پریم چند کے اردو افسانوں پر مصر کی مختلف یونیورسٹیوں میں ہورہا ہے ریسرچ

Jan 02, 2017 10:39 PM IST
1 of 9
  • ہندوستان کے جن افسانہ نگاروں کے اردو یا ہندی افسانوں کا سب سے زیادہ ترجمہ دیگر زبانوں میں ہوا ہے ، ان میں سب سے بڑا نام منشی پریم چند کا ہے ۔ پریم چند کی تخلیقات کا بڑا حصہ اردو زبان میں ہے ۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے پریم چند کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اردو زبان میں ان کی ناول پر تحقیق اور دیگر زبانوں میں ان کے ترجمے کا کام غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھی خاطر خواہ انجام دیا جا رہا ہے ۔

    ہندوستان کے جن افسانہ نگاروں کے اردو یا ہندی افسانوں کا سب سے زیادہ ترجمہ دیگر زبانوں میں ہوا ہے ، ان میں سب سے بڑا نام منشی پریم چند کا ہے ۔ پریم چند کی تخلیقات کا بڑا حصہ اردو زبان میں ہے ۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے پریم چند کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اردو زبان میں ان کی ناول پر تحقیق اور دیگر زبانوں میں ان کے ترجمے کا کام غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھی خاطر خواہ انجام دیا جا رہا ہے ۔

  • ایسی ہی ایک یونیورسٹی ہے مصر کی عين شمس یونیورسٹی ، جہاں شعبہ مشرقی زبان میں نہ صرف اردو کی درس و تدریس کا کام انجام دیا جا رہا ہے بلکہ ان کی تخلیقات کو عربی ترجمہ کے ذریعہ عرب ممالک میں بھی عام کیاجارہا ہے۔

    ایسی ہی ایک یونیورسٹی ہے مصر کی عين شمس یونیورسٹی ، جہاں شعبہ مشرقی زبان میں نہ صرف اردو کی درس و تدریس کا کام انجام دیا جا رہا ہے بلکہ ان کی تخلیقات کو عربی ترجمہ کے ذریعہ عرب ممالک میں بھی عام کیاجارہا ہے۔

  •  پروفیسر رانیہ کا تعلق مصر سے ہےاور رانیہ عين شمس یونیورسٹی میں شعبہ مشرقی زبان میں صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

    پروفیسر رانیہ کا تعلق مصر سے ہےاور رانیہ عين شمس یونیورسٹی میں شعبہ مشرقی زبان میں صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

  •  اردو زبان میں پریم چند کی گئودان پر تحقیقی کام انجام دینے کے بعد اس ناول کا عربی زبان میں ترجمہ ان کا اہم کارنامہ ہے ۔ رانیہ کے مطابق پریم چند کی کہانیاں نہ صرف سماج کا آئینہ ہیں ، بلکہ ہندوستانی تہذیب کی بھی عکاسی کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کی ریسرچ میں موضوع کے انتخاب کے لئے پریم چند اسکالرز کی پہلی پسند بن جاتے ہیں ۔

    اردو زبان میں پریم چند کی گئودان پر تحقیقی کام انجام دینے کے بعد اس ناول کا عربی زبان میں ترجمہ ان کا اہم کارنامہ ہے ۔ رانیہ کے مطابق پریم چند کی کہانیاں نہ صرف سماج کا آئینہ ہیں ، بلکہ ہندوستانی تہذیب کی بھی عکاسی کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کی ریسرچ میں موضوع کے انتخاب کے لئے پریم چند اسکالرز کی پہلی پسند بن جاتے ہیں ۔

  •  پروفیسر رانیہ کے مطابق اردو زبان و ادب کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی درس و تدریس کا کام انجام دیا جا رہا ہے ۔ صرف شمس یونیورسٹی کے شعبہ مشرقی زبان میں اردو کے 300 سے زیادہ طلبہ ہیں ۔

    پروفیسر رانیہ کے مطابق اردو زبان و ادب کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی درس و تدریس کا کام انجام دیا جا رہا ہے ۔ صرف شمس یونیورسٹی کے شعبہ مشرقی زبان میں اردو کے 300 سے زیادہ طلبہ ہیں ۔

  • پروفیسر رانیہ کے مطابق ہندوستانی اردو اور دیوناگری کے ذریعہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو بھی مصر میں کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

    پروفیسر رانیہ کے مطابق ہندوستانی اردو اور دیوناگری کے ذریعہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو بھی مصر میں کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

  • وہیں بیرونی ممالک میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے مختلف تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ کوششیں انجام دی جا رہی ہیں ۔

    وہیں بیرونی ممالک میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے مختلف تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ کوششیں انجام دی جا رہی ہیں ۔

  •  ماہرین کا ماننا کہ ملکوں کے باہمی سیاسی تعلقات کے علاوہ گزشتہ کچھ وقت میں تہذیب و ثقافت کی سطح پر بھی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ہندی اور اردو ادب میں پریم چند پر ریسرچ کی تعداد اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔

    ماہرین کا ماننا کہ ملکوں کے باہمی سیاسی تعلقات کے علاوہ گزشتہ کچھ وقت میں تہذیب و ثقافت کی سطح پر بھی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ہندی اور اردو ادب میں پریم چند پر ریسرچ کی تعداد اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔

  • تاہم دنیا کے دیگر ملکوں میں پریم چند کی تخلیقات  کے حوالے سے انجام دے جا رہے کام ہندوستانی زبان اور ادب کے لئے باعث فخر ہے۔

    تاہم دنیا کے دیگر ملکوں میں پریم چند کی تخلیقات کے حوالے سے انجام دے جا رہے کام ہندوستانی زبان اور ادب کے لئے باعث فخر ہے۔

  • ایسی ہی ایک یونیورسٹی ہے مصر کی عين شمس یونیورسٹی ، جہاں شعبہ مشرقی زبان میں نہ صرف اردو کی درس و تدریس کا کام انجام دیا جا رہا ہے بلکہ ان کی تخلیقات کو عربی ترجمہ کے ذریعہ عرب ممالک میں بھی عام کیاجارہا ہے۔
  •  پروفیسر رانیہ کا تعلق مصر سے ہےاور رانیہ عين شمس یونیورسٹی میں شعبہ مشرقی زبان میں صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔
  •  اردو زبان میں پریم چند کی گئودان پر تحقیقی کام انجام دینے کے بعد اس ناول کا عربی زبان میں ترجمہ ان کا اہم کارنامہ ہے ۔ رانیہ کے مطابق پریم چند کی کہانیاں نہ صرف سماج کا آئینہ ہیں ، بلکہ ہندوستانی تہذیب کی بھی عکاسی کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کی ریسرچ میں موضوع کے انتخاب کے لئے پریم چند اسکالرز کی پہلی پسند بن جاتے ہیں ۔
  •  پروفیسر رانیہ کے مطابق اردو زبان و ادب کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی درس و تدریس کا کام انجام دیا جا رہا ہے ۔ صرف شمس یونیورسٹی کے شعبہ مشرقی زبان میں اردو کے 300 سے زیادہ طلبہ ہیں ۔
  • پروفیسر رانیہ کے مطابق ہندوستانی اردو اور دیوناگری کے ذریعہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو بھی مصر میں کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔
  • وہیں بیرونی ممالک میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے مختلف تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ کوششیں انجام دی جا رہی ہیں ۔
  •  ماہرین کا ماننا کہ ملکوں کے باہمی سیاسی تعلقات کے علاوہ گزشتہ کچھ وقت میں تہذیب و ثقافت کی سطح پر بھی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ہندی اور اردو ادب میں پریم چند پر ریسرچ کی تعداد اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔
  • تاہم دنیا کے دیگر ملکوں میں پریم چند کی تخلیقات  کے حوالے سے انجام دے جا رہے کام ہندوستانی زبان اور ادب کے لئے باعث فخر ہے۔

تازہ ترین تصاویر