جموں و کشمیر : ری پولنگ میں 35 ہزار سے زائد ووٹروں میں سے صرف 709 نے ڈالے ووٹ

Apr 13, 2017 07:42 PM IST
1 of 17
  • جموں وکشمیر کے چیف الیکشن افسر شانت منو نے کہا وسطی ضلع بڈگام کے 5اسمبلی حلقوں میں سری نگر پارلیمانی نشست کے تحت جمعرات کو دوبارہ پولنگ پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے 38پولنگ سٹیشنوں کے 35169رائے دہندگان میں709نے دوبارہ پولنگ کے دوران اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اس طرح آج 2.02فیصد رائے دہندگان نے ووٹ کا استعمال کیا۔ سی ای او نے عوام اور ملازمین کو انتخابی مشق کو کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہنچانے کے لئے اُن کاشکریہ ادا کیا۔ ووٹوں کی گنتی15اپریل کو ہوگی۔

    جموں وکشمیر کے چیف الیکشن افسر شانت منو نے کہا وسطی ضلع بڈگام کے 5اسمبلی حلقوں میں سری نگر پارلیمانی نشست کے تحت جمعرات کو دوبارہ پولنگ پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے 38پولنگ سٹیشنوں کے 35169رائے دہندگان میں709نے دوبارہ پولنگ کے دوران اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اس طرح آج 2.02فیصد رائے دہندگان نے ووٹ کا استعمال کیا۔ سی ای او نے عوام اور ملازمین کو انتخابی مشق کو کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہنچانے کے لئے اُن کاشکریہ ادا کیا۔ ووٹوں کی گنتی15اپریل کو ہوگی۔

  • سرکاری ذرائع کے مطابق پولنگ کا سلسلہ صبح سات بجے شروع ہوکر شام چار بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 35 ہزار 169 رائے دہندگان میں سے صرف 709 رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق پولنگ کا سلسلہ صبح سات بجے شروع ہوکر شام چار بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 35 ہزار 169 رائے دہندگان میں سے صرف 709 رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

  • سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 38 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی شرح محض 2 فیصد رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 38 میں سے 27 پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 38 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی شرح محض 2 فیصد رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 38 میں سے 27 پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔

  • خیال رہے کہ 9 اپریل کو سری نگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخابات کے تحت پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین نے 38 پولنگ اسٹیشنوں میں سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملے پر حملہ کرکے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے پولنگ کے عمل کو بیچ میں ہی روکنا پڑا تھا۔

    خیال رہے کہ 9 اپریل کو سری نگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخابات کے تحت پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین نے 38 پولنگ اسٹیشنوں میں سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملے پر حملہ کرکے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے پولنگ کے عمل کو بیچ میں ہی روکنا پڑا تھا۔

  • ان میں سے ایک پولنگ اسٹیشن وہ بھی تھا جہاں احتجاجی مظاہرین نے قریب ایک درجن سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکاروں کو کم از کم پانچ گھنٹوں تک یرغمال بنا رکھا تھا۔

    ان میں سے ایک پولنگ اسٹیشن وہ بھی تھا جہاں احتجاجی مظاہرین نے قریب ایک درجن سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکاروں کو کم از کم پانچ گھنٹوں تک یرغمال بنا رکھا تھا۔

  •  نو اپریل کو پولنگ کے دوران آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین بدترین جھڑپوں میں بڈگام اور گاندربل اضلاع میں 8نوجوان ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

    نو اپریل کو پولنگ کے دوران آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین بدترین جھڑپوں میں بڈگام اور گاندربل اضلاع میں 8نوجوان ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

  • جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ضلع بڈگام میں 7 جبکہ ضلع گاندربل میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا تھا۔

    جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ضلع بڈگام میں 7 جبکہ ضلع گاندربل میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا تھا۔

  • یہ ہلاکتیں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے آزادی حامی مظاہرین کے خلاف بے تحاشہ طاقت کے استعمال کے سبب ہوئی تھیں۔

    یہ ہلاکتیں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے آزادی حامی مظاہرین کے خلاف بے تحاشہ طاقت کے استعمال کے سبب ہوئی تھیں۔

  • اگرچہ شہری ہلاکتوں سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے گذشتہ روز جنوبی کشمیر کے چار حساس اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے 12 اپریل کو ہونے والے پولنگ ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ، تاہم ضلع بڈگام کے اُن 38 پولنگ اسٹیشنوں پر 13 اپریل کو دوبارہ پولنگ کرانے کا غیرمتوقع اعلان کردیا جہاں 9 اپریل کو تشدد بھڑک اٹھنے سے ووٹ نہیں ڈالے جاسکے تھے۔

    اگرچہ شہری ہلاکتوں سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے گذشتہ روز جنوبی کشمیر کے چار حساس اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے 12 اپریل کو ہونے والے پولنگ ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ، تاہم ضلع بڈگام کے اُن 38 پولنگ اسٹیشنوں پر 13 اپریل کو دوبارہ پولنگ کرانے کا غیرمتوقع اعلان کردیا جہاں 9 اپریل کو تشدد بھڑک اٹھنے سے ووٹ نہیں ڈالے جاسکے تھے۔

  • کشمیر انتظامیہ نے ضلع بڈگام میں ری پولنگ کے دوران کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کردی تھی جس کی وجہ سے پورا ضلع بڈگام ایک بڑی فوجی چھاونی کا منظر پیش کررہا تھا۔

    کشمیر انتظامیہ نے ضلع بڈگام میں ری پولنگ کے دوران کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کردی تھی جس کی وجہ سے پورا ضلع بڈگام ایک بڑی فوجی چھاونی کا منظر پیش کررہا تھا۔

  • رپورٹوں کے مطابق ضلع میں رائے دہندگان کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لئے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لئے نیم فوجی دستوں کی 50 اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔

    رپورٹوں کے مطابق ضلع میں رائے دہندگان کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لئے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لئے نیم فوجی دستوں کی 50 اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔

  •  چند ایک پولنگ اسٹیشنوں میں سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ بھی نظر نہیں آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات انتخابی عملہ رائے دہندگان کا انتظار کرتے کرتے تھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔

    چند ایک پولنگ اسٹیشنوں میں سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ بھی نظر نہیں آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات انتخابی عملہ رائے دہندگان کا انتظار کرتے کرتے تھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔

  •  ہر پولنگ اسٹیشن کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ سینئر پولیس افسران بذات خود صورتحال کو مانیٹر کررہے تھے۔

    ہر پولنگ اسٹیشن کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ سینئر پولیس افسران بذات خود صورتحال کو مانیٹر کررہے تھے۔

  •  ہر پولنگ والے علاقوں کی سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں اور ان پر خال خال ہی کوئی راہگیر چلتا ہوا نظر آرہا تھا۔

    ہر پولنگ والے علاقوں کی سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں اور ان پر خال خال ہی کوئی راہگیر چلتا ہوا نظر آرہا تھا۔

  • تاہم سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود ضلع بڈگام میں چند ایک مقامات بشمول نصراللہ پورہ، بیروہ اور سویہ بگ میں آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے آنسوں گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گنوں سے فائرنگ کی۔

    تاہم سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود ضلع بڈگام میں چند ایک مقامات بشمول نصراللہ پورہ، بیروہ اور سویہ بگ میں آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے آنسوں گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گنوں سے فائرنگ کی۔

  • ایک رپورٹ کے مطابق نصراللہ پورہ بڈگام میں سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے اُس وقت طاقت کا استعمال کیا جب درجنوں مظاہرین نے ٹکی پورہ میں قائم پولنگ اسٹیشن کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔

    ایک رپورٹ کے مطابق نصراللہ پورہ بڈگام میں سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے اُس وقت طاقت کا استعمال کیا جب درجنوں مظاہرین نے ٹکی پورہ میں قائم پولنگ اسٹیشن کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔

  • جھڑپوں کے دوران متعدد احتجاجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس دعوے کے باوجود کہ ضلع بڈگام میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن کو منتقل نہیں کیا جائے گا، الیکشن انتظامیہ نے دو پولنگ اسٹیشنوں کو راتوں رات دوسری جگہ پر منتقل کیا تھا۔

    جھڑپوں کے دوران متعدد احتجاجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس دعوے کے باوجود کہ ضلع بڈگام میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن کو منتقل نہیں کیا جائے گا، الیکشن انتظامیہ نے دو پولنگ اسٹیشنوں کو راتوں رات دوسری جگہ پر منتقل کیا تھا۔

  • سرکاری ذرائع کے مطابق پولنگ کا سلسلہ صبح سات بجے شروع ہوکر شام چار بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 35 ہزار 169 رائے دہندگان میں سے صرف 709 رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
  • سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 38 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی شرح محض 2 فیصد رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 38 میں سے 27 پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔
  • خیال رہے کہ 9 اپریل کو سری نگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخابات کے تحت پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین نے 38 پولنگ اسٹیشنوں میں سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملے پر حملہ کرکے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے پولنگ کے عمل کو بیچ میں ہی روکنا پڑا تھا۔
  • ان میں سے ایک پولنگ اسٹیشن وہ بھی تھا جہاں احتجاجی مظاہرین نے قریب ایک درجن سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکاروں کو کم از کم پانچ گھنٹوں تک یرغمال بنا رکھا تھا۔
  •  نو اپریل کو پولنگ کے دوران آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین بدترین جھڑپوں میں بڈگام اور گاندربل اضلاع میں 8نوجوان ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
  • جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ضلع بڈگام میں 7 جبکہ ضلع گاندربل میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا تھا۔
  • یہ ہلاکتیں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے آزادی حامی مظاہرین کے خلاف بے تحاشہ طاقت کے استعمال کے سبب ہوئی تھیں۔
  • اگرچہ شہری ہلاکتوں سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے گذشتہ روز جنوبی کشمیر کے چار حساس اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے 12 اپریل کو ہونے والے پولنگ ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ، تاہم ضلع بڈگام کے اُن 38 پولنگ اسٹیشنوں پر 13 اپریل کو دوبارہ پولنگ کرانے کا غیرمتوقع اعلان کردیا جہاں 9 اپریل کو تشدد بھڑک اٹھنے سے ووٹ نہیں ڈالے جاسکے تھے۔
  • کشمیر انتظامیہ نے ضلع بڈگام میں ری پولنگ کے دوران کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کردی تھی جس کی وجہ سے پورا ضلع بڈگام ایک بڑی فوجی چھاونی کا منظر پیش کررہا تھا۔
  • رپورٹوں کے مطابق ضلع میں رائے دہندگان کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لئے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لئے نیم فوجی دستوں کی 50 اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔
  •  چند ایک پولنگ اسٹیشنوں میں سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ بھی نظر نہیں آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات انتخابی عملہ رائے دہندگان کا انتظار کرتے کرتے تھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔
  •  ہر پولنگ اسٹیشن کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ سینئر پولیس افسران بذات خود صورتحال کو مانیٹر کررہے تھے۔
  •  ہر پولنگ والے علاقوں کی سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں اور ان پر خال خال ہی کوئی راہگیر چلتا ہوا نظر آرہا تھا۔
  • تاہم سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود ضلع بڈگام میں چند ایک مقامات بشمول نصراللہ پورہ، بیروہ اور سویہ بگ میں آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے آنسوں گیس کی شیلنگ اور پیلٹ گنوں سے فائرنگ کی۔
  • ایک رپورٹ کے مطابق نصراللہ پورہ بڈگام میں سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے اُس وقت طاقت کا استعمال کیا جب درجنوں مظاہرین نے ٹکی پورہ میں قائم پولنگ اسٹیشن کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔
  • جھڑپوں کے دوران متعدد احتجاجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس دعوے کے باوجود کہ ضلع بڈگام میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن کو منتقل نہیں کیا جائے گا، الیکشن انتظامیہ نے دو پولنگ اسٹیشنوں کو راتوں رات دوسری جگہ پر منتقل کیا تھا۔

تازہ ترین تصاویر