دہلی : اوکھلا حلقہ میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کی 47 جھگیاں چند منٹوں میں جل کر خاکستر، تاہم جانی نقصان نہیں

Apr 15, 2018 07:57 PM IST
1 of 10
  • دہلی کے اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تھانہ جیت پور کنچن کنج میں قیام پذیر  رہنگیا مسلمانوں کی جھگیوں میں دیر رات تقریبا تین بجے اچانک آگ لگ گئی ۔ جب تک وہاں ،پولیس عملہ یا فائر بریگیڈ کی ٹیم پہنچی ، تب تک 47جھگیاں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔آگ اتنی تیز تھی کی جھگیوں میں مقیم روہنگیامسلمان صرف اپنی فیملی کو ہی نکالنے میں کامیاب ہوسکے جبکہ سارا سامان جھل کر راکھ ہو گیا ۔

    دہلی کے اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تھانہ جیت پور کنچن کنج میں قیام پذیر رہنگیا مسلمانوں کی جھگیوں میں دیر رات تقریبا تین بجے اچانک آگ لگ گئی ۔ جب تک وہاں ،پولیس عملہ یا فائر بریگیڈ کی ٹیم پہنچی ، تب تک 47جھگیاں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔آگ اتنی تیز تھی کی جھگیوں میں مقیم روہنگیامسلمان صرف اپنی فیملی کو ہی نکالنے میں کامیاب ہوسکے جبکہ سارا سامان جھل کر راکھ ہو گیا ۔

  • حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد موقعہ پر پولس پہنچی اور چاروں طرف سے گھیرا بندی کرکے مقدمہ درج کرلیا ۔ معاملہ کرائم برانچ کے سپرد کر دیاگیا ہے ۔

    حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد موقعہ پر پولس پہنچی اور چاروں طرف سے گھیرا بندی کرکے مقدمہ درج کرلیا ۔ معاملہ کرائم برانچ کے سپرد کر دیاگیا ہے ۔

  • آگ کیسے لگی اس کی ابھی تک کوئی اطلاع پولیس نے نہیںدی ہے ۔ صرف اتنا بتایا جارہا ہے کہ ابھی معاملہ کی تفتیش چل رہی ہے ۔

    آگ کیسے لگی اس کی ابھی تک کوئی اطلاع پولیس نے نہیںدی ہے ۔ صرف اتنا بتایا جارہا ہے کہ ابھی معاملہ کی تفتیش چل رہی ہے ۔

  • خیال ہرے کہ جس جگہ جھگیوں میں آگ لگی وہ زمین زکوة فاؤنڈیشن آف انڈیا کے ماتحت ہے ، جس کے صدر ڈاکر ظفر محمود ہیں ۔روہنگیائی مسلمان جب ہندوستان آئے اور دہلی کے یو این دفتر پراپنے پناہ گزیں ہونے کاثبوت حاصل کر نے کے لئے مظاہرہ کیا تو وہاں ظفر محمود کھانے کی امداد لے کر گئے ۔

    خیال ہرے کہ جس جگہ جھگیوں میں آگ لگی وہ زمین زکوة فاؤنڈیشن آف انڈیا کے ماتحت ہے ، جس کے صدر ڈاکر ظفر محمود ہیں ۔روہنگیائی مسلمان جب ہندوستان آئے اور دہلی کے یو این دفتر پراپنے پناہ گزیں ہونے کاثبوت حاصل کر نے کے لئے مظاہرہ کیا تو وہاں ظفر محمود کھانے کی امداد لے کر گئے ۔

  • ان میں سے کچھ کو انہوں نے کہا ہمارے ساتھ چلیں ، ہمارے پاس زمین ہے اس پر رہیں جب تک کہ پوری طرح سے آباد نہ ہو جائیں۔یہ معاملہ 2012کا ہے۔

    ان میں سے کچھ کو انہوں نے کہا ہمارے ساتھ چلیں ، ہمارے پاس زمین ہے اس پر رہیں جب تک کہ پوری طرح سے آباد نہ ہو جائیں۔یہ معاملہ 2012کا ہے۔

  • ڈاکٹر ظفر محمود کے کہنے پر وہاں سے 47کنبےآئے  اور یہاں اس زمین پر جھگی بنا کر مفلسی کی زندگی گزارنے لگے۔اس حادثہ کے بعد وہاں سماجی ،ملی ،و سیاسی رہنما وں نے بھی دورہ کیا اور حادثہ کی تفتیش کا مطالبہ کیاہے ۔

    ڈاکٹر ظفر محمود کے کہنے پر وہاں سے 47کنبےآئے اور یہاں اس زمین پر جھگی بنا کر مفلسی کی زندگی گزارنے لگے۔اس حادثہ کے بعد وہاں سماجی ،ملی ،و سیاسی رہنما وں نے بھی دورہ کیا اور حادثہ کی تفتیش کا مطالبہ کیاہے ۔

  • کنچن کنج میں رہ رہے رہنگیاں مسلمان کی جھگیوں میں آگ لگنے کے بعد جب تک آس پڑوس کے لوگ وہاں پہنچے ، تب تک آگ بری طرح پھیل چکی تھی، اس لئے وہ کچھ زیادہ مدد نہیں کر سکے ۔

    کنچن کنج میں رہ رہے رہنگیاں مسلمان کی جھگیوں میں آگ لگنے کے بعد جب تک آس پڑوس کے لوگ وہاں پہنچے ، تب تک آگ بری طرح پھیل چکی تھی، اس لئے وہ کچھ زیادہ مدد نہیں کر سکے ۔

  • حادثہ کے شکار لوگوں کی فوری مدد کے لئے اوکھلا حلقہ کے ممبر اسمبلی کے نمائندے وہاں پہنچے اور ان کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش میں لگے ہیں ۔

    حادثہ کے شکار لوگوں کی فوری مدد کے لئے اوکھلا حلقہ کے ممبر اسمبلی کے نمائندے وہاں پہنچے اور ان کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش میں لگے ہیں ۔

  • حادثہ کے بعد وہاں کئی ملی و سیاسی تنظیموں کے نمائندے امدادی سامان لے کر پہنچ رہے ہیں تاکہ پناہ گزینوں کو کچھ راحت مل سکے ۔

    حادثہ کے بعد وہاں کئی ملی و سیاسی تنظیموں کے نمائندے امدادی سامان لے کر پہنچ رہے ہیں تاکہ پناہ گزینوں کو کچھ راحت مل سکے ۔

  • فی الحال وہ ایک تمبو کے نیچے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ادھر کچھ لوگوں کا کہنا کہ زمین خالی کرانے ارادہ سے یہ آگ لگائی گئی ہے ۔(ضیا  انصار ی کی رپورٹ )۔

    فی الحال وہ ایک تمبو کے نیچے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ادھر کچھ لوگوں کا کہنا کہ زمین خالی کرانے ارادہ سے یہ آگ لگائی گئی ہے ۔(ضیا انصار ی کی رپورٹ )۔

  • حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد موقعہ پر پولس پہنچی اور چاروں طرف سے گھیرا بندی کرکے مقدمہ درج کرلیا ۔ معاملہ کرائم برانچ کے سپرد کر دیاگیا ہے ۔
  • آگ کیسے لگی اس کی ابھی تک کوئی اطلاع پولیس نے نہیںدی ہے ۔ صرف اتنا بتایا جارہا ہے کہ ابھی معاملہ کی تفتیش چل رہی ہے ۔
  • خیال ہرے کہ جس جگہ جھگیوں میں آگ لگی وہ زمین زکوة فاؤنڈیشن آف انڈیا کے ماتحت ہے ، جس کے صدر ڈاکر ظفر محمود ہیں ۔روہنگیائی مسلمان جب ہندوستان آئے اور دہلی کے یو این دفتر پراپنے پناہ گزیں ہونے کاثبوت حاصل کر نے کے لئے مظاہرہ کیا تو وہاں ظفر محمود کھانے کی امداد لے کر گئے ۔
  • ان میں سے کچھ کو انہوں نے کہا ہمارے ساتھ چلیں ، ہمارے پاس زمین ہے اس پر رہیں جب تک کہ پوری طرح سے آباد نہ ہو جائیں۔یہ معاملہ 2012کا ہے۔
  • ڈاکٹر ظفر محمود کے کہنے پر وہاں سے 47کنبےآئے  اور یہاں اس زمین پر جھگی بنا کر مفلسی کی زندگی گزارنے لگے۔اس حادثہ کے بعد وہاں سماجی ،ملی ،و سیاسی رہنما وں نے بھی دورہ کیا اور حادثہ کی تفتیش کا مطالبہ کیاہے ۔
  • کنچن کنج میں رہ رہے رہنگیاں مسلمان کی جھگیوں میں آگ لگنے کے بعد جب تک آس پڑوس کے لوگ وہاں پہنچے ، تب تک آگ بری طرح پھیل چکی تھی، اس لئے وہ کچھ زیادہ مدد نہیں کر سکے ۔
  • حادثہ کے شکار لوگوں کی فوری مدد کے لئے اوکھلا حلقہ کے ممبر اسمبلی کے نمائندے وہاں پہنچے اور ان کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش میں لگے ہیں ۔
  • حادثہ کے بعد وہاں کئی ملی و سیاسی تنظیموں کے نمائندے امدادی سامان لے کر پہنچ رہے ہیں تاکہ پناہ گزینوں کو کچھ راحت مل سکے ۔
  • فی الحال وہ ایک تمبو کے نیچے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ادھر کچھ لوگوں کا کہنا کہ زمین خالی کرانے ارادہ سے یہ آگ لگائی گئی ہے ۔(ضیا  انصار ی کی رپورٹ )۔

تازہ ترین تصاویر