھی ملے ہیں۔

    لوگوں نے دستکاروں اور ہاتھ سے بنایا گئی چیزوں کی لاکھوں روپے کی خریداری کی اور انہیں ملک وبیرون ملک سے لاکھوں روپے کے سازوسامان کے آرڈر بھی ملے ہیں۔

  •  انہوں نے کہا کہ ہنر کے استادوں کی روایتی وراثت کی حوصلہ افزائی کرنے کے مضبوط مشن کے تحت منعقدہ یہ دوسرا ہنر ہاٹ امیدوں سے زیادہ مقبول ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ہنر کے استادوں کی روایتی وراثت کی حوصلہ افزائی کرنے کے مضبوط مشن کے تحت منعقدہ یہ دوسرا ہنر ہاٹ امیدوں سے زیادہ مقبول ہوا۔

  • دستکاروں اور پکوانوں کے سنگم کے تھیم پر مبنی اس ہنر ہاٹ کی خاصیت ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے ہاتھوں سے تیار کئے گئے سازوسامان اور ہر علاقے کا مشہور پکوان رہی۔

    دستکاروں اور پکوانوں کے سنگم کے تھیم پر مبنی اس ہنر ہاٹ کی خاصیت ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے ہاتھوں سے تیار کئے گئے سازوسامان اور ہر علاقے کا مشہور پکوان رہی۔

  • اس ہنر ہاٹ میں فن اور دست کاری کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف پکوانوں پر مشتمل ’باورچی خانہ‘ کا ایک شعبہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ جو لذیذ کھانے کے شائقین کے لئے توجہ کا مرکز رہا۔جہاں لوگوں نے پرلطف کھانوں کا بھرپور ذائقہ لیا۔

    اس ہنر ہاٹ میں فن اور دست کاری کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف پکوانوں پر مشتمل ’باورچی خانہ‘ کا ایک شعبہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ جو لذیذ کھانے کے شائقین کے لئے توجہ کا مرکز رہا۔جہاں لوگوں نے پرلطف کھانوں کا بھرپور ذائقہ لیا۔

  •  اس ہنر ہاٹ میں دستکاری اور پکوانوں کے علاوہ مختلف ثقافتی پروگرام، قوالی، غزل، بھجن اور کٹ پتلی کا ناچ اور بائیسکوپ بھی لوگوں کے توجہ کا مرکز ثابت ہوئے۔ہنر ہاٹ میں جہاں دستکاروں اور ہتھ کرگوں نے جہاں اپنے ہنر کا جلوہ بکھیرا وہیں ملک کے کونے کونے سے لذیذ پکوانوں پر مشتمل ’’باورچی خانہ‘‘ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔

    اس ہنر ہاٹ میں دستکاری اور پکوانوں کے علاوہ مختلف ثقافتی پروگرام، قوالی، غزل، بھجن اور کٹ پتلی کا ناچ اور بائیسکوپ بھی لوگوں کے توجہ کا مرکز ثابت ہوئے۔ہنر ہاٹ میں جہاں دستکاروں اور ہتھ کرگوں نے جہاں اپنے ہنر کا جلوہ بکھیرا وہیں ملک کے کونے کونے سے لذیذ پکوانوں پر مشتمل ’’باورچی خانہ‘‘ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔

  • انہوں نے بتایا کہ باورچی خانہ میں تمام اسٹال اقلیتی طبقے کے خانساموں کے تھے جنہوں نے فرقہ وارانہ خیر سگالی کی مثال قائم کرتے ہوئے 24 فروری کو مہاشیوراتری کے دن نہ صرف ویجیٹیرین پکوان اپنے اسٹالوں پر پیش کیا بلکہ ورت کا کھانا بھی شائقین کو پیش کیا جس کا لوگوں نے خیر مقدم کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ باورچی خانہ میں تمام اسٹال اقلیتی طبقے کے خانساموں کے تھے جنہوں نے فرقہ وارانہ خیر سگالی کی مثال قائم کرتے ہوئے 24 فروری کو مہاشیوراتری کے دن نہ صرف ویجیٹیرین پکوان اپنے اسٹالوں پر پیش کیا بلکہ ورت کا کھانا بھی شائقین کو پیش کیا جس کا لوگوں نے خیر مقدم کیا۔

  • مسٹر نقوی نے بتایا کہ یہی نہیں دیگر اقلیتی طبقے کے لوگ (سکھ، جین، عیسائی اور بودھ) پڑوس کی مسجد میں نماز کے وقت اپنی دکانوں پر چلنے والے سنگیت کو بند کردیتے تھے۔

    مسٹر نقوی نے بتایا کہ یہی نہیں دیگر اقلیتی طبقے کے لوگ (سکھ، جین، عیسائی اور بودھ) پڑوس کی مسجد میں نماز کے وقت اپنی دکانوں پر چلنے والے سنگیت کو بند کردیتے تھے۔

  • مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستانی ثقافت، تہذیب وخیرسگالی کی اس شاندار مثالی کی یہاں پر آنے والے ہر شخص نے ستائش کی۔

    مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستانی ثقافت، تہذیب وخیرسگالی کی اس شاندار مثالی کی یہاں پر آنے والے ہر شخص نے ستائش کی۔

  • انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہاں پر آنے والے کاریگروں اور دست کاروں نے نہ صرٖٖ ف ذاتی طور پر صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا بلکہ اپنے آس پاس کی صفائی کرکے سوچھ بھارت ابھیان کو بھی مضبو ط کیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہاں پر آنے والے کاریگروں اور دست کاروں نے نہ صرٖٖ ف ذاتی طور پر صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا بلکہ اپنے آس پاس کی صفائی کرکے سوچھ بھارت ابھیان کو بھی مضبو ط کیا۔

  • مسٹر نقوی نے کہا کہ ہنرہاٹ کی تمام سرگرمیاں اس فیس بک پیج پر لائیو بھی دیکھی گئیں۔

    مسٹر نقوی نے کہا کہ ہنرہاٹ کی تمام سرگرمیاں اس فیس بک پیج پر لائیو بھی دیکھی گئیں۔

  • اس ہنر ہاٹ میں ملک کے تقریبا تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے سو سے زائد کاریگروں، دست کاروں اور تیس سے زیادہ خانساموں نے اپنے ہنر کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ان کاریگروں، دست کاروں اور خانساموں میں ریاستی اور قومی سطح کے ایوارڈ یافتہ افراد بھی شامل تھے۔

    اس ہنر ہاٹ میں ملک کے تقریبا تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے سو سے زائد کاریگروں، دست کاروں اور تیس سے زیادہ خانساموں نے اپنے ہنر کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ان کاریگروں، دست کاروں اور خانساموں میں ریاستی اور قومی سطح کے ایوارڈ یافتہ افراد بھی شامل تھے۔

  • مسٹر نقوی نے کہاکہ اس دوسرے ہنر ہاٹ میں دستکاری اور ہتھ کرگھا کے بے مثال نمونوں جیسے مکرانہ سنگ مرمر کی مصنوعات، سکر سے بندھیج، راجستھان سے موجری، تلنگانہ سے بنجارہ کڑھائی، ہاتھ سے بنے تالے اور ڈور ہینڈل کے ساتھ ساتھ علی گڑھ کی پھول پٹی کا کام، ناگالینڈ کے کوکن سجاوٹی سامان، اترپردیش سے سیرامیکس سے بنیں کراکری، چینی مٹی کے سامان، مٹی کے برتن، چندن اور دیگر لکڑی سے ہاتھ سے بنائے گئے سجاوٹ کے سامان، سوتی کے ڈیزائنر کپڑے ، بنارسی ساڑیاں، منی پور سے منکے کا کام، ناگالینڈ کے بنے بستے، آسام سے جوٹ کا سامان، گجرات سے تانبے کی کاریگری، مرادآباد کے تانبے کے برتن خریداروں کے لئے دستیاب تھے۔

    مسٹر نقوی نے کہاکہ اس دوسرے ہنر ہاٹ میں دستکاری اور ہتھ کرگھا کے بے مثال نمونوں جیسے مکرانہ سنگ مرمر کی مصنوعات، سکر سے بندھیج، راجستھان سے موجری، تلنگانہ سے بنجارہ کڑھائی، ہاتھ سے بنے تالے اور ڈور ہینڈل کے ساتھ ساتھ علی گڑھ کی پھول پٹی کا کام، ناگالینڈ کے کوکن سجاوٹی سامان، اترپردیش سے سیرامیکس سے بنیں کراکری، چینی مٹی کے سامان، مٹی کے برتن، چندن اور دیگر لکڑی سے ہاتھ سے بنائے گئے سجاوٹ کے سامان، سوتی کے ڈیزائنر کپڑے ، بنارسی ساڑیاں، منی پور سے منکے کا کام، ناگالینڈ کے بنے بستے، آسام سے جوٹ کا سامان، گجرات سے تانبے کی کاریگری، مرادآباد کے تانبے کے برتن خریداروں کے لئے دستیاب تھے۔

  • مسٹر نقوی نے کہا کہ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش سے مہیشوری ساڑی، کشمیری پشمینہ، کرناٹک سے بدری کا سامان، اتراکھنڈ کا ہتھ کرگھا سامان، ہماچل پردیش سے اون کی مصنوعات، کیرالہ سے کانچ کے بنے سامان اور میزورم کے روایتی دست کاری سے بنائے گئے سازوسامان کی نمائش کی گئی۔

    مسٹر نقوی نے کہا کہ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش سے مہیشوری ساڑی، کشمیری پشمینہ، کرناٹک سے بدری کا سامان، اتراکھنڈ کا ہتھ کرگھا سامان، ہماچل پردیش سے اون کی مصنوعات، کیرالہ سے کانچ کے بنے سامان اور میزورم کے روایتی دست کاری سے بنائے گئے سازوسامان کی نمائش کی گئی۔

  • تیرہ ریاستوں کے پکوانوں کے ماہرین کے ذریعہ مختلف طرح کے لذیذ کھانوں کا بھی لوگوں نے خوب ذائقہ لیا۔

    تیرہ ریاستوں کے پکوانوں کے ماہرین کے ذریعہ مختلف طرح کے لذیذ کھانوں کا بھی لوگوں نے خوب ذائقہ لیا۔

  •  خیال رہے کہ ان پکوانوں میں لکھنؤ کا اودھی، مغلئی، روائل مغلئی، راجستھان سے دھال بھاٹی، چرما اور تھالی، مغربی بنگال کے پکوان، کیرالہ سے مالاباری فوڈ، بہار کا لٹی چوکھا، مہاراشٹر سے پورن پولی، گجرات کے ڈھوکلہ اور جلیبی، واڈا پاؤ، دہلی کی آلو چاٹ ، جموں وکشمیر سے کشمیری بازوان، مدھیہ پردیش سے بھٹے کی کس، سابو دانہ کی کھیراور کھچری اور منی پور کے پکوان، ناگالینڈ کے روایتی پکوانوں کے علاوہ کیسریا دودھ، کلفی، گرما گرم جلیبی اور مختلف طرح کے آچار، پنجاب کے چھولے بھٹورے کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کے مختلف روایتی پکوان شامل تھے۔

    خیال رہے کہ ان پکوانوں میں لکھنؤ کا اودھی، مغلئی، روائل مغلئی، راجستھان سے دھال بھاٹی، چرما اور تھالی، مغربی بنگال کے پکوان، کیرالہ سے مالاباری فوڈ، بہار کا لٹی چوکھا، مہاراشٹر سے پورن پولی، گجرات کے ڈھوکلہ اور جلیبی، واڈا پاؤ، دہلی کی آلو چاٹ ، جموں وکشمیر سے کشمیری بازوان، مدھیہ پردیش سے بھٹے کی کس، سابو دانہ کی کھیراور کھچری اور منی پور کے پکوان، ناگالینڈ کے روایتی پکوانوں کے علاوہ کیسریا دودھ، کلفی، گرما گرم جلیبی اور مختلف طرح کے آچار، پنجاب کے چھولے بھٹورے کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کے مختلف روایتی پکوان شامل تھے۔

  • واضح رہے کہ وزارت اقلیتی امور کے زیر اہتمام پہلے ہنر ہاٹ کا گزشتہ برس 14 نومبر سے 27 نومبر کے درمیان پرگتی میدان میں منعقدہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں خاص ہال لگاکر انعقاد کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ وزارت اقلیتی امور کے زیر اہتمام پہلے ہنر ہاٹ کا گزشتہ برس 14 نومبر سے 27 نومبر کے درمیان پرگتی میدان میں منعقدہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں خاص ہال لگاکر انعقاد کیا گیا تھا۔

  • مسٹر نقوی نے کہا کہ اگلا ہنر ہاٹ جلدہی ممبئی میں منعقد کیا جائے گا۔

    مسٹر نقوی نے کہا کہ اگلا ہنر ہاٹ جلدہی ممبئی میں منعقد کیا جائے گا۔

  •  اس کے علاقہ کولکاتہ، حیدرآباد، بنگلور، لکھنؤ، الہ آباد، رانچی، گواہاٹی، جے پور ، بھوپال وغیرہ کے مقامات پر بھی منعقد کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ ملک کے ہر کونے کے دستکاروں اور ہتھ کرگھوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

    اس کے علاقہ کولکاتہ، حیدرآباد، بنگلور، لکھنؤ، الہ آباد، رانچی، گواہاٹی، جے پور ، بھوپال وغیرہ کے مقامات پر بھی منعقد کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ ملک کے ہر کونے کے دستکاروں اور ہتھ کرگھوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

  •  انہوں نے کہا کہ اس ہنر ہاٹ میں 26 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جن میں ملک وبیرون ملک کے لوگ بھی شامل تھے۔
  •  لوگوں نے دستکاروں اور ہاتھ سے بنایا گئی چیزوں کی لاکھوں روپے کی خریداری کی اور انہیں ملک وبیرون ملک سے لاکھوں روپے کے سازوسامان کے آرڈر بھی ملے ہیں۔
  •  انہوں نے کہا کہ ہنر کے استادوں کی روایتی وراثت کی حوصلہ افزائی کرنے کے مضبوط مشن کے تحت منعقدہ یہ دوسرا ہنر ہاٹ امیدوں سے زیادہ مقبول ہوا۔
  • دستکاروں اور پکوانوں کے سنگم کے تھیم پر مبنی اس ہنر ہاٹ کی خاصیت ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے ہاتھوں سے تیار کئے گئے سازوسامان اور ہر علاقے کا مشہور پکوان رہی۔
  • اس ہنر ہاٹ میں فن اور دست کاری کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف پکوانوں پر مشتمل ’باورچی خانہ‘ کا ایک شعبہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ جو لذیذ کھانے کے شائقین کے لئے توجہ کا مرکز رہا۔جہاں لوگوں نے پرلطف کھانوں کا بھرپور ذائقہ لیا۔
  •  اس ہنر ہاٹ میں دستکاری اور پکوانوں کے علاوہ مختلف ثقافتی پروگرام، قوالی، غزل، بھجن اور کٹ پتلی کا ناچ اور بائیسکوپ بھی لوگوں کے توجہ کا مرکز ثابت ہوئے۔ہنر ہاٹ میں جہاں دستکاروں اور ہتھ کرگوں نے جہاں اپنے ہنر کا جلوہ بکھیرا وہیں ملک کے کونے کونے سے لذیذ پکوانوں پر مشتمل ’’باورچی خانہ‘‘ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔
  • انہوں نے بتایا کہ باورچی خانہ میں تمام اسٹال اقلیتی طبقے کے خانساموں کے تھے جنہوں نے فرقہ وارانہ خیر سگالی کی مثال قائم کرتے ہوئے 24 فروری کو مہاشیوراتری کے دن نہ صرف ویجیٹیرین پکوان اپنے اسٹالوں پر پیش کیا بلکہ ورت کا کھانا بھی شائقین کو پیش کیا جس کا لوگوں نے خیر مقدم کیا۔
  • مسٹر نقوی نے بتایا کہ یہی نہیں دیگر اقلیتی طبقے کے لوگ (سکھ، جین، عیسائی اور بودھ) پڑوس کی مسجد میں نماز کے وقت اپنی دکانوں پر چلنے والے سنگیت کو بند کردیتے تھے۔
  • مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستانی ثقافت، تہذیب وخیرسگالی کی اس شاندار مثالی کی یہاں پر آنے والے ہر شخص نے ستائش کی۔
  • انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہاں پر آنے والے کاریگروں اور دست کاروں نے نہ صرٖٖ ف ذاتی طور پر صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا بلکہ اپنے آس پاس کی صفائی کرکے سوچھ بھارت ابھیان کو بھی مضبو ط کیا۔
  • مسٹر نقوی نے کہا کہ ہنرہاٹ کی تمام سرگرمیاں اس فیس بک پیج پر لائیو بھی دیکھی گئیں۔
  • اس ہنر ہاٹ میں ملک کے تقریبا تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے سو سے زائد کاریگروں، دست کاروں اور تیس سے زیادہ خانساموں نے اپنے ہنر کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ان کاریگروں، دست کاروں اور خانساموں میں ریاستی اور قومی سطح کے ایوارڈ یافتہ افراد بھی شامل تھے۔
  • مسٹر نقوی نے کہاکہ اس دوسرے ہنر ہاٹ میں دستکاری اور ہتھ کرگھا کے بے مثال نمونوں جیسے مکرانہ سنگ مرمر کی مصنوعات، سکر سے بندھیج، راجستھان سے موجری، تلنگانہ سے بنجارہ کڑھائی، ہاتھ سے بنے تالے اور ڈور ہینڈل کے ساتھ ساتھ علی گڑھ کی پھول پٹی کا کام، ناگالینڈ کے کوکن سجاوٹی سامان، اترپردیش سے سیرامیکس سے بنیں کراکری، چینی مٹی کے سامان، مٹی کے برتن، چندن اور دیگر لکڑی سے ہاتھ سے بنائے گئے سجاوٹ کے سامان، سوتی کے ڈیزائنر کپڑے ، بنارسی ساڑیاں، منی پور سے منکے کا کام، ناگالینڈ کے بنے بستے، آسام سے جوٹ کا سامان، گجرات سے تانبے کی کاریگری، مرادآباد کے تانبے کے برتن خریداروں کے لئے دستیاب تھے۔
  • مسٹر نقوی نے کہا کہ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش سے مہیشوری ساڑی، کشمیری پشمینہ، کرناٹک سے بدری کا سامان، اتراکھنڈ کا ہتھ کرگھا سامان، ہماچل پردیش سے اون کی مصنوعات، کیرالہ سے کانچ کے بنے سامان اور میزورم کے روایتی دست کاری سے بنائے گئے سازوسامان کی نمائش کی گئی۔
  • تیرہ ریاستوں کے پکوانوں کے ماہرین کے ذریعہ مختلف طرح کے لذیذ کھانوں کا بھی لوگوں نے خوب ذائقہ لیا۔
  •  خیال رہے کہ ان پکوانوں میں لکھنؤ کا اودھی، مغلئی، روائل مغلئی، راجستھان سے دھال بھاٹی، چرما اور تھالی، مغربی بنگال کے پکوان، کیرالہ سے مالاباری فوڈ، بہار کا لٹی چوکھا، مہاراشٹر سے پورن پولی، گجرات کے ڈھوکلہ اور جلیبی، واڈا پاؤ، دہلی کی آلو چاٹ ، جموں وکشمیر سے کشمیری بازوان، مدھیہ پردیش سے بھٹے کی کس، سابو دانہ کی کھیراور کھچری اور منی پور کے پکوان، ناگالینڈ کے روایتی پکوانوں کے علاوہ کیسریا دودھ، کلفی، گرما گرم جلیبی اور مختلف طرح کے آچار، پنجاب کے چھولے بھٹورے کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کے مختلف روایتی پکوان شامل تھے۔
  • واضح رہے کہ وزارت اقلیتی امور کے زیر اہتمام پہلے ہنر ہاٹ کا گزشتہ برس 14 نومبر سے 27 نومبر کے درمیان پرگتی میدان میں منعقدہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں خاص ہال لگاکر انعقاد کیا گیا تھا۔
  • مسٹر نقوی نے کہا کہ اگلا ہنر ہاٹ جلدہی ممبئی میں منعقد کیا جائے گا۔
  •  اس کے علاقہ کولکاتہ، حیدرآباد، بنگلور، لکھنؤ، الہ آباد، رانچی، گواہاٹی، جے پور ، بھوپال وغیرہ کے مقامات پر بھی منعقد کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ ملک کے ہر کونے کے دستکاروں اور ہتھ کرگھوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

تازہ ترین تصاویر