چتوڑگڑھ میں انسانیت شرمسار، تبلیغی جماعت سے وابستہ بتا کر لاش کو قبرستان میں دفنانے سے روک دیا گیا

Jan 15, 2017 09:17 PM IST
1 of 10
  •  چتوڑگڈھ میں آج انسانیت کو شرمندہ کرنے والا ایک واقع پیش آیا۔ ایک لاش کی تدفین کو لے کردو مسلک کے لوگ آپس میں الجھ گئے، جس کی وجہ سے میت کو اپنے ہی شہر میں دو گز زمین بھی نصیب نہ ہو سکی ۔یہی نہیں مسلکی تنازع اتنا بڑھ گیا کہ پولیس کو بلانا پڑگیا ، پھر بھی تدفین نہیں ہوسکی اور مجبورا اہل خانہ کو  100 کلومیٹر دور لے کر تدفین کرنی پڑی ۔

    چتوڑگڈھ میں آج انسانیت کو شرمندہ کرنے والا ایک واقع پیش آیا۔ ایک لاش کی تدفین کو لے کردو مسلک کے لوگ آپس میں الجھ گئے، جس کی وجہ سے میت کو اپنے ہی شہر میں دو گز زمین بھی نصیب نہ ہو سکی ۔یہی نہیں مسلکی تنازع اتنا بڑھ گیا کہ پولیس کو بلانا پڑگیا ، پھر بھی تدفین نہیں ہوسکی اور مجبورا اہل خانہ کو 100 کلومیٹر دور لے کر تدفین کرنی پڑی ۔

  • اس معاملہ میں نہ صرف انسانیت کا گلا گھونٹا گیا ، بلکہ وقف ایکٹ کے تحت اس قانون کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں  ، جو کسی بھی قبرستان میں کسی بھی مسلک کے لوگوں کو دفن کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔

    اس معاملہ میں نہ صرف انسانیت کا گلا گھونٹا گیا ، بلکہ وقف ایکٹ کے تحت اس قانون کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں  ، جو کسی بھی قبرستان میں کسی بھی مسلک کے لوگوں کو دفن کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔

  • اطلاعات کے مطابق مرحوم احمد حسین کئی برسوں سے چتوڑ گڑھ میں ہی رہ رہا تھا ، جس کا بیماری میں علاج کے دوران اودے پور میں انتقال ہو گیا۔

    اطلاعات کے مطابق مرحوم احمد حسین کئی برسوں سے چتوڑ گڑھ میں ہی رہ رہا تھا ، جس کا بیماری میں علاج کے دوران اودے پور میں انتقال ہو گیا۔

  •  مرحوم کے اہل خانہ لواحقین بوندی روڈ واقع قبرستان میں اس کو دفن کے لئے لے گئے ، تو قبر کھودنے کے بعد بریلوی مسلک کے لوگوں نے یہ کہتے ہوئے تدفین کرنے سے روک دیا کہ احمد حسین تبلیغی جماعت سے وابستہ تھا۔

    مرحوم کے اہل خانہ لواحقین بوندی روڈ واقع قبرستان میں اس کو دفن کے لئے لے گئے ، تو قبر کھودنے کے بعد بریلوی مسلک کے لوگوں نے یہ کہتے ہوئے تدفین کرنے سے روک دیا کہ احمد حسین تبلیغی جماعت سے وابستہ تھا۔

  • تدفین سے روکے جانے پر مرحوم کے اہل خانہ اور بریلوی مسلک کے لوگوں کے درمیان صبح سے شام تک تنازع چلتا رہا ۔ جہاں مرحوم کے لواحقین اسے اس قبرستان میں دفن کرنے پر بضد تھے، وہیں دوسرے لوگ اس کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے ۔

    تدفین سے روکے جانے پر مرحوم کے اہل خانہ اور بریلوی مسلک کے لوگوں کے درمیان صبح سے شام تک تنازع چلتا رہا ۔ جہاں مرحوم کے لواحقین اسے اس قبرستان میں دفن کرنے پر بضد تھے، وہیں دوسرے لوگ اس کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے ۔

  • معاملہ کو کشیدہ ہوتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے لاش کو 100 کلو میٹر دو ر لے جاکر شام میں سپرد خاک کردیا ۔

    معاملہ کو کشیدہ ہوتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے لاش کو 100 کلو میٹر دو ر لے جاکر شام میں سپرد خاک کردیا ۔

  • بریلوی مسلک سے وابستہ تنظیموں سمیت متعدد ملی اور مذہبی تنظیموں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔

    بریلوی مسلک سے وابستہ تنظیموں سمیت متعدد ملی اور مذہبی تنظیموں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔

  • قبرستان محفوظ جدوجہد کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پولیس و انتظامیہ کے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہو ، جو قانون کی اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ قبرستان میں کسی کو دفن سے روکا نہیں جا سکتا۔

    قبرستان محفوظ جدوجہد کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پولیس و انتظامیہ کے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہو ، جو قانون کی اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ قبرستان میں کسی کو دفن سے روکا نہیں جا سکتا۔

  •  ادھر راجستھان وقف بورڈ کے چیئر مین ابو بکر نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملہ پر جلد ہی ایک میٹنگ بلائیں گے اور پورے راجستھان کے لیے آرڈر جاری کریں گے کہ کوئی بھی کسی قبرستان میں دفنایا جا سکتا ہے۔

    ادھر راجستھان وقف بورڈ کے چیئر مین ابو بکر نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملہ پر جلد ہی ایک میٹنگ بلائیں گے اور پورے راجستھان کے لیے آرڈر جاری کریں گے کہ کوئی بھی کسی قبرستان میں دفنایا جا سکتا ہے۔

  • جن لوگوں نے آج لاش دفنانے پر احتجاج کیا ، ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔  (رپورٹ : ارباز احمد ) ۔

    جن لوگوں نے آج لاش دفنانے پر احتجاج کیا ، ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔ (رپورٹ : ارباز احمد ) ۔

  • اس معاملہ میں نہ صرف انسانیت کا گلا گھونٹا گیا ، بلکہ وقف ایکٹ کے تحت اس قانون کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں  ، جو کسی بھی قبرستان میں کسی بھی مسلک کے لوگوں کو دفن کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔
  • اطلاعات کے مطابق مرحوم احمد حسین کئی برسوں سے چتوڑ گڑھ میں ہی رہ رہا تھا ، جس کا بیماری میں علاج کے دوران اودے پور میں انتقال ہو گیا۔
  •  مرحوم کے اہل خانہ لواحقین بوندی روڈ واقع قبرستان میں اس کو دفن کے لئے لے گئے ، تو قبر کھودنے کے بعد بریلوی مسلک کے لوگوں نے یہ کہتے ہوئے تدفین کرنے سے روک دیا کہ احمد حسین تبلیغی جماعت سے وابستہ تھا۔
  • تدفین سے روکے جانے پر مرحوم کے اہل خانہ اور بریلوی مسلک کے لوگوں کے درمیان صبح سے شام تک تنازع چلتا رہا ۔ جہاں مرحوم کے لواحقین اسے اس قبرستان میں دفن کرنے پر بضد تھے، وہیں دوسرے لوگ اس کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے ۔
  • معاملہ کو کشیدہ ہوتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے لاش کو 100 کلو میٹر دو ر لے جاکر شام میں سپرد خاک کردیا ۔
  • بریلوی مسلک سے وابستہ تنظیموں سمیت متعدد ملی اور مذہبی تنظیموں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔
  • قبرستان محفوظ جدوجہد کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پولیس و انتظامیہ کے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہو ، جو قانون کی اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ قبرستان میں کسی کو دفن سے روکا نہیں جا سکتا۔
  •  ادھر راجستھان وقف بورڈ کے چیئر مین ابو بکر نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملہ پر جلد ہی ایک میٹنگ بلائیں گے اور پورے راجستھان کے لیے آرڈر جاری کریں گے کہ کوئی بھی کسی قبرستان میں دفنایا جا سکتا ہے۔
  • جن لوگوں نے آج لاش دفنانے پر احتجاج کیا ، ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔  (رپورٹ : ارباز احمد ) ۔

تازہ ترین تصاویر