الہ آباد: سلم بستیوں میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے کی مہم زوروں پر

Oct 20, 2017 09:36 PM IST
1 of 10
  • اترپردیش میں مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع  سلم ایریا  میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کو شر پسندوں کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سلم ایریا میں رہنے والے بہاریوں کو غیر ملکی قرار دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ سلم ایریا میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کے پاس آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی جیسے قانونی دستا ویزات موجود ہیں ۔

    اترپردیش میں مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع سلم ایریا میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کو شر پسندوں کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سلم ایریا میں رہنے والے بہاریوں کو غیر ملکی قرار دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ سلم ایریا میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کے پاس آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی جیسے قانونی دستا ویزات موجود ہیں ۔

  • بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی قومیت پر سوال کھڑا کرکے ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

    بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی قومیت پر سوال کھڑا کرکے ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

  • الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع سلم بستیوں میں بہار، جھار کھنڈ اور بنگال سے تعلق رکھنے والے غریب افراد بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔ شہر کے بعض سلم علاقوں میں تو لوگ تیس تیس سال سے آباد ہیں ۔

    الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع سلم بستیوں میں بہار، جھار کھنڈ اور بنگال سے تعلق رکھنے والے غریب افراد بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔ شہر کے بعض سلم علاقوں میں تو لوگ تیس تیس سال سے آباد ہیں ۔

  • ان سلم میں رہنے والے لوگوں کے پاس ووٹر آئی ڈی کے علاوہ آدھار کارڈ اور راشن کا ر جیسے بنیادی قانونی دستا ویزات بھی موجود ہیں ۔

    ان سلم میں رہنے والے لوگوں کے پاس ووٹر آئی ڈی کے علاوہ آدھار کارڈ اور راشن کا ر جیسے بنیادی قانونی دستا ویزات بھی موجود ہیں ۔

  •  لیکن گذشتہ چند مہینوں سے بعض شرپسند عناصر کی طرف سے ا ن کو بنگلہ دیشی قرار دینے اور ان کو ملک کی سالمیت کے لئے خطر بتانے کی مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ اس صورت حال سے سلم میں رہنے والے افراد میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔

    لیکن گذشتہ چند مہینوں سے بعض شرپسند عناصر کی طرف سے ا ن کو بنگلہ دیشی قرار دینے اور ان کو ملک کی سالمیت کے لئے خطر بتانے کی مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ اس صورت حال سے سلم میں رہنے والے افراد میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔

  • سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں افواہیں اڑائی جا رہی ہیں ہے کہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور یہ لوگ سماج میں دہشت گردی کو بڑھا وا دے رہے ہیں ۔

    سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں افواہیں اڑائی جا رہی ہیں ہے کہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور یہ لوگ سماج میں دہشت گردی کو بڑھا وا دے رہے ہیں ۔

  •  قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے بھی اس طرح کی افواہ اڑانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ یہی نہیں مقامی انتظامیہ نے اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے بھی اس طرح کی افواہ اڑانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ یہی نہیں مقامی انتظامیہ نے اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

  • سلم ایریا میں رہنے والے بہاریوں کا کہنا ہے کہ حکومت جب چاہے کہ ان کی جانچ کرا سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جانچ میں کوئی غیر ملکی نکلے ، تو حکومت ان کو ملک بدر کر سکتی ہے ۔

    سلم ایریا میں رہنے والے بہاریوں کا کہنا ہے کہ حکومت جب چاہے کہ ان کی جانچ کرا سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جانچ میں کوئی غیر ملکی نکلے ، تو حکومت ان کو ملک بدر کر سکتی ہے ۔

  • سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں میں اس بات کو لے کر سخت ناراضگی ہے کہ ان کی شہریت کےقا نونی دستاویزات ہونے کے با وجود ان کو غیر ملکی کہا جا رہا ہے

    سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں میں اس بات کو لے کر سخت ناراضگی ہے کہ ان کی شہریت کےقا نونی دستاویزات ہونے کے با وجود ان کو غیر ملکی کہا جا رہا ہے

  •  ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کے وقت لیڈران ان کے ووٹ تو حاصل کر لیتے ہیں ، لیکن جب ان کو غیر ملکی کہہ کر بد نام کیا جاتا ہے اوران کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کہی جا تی ہے تو سیاسی لیڈارن خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔(رپورٹ اور تصاویر : مشتاق عامر)۔

    ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کے وقت لیڈران ان کے ووٹ تو حاصل کر لیتے ہیں ، لیکن جب ان کو غیر ملکی کہہ کر بد نام کیا جاتا ہے اوران کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کہی جا تی ہے تو سیاسی لیڈارن خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔(رپورٹ اور تصاویر : مشتاق عامر)۔

  • بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی قومیت پر سوال کھڑا کرکے ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
  • الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع سلم بستیوں میں بہار، جھار کھنڈ اور بنگال سے تعلق رکھنے والے غریب افراد بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔ شہر کے بعض سلم علاقوں میں تو لوگ تیس تیس سال سے آباد ہیں ۔
  • ان سلم میں رہنے والے لوگوں کے پاس ووٹر آئی ڈی کے علاوہ آدھار کارڈ اور راشن کا ر جیسے بنیادی قانونی دستا ویزات بھی موجود ہیں ۔
  •  لیکن گذشتہ چند مہینوں سے بعض شرپسند عناصر کی طرف سے ا ن کو بنگلہ دیشی قرار دینے اور ان کو ملک کی سالمیت کے لئے خطر بتانے کی مہم سی چلی ہوئی ہے ۔ اس صورت حال سے سلم میں رہنے والے افراد میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔
  • سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں افواہیں اڑائی جا رہی ہیں ہے کہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور یہ لوگ سماج میں دہشت گردی کو بڑھا وا دے رہے ہیں ۔
  •  قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے بھی اس طرح کی افواہ اڑانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ یہی نہیں مقامی انتظامیہ نے اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔
  • سلم ایریا میں رہنے والے بہاریوں کا کہنا ہے کہ حکومت جب چاہے کہ ان کی جانچ کرا سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جانچ میں کوئی غیر ملکی نکلے ، تو حکومت ان کو ملک بدر کر سکتی ہے ۔
  • سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں میں اس بات کو لے کر سخت ناراضگی ہے کہ ان کی شہریت کےقا نونی دستاویزات ہونے کے با وجود ان کو غیر ملکی کہا جا رہا ہے
  •  ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کے وقت لیڈران ان کے ووٹ تو حاصل کر لیتے ہیں ، لیکن جب ان کو غیر ملکی کہہ کر بد نام کیا جاتا ہے اوران کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کہی جا تی ہے تو سیاسی لیڈارن خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔(رپورٹ اور تصاویر : مشتاق عامر)۔

تازہ ترین تصاویر