روی شنکر پرساد کے بیان پرمسلم دانشوروں کو سخت اعتراض، غیرمسلم خواتین نے بھی حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے کیے

Feb 08, 2017 03:27 PM IST
1 of 6
  • مرکزی حکومت میں سینئر وزیر روی شنکر پرساد کے تین طلاق کے تعلق سے دیئے گئے بیان پرمسلم دانشوروں نے سخت اعتراض کیا ہے۔ ان دانشوروں نے متنبہ کیا ہے کہ مذہبی معاملات میں حکومت مداخلت کی کوشش نہ کرے ۔ وہیں دوسری جانب مسلم خواتین کے ساتھ غیرمسلم خواتین نے بھی حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔

    مرکزی حکومت میں سینئر وزیر روی شنکر پرساد کے تین طلاق کے تعلق سے دیئے گئے بیان پرمسلم دانشوروں نے سخت اعتراض کیا ہے۔ ان دانشوروں نے متنبہ کیا ہے کہ مذہبی معاملات میں حکومت مداخلت کی کوشش نہ کرے ۔ وہیں دوسری جانب مسلم خواتین کے ساتھ غیرمسلم خواتین نے بھی حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔

  • تین طلاق مسلم خواتین کے خلاف ظلم ہے، یہ ماننا ہے بی جے پی لیڈران اور مرکزی حکومت کا۔ مگر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگرمسلم دانشور مانتے ہیں کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کا ہے جس کے لئے کسی اور کو فکر کرنے یا مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔  ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ مذہبی معاملات میں سرکار کی مداخلت ظلم و زیادتی کے مترادف سمجھی جائیگی۔

    تین طلاق مسلم خواتین کے خلاف ظلم ہے، یہ ماننا ہے بی جے پی لیڈران اور مرکزی حکومت کا۔ مگر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگرمسلم دانشور مانتے ہیں کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کا ہے جس کے لئے کسی اور کو فکر کرنے یا مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ مذہبی معاملات میں سرکار کی مداخلت ظلم و زیادتی کے مترادف سمجھی جائیگی۔

  • تین طلاق کا مسئلہ مسلم خواتین کا ہے مگرمرکزی حکومت اتنی فکرمند کیوں ہے ؟  یہ سوال اب صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ سماج کے ہر با شعور طبقے کی طرف سے کھڑا کیا جا رہا ہے۔

    تین طلاق کا مسئلہ مسلم خواتین کا ہے مگرمرکزی حکومت اتنی فکرمند کیوں ہے ؟ یہ سوال اب صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ سماج کے ہر با شعور طبقے کی طرف سے کھڑا کیا جا رہا ہے۔

  •  مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم خواتین بھی یہ مانتی ہیں کہ سیاسی مفاد کے تحت بیانات دیئے جا رہے ہیں ۔ ورنہ سرکار سچ میں مخلص ہوتی تو خواتین کے بہبود کےلیے کوئی ٹھوس اسکیم لیکرسامنے آتی ۔

    مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم خواتین بھی یہ مانتی ہیں کہ سیاسی مفاد کے تحت بیانات دیئے جا رہے ہیں ۔ ورنہ سرکار سچ میں مخلص ہوتی تو خواتین کے بہبود کےلیے کوئی ٹھوس اسکیم لیکرسامنے آتی ۔

  • یہ بات اب اجاگر ہوچکی ہے کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں ، بی جے پی، لو جہاد، گھر واپسی، رام مندر، کامن سول کوڈ  اور تین طلاق جیسے موضوعات اچھال کرسیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

    یہ بات اب اجاگر ہوچکی ہے کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں ، بی جے پی، لو جہاد، گھر واپسی، رام مندر، کامن سول کوڈ اور تین طلاق جیسے موضوعات اچھال کرسیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

  • ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سیاسی سازشوں کا سکیولرطاقتوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا جائے تاکہ مذہبی خطوط پرسماجی تقسیم کو روکا جا سکے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سیاسی سازشوں کا سکیولرطاقتوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا جائے تاکہ مذہبی خطوط پرسماجی تقسیم کو روکا جا سکے۔

  • تین طلاق مسلم خواتین کے خلاف ظلم ہے، یہ ماننا ہے بی جے پی لیڈران اور مرکزی حکومت کا۔ مگر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگرمسلم دانشور مانتے ہیں کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کا ہے جس کے لئے کسی اور کو فکر کرنے یا مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔  ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ مذہبی معاملات میں سرکار کی مداخلت ظلم و زیادتی کے مترادف سمجھی جائیگی۔
  • تین طلاق کا مسئلہ مسلم خواتین کا ہے مگرمرکزی حکومت اتنی فکرمند کیوں ہے ؟  یہ سوال اب صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ سماج کے ہر با شعور طبقے کی طرف سے کھڑا کیا جا رہا ہے۔
  •  مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم خواتین بھی یہ مانتی ہیں کہ سیاسی مفاد کے تحت بیانات دیئے جا رہے ہیں ۔ ورنہ سرکار سچ میں مخلص ہوتی تو خواتین کے بہبود کےلیے کوئی ٹھوس اسکیم لیکرسامنے آتی ۔
  • یہ بات اب اجاگر ہوچکی ہے کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں ، بی جے پی، لو جہاد، گھر واپسی، رام مندر، کامن سول کوڈ  اور تین طلاق جیسے موضوعات اچھال کرسیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
  • ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سیاسی سازشوں کا سکیولرطاقتوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا جائے تاکہ مذہبی خطوط پرسماجی تقسیم کو روکا جا سکے۔

تازہ ترین تصاویر