گنگا جمنی تہذیب کی مثال اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے جوہری مارکیٹ میں ادا کی جانے والی جمعہ کی نماز

Jun 06, 2017 05:16 PM IST
1 of 7
  • رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان جاری ہے۔ گلابی نگری جے پور میں رمضان المبارک کے جمعہ کی نماز میں بھی  دیگر مقامات کی طرح بڑی تعداد میں مسلمان شامل ہوتے ہیں ۔ ایک طرف دارالحکومت میں مسلم بھائی اجتماعی طور پر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں تو دوسری طرف یہاں ہندو بھائی انکی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ سوا سو سال سے جے پور میں جمعہ کی یہ نماز گنگا جمنی تہذیب کی مثال ہے ۔

    رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان جاری ہے۔ گلابی نگری جے پور میں رمضان المبارک کے جمعہ کی نماز میں بھی دیگر مقامات کی طرح بڑی تعداد میں مسلمان شامل ہوتے ہیں ۔ ایک طرف دارالحکومت میں مسلم بھائی اجتماعی طور پر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں تو دوسری طرف یہاں ہندو بھائی انکی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ سوا سو سال سے جے پور میں جمعہ کی یہ نماز گنگا جمنی تہذیب کی مثال ہے ۔

  • دارالحکومت جے پور میں ماہ رمضان میں روحانیت کا دور جاری ہے ۔ یہاں رمضان میں جمعہ کی ایک نماز ہو چکی ہے اور ابھی تین باقی ہیں۔ گرمی میں شدت اور حالات مشکل کیوں نہ ہوں لیکن جوہری بازار میں جب مسلم بھائیوں کے ساتھ میں ہندو بھائی سایہ کا انتظام کرنے اور وضو کرانے میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے ہیں تو روزہ دار نمازيوں  کا حوصلہ اور بڑھ جاتا ہے ۔

    دارالحکومت جے پور میں ماہ رمضان میں روحانیت کا دور جاری ہے ۔ یہاں رمضان میں جمعہ کی ایک نماز ہو چکی ہے اور ابھی تین باقی ہیں۔ گرمی میں شدت اور حالات مشکل کیوں نہ ہوں لیکن جوہری بازار میں جب مسلم بھائیوں کے ساتھ میں ہندو بھائی سایہ کا انتظام کرنے اور وضو کرانے میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے ہیں تو روزہ دار نمازيوں کا حوصلہ اور بڑھ جاتا ہے ۔

  •  گلابی شہر میں گزشتہ سوا سو سال سے جوہری مارکیٹ کی جامع مسجد میں ریاست میں سب سے زیادہ نمازيوں کی تعداد والی جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ماہ رمضان میں نمازيوں کی قطاریں اتنی لمبی ہوتی ہیں کہ انہیں مارکیٹ کے روڈ پر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنی پڑتی ہے ۔ یہاں سات سے آٹھ لاکھ نمازی ایک ساتھ نماز کے لیے پہنچتے ہیں ۔

    گلابی شہر میں گزشتہ سوا سو سال سے جوہری مارکیٹ کی جامع مسجد میں ریاست میں سب سے زیادہ نمازيوں کی تعداد والی جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ماہ رمضان میں نمازيوں کی قطاریں اتنی لمبی ہوتی ہیں کہ انہیں مارکیٹ کے روڈ پر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنی پڑتی ہے ۔ یہاں سات سے آٹھ لاکھ نمازی ایک ساتھ نماز کے لیے پہنچتے ہیں ۔

  • پھر سانگانیری گیٹ سے لے کر بڑی چوپڑ تک اور بڑی چوپڑ سے لے کر چاندی کی ٹکسال تک، یا پھر ترپوليا گیٹ سے لے کر رام گنج تک ہر طرف خدا کی  بارگاہ میں لاکھوں روزہ دار ایک ساتھ خدا کی بارگاہ میں سجدہ کرتے اور گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ریاست میں امن، چین سکون، ترقی، قومی اتحاد اور بہتر مانسون کی دعا مانگتے نظر آتے ہیں ۔

    پھر سانگانیری گیٹ سے لے کر بڑی چوپڑ تک اور بڑی چوپڑ سے لے کر چاندی کی ٹکسال تک، یا پھر ترپوليا گیٹ سے لے کر رام گنج تک ہر طرف خدا کی بارگاہ میں لاکھوں روزہ دار ایک ساتھ خدا کی بارگاہ میں سجدہ کرتے اور گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ریاست میں امن، چین سکون، ترقی، قومی اتحاد اور بہتر مانسون کی دعا مانگتے نظر آتے ہیں ۔

  •  یہاں مسلمانوں کی جس بڑی تعداد میں نماز ادا ہوتی ہے اسی حساب سے تمام انتظامات بھی  کیے جاتے ہیں ۔ سیکورٹی اور ٹریفک کا بندوبست پولیس کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو جامع مسجد کمیٹی بھی اس کے لئے مختلف خدمت گاروں کو ذمہ داری دیتی ہے تاکہ نمازیوں کو آسانی ہو سکے ۔

    یہاں مسلمانوں کی جس بڑی تعداد میں نماز ادا ہوتی ہے اسی حساب سے تمام انتظامات بھی کیے جاتے ہیں ۔ سیکورٹی اور ٹریفک کا بندوبست پولیس کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو جامع مسجد کمیٹی بھی اس کے لئے مختلف خدمت گاروں کو ذمہ داری دیتی ہے تاکہ نمازیوں کو آسانی ہو سکے ۔

  • بھلے ہی پولیس انتظامیہ اور جامع مسجد کمیٹی کی جانب سے نماز کے انتظامات کی پوری کوشش کی جائے لیکن  جوہری مارکیٹ کے ویاپار منڈل اور یہاں موجود ہندو تاجر طویل عرصے سے رمضان میں جمعہ کی نماز میں اپنی طرف سے مکمل مدد کرتے آ رہے ہیں ۔

    بھلے ہی پولیس انتظامیہ اور جامع مسجد کمیٹی کی جانب سے نماز کے انتظامات کی پوری کوشش کی جائے لیکن جوہری مارکیٹ کے ویاپار منڈل اور یہاں موجود ہندو تاجر طویل عرصے سے رمضان میں جمعہ کی نماز میں اپنی طرف سے مکمل مدد کرتے آ رہے ہیں ۔

  •  بات چاہے وضو کے انتظام کی ہو یا نمازيوں کو نماز پڑھنے کے لئے اپنی طرف سے چادریں بچھانے کی یا پھر ان کے لئے سایہ کے انتظام کی۔ بھلے ہی ان دنوں سورج پوری شدت سے آگ  برسا رہا ہو لیکن ایک طرف جمعہ کی نماز کا ثواب ہے تو دوسری طرف یہاں کی گنگا جمنی تہذيب میں اتنا پیار اور محبت رچی بسی ہے کہ یہاں نماز پڑھنے والے شدید گرمی کے باوجود ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں یہاں کے لیے امنڈ آتے ہیں ۔

    بات چاہے وضو کے انتظام کی ہو یا نمازيوں کو نماز پڑھنے کے لئے اپنی طرف سے چادریں بچھانے کی یا پھر ان کے لئے سایہ کے انتظام کی۔ بھلے ہی ان دنوں سورج پوری شدت سے آگ برسا رہا ہو لیکن ایک طرف جمعہ کی نماز کا ثواب ہے تو دوسری طرف یہاں کی گنگا جمنی تہذيب میں اتنا پیار اور محبت رچی بسی ہے کہ یہاں نماز پڑھنے والے شدید گرمی کے باوجود ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں یہاں کے لیے امنڈ آتے ہیں ۔

  • دارالحکومت جے پور میں ماہ رمضان میں روحانیت کا دور جاری ہے ۔ یہاں رمضان میں جمعہ کی ایک نماز ہو چکی ہے اور ابھی تین باقی ہیں۔ گرمی میں شدت اور حالات مشکل کیوں نہ ہوں لیکن جوہری بازار میں جب مسلم بھائیوں کے ساتھ میں ہندو بھائی سایہ کا انتظام کرنے اور وضو کرانے میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے ہیں تو روزہ دار نمازيوں  کا حوصلہ اور بڑھ جاتا ہے ۔
  •  گلابی شہر میں گزشتہ سوا سو سال سے جوہری مارکیٹ کی جامع مسجد میں ریاست میں سب سے زیادہ نمازيوں کی تعداد والی جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ماہ رمضان میں نمازيوں کی قطاریں اتنی لمبی ہوتی ہیں کہ انہیں مارکیٹ کے روڈ پر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنی پڑتی ہے ۔ یہاں سات سے آٹھ لاکھ نمازی ایک ساتھ نماز کے لیے پہنچتے ہیں ۔
  • پھر سانگانیری گیٹ سے لے کر بڑی چوپڑ تک اور بڑی چوپڑ سے لے کر چاندی کی ٹکسال تک، یا پھر ترپوليا گیٹ سے لے کر رام گنج تک ہر طرف خدا کی  بارگاہ میں لاکھوں روزہ دار ایک ساتھ خدا کی بارگاہ میں سجدہ کرتے اور گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ریاست میں امن، چین سکون، ترقی، قومی اتحاد اور بہتر مانسون کی دعا مانگتے نظر آتے ہیں ۔
  •  یہاں مسلمانوں کی جس بڑی تعداد میں نماز ادا ہوتی ہے اسی حساب سے تمام انتظامات بھی  کیے جاتے ہیں ۔ سیکورٹی اور ٹریفک کا بندوبست پولیس کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو جامع مسجد کمیٹی بھی اس کے لئے مختلف خدمت گاروں کو ذمہ داری دیتی ہے تاکہ نمازیوں کو آسانی ہو سکے ۔
  • بھلے ہی پولیس انتظامیہ اور جامع مسجد کمیٹی کی جانب سے نماز کے انتظامات کی پوری کوشش کی جائے لیکن  جوہری مارکیٹ کے ویاپار منڈل اور یہاں موجود ہندو تاجر طویل عرصے سے رمضان میں جمعہ کی نماز میں اپنی طرف سے مکمل مدد کرتے آ رہے ہیں ۔
  •  بات چاہے وضو کے انتظام کی ہو یا نمازيوں کو نماز پڑھنے کے لئے اپنی طرف سے چادریں بچھانے کی یا پھر ان کے لئے سایہ کے انتظام کی۔ بھلے ہی ان دنوں سورج پوری شدت سے آگ  برسا رہا ہو لیکن ایک طرف جمعہ کی نماز کا ثواب ہے تو دوسری طرف یہاں کی گنگا جمنی تہذيب میں اتنا پیار اور محبت رچی بسی ہے کہ یہاں نماز پڑھنے والے شدید گرمی کے باوجود ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں یہاں کے لیے امنڈ آتے ہیں ۔

تازہ ترین تصاویر