اے ایم یو میں نئے سیشن کی شروعات ،جانئے نئے شیخ الجامعہ سے طلبہ کی کیا کیا امیدیں ہیں وابستہ

Aug 02, 2017 11:40 PM IST
1 of 8
  •  علم وادب کے گہوارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نئے سیشن کی شروعات کے ساتھ ہی بہاریں لوٹ آئی ہیں ۔ مختلف کورسیز میں ملک بھر سے داخلہ لینے طلبہ و طالبات یہاں پہنچ رہے ہیں۔ ہر کسی کی آنکھوں میں اے ایم یو میں تعلیم حاصل کرنے کی خوشی دیکھی جا سکتی ہے ۔ جہاں طلبہ اے ایم یو کی تہذیبی روایات کے امین بننے کو تیار ہیں ، وہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی طلبہ سے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرانے کے لئے کمر کس لی ہے ۔

    علم وادب کے گہوارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نئے سیشن کی شروعات کے ساتھ ہی بہاریں لوٹ آئی ہیں ۔ مختلف کورسیز میں ملک بھر سے داخلہ لینے طلبہ و طالبات یہاں پہنچ رہے ہیں۔ ہر کسی کی آنکھوں میں اے ایم یو میں تعلیم حاصل کرنے کی خوشی دیکھی جا سکتی ہے ۔ جہاں طلبہ اے ایم یو کی تہذیبی روایات کے امین بننے کو تیار ہیں ، وہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی طلبہ سے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرانے کے لئے کمر کس لی ہے ۔

  • علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس سیشن کا آغاز نئے شیخ الجامعہ کی سرپرستی میں ہوا ہے ۔ جہاں سابقہ سیشن میں سابق وائس چانسلر جنرل ضمیرالدین شاہ تھے ، وہیں نئے سیشن سے چمن سرسید کی ذمہ داری نئے شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصور کے ہاتھوں میں ہے ۔

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس سیشن کا آغاز نئے شیخ الجامعہ کی سرپرستی میں ہوا ہے ۔ جہاں سابقہ سیشن میں سابق وائس چانسلر جنرل ضمیرالدین شاہ تھے ، وہیں نئے سیشن سے چمن سرسید کی ذمہ داری نئے شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصور کے ہاتھوں میں ہے ۔

  •  یونیورسٹی انتظامیہ کی ترجیحات سے واقف کراتے ہوئے افسررابطہ عامہ عمرسلیم پیرزادہ بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی کوشش ہے کہ طلبہ کی اکیڈمک ذمہ داری کو بروقت انجام دیا جائے ۔ طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور انھیں ملک کی ترقی میں تعاون کے لئے تیار کیا جائے ۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کی ترجیحات سے واقف کراتے ہوئے افسررابطہ عامہ عمرسلیم پیرزادہ بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی کوشش ہے کہ طلبہ کی اکیڈمک ذمہ داری کو بروقت انجام دیا جائے ۔ طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور انھیں ملک کی ترقی میں تعاون کے لئے تیار کیا جائے ۔

  • ساتھ ہی ساتھ ایک ایسا برج تیار کا جائے ، جس سے ملک سمیت دنیا بھر میں علی گڑھ سے متعلق جو رائے ہے ، وہ برقرار رہے ۔

    ساتھ ہی ساتھ ایک ایسا برج تیار کا جائے ، جس سے ملک سمیت دنیا بھر میں علی گڑھ سے متعلق جو رائے ہے ، وہ برقرار رہے ۔

  • ادھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قدیم طلبہ جہاں نئے طلبہ کا پرجوش استقبال کررہے ہیں، وہیں اس ادارے کو ملک کا نمبر ایک ادارہ بنانے کیلئے  بھی کوشاں ہیں ۔

    ادھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قدیم طلبہ جہاں نئے طلبہ کا پرجوش استقبال کررہے ہیں، وہیں اس ادارے کو ملک کا نمبر ایک ادارہ بنانے کیلئے بھی کوشاں ہیں ۔

  • طلبہ کہتے ہیں کہ پورے ملک میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنی تہذیب کے لئے جانی جاتی ہے ۔ ہمیں اسی تہذیب کو آگے بڑھاتے ہوئے نئے طلبہ کو یہاں کے مطابق تیار کرنا ہے ، تاکہ جب بھی وہ یہاں سے باہر نکلیں تو پوری دنیا انھیں علیگ کے نام سے پہنچانے ۔

    طلبہ کہتے ہیں کہ پورے ملک میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنی تہذیب کے لئے جانی جاتی ہے ۔ ہمیں اسی تہذیب کو آگے بڑھاتے ہوئے نئے طلبہ کو یہاں کے مطابق تیار کرنا ہے ، تاکہ جب بھی وہ یہاں سے باہر نکلیں تو پوری دنیا انھیں علیگ کے نام سے پہنچانے ۔

  •  طلبہ میں نئے شیخ الجامعہ کو لے کر  بھی کافی پرجوش ہیں ۔

    طلبہ میں نئے شیخ الجامعہ کو لے کر بھی کافی پرجوش ہیں ۔

  •  ان کا کہنا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ جس طرح سابقہ وائس چانسلرس نے اس ادارے کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں ویسا ہی نئے شیخ الجامعہ بھی کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ جس طرح سابقہ وائس چانسلرس نے اس ادارے کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں ویسا ہی نئے شیخ الجامعہ بھی کریں گے۔

  • علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس سیشن کا آغاز نئے شیخ الجامعہ کی سرپرستی میں ہوا ہے ۔ جہاں سابقہ سیشن میں سابق وائس چانسلر جنرل ضمیرالدین شاہ تھے ، وہیں نئے سیشن سے چمن سرسید کی ذمہ داری نئے شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصور کے ہاتھوں میں ہے ۔
  •  یونیورسٹی انتظامیہ کی ترجیحات سے واقف کراتے ہوئے افسررابطہ عامہ عمرسلیم پیرزادہ بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی کوشش ہے کہ طلبہ کی اکیڈمک ذمہ داری کو بروقت انجام دیا جائے ۔ طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور انھیں ملک کی ترقی میں تعاون کے لئے تیار کیا جائے ۔
  • ساتھ ہی ساتھ ایک ایسا برج تیار کا جائے ، جس سے ملک سمیت دنیا بھر میں علی گڑھ سے متعلق جو رائے ہے ، وہ برقرار رہے ۔
  • ادھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قدیم طلبہ جہاں نئے طلبہ کا پرجوش استقبال کررہے ہیں، وہیں اس ادارے کو ملک کا نمبر ایک ادارہ بنانے کیلئے  بھی کوشاں ہیں ۔
  • طلبہ کہتے ہیں کہ پورے ملک میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنی تہذیب کے لئے جانی جاتی ہے ۔ ہمیں اسی تہذیب کو آگے بڑھاتے ہوئے نئے طلبہ کو یہاں کے مطابق تیار کرنا ہے ، تاکہ جب بھی وہ یہاں سے باہر نکلیں تو پوری دنیا انھیں علیگ کے نام سے پہنچانے ۔
  •  طلبہ میں نئے شیخ الجامعہ کو لے کر  بھی کافی پرجوش ہیں ۔
  •  ان کا کہنا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ جس طرح سابقہ وائس چانسلرس نے اس ادارے کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں ویسا ہی نئے شیخ الجامعہ بھی کریں گے۔

تازہ ترین تصاویر