سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر ایک بار پھر قدغن

Oct 06, 2017 08:33 PM IST
1 of 7
  • کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی کشمیر میں خواتین کے بال کاٹنے میں آئے روز تشویشناک اور شرمناک اضافے کے خلاف جمعہ کے روز نماز کے بعد ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی کشمیر میں خواتین کے بال کاٹنے میں آئے روز تشویشناک اور شرمناک اضافے کے خلاف جمعہ کے روز نماز کے بعد ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

  •  انہوں نے جمعرات کو یہاں جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر کے تمام حصوں بشمول جموں، پونچھ، پیر پنچال اور چناب ویلی کے علاوہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے عوام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ اس روز ان شرمناک حربوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج درج کریں۔ تاہم کشمیر انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کر دیں۔

    انہوں نے جمعرات کو یہاں جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر کے تمام حصوں بشمول جموں، پونچھ، پیر پنچال اور چناب ویلی کے علاوہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے عوام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ اس روز ان شرمناک حربوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج درج کریں۔ تاہم کشمیر انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کر دیں۔

  • حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق ، جو ہر جمعہ کو نماز کی ادائیگی سے قبل تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہیں، کو جمعرات کی صبح ہی اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیا ۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔

    حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق ، جو ہر جمعہ کو نماز کی ادائیگی سے قبل تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہیں، کو جمعرات کی صبح ہی اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیا ۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔

  •  مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے فجر کی نماز جامع مسجد کے اندر ہی ادا کی۔ لیکن فجر نماز ادا کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کو بند کردیا۔ دریں اثنا پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔

    مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے فجر کی نماز جامع مسجد کے اندر ہی ادا کی۔ لیکن فجر نماز ادا کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کو بند کردیا۔ دریں اثنا پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔

  •  اس روڈ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے لوگوں کی آمدورفت محدود کردی۔ سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا۔

    اس روڈ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے لوگوں کی آمدورفت محدود کردی۔ سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا۔

  •  لوگوں نے الزام لگایا کہ مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو پابندی والے علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سخت ترین پابندیوں کے نتیجے میں پائین شہر میں تمام تعلیمی ادارے جمعہ کو بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔

    لوگوں نے الزام لگایا کہ مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو پابندی والے علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سخت ترین پابندیوں کے نتیجے میں پائین شہر میں تمام تعلیمی ادارے جمعہ کو بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔

  •  سرکاری اور نجی دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے ہی گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے۔ دریں اثنا حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے ریاستی حکمرانوں کی جانب سے ایک بار پھر مرکزی جامع مسجد سری نگر کے ارد گرد پہرے بٹھائے جانے، کرفیو کے نفاذ وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں بندشوں، قدغنوں کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کا فسطائی طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ یہاں کے عوام کی سیاسی آزادی سلب کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مذہبی آزادی کو بھی طاقت کے بل پر سلب کر رہا ہے اور مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر آئے روز کی پابندی ان جارحانہ حربوں کی ایک کڑی ہے۔

    سرکاری اور نجی دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے ہی گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے۔ دریں اثنا حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے ریاستی حکمرانوں کی جانب سے ایک بار پھر مرکزی جامع مسجد سری نگر کے ارد گرد پہرے بٹھائے جانے، کرفیو کے نفاذ وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں بندشوں، قدغنوں کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کا فسطائی طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ یہاں کے عوام کی سیاسی آزادی سلب کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مذہبی آزادی کو بھی طاقت کے بل پر سلب کر رہا ہے اور مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر آئے روز کی پابندی ان جارحانہ حربوں کی ایک کڑی ہے۔

  •  انہوں نے جمعرات کو یہاں جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں جموں وکشمیر کے تمام حصوں بشمول جموں، پونچھ، پیر پنچال اور چناب ویلی کے علاوہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے عوام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ اس روز ان شرمناک حربوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج درج کریں۔ تاہم کشمیر انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کر دیں۔
  • حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق ، جو ہر جمعہ کو نماز کی ادائیگی سے قبل تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہیں، کو جمعرات کی صبح ہی اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیا ۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔
  •  مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے فجر کی نماز جامع مسجد کے اندر ہی ادا کی۔ لیکن فجر نماز ادا کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کو بند کردیا۔ دریں اثنا پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔
  •  اس روڈ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے لوگوں کی آمدورفت محدود کردی۔ سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا۔
  •  لوگوں نے الزام لگایا کہ مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو پابندی والے علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سخت ترین پابندیوں کے نتیجے میں پائین شہر میں تمام تعلیمی ادارے جمعہ کو بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔
  •  سرکاری اور نجی دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے ہی گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے۔ دریں اثنا حریت کانفرنس (ع) کے ترجمان نے ریاستی حکمرانوں کی جانب سے ایک بار پھر مرکزی جامع مسجد سری نگر کے ارد گرد پہرے بٹھائے جانے، کرفیو کے نفاذ وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں بندشوں، قدغنوں کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کا فسطائی طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ یہاں کے عوام کی سیاسی آزادی سلب کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مذہبی آزادی کو بھی طاقت کے بل پر سلب کر رہا ہے اور مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر آئے روز کی پابندی ان جارحانہ حربوں کی ایک کڑی ہے۔

تازہ ترین تصاویر