ہماچل پردیش : شرپسند عناصر نے مسجد میں رکھے قرآن کریم کے نسخوں کو نصف شب میں کیا نذر آتش ، علاقہ میں کشیدگی

Dec 04, 2017 09:14 PM IST
1 of 6
  • ہماچل پردیش میں سرمور کے پانوٹا صاحب ماجرا علاقہ کے تحت میلیو گاوں میں اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی ، جب مسلمانوں کو پتہ چلا کہ ایک وہاں کی مسجد میں قرآن کریم کے نسخے جلا دئے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شرارت پسند عناصر نے اتوار کی رات میں 12 بجے مسجد میں رکھے قرآن کریم کے نسخے کو نذر آتش کردیا ۔ پیر کو جب اس معاملہ کا انکشاف ہوا ، تو بڑی تعداد میں وہاں لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ہائی وے پر جام لگایا۔

    ہماچل پردیش میں سرمور کے پانوٹا صاحب ماجرا علاقہ کے تحت میلیو گاوں میں اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی ، جب مسلمانوں کو پتہ چلا کہ ایک وہاں کی مسجد میں قرآن کریم کے نسخے جلا دئے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شرارت پسند عناصر نے اتوار کی رات میں 12 بجے مسجد میں رکھے قرآن کریم کے نسخے کو نذر آتش کردیا ۔ پیر کو جب اس معاملہ کا انکشاف ہوا ، تو بڑی تعداد میں وہاں لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ہائی وے پر جام لگایا۔

  • بتایا جاتاہے کہ سوموار کی صبح میں مسجد کے امام نماز ادا کرنے کیلئے پہنچے ۔  انہوں نے وہاں رکھے قرآن کریم کے نسخوں کے جلے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا تو اس فوری طور پر اس کی مقامی کمیٹی کو اطلاع دی ۔ کمیٹی نے اس کی پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ماجرا تھانہ کی پولیس اور کمیٹی کے ممبروں کے ساتھ پاوٹا کے ڈی ایس پی پرمود چوہان جائے واقعہ پر پہنچ گئے اور معاملہ کی جانچ شروع کردی۔

    بتایا جاتاہے کہ سوموار کی صبح میں مسجد کے امام نماز ادا کرنے کیلئے پہنچے ۔ انہوں نے وہاں رکھے قرآن کریم کے نسخوں کے جلے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا تو اس فوری طور پر اس کی مقامی کمیٹی کو اطلاع دی ۔ کمیٹی نے اس کی پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ماجرا تھانہ کی پولیس اور کمیٹی کے ممبروں کے ساتھ پاوٹا کے ڈی ایس پی پرمود چوہان جائے واقعہ پر پہنچ گئے اور معاملہ کی جانچ شروع کردی۔

  • مذہبی کتاب کے ساتھ بے حرمتی کی جیسے ہی خبر پھیلی ، علاقہ میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ مقامی افراد بار بار اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے پولیس اہلکاروں سے کافی ناراض ہیں ۔ مسجد کے باہر سینکڑوں افراد نے اکٹھا ہو کر معاملہ کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ۔

    مذہبی کتاب کے ساتھ بے حرمتی کی جیسے ہی خبر پھیلی ، علاقہ میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ مقامی افراد بار بار اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے پولیس اہلکاروں سے کافی ناراض ہیں ۔ مسجد کے باہر سینکڑوں افراد نے اکٹھا ہو کر معاملہ کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ۔

  • پیپلی والی مسجد میں گزشتہ سال سے ہی اس طرح کی واراداتیں رونما ہورہی ہیں ، جس کی وجہ سے لوگوں میں اور زیادہ غصہ ہے ۔

    پیپلی والی مسجد میں گزشتہ سال سے ہی اس طرح کی واراداتیں رونما ہورہی ہیں ، جس کی وجہ سے لوگوں میں اور زیادہ غصہ ہے ۔

  • خیال رہے کہ پیپلی والی مسجد میں ٹنکی کے پانی میں زہر گھولنے ، مسجد میں پاخانہ پیشاب کرنے ، مسجد کی کھڑکی کو سوتلی بم سے اڑانے اور مسجد میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی جاچکی ہے۔

    خیال رہے کہ پیپلی والی مسجد میں ٹنکی کے پانی میں زہر گھولنے ، مسجد میں پاخانہ پیشاب کرنے ، مسجد کی کھڑکی کو سوتلی بم سے اڑانے اور مسجد میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی جاچکی ہے۔

  • تاہم ان سبھی معاملات کے ملزمین ابھی تک پولیس کی رسائی سے کوسوں دور ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس جانچ کے نام پر صرف خانہ پوری کرکے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہی اور اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔

    تاہم ان سبھی معاملات کے ملزمین ابھی تک پولیس کی رسائی سے کوسوں دور ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس جانچ کے نام پر صرف خانہ پوری کرکے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہی اور اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔

  • بتایا جاتاہے کہ سوموار کی صبح میں مسجد کے امام نماز ادا کرنے کیلئے پہنچے ۔  انہوں نے وہاں رکھے قرآن کریم کے نسخوں کے جلے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا تو اس فوری طور پر اس کی مقامی کمیٹی کو اطلاع دی ۔ کمیٹی نے اس کی پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ماجرا تھانہ کی پولیس اور کمیٹی کے ممبروں کے ساتھ پاوٹا کے ڈی ایس پی پرمود چوہان جائے واقعہ پر پہنچ گئے اور معاملہ کی جانچ شروع کردی۔
  • مذہبی کتاب کے ساتھ بے حرمتی کی جیسے ہی خبر پھیلی ، علاقہ میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ مقامی افراد بار بار اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے پولیس اہلکاروں سے کافی ناراض ہیں ۔ مسجد کے باہر سینکڑوں افراد نے اکٹھا ہو کر معاملہ کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ۔
  • پیپلی والی مسجد میں گزشتہ سال سے ہی اس طرح کی واراداتیں رونما ہورہی ہیں ، جس کی وجہ سے لوگوں میں اور زیادہ غصہ ہے ۔
  • خیال رہے کہ پیپلی والی مسجد میں ٹنکی کے پانی میں زہر گھولنے ، مسجد میں پاخانہ پیشاب کرنے ، مسجد کی کھڑکی کو سوتلی بم سے اڑانے اور مسجد میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی جاچکی ہے۔
  • تاہم ان سبھی معاملات کے ملزمین ابھی تک پولیس کی رسائی سے کوسوں دور ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس جانچ کے نام پر صرف خانہ پوری کرکے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہی اور اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔

تازہ ترین تصاویر