وارانسی حادثہ : کہیں چیخیں ، کہیں ملبے میں دبی زندگیاں ، دیکھیں حادثہ کی تکلیف دہ تصاویر

May 16, 2018 02:34 PM IST
1 of 12
  • وارانسی کے کینٹ ریلوے اسٹیشن کے پاس منگل کے روز بڑا حادثہ پیش آیا ۔ زیر تعمیر پل کا ایک سلیب سڑک پر گرگیا۔ اس کی چپیٹ میں درجنوںگاڑیاں آگئی ۔ حادثہ میں50 سے زیادہ لوگ پھنس گئے ، تصاویر بنان کرتی ہیں کہ کتنا خطرناک رہا ہوگا یہ حادثہ ۔ آگے کے سلائڈ میں دیکھے حادثہ کی حوش فاختہ کر دینے والی تصویریں۔

    وارانسی کے کینٹ ریلوے اسٹیشن کے پاس منگل کے روز بڑا حادثہ پیش آیا ۔ زیر تعمیر پل کا ایک سلیب سڑک پر گرگیا۔ اس کی چپیٹ میں درجنوںگاڑیاں آگئی ۔ حادثہ میں50 سے زیادہ لوگ پھنس گئے ، تصاویر بنان کرتی ہیں کہ کتنا خطرناک رہا ہوگا یہ حادثہ ۔ آگے کے سلائڈ میں دیکھے حادثہ کی حوش فاختہ کر دینے والی تصویریں۔

  • پل کا ایک حصہ وہاں سے گزر رہی، ایک بس پر اور کئی گاڑیوں کے اوپر گر گیا۔ یہ واقع شہر کی سب سے اہم سڑ ک پر پیش آیا ۔ حادثہ کے بعد ہر طرح چیخ پکار مچ گئی ۔ اسٹیشن آنے اور جانے کا راستہ بند ہو گیا۔

    پل کا ایک حصہ وہاں سے گزر رہی، ایک بس پر اور کئی گاڑیوں کے اوپر گر گیا۔ یہ واقع شہر کی سب سے اہم سڑ ک پر پیش آیا ۔ حادثہ کے بعد ہر طرح چیخ پکار مچ گئی ۔ اسٹیشن آنے اور جانے کا راستہ بند ہو گیا۔

  • قابل ذکر ہے کہ زیر تعمیر پل کے منہدم ہو جانے سے 18 لوگوں کے جان چلی گئی جبکہ کئی زخمی بتائے جا رہے ہیں  ۔ حادثہ کی وجہ لاپروئی اور انتظامیہ کی غلطی بھی ہے ۔

    قابل ذکر ہے کہ زیر تعمیر پل کے منہدم ہو جانے سے 18 لوگوں کے جان چلی گئی جبکہ کئی زخمی بتائے جا رہے ہیں ۔ حادثہ کی وجہ لاپروئی اور انتظامیہ کی غلطی بھی ہے ۔

  • حادثہ کے بعد مقامی لوگ مدد کے لئے سب سے پہلے آگے آئے ۔ حادثہ میں 50 سے زیادہ لوگوں کےزخمی ہونے کا امکان ہے۔

    حادثہ کے بعد مقامی لوگ مدد کے لئے سب سے پہلے آگے آئے ۔ حادثہ میں 50 سے زیادہ لوگوں کےزخمی ہونے کا امکان ہے۔

  • حادثہ کے بعد مقامی لوگ مدد کے لئے سب سے پہلے آگے آئے ۔ حادثہ میں 50 سے زیادہ لوگوں کےزخمی ہونے کا امکان ہے۔

    حادثہ کے بعد مقامی لوگ مدد کے لئے سب سے پہلے آگے آئے ۔ حادثہ میں 50 سے زیادہ لوگوں کےزخمی ہونے کا امکان ہے۔

  • یوپی پولیس ، فوج، این ڈی آر ایف کے جوا ن زخمیوں کو ملبے سے نکالنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

    یوپی پولیس ، فوج، این ڈی آر ایف کے جوا ن زخمیوں کو ملبے سے نکالنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

  • اکھیلیش حکومت میں 1 اکتوبر 2015 کو چوکا گھاٹ سے لہرتارا پل کے توسیع کی سنگ بنیاد اور تعمیر شروع کی تھی۔ تب سے لے کر آج تک اس پل کی تعمیر تنازعہ میں ہے۔

    اکھیلیش حکومت میں 1 اکتوبر 2015 کو چوکا گھاٹ سے لہرتارا پل کے توسیع کی سنگ بنیاد اور تعمیر شروع کی تھی۔ تب سے لے کر آج تک اس پل کی تعمیر تنازعہ میں ہے۔

  • پل کی تعمیر کا کام مارچ 2019 میں پورا ہو نا تھا ، لیکن ایک بارپھر افسران نے گاڑیوں کے دباو کا حوالہ دے کر اکتوبر 2019تک کام کو مکمل کرنے کا وقت طلب کیا ۔

    پل کی تعمیر کا کام مارچ 2019 میں پورا ہو نا تھا ، لیکن ایک بارپھر افسران نے گاڑیوں کے دباو کا حوالہ دے کر اکتوبر 2019تک کام کو مکمل کرنے کا وقت طلب کیا ۔

  • ہر وقت اس سڑک پر آمد رفت کے باوجود پل کی تعمیر کےدرمیان نہ تو راستہ ڈائورٹ کیا گیا اور نہ ہی تحفظ کے معیار کا خیال کیا گیا۔

    ہر وقت اس سڑک پر آمد رفت کے باوجود پل کی تعمیر کےدرمیان نہ تو راستہ ڈائورٹ کیا گیا اور نہ ہی تحفظ کے معیار کا خیال کیا گیا۔

  • مقرر وقت میں کام پورا کرنے کا پریشر ہے ۔ گاڑیوں کو ڈاورٹ کرنے کے لئے کئی بار ضلع انتظامیہ اور ٹرافک محکمہ سے لے کر ٹرافک پولیس سے کہا گیا ۔

    مقرر وقت میں کام پورا کرنے کا پریشر ہے ۔ گاڑیوں کو ڈاورٹ کرنے کے لئے کئی بار ضلع انتظامیہ اور ٹرافک محکمہ سے لے کر ٹرافک پولیس سے کہا گیا ۔

  • مقرر وقت میں کام پورا کرنے کا پریشر ہے ۔ گاڑیوں کو ڈاورٹ کرنے کے لئے کئی بار ضلع انتظامیہ اور ٹرافک محکمہ سے لے کر ٹرافک پولیس سے کہا گیا ۔

    مقرر وقت میں کام پورا کرنے کا پریشر ہے ۔ گاڑیوں کو ڈاورٹ کرنے کے لئے کئی بار ضلع انتظامیہ اور ٹرافک محکمہ سے لے کر ٹرافک پولیس سے کہا گیا ۔

  • مذکورہ پل پروجکٹ 77.41 کروڑ روپئے کا ہے ، جس کے اندر 63 کھمبے بنانے ہیں لیکن قریب 3 ماہ کے بعد بھی پل کی زیر تعمیر کے تحت محض 45 کھمبے ہی تیا ر ہو سکےہیں۔

    مذکورہ پل پروجکٹ 77.41 کروڑ روپئے کا ہے ، جس کے اندر 63 کھمبے بنانے ہیں لیکن قریب 3 ماہ کے بعد بھی پل کی زیر تعمیر کے تحت محض 45 کھمبے ہی تیا ر ہو سکےہیں۔

  • پل کا ایک حصہ وہاں سے گزر رہی، ایک بس پر اور کئی گاڑیوں کے اوپر گر گیا۔ یہ واقع شہر کی سب سے اہم سڑ ک پر پیش آیا ۔ حادثہ کے بعد ہر طرح چیخ پکار مچ گئی ۔ اسٹیشن آنے اور جانے کا راستہ بند ہو گیا۔
  • قابل ذکر ہے کہ زیر تعمیر پل کے منہدم ہو جانے سے 18 لوگوں کے جان چلی گئی جبکہ کئی زخمی بتائے جا رہے ہیں  ۔ حادثہ کی وجہ لاپروئی اور انتظامیہ کی غلطی بھی ہے ۔
  • حادثہ کے بعد مقامی لوگ مدد کے لئے سب سے پہلے آگے آئے ۔ حادثہ میں 50 سے زیادہ لوگوں کےزخمی ہونے کا امکان ہے۔
  • حادثہ کے بعد مقامی لوگ مدد کے لئے سب سے پہلے آگے آئے ۔ حادثہ میں 50 سے زیادہ لوگوں کےزخمی ہونے کا امکان ہے۔
  • یوپی پولیس ، فوج، این ڈی آر ایف کے جوا ن زخمیوں کو ملبے سے نکالنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
  • اکھیلیش حکومت میں 1 اکتوبر 2015 کو چوکا گھاٹ سے لہرتارا پل کے توسیع کی سنگ بنیاد اور تعمیر شروع کی تھی۔ تب سے لے کر آج تک اس پل کی تعمیر تنازعہ میں ہے۔
  • پل کی تعمیر کا کام مارچ 2019 میں پورا ہو نا تھا ، لیکن ایک بارپھر افسران نے گاڑیوں کے دباو کا حوالہ دے کر اکتوبر 2019تک کام کو مکمل کرنے کا وقت طلب کیا ۔
  • ہر وقت اس سڑک پر آمد رفت کے باوجود پل کی تعمیر کےدرمیان نہ تو راستہ ڈائورٹ کیا گیا اور نہ ہی تحفظ کے معیار کا خیال کیا گیا۔
  • مقرر وقت میں کام پورا کرنے کا پریشر ہے ۔ گاڑیوں کو ڈاورٹ کرنے کے لئے کئی بار ضلع انتظامیہ اور ٹرافک محکمہ سے لے کر ٹرافک پولیس سے کہا گیا ۔
  • مقرر وقت میں کام پورا کرنے کا پریشر ہے ۔ گاڑیوں کو ڈاورٹ کرنے کے لئے کئی بار ضلع انتظامیہ اور ٹرافک محکمہ سے لے کر ٹرافک پولیس سے کہا گیا ۔
  • مذکورہ پل پروجکٹ 77.41 کروڑ روپئے کا ہے ، جس کے اندر 63 کھمبے بنانے ہیں لیکن قریب 3 ماہ کے بعد بھی پل کی زیر تعمیر کے تحت محض 45 کھمبے ہی تیا ر ہو سکےہیں۔

تازہ ترین تصاویر