قابل دید ہوتی ہے مختلف تہذیبوں کے مرکز ممبئی میں ماہ رمضان کی رونق

Jun 14, 2017 12:32 PM IST
1 of 13
  • بحرعرب کے مغربی ساحل پر آباد خوابوں کا شہر ممبئی کل تک سات چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل تھا اور آج عروس البلاد یعنی شہروں کی دلہن کہلاتا ہے۔ ممبئی ریاست مہاراشٹر کا صدر مقام ہے ۔ یہ شہر اپنی صنعت و حرفت کی سرگرمیوں کی بنیاد پرملک کی معاشی راجدھانی بھی کہلاتا ہے۔ مختلف مذاہب اور تہزیب کا مرکز ہے ممبئی۔ گوناگوں خصوصیات کا حامل شہر ممبئی گوناگوں تہذیب و ثقافت کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ممبئی کی صنعتی و تجارتی اہمیت نے ہندوستان کے ہر حصے کے افراد کو یہاں لا کربسایا ۔ یہاں ماہ رمضان کی رونق دیکھتے ہی بنتی ہے۔

    بحرعرب کے مغربی ساحل پر آباد خوابوں کا شہر ممبئی کل تک سات چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل تھا اور آج عروس البلاد یعنی شہروں کی دلہن کہلاتا ہے۔ ممبئی ریاست مہاراشٹر کا صدر مقام ہے ۔ یہ شہر اپنی صنعت و حرفت کی سرگرمیوں کی بنیاد پرملک کی معاشی راجدھانی بھی کہلاتا ہے۔ مختلف مذاہب اور تہزیب کا مرکز ہے ممبئی۔ گوناگوں خصوصیات کا حامل شہر ممبئی گوناگوں تہذیب و ثقافت کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ممبئی کی صنعتی و تجارتی اہمیت نے ہندوستان کے ہر حصے کے افراد کو یہاں لا کربسایا ۔ یہاں ماہ رمضان کی رونق دیکھتے ہی بنتی ہے۔

  • ماہ رمضان میں شہر ممبئی کی فضا نورانی ہوجاتی ہے۔ دن خوش نما تو راتیں نورانی ہو جاتی ہیں ۔ ماہ صیام میں شہر کا مسلم طبقہ روزہ نماز میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اس ماہ میں شہر کے مسلمانوں کا شیڈول بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ عام دنوں کے مقابلے مسجدیں بھری بھری رہتی ہیں۔ شہر کا مسلمان اس کوشش میں رہتا ہیکہ اس ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے۔

    ماہ رمضان میں شہر ممبئی کی فضا نورانی ہوجاتی ہے۔ دن خوش نما تو راتیں نورانی ہو جاتی ہیں ۔ ماہ صیام میں شہر کا مسلم طبقہ روزہ نماز میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اس ماہ میں شہر کے مسلمانوں کا شیڈول بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ عام دنوں کے مقابلے مسجدیں بھری بھری رہتی ہیں۔ شہر کا مسلمان اس کوشش میں رہتا ہیکہ اس ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے۔

  • ممبئی میں بھی سحرو افطارمیں خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ شہر میں افطاری کے بازار سجتے ہیں ۔ بازاروں میں انواع و اقسام کے پھل دستیاب ہوتے ہیں۔

    ممبئی میں بھی سحرو افطارمیں خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ شہر میں افطاری کے بازار سجتے ہیں ۔ بازاروں میں انواع و اقسام کے پھل دستیاب ہوتے ہیں۔

  • مسلم علاقوں میں افطاری سے قبل گہما گہمی بڑھ جاتی ہے۔ لوگ عصر کی نمازکے بعد افطاری کے لئے بازار کا رخ کرتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ممبئی میں گنگا جمنی تہذیب کا ملاپ نظر ٓاتا ہے۔ ممبئی کے رمضان کو ہندو مسلم مل کرمناتے ہیں۔ افطاری کے بازار میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم خریدار بھی نظر  آتے ہیں۔

    مسلم علاقوں میں افطاری سے قبل گہما گہمی بڑھ جاتی ہے۔ لوگ عصر کی نمازکے بعد افطاری کے لئے بازار کا رخ کرتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ممبئی میں گنگا جمنی تہذیب کا ملاپ نظر ٓاتا ہے۔ ممبئی کے رمضان کو ہندو مسلم مل کرمناتے ہیں۔ افطاری کے بازار میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم خریدار بھی نظر آتے ہیں۔

  • جس طرح ممبئی گوناگوں تہذیبوں کا مرکزہے اسی طرح  ممبئی میں کئی اقسام کے پکوان بھی دستیاب ہوتے ہیں ۔ ممبئی میں افطاری میں لوگ رگڑا چنا کھانا پسند کرتے ہیں۔ افطاری کے ہر بازار میں آپ کو رگڑا اور چنے کی دوکانیں ملیں گی ۔

    جس طرح ممبئی گوناگوں تہذیبوں کا مرکزہے اسی طرح ممبئی میں کئی اقسام کے پکوان بھی دستیاب ہوتے ہیں ۔ ممبئی میں افطاری میں لوگ رگڑا چنا کھانا پسند کرتے ہیں۔ افطاری کے ہر بازار میں آپ کو رگڑا اور چنے کی دوکانیں ملیں گی ۔

  •  ممبئی میں افطاری میں کباب بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ممبئی میں ماہ رمضان میں کئی اقسام کے کباب بنائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ماہ صیام میں افطاری کے بعد لوگ نلی نہاری بھی کھانا پسند کرتے ہیں۔ نلی نہاری بھنڈی بازار کی نور محمدی اور چائنیزاینڈ گرل کی نلی نہاری بہت مشہور ہے۔

    ممبئی میں افطاری میں کباب بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ممبئی میں ماہ رمضان میں کئی اقسام کے کباب بنائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ماہ صیام میں افطاری کے بعد لوگ نلی نہاری بھی کھانا پسند کرتے ہیں۔ نلی نہاری بھنڈی بازار کی نور محمدی اور چائنیزاینڈ گرل کی نلی نہاری بہت مشہور ہے۔

  •  ماہ مقدس میں ممبئی کی تقریبا تمام مساجد میں روزہ افطاری کا اہتمام ہوتا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد سے ہی  مساجد میں افطاری کے انتظامات شروع ہو جاتے ہیں۔ مساجد میں ضرورت مندوں اور مسافروں کے لئے افطاری کا نظم کیا جاتا ہے۔

    ماہ مقدس میں ممبئی کی تقریبا تمام مساجد میں روزہ افطاری کا اہتمام ہوتا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد سے ہی مساجد میں افطاری کے انتظامات شروع ہو جاتے ہیں۔ مساجد میں ضرورت مندوں اور مسافروں کے لئے افطاری کا نظم کیا جاتا ہے۔

  •  ممبئی کی کئی مساجد میں افطاری سے قبل روح پرور بیان بھی ہوتا ہے۔ بیان کے ذریعے رمضان کے فضائل اور عبادات سے متعلق باتیں ہوتی ہیں۔

    ممبئی کی کئی مساجد میں افطاری سے قبل روح پرور بیان بھی ہوتا ہے۔ بیان کے ذریعے رمضان کے فضائل اور عبادات سے متعلق باتیں ہوتی ہیں۔

  • افطاری کے بعد ممبئی شہر کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔ ممبئی  کے بھنڈی بازار اورمحمد علی روڈ کا نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔ چہار جانب رونق ہوتی ہے ۔ بازار سجتے ہیں اورمختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں۔

    افطاری کے بعد ممبئی شہر کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔ ممبئی کے بھنڈی بازار اورمحمد علی روڈ کا نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔ چہار جانب رونق ہوتی ہے ۔ بازار سجتے ہیں اورمختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں۔

  • ممبئی کے مینارہ مسجد علاقے کی بات ہی نرالی ہوتی ہے یہاں مختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں ۔ مینارہ مسجد پر رمضان فوڈ فیسٹیول کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

    ممبئی کے مینارہ مسجد علاقے کی بات ہی نرالی ہوتی ہے یہاں مختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں ۔ مینارہ مسجد پر رمضان فوڈ فیسٹیول کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

  • مینارہ مسجد پر لگنے والا پکوانوں کا بازار افطاری سے سحری تک جاری و ساری رہتا ہے۔ لوگ رات بھرذائقے داراشیا کا مزہ لیتے ہیں۔ افطاری کے بعد مینارہ مسجد کے قریب لگنے والا کھانے کا بازار شروع ہوتا ہےجو سحری تک جاری رہتا ہے۔

    مینارہ مسجد پر لگنے والا پکوانوں کا بازار افطاری سے سحری تک جاری و ساری رہتا ہے۔ لوگ رات بھرذائقے داراشیا کا مزہ لیتے ہیں۔ افطاری کے بعد مینارہ مسجد کے قریب لگنے والا کھانے کا بازار شروع ہوتا ہےجو سحری تک جاری رہتا ہے۔

  •  اس بازار میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں رمضان کا لطف لینے کیلئے آتے ہیں اور رمضان کے کھانوں کا مزہ لوٹتے ہیں۔ یہاں چکن اور مٹن کے علاوہ تیتر بٹیر بھی ملتا ہے۔ ماہ رمضان میں یہاں کھانوں کے میلوں سا ماحول ہوتا ہے۔

    اس بازار میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں رمضان کا لطف لینے کیلئے آتے ہیں اور رمضان کے کھانوں کا مزہ لوٹتے ہیں۔ یہاں چکن اور مٹن کے علاوہ تیتر بٹیر بھی ملتا ہے۔ ماہ رمضان میں یہاں کھانوں کے میلوں سا ماحول ہوتا ہے۔

  • 13

    13

  • ماہ رمضان میں شہر ممبئی کی فضا نورانی ہوجاتی ہے۔ دن خوش نما تو راتیں نورانی ہو جاتی ہیں ۔ ماہ صیام میں شہر کا مسلم طبقہ روزہ نماز میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اس ماہ میں شہر کے مسلمانوں کا شیڈول بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ عام دنوں کے مقابلے مسجدیں بھری بھری رہتی ہیں۔ شہر کا مسلمان اس کوشش میں رہتا ہیکہ اس ماہ مقدس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے۔
  • ممبئی میں بھی سحرو افطارمیں خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ شہر میں افطاری کے بازار سجتے ہیں ۔ بازاروں میں انواع و اقسام کے پھل دستیاب ہوتے ہیں۔
  • مسلم علاقوں میں افطاری سے قبل گہما گہمی بڑھ جاتی ہے۔ لوگ عصر کی نمازکے بعد افطاری کے لئے بازار کا رخ کرتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ممبئی میں گنگا جمنی تہذیب کا ملاپ نظر ٓاتا ہے۔ ممبئی کے رمضان کو ہندو مسلم مل کرمناتے ہیں۔ افطاری کے بازار میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم خریدار بھی نظر  آتے ہیں۔
  • جس طرح ممبئی گوناگوں تہذیبوں کا مرکزہے اسی طرح  ممبئی میں کئی اقسام کے پکوان بھی دستیاب ہوتے ہیں ۔ ممبئی میں افطاری میں لوگ رگڑا چنا کھانا پسند کرتے ہیں۔ افطاری کے ہر بازار میں آپ کو رگڑا اور چنے کی دوکانیں ملیں گی ۔
  •  ممبئی میں افطاری میں کباب بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ممبئی میں ماہ رمضان میں کئی اقسام کے کباب بنائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ماہ صیام میں افطاری کے بعد لوگ نلی نہاری بھی کھانا پسند کرتے ہیں۔ نلی نہاری بھنڈی بازار کی نور محمدی اور چائنیزاینڈ گرل کی نلی نہاری بہت مشہور ہے۔
  •  ماہ مقدس میں ممبئی کی تقریبا تمام مساجد میں روزہ افطاری کا اہتمام ہوتا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد سے ہی  مساجد میں افطاری کے انتظامات شروع ہو جاتے ہیں۔ مساجد میں ضرورت مندوں اور مسافروں کے لئے افطاری کا نظم کیا جاتا ہے۔
  •  ممبئی کی کئی مساجد میں افطاری سے قبل روح پرور بیان بھی ہوتا ہے۔ بیان کے ذریعے رمضان کے فضائل اور عبادات سے متعلق باتیں ہوتی ہیں۔
  • افطاری کے بعد ممبئی شہر کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔ ممبئی  کے بھنڈی بازار اورمحمد علی روڈ کا نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔ چہار جانب رونق ہوتی ہے ۔ بازار سجتے ہیں اورمختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں۔
  • ممبئی کے مینارہ مسجد علاقے کی بات ہی نرالی ہوتی ہے یہاں مختلف پکوانوں کی دوکانیں سجتی ہیں ۔ مینارہ مسجد پر رمضان فوڈ فیسٹیول کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
  • مینارہ مسجد پر لگنے والا پکوانوں کا بازار افطاری سے سحری تک جاری و ساری رہتا ہے۔ لوگ رات بھرذائقے داراشیا کا مزہ لیتے ہیں۔ افطاری کے بعد مینارہ مسجد کے قریب لگنے والا کھانے کا بازار شروع ہوتا ہےجو سحری تک جاری رہتا ہے۔
  •  اس بازار میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں رمضان کا لطف لینے کیلئے آتے ہیں اور رمضان کے کھانوں کا مزہ لوٹتے ہیں۔ یہاں چکن اور مٹن کے علاوہ تیتر بٹیر بھی ملتا ہے۔ ماہ رمضان میں یہاں کھانوں کے میلوں سا ماحول ہوتا ہے۔
  • 13

تازہ ترین تصاویر