دیکھیں : اٹلی کے جزیرہ سسلی میں مسلم مہاجرین کیسے گزار رہے ہیں ماہ رمضان

Jun 11, 2017 05:52 PM IST
1 of 10
  • بلقان روٹ کی بندش کے بعد مہاجرين کی اکثریت ليبيا کے راستہ آج کل يوروپ پہنچ رہی ہے، جہاں ان کی پہلی منزل اٹلی ہوتی ہے۔ جہاں ايک نيا ملک، نئی زبان اور نيا سماج، ان کیلئے کئی چیلنجز لے کر آتا ہے، وہیں رمضان  جیسے مقدس ماہ میں ایک انجانے شہر میں احساس تنہائی بھی انہیں خوب ستاتا ہے ۔ جانيے اٹلی کے جزيرے سسلی پر مسلمان مہاجرين رمضان المبار کيسے گزار رہے ہيں۔(تصاویر اور رپورٹ ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام سے لی گئی ہیں )۔

    بلقان روٹ کی بندش کے بعد مہاجرين کی اکثریت ليبيا کے راستہ آج کل يوروپ پہنچ رہی ہے، جہاں ان کی پہلی منزل اٹلی ہوتی ہے۔ جہاں ايک نيا ملک، نئی زبان اور نيا سماج، ان کیلئے کئی چیلنجز لے کر آتا ہے، وہیں رمضان جیسے مقدس ماہ میں ایک انجانے شہر میں احساس تنہائی بھی انہیں خوب ستاتا ہے ۔ جانيے اٹلی کے جزيرے سسلی پر مسلمان مہاجرين رمضان المبار کيسے گزار رہے ہيں۔(تصاویر اور رپورٹ ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام سے لی گئی ہیں )۔

  • رواں سال اب تک جتنے پناہ گزين يوروپ پہنچے ہيں، ان کی 85  فيصد تعداد اٹلی ميں موجود ہے۔ ان میں سے اکثريت کا تعلق مسلم ممالک سے ہے اور ہزاروں کے ليے ايک انجان ملک اور معاشرے ميں يہ ان کا پہلا رمضان ہے۔ رمضان ميں مذہبی ذمہ داريوں کو پورا کرنے کے سلسلے ميں مہاجرين کو سماجی مسائل کا سامنا ہے کيونکہ يہ سب ان کے ليے بالکل نيا ہے۔ تاہم سسلی ميں کتانيا کی مسجد الرحمان بہت سوں کے ليے سکون کی آغوش ہے۔

    رواں سال اب تک جتنے پناہ گزين يوروپ پہنچے ہيں، ان کی 85 فيصد تعداد اٹلی ميں موجود ہے۔ ان میں سے اکثريت کا تعلق مسلم ممالک سے ہے اور ہزاروں کے ليے ايک انجان ملک اور معاشرے ميں يہ ان کا پہلا رمضان ہے۔ رمضان ميں مذہبی ذمہ داريوں کو پورا کرنے کے سلسلے ميں مہاجرين کو سماجی مسائل کا سامنا ہے کيونکہ يہ سب ان کے ليے بالکل نيا ہے۔ تاہم سسلی ميں کتانيا کی مسجد الرحمان بہت سوں کے ليے سکون کی آغوش ہے۔

  • رمضان ميں سورج طلوع ہونے سے غروب ہونے تک کھايا، پيا نہيں جا سکتا ليکن روزے کا مقصد صرف يہی نہيں۔ مسلمان اس ماہ زيادہ سے زيادہ نيکياں کمانے کی کوشش کرتے ہيں۔ نائجيريا سے اٹلی پہنچ کر سولہ سالہ گلاڈيما کو احساس ہوا کہ يہاں کا طرز زندگی کس قدر مختلف ہے۔ اس نے کہا، ’’یورپ کے بارے ميں سب سے حيران کن بات يہ ہے کہ آپ کئی ماہ تک ان ہی افراد کو سڑکوں پر ديکھ سکتے ہيں ليکن آپ ان کے نام تک نہيں جان سکتے۔‘‘

    رمضان ميں سورج طلوع ہونے سے غروب ہونے تک کھايا، پيا نہيں جا سکتا ليکن روزے کا مقصد صرف يہی نہيں۔ مسلمان اس ماہ زيادہ سے زيادہ نيکياں کمانے کی کوشش کرتے ہيں۔ نائجيريا سے اٹلی پہنچ کر سولہ سالہ گلاڈيما کو احساس ہوا کہ يہاں کا طرز زندگی کس قدر مختلف ہے۔ اس نے کہا، ’’یورپ کے بارے ميں سب سے حيران کن بات يہ ہے کہ آپ کئی ماہ تک ان ہی افراد کو سڑکوں پر ديکھ سکتے ہيں ليکن آپ ان کے نام تک نہيں جان سکتے۔‘‘

  • مسلم ممالک سے پہلی دفعہ يورپ ميں آنے والے ان پناہ گزينوں کے ليے ایک بڑی تبديلی يہاں کا معاشرہ ہی نہيں بلکہ يہاں کا جغرافيہ بھی ہے۔ خطِ استوا سے زيادہ فاصلے کا مطلب ہے کہ یہاں گرمیوں میں دن کا دورانيہ زيادہ طويل ہوتا ہے اور نتيجتاً روزے کا دورانيہ بھی۔ گلاڈيما کہتا ہے، ’’ميں يہ سوچ بھی نہيں سکتا تھا کہ کوئی رات تين بجے سے اگلے دن رات آٹھ بجے تک روزہ رکھے۔ اب ميں اتنا طويل روزہ رکھ رہاں ہوں۔‘‘

    مسلم ممالک سے پہلی دفعہ يورپ ميں آنے والے ان پناہ گزينوں کے ليے ایک بڑی تبديلی يہاں کا معاشرہ ہی نہيں بلکہ يہاں کا جغرافيہ بھی ہے۔ خطِ استوا سے زيادہ فاصلے کا مطلب ہے کہ یہاں گرمیوں میں دن کا دورانيہ زيادہ طويل ہوتا ہے اور نتيجتاً روزے کا دورانيہ بھی۔ گلاڈيما کہتا ہے، ’’ميں يہ سوچ بھی نہيں سکتا تھا کہ کوئی رات تين بجے سے اگلے دن رات آٹھ بجے تک روزہ رکھے۔ اب ميں اتنا طويل روزہ رکھ رہاں ہوں۔‘‘

  • براعظم افريقہ کے مختلف حصوں سے پناہ گزين يورپ پہنچنے کے ليے ليبيا کا راستہ اختيار کرتے آئے ہيں۔ اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق اب بڑی تعداد ميں بنگلہ ديشی تارکين وطن بھی يہی راستہ اختيار کر رہے ہيں۔

    براعظم افريقہ کے مختلف حصوں سے پناہ گزين يورپ پہنچنے کے ليے ليبيا کا راستہ اختيار کرتے آئے ہيں۔ اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق اب بڑی تعداد ميں بنگلہ ديشی تارکين وطن بھی يہی راستہ اختيار کر رہے ہيں۔

  • سسلی بحيرہ روم کا سب سے بڑا جزيرہ اور اٹلی کا خود مختار علاقہ ہے۔ دنيا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی آمد کے تناظر ميں وہاں مسجد الرحمان کے مولوی نے مختلف زبانوں ميں قرآن پاک کی دستيابی کو يقينی بنايا ہے۔ مراکش نژاد مولوی بتاتے ہيں کہ ان کی مسجد ميں نماز ادا کرنے کے ليے دنيا بھر سے ہر شہريت کے لوگ آتے ہيں۔

    سسلی بحيرہ روم کا سب سے بڑا جزيرہ اور اٹلی کا خود مختار علاقہ ہے۔ دنيا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی آمد کے تناظر ميں وہاں مسجد الرحمان کے مولوی نے مختلف زبانوں ميں قرآن پاک کی دستيابی کو يقينی بنايا ہے۔ مراکش نژاد مولوی بتاتے ہيں کہ ان کی مسجد ميں نماز ادا کرنے کے ليے دنيا بھر سے ہر شہريت کے لوگ آتے ہيں۔

  • ’’مسجد ميں ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ رمضان ہے ليکن جب ميں سڑکوں پر ہوتا ہوں، تو لگتا ہے کہ يوں ہی کوئی عام سا دن ہے،‘‘ اٹھائيس سالہ پاکستانی تارک وطن خان کہتا ہے۔ اس کے بقول يہاں کا معاشرہ بہت مختلف ہے اور بالکل اسلامی نہيں۔ وہ مزيد کہتا ہے، ’’ميں مسيحی نہيں ليکن جب تک ہم سب ايک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ پيش آتے رہيں، اس سے کوئی فرق نہيں پڑتا کہ آپ کس مذہب کے ماننے والے ہيں۔‘‘

    ’’مسجد ميں ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ رمضان ہے ليکن جب ميں سڑکوں پر ہوتا ہوں، تو لگتا ہے کہ يوں ہی کوئی عام سا دن ہے،‘‘ اٹھائيس سالہ پاکستانی تارک وطن خان کہتا ہے۔ اس کے بقول يہاں کا معاشرہ بہت مختلف ہے اور بالکل اسلامی نہيں۔ وہ مزيد کہتا ہے، ’’ميں مسيحی نہيں ليکن جب تک ہم سب ايک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ پيش آتے رہيں، اس سے کوئی فرق نہيں پڑتا کہ آپ کس مذہب کے ماننے والے ہيں۔‘‘

  • جنوبی اٹلی ميں عام طور پر دکانيں شام کے وقت جلد بند ہو جاتی ہيں۔ سہ پہر کے وقت کھانے کا وقفہ بھی معمول کی بات ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ ديشی دکان دار زيادہ دير تک کام کرتے رہتے ہيں، خواہ کوئی بھی موسم اور کوئی بھی وقت ہو۔ پچيس سالہ مومن معتوبر کہتا ہے، ’’ہم تھکے ہوئے ہوں تو بھی اپنی دکان کھلی رکھتے ہيں اور کام کاج کرتے رہتے ہيں۔ رمضان ميں بھی يہ معمول مشکل نہيں کيونکہ يہ تو ہمارا مذہب ہے۔

    جنوبی اٹلی ميں عام طور پر دکانيں شام کے وقت جلد بند ہو جاتی ہيں۔ سہ پہر کے وقت کھانے کا وقفہ بھی معمول کی بات ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ ديشی دکان دار زيادہ دير تک کام کرتے رہتے ہيں، خواہ کوئی بھی موسم اور کوئی بھی وقت ہو۔ پچيس سالہ مومن معتوبر کہتا ہے، ’’ہم تھکے ہوئے ہوں تو بھی اپنی دکان کھلی رکھتے ہيں اور کام کاج کرتے رہتے ہيں۔ رمضان ميں بھی يہ معمول مشکل نہيں کيونکہ يہ تو ہمارا مذہب ہے۔

  • بہت سے تارکين وطن کے ليے رمضان ايک وقت بھی ہوتا ہے جب وہ اپنے آبائی علاقوں کے کھانے اور روايتی اسلامی طريقہ ہائے کار سے افطار کرنا چاہتے ہيں۔ ليکن سماجی انضمام کو فروغ دينے کے ليے کام کرنے والے اسمائيل جامع کا کہنا ہے کہ بيرون ملک رمضان کا مطلب يہ بھی ہے کہ لوگ نئے کھانے اور نئی روايات کو موقع ديں۔

    بہت سے تارکين وطن کے ليے رمضان ايک وقت بھی ہوتا ہے جب وہ اپنے آبائی علاقوں کے کھانے اور روايتی اسلامی طريقہ ہائے کار سے افطار کرنا چاہتے ہيں۔ ليکن سماجی انضمام کو فروغ دينے کے ليے کام کرنے والے اسمائيل جامع کا کہنا ہے کہ بيرون ملک رمضان کا مطلب يہ بھی ہے کہ لوگ نئے کھانے اور نئی روايات کو موقع ديں۔

  • ليبيا کے راستے حال ہی ميں اٹلی پہنچنے والے نوجوان مالا کا کہنا ہے، ’’آج کل رمضان جاری ہے۔ جب ميں اپنے گھر کو ياد کرتا ہوں تو خود کو بہت اکيلا محسوس کرتا ہوں۔‘‘ مالا کا يہ اپنے اہل خانہ کے بغير پہلا رمضان ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’ہم تو يہاں آمد پر ہی اجنبی ہيں ليکن اس ہجرت کا سب سے تکليف دہ پہلو اکيلے پن کا احساس ہے۔

    ليبيا کے راستے حال ہی ميں اٹلی پہنچنے والے نوجوان مالا کا کہنا ہے، ’’آج کل رمضان جاری ہے۔ جب ميں اپنے گھر کو ياد کرتا ہوں تو خود کو بہت اکيلا محسوس کرتا ہوں۔‘‘ مالا کا يہ اپنے اہل خانہ کے بغير پہلا رمضان ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’ہم تو يہاں آمد پر ہی اجنبی ہيں ليکن اس ہجرت کا سب سے تکليف دہ پہلو اکيلے پن کا احساس ہے۔

  • رواں سال اب تک جتنے پناہ گزين يوروپ پہنچے ہيں، ان کی 85  فيصد تعداد اٹلی ميں موجود ہے۔ ان میں سے اکثريت کا تعلق مسلم ممالک سے ہے اور ہزاروں کے ليے ايک انجان ملک اور معاشرے ميں يہ ان کا پہلا رمضان ہے۔ رمضان ميں مذہبی ذمہ داريوں کو پورا کرنے کے سلسلے ميں مہاجرين کو سماجی مسائل کا سامنا ہے کيونکہ يہ سب ان کے ليے بالکل نيا ہے۔ تاہم سسلی ميں کتانيا کی مسجد الرحمان بہت سوں کے ليے سکون کی آغوش ہے۔
  • رمضان ميں سورج طلوع ہونے سے غروب ہونے تک کھايا، پيا نہيں جا سکتا ليکن روزے کا مقصد صرف يہی نہيں۔ مسلمان اس ماہ زيادہ سے زيادہ نيکياں کمانے کی کوشش کرتے ہيں۔ نائجيريا سے اٹلی پہنچ کر سولہ سالہ گلاڈيما کو احساس ہوا کہ يہاں کا طرز زندگی کس قدر مختلف ہے۔ اس نے کہا، ’’یورپ کے بارے ميں سب سے حيران کن بات يہ ہے کہ آپ کئی ماہ تک ان ہی افراد کو سڑکوں پر ديکھ سکتے ہيں ليکن آپ ان کے نام تک نہيں جان سکتے۔‘‘
  • مسلم ممالک سے پہلی دفعہ يورپ ميں آنے والے ان پناہ گزينوں کے ليے ایک بڑی تبديلی يہاں کا معاشرہ ہی نہيں بلکہ يہاں کا جغرافيہ بھی ہے۔ خطِ استوا سے زيادہ فاصلے کا مطلب ہے کہ یہاں گرمیوں میں دن کا دورانيہ زيادہ طويل ہوتا ہے اور نتيجتاً روزے کا دورانيہ بھی۔ گلاڈيما کہتا ہے، ’’ميں يہ سوچ بھی نہيں سکتا تھا کہ کوئی رات تين بجے سے اگلے دن رات آٹھ بجے تک روزہ رکھے۔ اب ميں اتنا طويل روزہ رکھ رہاں ہوں۔‘‘
  • براعظم افريقہ کے مختلف حصوں سے پناہ گزين يورپ پہنچنے کے ليے ليبيا کا راستہ اختيار کرتے آئے ہيں۔ اطالوی وزارت داخلہ کے مطابق اب بڑی تعداد ميں بنگلہ ديشی تارکين وطن بھی يہی راستہ اختيار کر رہے ہيں۔
  • سسلی بحيرہ روم کا سب سے بڑا جزيرہ اور اٹلی کا خود مختار علاقہ ہے۔ دنيا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی آمد کے تناظر ميں وہاں مسجد الرحمان کے مولوی نے مختلف زبانوں ميں قرآن پاک کی دستيابی کو يقينی بنايا ہے۔ مراکش نژاد مولوی بتاتے ہيں کہ ان کی مسجد ميں نماز ادا کرنے کے ليے دنيا بھر سے ہر شہريت کے لوگ آتے ہيں۔
  • ’’مسجد ميں ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ رمضان ہے ليکن جب ميں سڑکوں پر ہوتا ہوں، تو لگتا ہے کہ يوں ہی کوئی عام سا دن ہے،‘‘ اٹھائيس سالہ پاکستانی تارک وطن خان کہتا ہے۔ اس کے بقول يہاں کا معاشرہ بہت مختلف ہے اور بالکل اسلامی نہيں۔ وہ مزيد کہتا ہے، ’’ميں مسيحی نہيں ليکن جب تک ہم سب ايک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ پيش آتے رہيں، اس سے کوئی فرق نہيں پڑتا کہ آپ کس مذہب کے ماننے والے ہيں۔‘‘
  • جنوبی اٹلی ميں عام طور پر دکانيں شام کے وقت جلد بند ہو جاتی ہيں۔ سہ پہر کے وقت کھانے کا وقفہ بھی معمول کی بات ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ ديشی دکان دار زيادہ دير تک کام کرتے رہتے ہيں، خواہ کوئی بھی موسم اور کوئی بھی وقت ہو۔ پچيس سالہ مومن معتوبر کہتا ہے، ’’ہم تھکے ہوئے ہوں تو بھی اپنی دکان کھلی رکھتے ہيں اور کام کاج کرتے رہتے ہيں۔ رمضان ميں بھی يہ معمول مشکل نہيں کيونکہ يہ تو ہمارا مذہب ہے۔
  • بہت سے تارکين وطن کے ليے رمضان ايک وقت بھی ہوتا ہے جب وہ اپنے آبائی علاقوں کے کھانے اور روايتی اسلامی طريقہ ہائے کار سے افطار کرنا چاہتے ہيں۔ ليکن سماجی انضمام کو فروغ دينے کے ليے کام کرنے والے اسمائيل جامع کا کہنا ہے کہ بيرون ملک رمضان کا مطلب يہ بھی ہے کہ لوگ نئے کھانے اور نئی روايات کو موقع ديں۔
  • ليبيا کے راستے حال ہی ميں اٹلی پہنچنے والے نوجوان مالا کا کہنا ہے، ’’آج کل رمضان جاری ہے۔ جب ميں اپنے گھر کو ياد کرتا ہوں تو خود کو بہت اکيلا محسوس کرتا ہوں۔‘‘ مالا کا يہ اپنے اہل خانہ کے بغير پہلا رمضان ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’ہم تو يہاں آمد پر ہی اجنبی ہيں ليکن اس ہجرت کا سب سے تکليف دہ پہلو اکيلے پن کا احساس ہے۔

تازہ ترین تصاویر