ریلوے ڈرائیور بننا چاہتے تھے اوم پوری ، جانئے کیسے پہنچ گئے فلمی دنیا میں

Jan 06, 2017 12:09 PM IST
1 of 13
  •  بالی ووڈ میں اپنی بااثر اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے اوم پوری نے تقریباً تین دہائیوں سے فلمی مداحوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہے، لیکن کچھ ہی لوگوں کومعلوم ہے کہ وہ اداکار نہیں بلکہ ریلوے کے ڈرائیور بننا چاہتے تھے۔

    بالی ووڈ میں اپنی بااثر اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی سے اوم پوری نے تقریباً تین دہائیوں سے فلمی مداحوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہے، لیکن کچھ ہی لوگوں کومعلوم ہے کہ وہ اداکار نہیں بلکہ ریلوے کے ڈرائیور بننا چاہتے تھے۔

  •  ہریانہ کے انبالہ میں  18 اکتوبر 1950 کوپیدا ہوئے اوم پوری کا بچپن بہت پریشانی میں گزرا۔ خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انہیں ایک ڈھابے میں نوکری تک کرنی پڑی تھی، لیکن کچھ دنوں کے بعد ڈھابے کے مالک نےان پر چوری کا الزام لگا کر ہٹا دیا۔

    ہریانہ کے انبالہ میں 18 اکتوبر 1950 کوپیدا ہوئے اوم پوری کا بچپن بہت پریشانی میں گزرا۔ خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انہیں ایک ڈھابے میں نوکری تک کرنی پڑی تھی، لیکن کچھ دنوں کے بعد ڈھابے کے مالک نےان پر چوری کا الزام لگا کر ہٹا دیا۔

  •  بچپن میں اوم پوری جس مکان میں رہتے تھے اس کے پیچھے ایک ریلوے یارڈ تھا۔ رات کے وقت اوم پوری اکثر گھر سے بھاگ کر ریلوے یارڈ میں کھڑی کسی ٹرین میں سونے چلے جاتے تھے۔ ان دنوں انہیں ٹرینوں سے کافی لگاؤ ​​تھا اور وہ بڑے ہو کر ریلوے ڈرائیور بننا چاهتے تھے۔

    بچپن میں اوم پوری جس مکان میں رہتے تھے اس کے پیچھے ایک ریلوے یارڈ تھا۔ رات کے وقت اوم پوری اکثر گھر سے بھاگ کر ریلوے یارڈ میں کھڑی کسی ٹرین میں سونے چلے جاتے تھے۔ ان دنوں انہیں ٹرینوں سے کافی لگاؤ ​​تھا اور وہ بڑے ہو کر ریلوے ڈرائیور بننا چاهتے تھے۔

  • کچھ وقت کے بعد اوم پوری اپنی ننہال پنجاب کے پٹیالہ شہر چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ اس دوران ان کا رجحان اداکاری کی طرف ہو گیا اور وہ ڈرامے میں حصہ لینے لگے۔ اس کے بعد اوم پوری نے خالصہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس دوران اوم پوری ایک وکیل کے یہاں بطور منشی کام کرنے لگے۔

    کچھ وقت کے بعد اوم پوری اپنی ننہال پنجاب کے پٹیالہ شہر چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ اس دوران ان کا رجحان اداکاری کی طرف ہو گیا اور وہ ڈرامے میں حصہ لینے لگے۔ اس کے بعد اوم پوری نے خالصہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس دوران اوم پوری ایک وکیل کے یہاں بطور منشی کام کرنے لگے۔

  • اس درمیان ایک بار ڈرامہ میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ وکیل کے یہاں کام پر نہیں گئے، اسی وجہ سے وکیل نے ناراض ہو کر انہیں نوکری سے ہٹا دیا. جب اس بات کا پتہ کالج کے پرنسپل کو چلا تو انہوں نے اوم پوری کو کیمسٹری لیب میں اسسٹنٹ کی نوکری دے دی۔ اس دوران اوم پوری کالج میں چل رہے ڈرامے میں حصہ لیتے رہے. یہاں ان کی ملاقات ہرپال اور نینا توانا سے ہوئی جن کے تعاون سے وہ پنجاب اسٹیج تھیٹر سے جڑ گئے۔

    اس درمیان ایک بار ڈرامہ میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ وکیل کے یہاں کام پر نہیں گئے، اسی وجہ سے وکیل نے ناراض ہو کر انہیں نوکری سے ہٹا دیا. جب اس بات کا پتہ کالج کے پرنسپل کو چلا تو انہوں نے اوم پوری کو کیمسٹری لیب میں اسسٹنٹ کی نوکری دے دی۔ اس دوران اوم پوری کالج میں چل رہے ڈرامے میں حصہ لیتے رہے. یہاں ان کی ملاقات ہرپال اور نینا توانا سے ہوئی جن کے تعاون سے وہ پنجاب اسٹیج تھیٹر سے جڑ گئے۔

  • تقریبا تین سال بعد اوم پوری نے دہلی میں نیشنل تھیٹر اسکول میں داخلہ لے لیا. اس کے بعد اداکار بننے کا خواب لے کر انہوں نے پنے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ سال 1976 میں پنے فلم انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اوم پوری نے تقریبا ڈیڑھ سال تک ایک اسٹوڈيو¨ میں اداکاری کی تعلیم بھی دی. بعد میں اوم پوری نے اپنے ذاتی تھیٹر گروپ 'مجمع  کے نام سے قائم کیا۔

    تقریبا تین سال بعد اوم پوری نے دہلی میں نیشنل تھیٹر اسکول میں داخلہ لے لیا. اس کے بعد اداکار بننے کا خواب لے کر انہوں نے پنے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ سال 1976 میں پنے فلم انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اوم پوری نے تقریبا ڈیڑھ سال تک ایک اسٹوڈيو¨ میں اداکاری کی تعلیم بھی دی. بعد میں اوم پوری نے اپنے ذاتی تھیٹر گروپ 'مجمع کے نام سے قائم کیا۔

  • اوم پوری نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سال 1976 میں آئی فلم 'گھاسي رام کوتوال  سے کی۔ مراٹھی ڈرامہ پر بنی اس فلم میں اوم پوری نے گھاسي رام کا کردار نبھایا تھا. اس کے بعد اوم پوری نے گودھولی، بھومیکا، بھوک، شاید، ساچن کو آنچ نہیں، جیسی آرٹ فلموں میں اداکاری کی لیکن اس سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔

    اوم پوری نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سال 1976 میں آئی فلم 'گھاسي رام کوتوال سے کی۔ مراٹھی ڈرامہ پر بنی اس فلم میں اوم پوری نے گھاسي رام کا کردار نبھایا تھا. اس کے بعد اوم پوری نے گودھولی، بھومیکا، بھوک، شاید، ساچن کو آنچ نہیں، جیسی آرٹ فلموں میں اداکاری کی لیکن اس سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔

  • سال 1980 میں آئی فلم 'آکروش  اوم پوری کے فلمی کیریئر کی پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ گووند نہلانی کی ہدایت میں اس فلم میں اوم پوری نے ایک ایسے شخص کا کردار نبھایا جس پر بیوی کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔ فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے اوم پوری بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا کئے گئے۔

    سال 1980 میں آئی فلم 'آکروش اوم پوری کے فلمی کیریئر کی پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ گووند نہلانی کی ہدایت میں اس فلم میں اوم پوری نے ایک ایسے شخص کا کردار نبھایا جس پر بیوی کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔ فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے اوم پوری بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا کئے گئے۔

  • سال 1983 میں آئی فلم 'اردھ ستيہ ' اوم پوری کے فلمی کیریئر کی اہم فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فلم میں اوم پوری نے ایک پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں اپنے باغیانہ تیور کی وجہ اوم پوری نے مداحوں کے درمیان بے پناہ ستائش حاصل کی۔ فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین اداکار کے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا کئے گئے۔

    سال 1983 میں آئی فلم 'اردھ ستيہ ' اوم پوری کے فلمی کیریئر کی اہم فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فلم میں اوم پوری نے ایک پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں اپنے باغیانہ تیور کی وجہ اوم پوری نے مداحوں کے درمیان بے پناہ ستائش حاصل کی۔ فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین اداکار کے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا کئے گئے۔

  • اسّی کی دہائی کے آخری برسوں میں اوم پوری نے کا سنیما کی طرف بھی اپنا رخ کر لیا. ہندی فلموں کے علاوہ اوم پوری نے پنجابی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے. ناظرین کی پسند کو ذہن میں رکھتے ہوئے نوے کےدہائی میں اوم پوری نے چھوٹے پردے کی طرف بھی رخ کیا اور 'كككاجي كهن  میں اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو دیوانہ بنا دیا۔

    اسّی کی دہائی کے آخری برسوں میں اوم پوری نے کا سنیما کی طرف بھی اپنا رخ کر لیا. ہندی فلموں کے علاوہ اوم پوری نے پنجابی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے. ناظرین کی پسند کو ذہن میں رکھتے ہوئے نوے کےدہائی میں اوم پوری نے چھوٹے پردے کی طرف بھی رخ کیا اور 'كككاجي كهن میں اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو دیوانہ بنا دیا۔

  • اوم پوری نے اپنے کیریئر میں کئی ہالی ووڈ فلموں میں بھی اداکاری کی ہے۔ ان فلموں میں 'ایسٹ از ایسٹ ، 'مائی سن دی فونیٹک '، 'دی پیرول آفیسر ، 'سٹی آف جوائے ، 'وولف ، 'دی گھوسٹ اینڈ دی ڈاركنیس ، 'چارلی ولسن وار  جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ہندوستانی سنیما میں ان کی بے پناہ خدمات کو دیکھتے ہوئے 1990 میں انہیں پدمشري کے اعزاز سے نوازا گیا۔

    اوم پوری نے اپنے کیریئر میں کئی ہالی ووڈ فلموں میں بھی اداکاری کی ہے۔ ان فلموں میں 'ایسٹ از ایسٹ ، 'مائی سن دی فونیٹک '، 'دی پیرول آفیسر ، 'سٹی آف جوائے ، 'وولف ، 'دی گھوسٹ اینڈ دی ڈاركنیس ، 'چارلی ولسن وار جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ہندوستانی سنیما میں ان کی بے پناہ خدمات کو دیکھتے ہوئے 1990 میں انہیں پدمشري کے اعزاز سے نوازا گیا۔

  • اوم پوری نے اپنے چار دہائی طویل فلمی کیریئر میں تقریبا 200 فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی آخری بڑی فلموں میں 'بجرنگی بھائی جان  اور 'گھائل ونس اگین  جیسی فلمیں شامل ہے۔

    اوم پوری نے اپنے چار دہائی طویل فلمی کیریئر میں تقریبا 200 فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی آخری بڑی فلموں میں 'بجرنگی بھائی جان اور 'گھائل ونس اگین جیسی فلمیں شامل ہے۔

  • حال ہی میں اوم پوری فوج پر دیے گئے بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے تھے۔ ایک ٹی وی ڈبیٹ شو کے دوران اوم پوری نے کہا تھا کہ شہیدوں سے کس نے کہا تھا کہ فوج میں بھرتی هوں جس كے بعد ان کے خلاف کیس تک درج کیا گیا تھا۔ بیان دینے کے بعد اوم پوری کو افسوس ہوا اور بارہمولہ دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے نتن یادو کے گھر اہل خانہ سے ملاقات کے دوران وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔

    حال ہی میں اوم پوری فوج پر دیے گئے بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے تھے۔ ایک ٹی وی ڈبیٹ شو کے دوران اوم پوری نے کہا تھا کہ شہیدوں سے کس نے کہا تھا کہ فوج میں بھرتی هوں جس كے بعد ان کے خلاف کیس تک درج کیا گیا تھا۔ بیان دینے کے بعد اوم پوری کو افسوس ہوا اور بارہمولہ دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے نتن یادو کے گھر اہل خانہ سے ملاقات کے دوران وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔

  •  ہریانہ کے انبالہ میں  18 اکتوبر 1950 کوپیدا ہوئے اوم پوری کا بچپن بہت پریشانی میں گزرا۔ خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انہیں ایک ڈھابے میں نوکری تک کرنی پڑی تھی، لیکن کچھ دنوں کے بعد ڈھابے کے مالک نےان پر چوری کا الزام لگا کر ہٹا دیا۔
  •  بچپن میں اوم پوری جس مکان میں رہتے تھے اس کے پیچھے ایک ریلوے یارڈ تھا۔ رات کے وقت اوم پوری اکثر گھر سے بھاگ کر ریلوے یارڈ میں کھڑی کسی ٹرین میں سونے چلے جاتے تھے۔ ان دنوں انہیں ٹرینوں سے کافی لگاؤ ​​تھا اور وہ بڑے ہو کر ریلوے ڈرائیور بننا چاهتے تھے۔
  • کچھ وقت کے بعد اوم پوری اپنی ننہال پنجاب کے پٹیالہ شہر چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ اس دوران ان کا رجحان اداکاری کی طرف ہو گیا اور وہ ڈرامے میں حصہ لینے لگے۔ اس کے بعد اوم پوری نے خالصہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس دوران اوم پوری ایک وکیل کے یہاں بطور منشی کام کرنے لگے۔
  • اس درمیان ایک بار ڈرامہ میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ وکیل کے یہاں کام پر نہیں گئے، اسی وجہ سے وکیل نے ناراض ہو کر انہیں نوکری سے ہٹا دیا. جب اس بات کا پتہ کالج کے پرنسپل کو چلا تو انہوں نے اوم پوری کو کیمسٹری لیب میں اسسٹنٹ کی نوکری دے دی۔ اس دوران اوم پوری کالج میں چل رہے ڈرامے میں حصہ لیتے رہے. یہاں ان کی ملاقات ہرپال اور نینا توانا سے ہوئی جن کے تعاون سے وہ پنجاب اسٹیج تھیٹر سے جڑ گئے۔
  • تقریبا تین سال بعد اوم پوری نے دہلی میں نیشنل تھیٹر اسکول میں داخلہ لے لیا. اس کے بعد اداکار بننے کا خواب لے کر انہوں نے پنے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ سال 1976 میں پنے فلم انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اوم پوری نے تقریبا ڈیڑھ سال تک ایک اسٹوڈيو¨ میں اداکاری کی تعلیم بھی دی. بعد میں اوم پوری نے اپنے ذاتی تھیٹر گروپ 'مجمع  کے نام سے قائم کیا۔
  • اوم پوری نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سال 1976 میں آئی فلم 'گھاسي رام کوتوال  سے کی۔ مراٹھی ڈرامہ پر بنی اس فلم میں اوم پوری نے گھاسي رام کا کردار نبھایا تھا. اس کے بعد اوم پوری نے گودھولی، بھومیکا، بھوک، شاید، ساچن کو آنچ نہیں، جیسی آرٹ فلموں میں اداکاری کی لیکن اس سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔
  • سال 1980 میں آئی فلم 'آکروش  اوم پوری کے فلمی کیریئر کی پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ گووند نہلانی کی ہدایت میں اس فلم میں اوم پوری نے ایک ایسے شخص کا کردار نبھایا جس پر بیوی کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔ فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے اوم پوری بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا کئے گئے۔
  • سال 1983 میں آئی فلم 'اردھ ستيہ ' اوم پوری کے فلمی کیریئر کی اہم فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فلم میں اوم پوری نے ایک پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں اپنے باغیانہ تیور کی وجہ اوم پوری نے مداحوں کے درمیان بے پناہ ستائش حاصل کی۔ فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین اداکار کے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا کئے گئے۔
  • اسّی کی دہائی کے آخری برسوں میں اوم پوری نے کا سنیما کی طرف بھی اپنا رخ کر لیا. ہندی فلموں کے علاوہ اوم پوری نے پنجابی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے. ناظرین کی پسند کو ذہن میں رکھتے ہوئے نوے کےدہائی میں اوم پوری نے چھوٹے پردے کی طرف بھی رخ کیا اور 'كككاجي كهن  میں اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو دیوانہ بنا دیا۔
  • اوم پوری نے اپنے کیریئر میں کئی ہالی ووڈ فلموں میں بھی اداکاری کی ہے۔ ان فلموں میں 'ایسٹ از ایسٹ ، 'مائی سن دی فونیٹک '، 'دی پیرول آفیسر ، 'سٹی آف جوائے ، 'وولف ، 'دی گھوسٹ اینڈ دی ڈاركنیس ، 'چارلی ولسن وار  جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ہندوستانی سنیما میں ان کی بے پناہ خدمات کو دیکھتے ہوئے 1990 میں انہیں پدمشري کے اعزاز سے نوازا گیا۔
  • اوم پوری نے اپنے چار دہائی طویل فلمی کیریئر میں تقریبا 200 فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی آخری بڑی فلموں میں 'بجرنگی بھائی جان  اور 'گھائل ونس اگین  جیسی فلمیں شامل ہے۔
  • حال ہی میں اوم پوری فوج پر دیے گئے بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے تھے۔ ایک ٹی وی ڈبیٹ شو کے دوران اوم پوری نے کہا تھا کہ شہیدوں سے کس نے کہا تھا کہ فوج میں بھرتی هوں جس كے بعد ان کے خلاف کیس تک درج کیا گیا تھا۔ بیان دینے کے بعد اوم پوری کو افسوس ہوا اور بارہمولہ دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے نتن یادو کے گھر اہل خانہ سے ملاقات کے دوران وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔

تازہ ترین تصاویر