Live Results Assembly Elections 2018

ہار کر بھی جیتی کانگریس، ان 10 وجہوں سے راہل بنے بازیگر

Dec 18, 2017 03:42 PM IST
1 of 11
  • ہماچل پردیش اور گجرات کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ دونوں ریاستوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ لیکن جہاں تک گجرات کا تعلق ہے، اس وقت کانگریس نے بی جے پی کے گڑھ میں کڑی ٹکر دی ہے۔ سوراشٹر سمیت بی جے پی کے کئی علاقوں میں کانگریس کا فیکٹر اپنا جادو چلا گیا ہے۔ راہل مضبوط دکھائی دئیے ہیں اور آنے والے وقت میں وہ کانگریس کو نئی سمت میں لے جاتے نظر آ رہے ہیں۔ آئیے، جانتے ہیں ایسی 10 وجوہات جن کے مدنظر کانگریس ہار کر بھی جیتتی ہوئی نظر آئی اور راہل گاندھی ہار کر بھی جیتنے والے 'بازیگر' بنے۔

    ہماچل پردیش اور گجرات کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ دونوں ریاستوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ لیکن جہاں تک گجرات کا تعلق ہے، اس وقت کانگریس نے بی جے پی کے گڑھ میں کڑی ٹکر دی ہے۔ سوراشٹر سمیت بی جے پی کے کئی علاقوں میں کانگریس کا فیکٹر اپنا جادو چلا گیا ہے۔ راہل مضبوط دکھائی دئیے ہیں اور آنے والے وقت میں وہ کانگریس کو نئی سمت میں لے جاتے نظر آ رہے ہیں۔ آئیے، جانتے ہیں ایسی 10 وجوہات جن کے مدنظر کانگریس ہار کر بھی جیتتی ہوئی نظر آئی اور راہل گاندھی ہار کر بھی جیتنے والے 'بازیگر' بنے۔

  • پہلی وجہ: گجرات کے انتخابات میں راہل ایک نئے تیور، نئے رنگ اور مکمل طور پر ایک نئے زمینی سیاستداں کی طرح دکھائی دئیے۔ اب وہ رسمی طور پر کانگریس صدر بن گئے ہیں، لہذا آنے والے وقتوں میں وہ کانگریس کو ایک نئی سمت دیں گے۔ کانگریس کو گرچہ شکست ملی ہے، لیکن راہل نے اسے نئی توانائی سے بھر دیا ہے۔ یہ بی جے پی کے لئے ایک انتباہ کی طرح ہے۔

    پہلی وجہ: گجرات کے انتخابات میں راہل ایک نئے تیور، نئے رنگ اور مکمل طور پر ایک نئے زمینی سیاستداں کی طرح دکھائی دئیے۔ اب وہ رسمی طور پر کانگریس صدر بن گئے ہیں، لہذا آنے والے وقتوں میں وہ کانگریس کو ایک نئی سمت دیں گے۔ کانگریس کو گرچہ شکست ملی ہے، لیکن راہل نے اسے نئی توانائی سے بھر دیا ہے۔ یہ بی جے پی کے لئے ایک انتباہ کی طرح ہے۔

  • دوسری وجہ: راہل کو ہار کر ایک جیتنے والا بازیگر اس لئے بھی کہیں گے کیونکہ انہوں نے بی جے پی کو خود اس کے ہی گڑھ میں کڑی ٹکر دی ہے۔ دلت لیڈر جگنیش میوانی، پٹیل ریزرویشن موومنٹ کے ہاردک پٹیل اور یہاں تک کہ الپیش ٹھاکر کو ایک ہی منچ پر لا کر بی جے پی کے خلاف مورچہ کھول دیا۔

    دوسری وجہ: راہل کو ہار کر ایک جیتنے والا بازیگر اس لئے بھی کہیں گے کیونکہ انہوں نے بی جے پی کو خود اس کے ہی گڑھ میں کڑی ٹکر دی ہے۔ دلت لیڈر جگنیش میوانی، پٹیل ریزرویشن موومنٹ کے ہاردک پٹیل اور یہاں تک کہ الپیش ٹھاکر کو ایک ہی منچ پر لا کر بی جے پی کے خلاف مورچہ کھول دیا۔

  • تیسری وجہ: وہ بی جے پی کے خلاف اس کے ہی گڑھ میں کم از کم ماحول بنانے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ وہ 22 سالہ اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے، لیکن انتخابی مہم کے دوران "وکاس پاگل ہو گیا" اور براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر کسے ان کے طنز لوگوں کے درمیان کافی مقبول رہے۔ اس سے وہ دھیان کھینچنے میں کامیاب رہے اور یہاں تک کہ وہ میڈیا میں بھی چھائے رہے۔

    تیسری وجہ: وہ بی جے پی کے خلاف اس کے ہی گڑھ میں کم از کم ماحول بنانے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ وہ 22 سالہ اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے، لیکن انتخابی مہم کے دوران "وکاس پاگل ہو گیا" اور براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر کسے ان کے طنز لوگوں کے درمیان کافی مقبول رہے۔ اس سے وہ دھیان کھینچنے میں کامیاب رہے اور یہاں تک کہ وہ میڈیا میں بھی چھائے رہے۔

  • چوتھی وجہ: راہل پہلی بار ایک زمینی رہنما کے طور پر سخت محنت کرتے نظر آئے۔ انہوں نے نرم ھندوتوا کا کارڈ بھی کھیلا اور کانگریس پر لگ رہے اقلیتوں کی تشٹی کرن کے الزامات کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ راہل نے تقریبا 25 مندروں میں درشن کئے۔

    چوتھی وجہ: راہل پہلی بار ایک زمینی رہنما کے طور پر سخت محنت کرتے نظر آئے۔ انہوں نے نرم ھندوتوا کا کارڈ بھی کھیلا اور کانگریس پر لگ رہے اقلیتوں کی تشٹی کرن کے الزامات کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ راہل نے تقریبا 25 مندروں میں درشن کئے۔

  • پانچویں وجہ: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا راہل اس وقت ایک نئے تیور میں نظر آئے۔ سوشل میڈیا سے لے کر زمین پر ان کی طاقت دکھائی دی۔ انہوں نے کامیاب روڈ شو کئے، عوامی رابطہ کی ریلیوں کا اہتمام کیا، عوام سے خطاب کیا۔ ان کے قریب جا کر ان سے ملے۔

    پانچویں وجہ: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا راہل اس وقت ایک نئے تیور میں نظر آئے۔ سوشل میڈیا سے لے کر زمین پر ان کی طاقت دکھائی دی۔ انہوں نے کامیاب روڈ شو کئے، عوامی رابطہ کی ریلیوں کا اہتمام کیا، عوام سے خطاب کیا۔ ان کے قریب جا کر ان سے ملے۔

  • چھٹی وجہ: یہ راہل گاندھی کی نئی طاقت ہی ہے کہ انہوں نے تقریبا 135 اسمبلی سیٹوں میں اپنی پہنچ براہ راست طور پر بنائی۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے 177 اسمبلی کی نشستوں کو کور کیا۔ دراصل یہی ان کی سب سے بڑی طاقت بنی۔ بی جے پی کے لئے یہی خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوا۔ خاص بات یہ تھی کہ وہ گجرات کے تینوں نوجوان لیڈران جنگیش، ہاردک اور الپیش کا ساتھ لے چکے تھے ۔ آج بھلے ہی اس کا اثر نہ ہو لیکن آنے والے وقت کے لئے راہل نے پہلے سے ہی زمین تیار کر لی ہے۔

    چھٹی وجہ: یہ راہل گاندھی کی نئی طاقت ہی ہے کہ انہوں نے تقریبا 135 اسمبلی سیٹوں میں اپنی پہنچ براہ راست طور پر بنائی۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے 177 اسمبلی کی نشستوں کو کور کیا۔ دراصل یہی ان کی سب سے بڑی طاقت بنی۔ بی جے پی کے لئے یہی خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوا۔ خاص بات یہ تھی کہ وہ گجرات کے تینوں نوجوان لیڈران جنگیش، ہاردک اور الپیش کا ساتھ لے چکے تھے ۔ آج بھلے ہی اس کا اثر نہ ہو لیکن آنے والے وقت کے لئے راہل نے پہلے سے ہی زمین تیار کر لی ہے۔

  • ساتویں وجہ: مہم کے دوران راہل صدر نہیں تھے اور یہاں تک کہ ماں سونیا گاندھی کی عدم موجودگی میں بھی انہوں نے بہت ہی شاندار طریقہ سے انتخابات کو منظم کیا۔ وہ مسلسل سرگرم رہے اور کانگریس کا ایک بڑا چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اب چونکہ وہ صدر بن گئے ہیں، اس لئے کانگریس کی حقیقی طاقت اب دکھائی دے گی۔

    ساتویں وجہ: مہم کے دوران راہل صدر نہیں تھے اور یہاں تک کہ ماں سونیا گاندھی کی عدم موجودگی میں بھی انہوں نے بہت ہی شاندار طریقہ سے انتخابات کو منظم کیا۔ وہ مسلسل سرگرم رہے اور کانگریس کا ایک بڑا چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اب چونکہ وہ صدر بن گئے ہیں، اس لئے کانگریس کی حقیقی طاقت اب دکھائی دے گی۔

  • آٹھویں وجہ: راہل کی سب سے بڑی طاقت اس الیکشن میں براہ راست وزیراعظم نریندر مودی کو ٹکر دینا تھی۔ بی جے پی کے سب سے طاقتور چہرہ کو چیلنج کرنے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔

    آٹھویں وجہ: راہل کی سب سے بڑی طاقت اس الیکشن میں براہ راست وزیراعظم نریندر مودی کو ٹکر دینا تھی۔ بی جے پی کے سب سے طاقتور چہرہ کو چیلنج کرنے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔

  • نویں وجہ: بی جے پی نے بھلے ہی گجرات اور ہماچل پردیش جیت لی ہے۔ لیکن کانگریس 2018 میں مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ راہل بھی یہ جانتے ہیں کہ پنجاب الیکشن جیتنے کے بعد گجرات میں اس کے گڑھ میں بی جے پی کو کڑی ٹکر دینے والے یہ الیکشن نتائج پارٹی میں نئی جان پھونکیں گے۔

    نویں وجہ: بی جے پی نے بھلے ہی گجرات اور ہماچل پردیش جیت لی ہے۔ لیکن کانگریس 2018 میں مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ راہل بھی یہ جانتے ہیں کہ پنجاب الیکشن جیتنے کے بعد گجرات میں اس کے گڑھ میں بی جے پی کو کڑی ٹکر دینے والے یہ الیکشن نتائج پارٹی میں نئی جان پھونکیں گے۔

  • دسویں وجہ: راہل تجربہ کرنے والے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی طاقت بی جے پی کے آگے کمزور ہے۔ لیکن وہ سدھی، سٹیک اور دھیمی چال سے چلنے میں ماہر ہیں۔ لوک سبھا میں 45 نشستوں تک سمٹ جانے کے بعد ان کے آگے 2019 تک کم سے کم 5 ریاستوں کے انتخابات ہیں۔ لہذا وہ خوب  تجربے کریں گے اور تجربہ کرتے ہوئے وہ نئی کانگریس بنا سکتے ہیں۔ یقینا وہ اس انتخاب میں ' بازیگر' ثابت ہوئے ہیں۔

    دسویں وجہ: راہل تجربہ کرنے والے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی طاقت بی جے پی کے آگے کمزور ہے۔ لیکن وہ سدھی، سٹیک اور دھیمی چال سے چلنے میں ماہر ہیں۔ لوک سبھا میں 45 نشستوں تک سمٹ جانے کے بعد ان کے آگے 2019 تک کم سے کم 5 ریاستوں کے انتخابات ہیں۔ لہذا وہ خوب تجربے کریں گے اور تجربہ کرتے ہوئے وہ نئی کانگریس بنا سکتے ہیں۔ یقینا وہ اس انتخاب میں ' بازیگر' ثابت ہوئے ہیں۔

  • پہلی وجہ: گجرات کے انتخابات میں راہل ایک نئے تیور، نئے رنگ اور مکمل طور پر ایک نئے زمینی سیاستداں کی طرح دکھائی دئیے۔ اب وہ رسمی طور پر کانگریس صدر بن گئے ہیں، لہذا آنے والے وقتوں میں وہ کانگریس کو ایک نئی سمت دیں گے۔ کانگریس کو گرچہ شکست ملی ہے، لیکن راہل نے اسے نئی توانائی سے بھر دیا ہے۔ یہ بی جے پی کے لئے ایک انتباہ کی طرح ہے۔
  • دوسری وجہ: راہل کو ہار کر ایک جیتنے والا بازیگر اس لئے بھی کہیں گے کیونکہ انہوں نے بی جے پی کو خود اس کے ہی گڑھ میں کڑی ٹکر دی ہے۔ دلت لیڈر جگنیش میوانی، پٹیل ریزرویشن موومنٹ کے ہاردک پٹیل اور یہاں تک کہ الپیش ٹھاکر کو ایک ہی منچ پر لا کر بی جے پی کے خلاف مورچہ کھول دیا۔
  • تیسری وجہ: وہ بی جے پی کے خلاف اس کے ہی گڑھ میں کم از کم ماحول بنانے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ وہ 22 سالہ اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے، لیکن انتخابی مہم کے دوران "وکاس پاگل ہو گیا" اور براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر کسے ان کے طنز لوگوں کے درمیان کافی مقبول رہے۔ اس سے وہ دھیان کھینچنے میں کامیاب رہے اور یہاں تک کہ وہ میڈیا میں بھی چھائے رہے۔
  • چوتھی وجہ: راہل پہلی بار ایک زمینی رہنما کے طور پر سخت محنت کرتے نظر آئے۔ انہوں نے نرم ھندوتوا کا کارڈ بھی کھیلا اور کانگریس پر لگ رہے اقلیتوں کی تشٹی کرن کے الزامات کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ راہل نے تقریبا 25 مندروں میں درشن کئے۔
  • پانچویں وجہ: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا راہل اس وقت ایک نئے تیور میں نظر آئے۔ سوشل میڈیا سے لے کر زمین پر ان کی طاقت دکھائی دی۔ انہوں نے کامیاب روڈ شو کئے، عوامی رابطہ کی ریلیوں کا اہتمام کیا، عوام سے خطاب کیا۔ ان کے قریب جا کر ان سے ملے۔
  • چھٹی وجہ: یہ راہل گاندھی کی نئی طاقت ہی ہے کہ انہوں نے تقریبا 135 اسمبلی سیٹوں میں اپنی پہنچ براہ راست طور پر بنائی۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے 177 اسمبلی کی نشستوں کو کور کیا۔ دراصل یہی ان کی سب سے بڑی طاقت بنی۔ بی جے پی کے لئے یہی خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوا۔ خاص بات یہ تھی کہ وہ گجرات کے تینوں نوجوان لیڈران جنگیش، ہاردک اور الپیش کا ساتھ لے چکے تھے ۔ آج بھلے ہی اس کا اثر نہ ہو لیکن آنے والے وقت کے لئے راہل نے پہلے سے ہی زمین تیار کر لی ہے۔
  • ساتویں وجہ: مہم کے دوران راہل صدر نہیں تھے اور یہاں تک کہ ماں سونیا گاندھی کی عدم موجودگی میں بھی انہوں نے بہت ہی شاندار طریقہ سے انتخابات کو منظم کیا۔ وہ مسلسل سرگرم رہے اور کانگریس کا ایک بڑا چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اب چونکہ وہ صدر بن گئے ہیں، اس لئے کانگریس کی حقیقی طاقت اب دکھائی دے گی۔
  • آٹھویں وجہ: راہل کی سب سے بڑی طاقت اس الیکشن میں براہ راست وزیراعظم نریندر مودی کو ٹکر دینا تھی۔ بی جے پی کے سب سے طاقتور چہرہ کو چیلنج کرنے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔
  • نویں وجہ: بی جے پی نے بھلے ہی گجرات اور ہماچل پردیش جیت لی ہے۔ لیکن کانگریس 2018 میں مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ راہل بھی یہ جانتے ہیں کہ پنجاب الیکشن جیتنے کے بعد گجرات میں اس کے گڑھ میں بی جے پی کو کڑی ٹکر دینے والے یہ الیکشن نتائج پارٹی میں نئی جان پھونکیں گے۔
  • دسویں وجہ: راہل تجربہ کرنے والے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی طاقت بی جے پی کے آگے کمزور ہے۔ لیکن وہ سدھی، سٹیک اور دھیمی چال سے چلنے میں ماہر ہیں۔ لوک سبھا میں 45 نشستوں تک سمٹ جانے کے بعد ان کے آگے 2019 تک کم سے کم 5 ریاستوں کے انتخابات ہیں۔ لہذا وہ خوب  تجربے کریں گے اور تجربہ کرتے ہوئے وہ نئی کانگریس بنا سکتے ہیں۔ یقینا وہ اس انتخاب میں ' بازیگر' ثابت ہوئے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر