اپنی نوعیت کا منفرد قدم ، بیویوں کے ستائے شوہروں کیلئے آشرم کا قیام

Jan 24, 2017 08:25 PM IST
1 of 15
  •  اورنگ آباد کے مضافات میں ایک آشرم قائم کیا گیا ہے ۔ اس  آشرم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی بابا یا دیوی کا نہیں ہے ، بلکہ بیوی کی زیادتیوں کے شکار مظلوم شوہروں کا آشرم ہے ۔ فی الحال اس آشرم میں بیوی کے ستائے ہوئے چار سو سے زائد افراد رہتے ہیں ۔

    اورنگ آباد کے مضافات میں ایک آشرم قائم کیا گیا ہے ۔ اس آشرم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی بابا یا دیوی کا نہیں ہے ، بلکہ بیوی کی زیادتیوں کے شکار مظلوم شوہروں کا آشرم ہے ۔ فی الحال اس آشرم میں بیوی کے ستائے ہوئے چار سو سے زائد افراد رہتے ہیں ۔

  •   اورنگ آباد سے 17 کلو میٹر کے فاصلہ پر ممبئی ہائی وے کے شرناپور پھاٹے پر واقع آشرم کا یہ بورڈ اپنی کہانی خود بیان کررہا ہے ۔ ای ٹی وی ٹیم نے جب آشرم کا جائزہ لیا ، تو پتہ چلا کہ آشرم میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی داخلے کی کوئی گنجائش ہے ۔

    اورنگ آباد سے 17 کلو میٹر کے فاصلہ پر ممبئی ہائی وے کے شرناپور پھاٹے پر واقع آشرم کا یہ بورڈ اپنی کہانی خود بیان کررہا ہے ۔ ای ٹی وی ٹیم نے جب آشرم کا جائزہ لیا ، تو پتہ چلا کہ آشرم میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی داخلے کی کوئی گنجائش ہے ۔

  •  اس آشرم میں رہنے والے تمام ارکان بیویوں کے ستائے ہوئے ہیں۔

    اس آشرم میں رہنے والے تمام ارکان بیویوں کے ستائے ہوئے ہیں۔

  • یوں تو اس میں رہ رہے  ہر شخص کی اپنی اپنی الگ الگ کہانی ہے ، لیکن ہرکہانی کا مرکزی موضوع بیوی کی زیادتی ہے۔ ایسی تمام کہانیوں کے مظلوم کرداروں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنے کا کام بھارت پھلارے اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے ۔

    یوں تو اس میں رہ رہے ہر شخص کی اپنی اپنی الگ الگ کہانی ہے ، لیکن ہرکہانی کا مرکزی موضوع بیوی کی زیادتی ہے۔ ایسی تمام کہانیوں کے مظلوم کرداروں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنے کا کام بھارت پھلارے اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے ۔

  •  آشرم کے ارکان کی خاص بات یہ ہے کہ سبھی ارکان اعلی تعلیم یافتہ ہیں ۔

    آشرم کے ارکان کی خاص بات یہ ہے کہ سبھی ارکان اعلی تعلیم یافتہ ہیں ۔

  • ان میں پیشے سے سول انجینئر، میکینیکل انجینئر، وکیل اور پروفیسروغیرہ شامل ہیں ۔ لیکن یہ سب آشرم میں یہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔

    ان میں پیشے سے سول انجینئر، میکینیکل انجینئر، وکیل اور پروفیسروغیرہ شامل ہیں ۔ لیکن یہ سب آشرم میں یہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔

  •  تمام ارکان سبھی کام خود ہی کرتے ہیں ۔ آشرم کی صاف صفائی، نگہداشت، کھانا بنانا ، برتن دھونا اور کپڑے دھونا  یہاں تک کہ بستر بجھانا اوراٹھانا بھی آشرم کے ارکان خود ہی کرتے ہیں۔

    تمام ارکان سبھی کام خود ہی کرتے ہیں ۔ آشرم کی صاف صفائی، نگہداشت، کھانا بنانا ، برتن دھونا اور کپڑے دھونا یہاں تک کہ بستر بجھانا اوراٹھانا بھی آشرم کے ارکان خود ہی کرتے ہیں۔

  • قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس آشرم میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔

    قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس آشرم میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔

  • بے سہارا افراد کو روزگار فراہم کرنے کی غرض سے چھوٹی صنعت شروع کرنے کا بھی آشرم کے ذمہ داروں کا ارادہ ہے ۔

    بے سہارا افراد کو روزگار فراہم کرنے کی غرض سے چھوٹی صنعت شروع کرنے کا بھی آشرم کے ذمہ داروں کا ارادہ ہے ۔

  •  پتنی پیڑت آشرم کی خاص بات یہ ہےکہ اس آشرم میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کا فقیدالمثال مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں ہندو ہو یا مسلمان سب مل جل کر رہتے ہیں۔

    پتنی پیڑت آشرم کی خاص بات یہ ہےکہ اس آشرم میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کا فقیدالمثال مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں ہندو ہو یا مسلمان سب مل جل کر رہتے ہیں۔

  • ساڑھے چار سو ارکان میں پانچ مسلمان ہیں ،لیکن ان کا اتحاد دیکھنے لائق ہے۔

    ساڑھے چار سو ارکان میں پانچ مسلمان ہیں ،لیکن ان کا اتحاد دیکھنے لائق ہے۔

  • دراصل ان کے کرب نے انہیں ایک دوسرے کےاتنا قریب کردیا ہے کہ حقیقی رشتے انھیں پھیکے نظر آنے لگیں۔

    دراصل ان کے کرب نے انہیں ایک دوسرے کےاتنا قریب کردیا ہے کہ حقیقی رشتے انھیں پھیکے نظر آنے لگیں۔

  • اب یہ لوگ ایک دوسرے کا سہارا بن کر کھڑے ہیں ۔ خواہ روزگار سے وابستہ معاملہ ہو یا قانونی چارہ جوئی کا، ہر معاملہ میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔

    اب یہ لوگ ایک دوسرے کا سہارا بن کر کھڑے ہیں ۔ خواہ روزگار سے وابستہ معاملہ ہو یا قانونی چارہ جوئی کا، ہر معاملہ میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔

  •  ایک سال پہلے شروع ہوئےپتنی پیڑت آشرم کے ذمہ داروں کا کہنا ہےکہ انھیں یہاں بھیڑ نہیں بڑھانی ہے اور نہ ہی غیر ضروری کسی کو بدنام کرنا ، ان کا مقصد ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں خاتو ن ایک ابلہ ناری کا جو رجحان ہے، وہ ختم ہونا چاہئے اور بیویوں کے ستائے مظلوم مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ ضروری ہے ۔

    ایک سال پہلے شروع ہوئےپتنی پیڑت آشرم کے ذمہ داروں کا کہنا ہےکہ انھیں یہاں بھیڑ نہیں بڑھانی ہے اور نہ ہی غیر ضروری کسی کو بدنام کرنا ، ان کا مقصد ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں خاتو ن ایک ابلہ ناری کا جو رجحان ہے، وہ ختم ہونا چاہئے اور بیویوں کے ستائے مظلوم مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ ضروری ہے ۔

  •  آشرم میں زیادہ تر لوگ قانون کے غلط استعمال کے شاکی ہیں ۔(رپورٹ : اظہر الدین ) ۔

    آشرم میں زیادہ تر لوگ قانون کے غلط استعمال کے شاکی ہیں ۔(رپورٹ : اظہر الدین ) ۔

  •   اورنگ آباد سے 17 کلو میٹر کے فاصلہ پر ممبئی ہائی وے کے شرناپور پھاٹے پر واقع آشرم کا یہ بورڈ اپنی کہانی خود بیان کررہا ہے ۔ ای ٹی وی ٹیم نے جب آشرم کا جائزہ لیا ، تو پتہ چلا کہ آشرم میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی داخلے کی کوئی گنجائش ہے ۔
  •  اس آشرم میں رہنے والے تمام ارکان بیویوں کے ستائے ہوئے ہیں۔
  • یوں تو اس میں رہ رہے  ہر شخص کی اپنی اپنی الگ الگ کہانی ہے ، لیکن ہرکہانی کا مرکزی موضوع بیوی کی زیادتی ہے۔ ایسی تمام کہانیوں کے مظلوم کرداروں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنے کا کام بھارت پھلارے اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے ۔
  •  آشرم کے ارکان کی خاص بات یہ ہے کہ سبھی ارکان اعلی تعلیم یافتہ ہیں ۔
  • ان میں پیشے سے سول انجینئر، میکینیکل انجینئر، وکیل اور پروفیسروغیرہ شامل ہیں ۔ لیکن یہ سب آشرم میں یہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں۔
  •  تمام ارکان سبھی کام خود ہی کرتے ہیں ۔ آشرم کی صاف صفائی، نگہداشت، کھانا بنانا ، برتن دھونا اور کپڑے دھونا  یہاں تک کہ بستر بجھانا اوراٹھانا بھی آشرم کے ارکان خود ہی کرتے ہیں۔
  • قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس آشرم میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔
  • بے سہارا افراد کو روزگار فراہم کرنے کی غرض سے چھوٹی صنعت شروع کرنے کا بھی آشرم کے ذمہ داروں کا ارادہ ہے ۔
  •  پتنی پیڑت آشرم کی خاص بات یہ ہےکہ اس آشرم میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کا فقیدالمثال مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں ہندو ہو یا مسلمان سب مل جل کر رہتے ہیں۔
  • ساڑھے چار سو ارکان میں پانچ مسلمان ہیں ،لیکن ان کا اتحاد دیکھنے لائق ہے۔
  • دراصل ان کے کرب نے انہیں ایک دوسرے کےاتنا قریب کردیا ہے کہ حقیقی رشتے انھیں پھیکے نظر آنے لگیں۔
  • اب یہ لوگ ایک دوسرے کا سہارا بن کر کھڑے ہیں ۔ خواہ روزگار سے وابستہ معاملہ ہو یا قانونی چارہ جوئی کا، ہر معاملہ میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔
  •  ایک سال پہلے شروع ہوئےپتنی پیڑت آشرم کے ذمہ داروں کا کہنا ہےکہ انھیں یہاں بھیڑ نہیں بڑھانی ہے اور نہ ہی غیر ضروری کسی کو بدنام کرنا ، ان کا مقصد ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں خاتو ن ایک ابلہ ناری کا جو رجحان ہے، وہ ختم ہونا چاہئے اور بیویوں کے ستائے مظلوم مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ ضروری ہے ۔
  •  آشرم میں زیادہ تر لوگ قانون کے غلط استعمال کے شاکی ہیں ۔(رپورٹ : اظہر الدین ) ۔

تازہ ترین تصاویر