اب ڈیبٹ کارڈ سے لین دین ہوگا سستا ، آر بی آئی نے پیش کی نئی شرحیں

Feb 17, 2017 06:32 PM IST
1 of 11
  • ملک کے سب سے بڑے بینک ریزرو بینک آف انڈیا نے آن لائن ٹرانزیکشن کو فروغ دینے کے لئے ایک اور قدم بڑھایا ہے۔ آر بی آئی نے ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن میں کاروباریوں اور تاجروں سے وصول کئے جانے والے ایم ڈی آر یعنی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی نئی شرح پیش کی ہے ۔ نئی شرح کی بنیاد لین دین کی حد نہیں، بلکہ کاروباریوں کی آمدنی کو مانا گیا ہے۔ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر نئی شرح کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ نئی شرح صلاح و مشورہ اور اتفاق رائے کے بعد یکم اپریل سے نافذ ہو گی۔

    ملک کے سب سے بڑے بینک ریزرو بینک آف انڈیا نے آن لائن ٹرانزیکشن کو فروغ دینے کے لئے ایک اور قدم بڑھایا ہے۔ آر بی آئی نے ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن میں کاروباریوں اور تاجروں سے وصول کئے جانے والے ایم ڈی آر یعنی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی نئی شرح پیش کی ہے ۔ نئی شرح کی بنیاد لین دین کی حد نہیں، بلکہ کاروباریوں کی آمدنی کو مانا گیا ہے۔ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر نئی شرح کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ نئی شرح صلاح و مشورہ اور اتفاق رائے کے بعد یکم اپریل سے نافذ ہو گی۔

  • اب تک ڈیبٹ کارڈ سے 1000 روپے کے ادائیگی پر زیادہ سے زیادہ ڈھائی روپے اور  ایک ہزار سے 2 ہزار روپے کے ٹرانزیکشن کے درمیان زیادہ سے زیادہ 10 روپے کا سروس چارج یعنی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ہوتا تھا ، لیکن اب یہ یکم اپریل سے بدل جائے گا۔ 2 ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین پر 1 فیصد سے زیادہ چارج لگے گا۔

    اب تک ڈیبٹ کارڈ سے 1000 روپے کے ادائیگی پر زیادہ سے زیادہ ڈھائی روپے اور ایک ہزار سے 2 ہزار روپے کے ٹرانزیکشن کے درمیان زیادہ سے زیادہ 10 روپے کا سروس چارج یعنی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ہوتا تھا ، لیکن اب یہ یکم اپریل سے بدل جائے گا۔ 2 ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین پر 1 فیصد سے زیادہ چارج لگے گا۔

  • آر بی آئی نے ایم ڈی آر کی شرح پر اب آمدنی کو بنیاد مانا ہے۔ یعنی 20 لاکھ روپے کے سالانہ کاروباری کو مشین کے یوز پر ایم ڈی آر کی شرح زیادہ سے زیادہ 0.4 فیصد دینی ہوگی۔

    آر بی آئی نے ایم ڈی آر کی شرح پر اب آمدنی کو بنیاد مانا ہے۔ یعنی 20 لاکھ روپے کے سالانہ کاروباری کو مشین کے یوز پر ایم ڈی آر کی شرح زیادہ سے زیادہ 0.4 فیصد دینی ہوگی۔

  • اس طرح اگر لین دین  ایک ہزار روپے تک ہو تو چارج 4 روپے تک لگ سکتا ہے، اور اگر  ایک ہزار سے زیادہ یعنی 2 ہزار روپے کا ہو تو چارج کی رقم 8 روپے تک ہوگی۔

    اس طرح اگر لین دین ایک ہزار روپے تک ہو تو چارج 4 روپے تک لگ سکتا ہے، اور اگر ایک ہزار سے زیادہ یعنی 2 ہزار روپے کا ہو تو چارج کی رقم 8 روپے تک ہوگی۔

  •  نئی شرح کے حساب سے اگر ٹرانزیکشن  ایک ہزار روپے سے کم ہے، تو پھر آپ کو چارج زیادہ دینا پڑ سکتا ہے، لیکن ایک ہزار سے زیادہ ہے ، تو پھر کم۔

    نئی شرح کے حساب سے اگر ٹرانزیکشن ایک ہزار روپے سے کم ہے، تو پھر آپ کو چارج زیادہ دینا پڑ سکتا ہے، لیکن ایک ہزار سے زیادہ ہے ، تو پھر کم۔

  • اہم بات یہ ہے کہ اگر کیو آر کوڈ کے ذریعہ ٹرانزیکشن ہوگا ، تو پھر زیادہ سے زیادہ چارج کی حد 0.3 فیصد ہو گی۔ یعنی کہ 1000 روپے پر 3 روپے کا چارج دینا گا۔

    اہم بات یہ ہے کہ اگر کیو آر کوڈ کے ذریعہ ٹرانزیکشن ہوگا ، تو پھر زیادہ سے زیادہ چارج کی حد 0.3 فیصد ہو گی۔ یعنی کہ 1000 روپے پر 3 روپے کا چارج دینا گا۔

  • خیال رہے کہ اگر کوئی کاروباری 20 لاکھ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرتا ہے، تو پھر وصول کئے جانے والا ایم ڈی آر 0.9 فیصد ہوگا ۔یعنی 1 ہزار روپے پر یہ ساڑھے 9 روپے تک ہوگا۔

    خیال رہے کہ اگر کوئی کاروباری 20 لاکھ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرتا ہے، تو پھر وصول کئے جانے والا ایم ڈی آر 0.9 فیصد ہوگا ۔یعنی 1 ہزار روپے پر یہ ساڑھے 9 روپے تک ہوگا۔

  • بجلی، انشورنس، پانی وغیرہ کے ادائیگی کے لئے بھی  ایک ہزار روپے پر 3 روپے چارج دینا ہوگا۔

    بجلی، انشورنس، پانی وغیرہ کے ادائیگی کے لئے بھی ایک ہزار روپے پر 3 روپے چارج دینا ہوگا۔

  • اسی طرح پاسپورٹ فیس، ٹیکس، اسٹمپ ڈیوٹی، روڈ ٹیکس یا پھر ہاؤس ٹیکس کے ادائیگی کی بھی خاص شرحیں طے کی گئی ہیں۔ اگر ہزار روپے کے حساب سے دیکھیں تو 1000 روپے تک کی ادائیگی پر یہ شرح 5 روپے، ہزار سے دو ہزار روپے کے درمیان میں 10 روپے اور دو ہزار روپے سے زیادہ کے ادائیگی کے لئے زیادہ سے زیادہ 250 روپے کا چارج لگ سکتا ہے۔

    اسی طرح پاسپورٹ فیس، ٹیکس، اسٹمپ ڈیوٹی، روڈ ٹیکس یا پھر ہاؤس ٹیکس کے ادائیگی کی بھی خاص شرحیں طے کی گئی ہیں۔ اگر ہزار روپے کے حساب سے دیکھیں تو 1000 روپے تک کی ادائیگی پر یہ شرح 5 روپے، ہزار سے دو ہزار روپے کے درمیان میں 10 روپے اور دو ہزار روپے سے زیادہ کے ادائیگی کے لئے زیادہ سے زیادہ 250 روپے کا چارج لگ سکتا ہے۔

  • آر بی آئی کی نئی شرح کے مطابق ان چارجز کے علاوہ کوئی بھی دوسری کنویننس فیس یا اضافی سروس چارج نہیں وصول کیا جا سکتا۔ یہی نہیں پیٹرول اور ڈیزل کی ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی پر چارج کا آخری فیصلہ ل کمپنیوں اور حکومت کے درمیان معاہدے کے حساب سے طے کیا جائے گا۔

    آر بی آئی کی نئی شرح کے مطابق ان چارجز کے علاوہ کوئی بھی دوسری کنویننس فیس یا اضافی سروس چارج نہیں وصول کیا جا سکتا۔ یہی نہیں پیٹرول اور ڈیزل کی ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی پر چارج کا آخری فیصلہ ل کمپنیوں اور حکومت کے درمیان معاہدے کے حساب سے طے کیا جائے گا۔

  •  آر بی آئی کی یہ شرح کریڈٹ کارڈ کے لئے نہیں ہے۔

    آر بی آئی کی یہ شرح کریڈٹ کارڈ کے لئے نہیں ہے۔

  • اب تک ڈیبٹ کارڈ سے 1000 روپے کے ادائیگی پر زیادہ سے زیادہ ڈھائی روپے اور  ایک ہزار سے 2 ہزار روپے کے ٹرانزیکشن کے درمیان زیادہ سے زیادہ 10 روپے کا سروس چارج یعنی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ہوتا تھا ، لیکن اب یہ یکم اپریل سے بدل جائے گا۔ 2 ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین پر 1 فیصد سے زیادہ چارج لگے گا۔
  • آر بی آئی نے ایم ڈی آر کی شرح پر اب آمدنی کو بنیاد مانا ہے۔ یعنی 20 لاکھ روپے کے سالانہ کاروباری کو مشین کے یوز پر ایم ڈی آر کی شرح زیادہ سے زیادہ 0.4 فیصد دینی ہوگی۔
  • اس طرح اگر لین دین  ایک ہزار روپے تک ہو تو چارج 4 روپے تک لگ سکتا ہے، اور اگر  ایک ہزار سے زیادہ یعنی 2 ہزار روپے کا ہو تو چارج کی رقم 8 روپے تک ہوگی۔
  •  نئی شرح کے حساب سے اگر ٹرانزیکشن  ایک ہزار روپے سے کم ہے، تو پھر آپ کو چارج زیادہ دینا پڑ سکتا ہے، لیکن ایک ہزار سے زیادہ ہے ، تو پھر کم۔
  • اہم بات یہ ہے کہ اگر کیو آر کوڈ کے ذریعہ ٹرانزیکشن ہوگا ، تو پھر زیادہ سے زیادہ چارج کی حد 0.3 فیصد ہو گی۔ یعنی کہ 1000 روپے پر 3 روپے کا چارج دینا گا۔
  • خیال رہے کہ اگر کوئی کاروباری 20 لاکھ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرتا ہے، تو پھر وصول کئے جانے والا ایم ڈی آر 0.9 فیصد ہوگا ۔یعنی 1 ہزار روپے پر یہ ساڑھے 9 روپے تک ہوگا۔
  • بجلی، انشورنس، پانی وغیرہ کے ادائیگی کے لئے بھی  ایک ہزار روپے پر 3 روپے چارج دینا ہوگا۔
  • اسی طرح پاسپورٹ فیس، ٹیکس، اسٹمپ ڈیوٹی، روڈ ٹیکس یا پھر ہاؤس ٹیکس کے ادائیگی کی بھی خاص شرحیں طے کی گئی ہیں۔ اگر ہزار روپے کے حساب سے دیکھیں تو 1000 روپے تک کی ادائیگی پر یہ شرح 5 روپے، ہزار سے دو ہزار روپے کے درمیان میں 10 روپے اور دو ہزار روپے سے زیادہ کے ادائیگی کے لئے زیادہ سے زیادہ 250 روپے کا چارج لگ سکتا ہے۔
  • آر بی آئی کی نئی شرح کے مطابق ان چارجز کے علاوہ کوئی بھی دوسری کنویننس فیس یا اضافی سروس چارج نہیں وصول کیا جا سکتا۔ یہی نہیں پیٹرول اور ڈیزل کی ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی پر چارج کا آخری فیصلہ ل کمپنیوں اور حکومت کے درمیان معاہدے کے حساب سے طے کیا جائے گا۔
  •  آر بی آئی کی یہ شرح کریڈٹ کارڈ کے لئے نہیں ہے۔

تازہ ترین تصاویر