پاکستان: 18 سالہ بس ہوسٹس مہویش کا قتل، جانیں کیا تھا اصل معاملہ

Jul 02, 2018 09:51 AM IST
1 of 5
  • پاکستان کے فیصل آباد میں بس ہوسٹیس کے  طور پر کام کرتی تھی مہویش ارشد۔ 18 سالہ مہویش اپنے پورے خاندان کا سہارا تھی اور ان کو پالنے کی ذمہ داری اسی پر تھی۔ اپنے خاندان سے دور ایک ہاسٹل میں رہتی تھی مہویش جہاں سے اسے اپنے کام پر جانا آسان تھا۔

    پاکستان کے فیصل آباد میں بس ہوسٹیس کے  طور پر کام کرتی تھی مہویش ارشد۔ 18 سالہ مہویش اپنے پورے خاندان کا سہارا تھی اور ان کو پالنے کی ذمہ داری اسی پر تھی۔ اپنے خاندان سے دور ایک ہاسٹل میں رہتی تھی مہویش جہاں سے اسے اپنے کام پر جانا آسان تھا۔

  • کچھ روز قبل بس سروس سے منسلک ایک عمردراز سکیورٹی گارڈ کی نظروں میں آگئی تھی مہویش اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس سے کسی بھی طرح بات چیت کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ مہویش ہر بار اس کی نظریں اور بات کرنے کی کوشش کو ٹال دیتی تھی۔ گزشتہ کچھ روز قبل مہویش کے سامنے شادی کی تجویز پیش کی تو مہویش نے فورا منع کر دیا اور آئندہ ایسی حرکت کرنے کے لئے خبردار کیا۔

    کچھ روز قبل بس سروس سے منسلک ایک عمردراز سکیورٹی گارڈ کی نظروں میں آگئی تھی مہویش اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس سے کسی بھی طرح بات چیت کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ مہویش ہر بار اس کی نظریں اور بات کرنے کی کوشش کو ٹال دیتی تھی۔ گزشتہ کچھ روز قبل مہویش کے سامنے شادی کی تجویز پیش کی تو مہویش نے فورا منع کر دیا اور آئندہ ایسی حرکت کرنے کے لئے خبردار کیا۔

  • اسی بات پر عمر کو اس قدر غصہ آ گیا کہ اس نے مہویش کو سبق سکھانا ہی اپنا مقصد بنا لیا۔ پیشہ سے سیکورٹی گارڈ تھا عمر تو اس کے لئے بندوق جیسا ہتھیار پانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ بس اس نے ہتھیار جٹایا اور مہویش کے ہاسٹل پر نظر رکھنا شروع کر دیا۔ جب اسے مہویش کے آنے جانے کا وقت پتہ چل گیا تو اس نے مہویش سے آخری بار بات کرنے کا ارادہ کیا۔

    اسی بات پر عمر کو اس قدر غصہ آ گیا کہ اس نے مہویش کو سبق سکھانا ہی اپنا مقصد بنا لیا۔ پیشہ سے سیکورٹی گارڈ تھا عمر تو اس کے لئے بندوق جیسا ہتھیار پانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ بس اس نے ہتھیار جٹایا اور مہویش کے ہاسٹل پر نظر رکھنا شروع کر دیا۔ جب اسے مہویش کے آنے جانے کا وقت پتہ چل گیا تو اس نے مہویش سے آخری بار بات کرنے کا ارادہ کیا۔

  • مہویش کے ہاسٹل کے پاس پہنچ کر عمر مہویش کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ مہویش اپنے خاندان سے مل کر ہاسٹل لوٹ رہی تھی۔ وہ جیسے ہی ہاسٹل کی سیڑیاں چڑھنے لگی ،تبھی پیچھے سے آکر عمر نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ مہویش نے پلٹ کر دیکھا تو عمر تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔ عمر نے یہی کہا کہ وہ آخری بار پوچھ رہا ہے کہ مہویش اس سے شادی کرے گی یا نہیں۔

    مہویش کے ہاسٹل کے پاس پہنچ کر عمر مہویش کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ مہویش اپنے خاندان سے مل کر ہاسٹل لوٹ رہی تھی۔ وہ جیسے ہی ہاسٹل کی سیڑیاں چڑھنے لگی ،تبھی پیچھے سے آکر عمر نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ مہویش نے پلٹ کر دیکھا تو عمر تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔ عمر نے یہی کہا کہ وہ آخری بار پوچھ رہا ہے کہ مہویش اس سے شادی کرے گی یا نہیں۔

  • مہویش نے جیسے ہی انکار کیا ویسے ہی عمر نے پستول  نکالی اور مہویش کو گولی مار دی۔ مہویش کے ہاسٹل کی جانب آنے اور عمر کے ذریعہ گولی مارنے کا پورا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا جس کی بنیاد پر عمر کو جلد ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس فوٹیج کے سامنے آنے پر ہنگامہ مچ گیا اور سنکی عمر اوراس طرح کے جرائم کو لے کر کئی سطحوں پر بہث شروع ہو گئی ہے۔

    مہویش نے جیسے ہی انکار کیا ویسے ہی عمر نے پستول  نکالی اور مہویش کو گولی مار دی۔ مہویش کے ہاسٹل کی جانب آنے اور عمر کے ذریعہ گولی مارنے کا پورا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا جس کی بنیاد پر عمر کو جلد ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس فوٹیج کے سامنے آنے پر ہنگامہ مچ گیا اور سنکی عمر اوراس طرح کے جرائم کو لے کر کئی سطحوں پر بہث شروع ہو گئی ہے۔

  • کچھ روز قبل بس سروس سے منسلک ایک عمردراز سکیورٹی گارڈ کی نظروں میں آگئی تھی مہویش اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس سے کسی بھی طرح بات چیت کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ مہویش ہر بار اس کی نظریں اور بات کرنے کی کوشش کو ٹال دیتی تھی۔ گزشتہ کچھ روز قبل مہویش کے سامنے شادی کی تجویز پیش کی تو مہویش نے فورا منع کر دیا اور آئندہ ایسی حرکت کرنے کے لئے خبردار کیا۔
  • اسی بات پر عمر کو اس قدر غصہ آ گیا کہ اس نے مہویش کو سبق سکھانا ہی اپنا مقصد بنا لیا۔ پیشہ سے سیکورٹی گارڈ تھا عمر تو اس کے لئے بندوق جیسا ہتھیار پانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ بس اس نے ہتھیار جٹایا اور مہویش کے ہاسٹل پر نظر رکھنا شروع کر دیا۔ جب اسے مہویش کے آنے جانے کا وقت پتہ چل گیا تو اس نے مہویش سے آخری بار بات کرنے کا ارادہ کیا۔
  • مہویش کے ہاسٹل کے پاس پہنچ کر عمر مہویش کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ مہویش اپنے خاندان سے مل کر ہاسٹل لوٹ رہی تھی۔ وہ جیسے ہی ہاسٹل کی سیڑیاں چڑھنے لگی ،تبھی پیچھے سے آکر عمر نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ مہویش نے پلٹ کر دیکھا تو عمر تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔ عمر نے یہی کہا کہ وہ آخری بار پوچھ رہا ہے کہ مہویش اس سے شادی کرے گی یا نہیں۔
  • مہویش نے جیسے ہی انکار کیا ویسے ہی عمر نے پستول  نکالی اور مہویش کو گولی مار دی۔ مہویش کے ہاسٹل کی جانب آنے اور عمر کے ذریعہ گولی مارنے کا پورا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا جس کی بنیاد پر عمر کو جلد ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس فوٹیج کے سامنے آنے پر ہنگامہ مچ گیا اور سنکی عمر اوراس طرح کے جرائم کو لے کر کئی سطحوں پر بہث شروع ہو گئی ہے۔

تازہ ترین تصاویر