کبھی بیٹی کے جوتے خریدنے کو پیسے نہیں تھے،آج شو بزنس سے کر رہی ہیں موٹی کمائی

Jun 20, 2018 10:02 AM IST
1 of 7
  • کبھی کبھی لوگ بہت جلد ہار مان لیتے ہیں۔لیکن زندگی ہارنے نہیں دیتی جیتنے کانام ہے۔آج ہم جس خاتون کیکہانی بیان کر رہے ہیں ،ان کے پاس کبھی اپنی بیٹی کے جوتے خریدنے تک کیلئے پیسے  نہیں تھے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج کرتی ہیں بڑی بڑی کمپنیوں کو جوتے ایکسپورٹ ۔

    کبھی کبھی لوگ بہت جلد ہار مان لیتے ہیں۔لیکن زندگی ہارنے نہیں دیتی جیتنے کانام ہے۔آج ہم جس خاتون کیکہانی بیان کر رہے ہیں ،ان کے پاس کبھی اپنی بیٹی کے جوتے خریدنے تک کیلئے پیسے  نہیں تھے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج کرتی ہیں بڑی بڑی کمپنیوں کو جوتے ایکسپورٹ ۔

  •  یہ کہانی ہے موئی رانگ تھیم دیوی مکتا منی دیوی کی ،جو اپنی بیٹی کیلئے جوتے نہیں خرید پانے کی وجہ سے اون کے جوتے بننے کا کام شروع کرکیا۔مکتا منی آج منی پور کی مشہور جوتا تاجر بن گئی ہیں۔وہ جوتوں کا کافی بڑا کاروبار چلاتی ہیں،۔

    یہ کہانی ہے موئی رانگ تھیم دیوی مکتا منی دیوی کی ،جو اپنی بیٹی کیلئے جوتے نہیں خرید پانے کی وجہ سے اون کے جوتے بننے کا کام شروع کرکیا۔مکتا منی آج منی پور کی مشہور جوتا تاجر بن گئی ہیں۔وہ جوتوں کا کافی بڑا کاروبار چلاتی ہیں،۔

  • مکتا منی کی پیدائش دسمبر 1958 میں ہوئی تھی اور انہیں ان کی بیو ہ ماں نے پرورش کرکے بڑا کیا۔جب وہ 17 سال کی تھیں تب ان کی شادی ہو گئی۔مکتا منی کے چار بچے ہیں بچوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے مکتامنی دن میں کھیتوں میںکام کرتیں اور شام کو گھر کی بنی ہوئی کھاد سامگری بیچتی تھیں۔بنائی فنکاری میں ماہر مکتا منی رات میں بیگس اور بالوں میں ڈالنے والے بینڈ بناکر پیسے کما لیتی تھیں۔

    مکتا منی کی پیدائش دسمبر 1958 میں ہوئی تھی اور انہیں ان کی بیو ہ ماں نے پرورش کرکے بڑا کیا۔جب وہ 17 سال کی تھیں تب ان کی شادی ہو گئی۔مکتا منی کے چار بچے ہیں بچوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے مکتامنی دن میں کھیتوں میںکام کرتیں اور شام کو گھر کی بنی ہوئی کھاد سامگری بیچتی تھیں۔بنائی فنکاری میں ماہر مکتا منی رات میں بیگس اور بالوں میں ڈالنے والے بینڈ بناکر پیسے کما لیتی تھیں۔

  •  جب ان کی بیٹی نے مکتا منی کے بنائے ہوئے جوتے اسکول پہن کر گئی تو ٹیچر نےدرخواست کی کہ وہ ان کے بچے کیلئے بھی ویسا ہی جوتا لیکر آئیں۔یہیں سے شروع ہوا مکتا منی اینٹر پرینیور کا سفر۔

    جب ان کی بیٹی نے مکتا منی کے بنائے ہوئے جوتے اسکول پہن کر گئی تو ٹیچر نےدرخواست کی کہ وہ ان کے بچے کیلئے بھی ویسا ہی جوتا لیکر آئیں۔یہیں سے شروع ہوا مکتا منی اینٹر پرینیور کا سفر۔

  • مکتا شوز کا قیام 1990 میں ہوا۔آج ہاتھوں سے بنے ان جوتوں کو بہت سے ممالک جیسے آسٹریلیا،یونائیٹیڈ، میکسیکو اور کچھ افریقی ملکوں میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

    مکتا شوز کا قیام 1990 میں ہوا۔آج ہاتھوں سے بنے ان جوتوں کو بہت سے ممالک جیسے آسٹریلیا،یونائیٹیڈ، میکسیکو اور کچھ افریقی ملکوں میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

  • مکتا منی آج 1000 لوگوں کو ٹریننگ دے رہی ہیں ۔انکی جوتوںکی فیکٹری مکتا انڈسٹری مین خواتین ،مردوں اور بچوں کیلئے دستکاری جوتے اور سینڈلس بنائے جاتے ہیں۔ان کی قیمت 200 روپئے سے 800 روپئے تک ہوتی ہے۔ان جوتوں اور سینڈلس کی صرف ہندستان میں ہی نہیں ملک بھر میں مانگ ہے۔

    مکتا منی آج 1000 لوگوں کو ٹریننگ دے رہی ہیں ۔انکی جوتوںکی فیکٹری مکتا انڈسٹری مین خواتین ،مردوں اور بچوں کیلئے دستکاری جوتے اور سینڈلس بنائے جاتے ہیں۔ان کی قیمت 200 روپئے سے 800 روپئے تک ہوتی ہے۔ان جوتوں اور سینڈلس کی صرف ہندستان میں ہی نہیں ملک بھر میں مانگ ہے۔

  • مکتا منی کو مل چکا ہے یہ ایوارڈ : نیشنل انشیورینس اور ٹیلیگراف کی میزبانی میں کئے  گئے پروگرام ٹو لیجینڈس سے نوازاگیا اور انہوں نے اپنا اعزاز ملک کی خواتین کے نام وقف کر دیا۔

    مکتا منی کو مل چکا ہے یہ ایوارڈ : نیشنل انشیورینس اور ٹیلیگراف کی میزبانی میں کئے گئے پروگرام ٹو لیجینڈس سے نوازاگیا اور انہوں نے اپنا اعزاز ملک کی خواتین کے نام وقف کر دیا۔

  •  یہ کہانی ہے موئی رانگ تھیم دیوی مکتا منی دیوی کی ،جو اپنی بیٹی کیلئے جوتے نہیں خرید پانے کی وجہ سے اون کے جوتے بننے کا کام شروع کرکیا۔مکتا منی آج منی پور کی مشہور جوتا تاجر بن گئی ہیں۔وہ جوتوں کا کافی بڑا کاروبار چلاتی ہیں،۔
  • مکتا منی کی پیدائش دسمبر 1958 میں ہوئی تھی اور انہیں ان کی بیو ہ ماں نے پرورش کرکے بڑا کیا۔جب وہ 17 سال کی تھیں تب ان کی شادی ہو گئی۔مکتا منی کے چار بچے ہیں بچوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے مکتامنی دن میں کھیتوں میںکام کرتیں اور شام کو گھر کی بنی ہوئی کھاد سامگری بیچتی تھیں۔بنائی فنکاری میں ماہر مکتا منی رات میں بیگس اور بالوں میں ڈالنے والے بینڈ بناکر پیسے کما لیتی تھیں۔
  •  جب ان کی بیٹی نے مکتا منی کے بنائے ہوئے جوتے اسکول پہن کر گئی تو ٹیچر نےدرخواست کی کہ وہ ان کے بچے کیلئے بھی ویسا ہی جوتا لیکر آئیں۔یہیں سے شروع ہوا مکتا منی اینٹر پرینیور کا سفر۔
  • مکتا شوز کا قیام 1990 میں ہوا۔آج ہاتھوں سے بنے ان جوتوں کو بہت سے ممالک جیسے آسٹریلیا،یونائیٹیڈ، میکسیکو اور کچھ افریقی ملکوں میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔
  • مکتا منی آج 1000 لوگوں کو ٹریننگ دے رہی ہیں ۔انکی جوتوںکی فیکٹری مکتا انڈسٹری مین خواتین ،مردوں اور بچوں کیلئے دستکاری جوتے اور سینڈلس بنائے جاتے ہیں۔ان کی قیمت 200 روپئے سے 800 روپئے تک ہوتی ہے۔ان جوتوں اور سینڈلس کی صرف ہندستان میں ہی نہیں ملک بھر میں مانگ ہے۔
  • مکتا منی کو مل چکا ہے یہ ایوارڈ : نیشنل انشیورینس اور ٹیلیگراف کی میزبانی میں کئے  گئے پروگرام ٹو لیجینڈس سے نوازاگیا اور انہوں نے اپنا اعزاز ملک کی خواتین کے نام وقف کر دیا۔

تازہ ترین تصاویر