مملکت توحید سعودی عرب میں تبدیلی کی رفتار ہوئی تیز، 2018 میں خواتین کو ملی یہ یہ آزادی

Mar 05, 2018 09:46 AM IST
1 of 10
  • سعودی عرب میں جب سے محمد بن سلمان کے ہاتھوں میں اقتدار آئی ہے ، مسلسل اصلاحاتی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ان اصلاحاتی اقدامات میں خواتین کو خاص جگہ دی جارہی ہے ۔ صرف 2018 میں ہی خواتین کو لے کر کئی بڑے اور اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کے حوالے سے جہاں عائلی قانون میں ترمیم کی گئی ہے وہیںکاروبار میں بھی مرد سے اجازت کی شرط ختم کردی گئی ہے ۔ ان اصلاحاتی اقدامات کی وجہ سے جہاں ایک طرف محمد بن سلمان کی چوطرفہ ستائش کی جارہی ہے ، وہیں وہ ناقدین کے نشانے پر بھی ہیں ۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں 2018 میں خواتین سے متعلق ہوئے کچھ اہم فیصلوں کے بارے میں ۔

    سعودی عرب میں جب سے محمد بن سلمان کے ہاتھوں میں اقتدار آئی ہے ، مسلسل اصلاحاتی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ان اصلاحاتی اقدامات میں خواتین کو خاص جگہ دی جارہی ہے ۔ صرف 2018 میں ہی خواتین کو لے کر کئی بڑے اور اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کے حوالے سے جہاں عائلی قانون میں ترمیم کی گئی ہے وہیںکاروبار میں بھی مرد سے اجازت کی شرط ختم کردی گئی ہے ۔ ان اصلاحاتی اقدامات کی وجہ سے جہاں ایک طرف محمد بن سلمان کی چوطرفہ ستائش کی جارہی ہے ، وہیں وہ ناقدین کے نشانے پر بھی ہیں ۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں 2018 میں خواتین سے متعلق ہوئے کچھ اہم فیصلوں کے بارے میں ۔

  •  عسکری ملازمتوں کا اعلان : سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق اقدامات کے تحت   ان کیلئے عسکری ملازمتوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ اعلان سات ریاستوں ریاض، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ، قصیم، عسیر، باحہ اور شرقیہ کیلئے کیا گیا ہے۔ درخواست گزار خواتین کیلئے شرائط میں خاتون کا سعودی ہونا، مملکت میں پرورش پانا، کم از کم تعلیم انٹرمیڈیٹ ہونا اور عمر کا 25 سے 35 برس تک ہونا لازم ہے۔

    عسکری ملازمتوں کا اعلان : سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق اقدامات کے تحت ان کیلئے عسکری ملازمتوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ اعلان سات ریاستوں ریاض، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ، قصیم، عسیر، باحہ اور شرقیہ کیلئے کیا گیا ہے۔ درخواست گزار خواتین کیلئے شرائط میں خاتون کا سعودی ہونا، مملکت میں پرورش پانا، کم از کم تعلیم انٹرمیڈیٹ ہونا اور عمر کا 25 سے 35 برس تک ہونا لازم ہے۔

  • عائلی قانون میں ترمیم : سعودی عرب میں شادی سے متعلق عائلی قانون میں اہم تبدیلی کی گئی ہے ، جس کی رو سے اب بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف شوہر اپنے گھر لانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ شادی قانون کے تحت گھریلو اطاعت گذاری کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد عورت کے پاس دو اختیارات ہوں گے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اولا وہ شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ خلع حاصل کرنے کے لئے اپنا حق مہر لوٹا کر خود کو شادی کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے۔

    عائلی قانون میں ترمیم : سعودی عرب میں شادی سے متعلق عائلی قانون میں اہم تبدیلی کی گئی ہے ، جس کی رو سے اب بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف شوہر اپنے گھر لانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ شادی قانون کے تحت گھریلو اطاعت گذاری کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد عورت کے پاس دو اختیارات ہوں گے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اولا وہ شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ خلع حاصل کرنے کے لئے اپنا حق مہر لوٹا کر خود کو شادی کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے۔

  • مردوں کی اجازت کے بغیر کاروبارکی اجازت  :سعودی عرب میں خواتین اب اپنے شوہر یا کسی قریبی مرد رشتے دار کی اجازت کے بغیر بھی اپنا کاروبار شروع کرسکتی ہیں۔ سعودی حکومت نے خواتین سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اب تک سعودی میں نافذ العمل سرپرستی کے نظام کے تحت خواتین کو حکومت کے یہاں کاغذات جمع کرانے ، سفر یا تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے مرد سرپرست..... بالعموم خاوند ، باپ یا بھائی...... سے حاصل کردہ اجازت نامے کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا تھا ۔

    مردوں کی اجازت کے بغیر کاروبارکی اجازت :سعودی عرب میں خواتین اب اپنے شوہر یا کسی قریبی مرد رشتے دار کی اجازت کے بغیر بھی اپنا کاروبار شروع کرسکتی ہیں۔ سعودی حکومت نے خواتین سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اب تک سعودی میں نافذ العمل سرپرستی کے نظام کے تحت خواتین کو حکومت کے یہاں کاغذات جمع کرانے ، سفر یا تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے مرد سرپرست..... بالعموم خاوند ، باپ یا بھائی...... سے حاصل کردہ اجازت نامے کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا تھا ۔

  • پبلک پراسیکیوشن میں خواتین تفتیشی افسروں کی بھرتی  :سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے خواتین کو بطور تفتیشی افسر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کیلئے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں ۔   منتخب ہونے والی خواتین کو تفتیش جرائم ، عدالتوں میں بیانات ، فوجداری مقدمات کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی ، جیلوں کے معائنے، قیدیوں کی شکایات کی سماعت ، ان کے رہائی کے عمل کی نگرانی سمیت مختلف خصوصی فرائض انجام دینے ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ خواتین وزیر داخلہ کو اہم رپورٹس کے بارے میں بھی آگاہ کریں گی ۔

    پبلک پراسیکیوشن میں خواتین تفتیشی افسروں کی بھرتی :سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے خواتین کو بطور تفتیشی افسر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کیلئے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں ۔ منتخب ہونے والی خواتین کو تفتیش جرائم ، عدالتوں میں بیانات ، فوجداری مقدمات کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی ، جیلوں کے معائنے، قیدیوں کی شکایات کی سماعت ، ان کے رہائی کے عمل کی نگرانی سمیت مختلف خصوصی فرائض انجام دینے ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ خواتین وزیر داخلہ کو اہم رپورٹس کے بارے میں بھی آگاہ کریں گی ۔

  • نظامت عامہ برائے پاسپورٹس میں خواتین کو جگہ :اصلاحاتی اقدامات کے بعد عسکری کے علاوہ نظامت عامہ برائے پاسپورٹس  میں بھی خواتین کی تقرری کی جارہی ہے ۔ قابل تعجب بات یہ بھی ہے کہ صرف ایک ہفتہ کے دوران ہی محض 140 خالی اسامیوں کیلئے  107000 خواتین  نے درخواستیں جمع کرادیں ۔ ان اسامیوں میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر امیگریشن سے متعلق ملازمتیں شامل ہیں۔ان اسامیوں پر ہائی اسکول کی سند کی حامل صرف سعودی خواتین ہی درخواست دینے کی اہل ہیں اور ان کی عمر 25 سال سے کم اور 35 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

    نظامت عامہ برائے پاسپورٹس میں خواتین کو جگہ :اصلاحاتی اقدامات کے بعد عسکری کے علاوہ نظامت عامہ برائے پاسپورٹس میں بھی خواتین کی تقرری کی جارہی ہے ۔ قابل تعجب بات یہ بھی ہے کہ صرف ایک ہفتہ کے دوران ہی محض 140 خالی اسامیوں کیلئے 107000 خواتین نے درخواستیں جمع کرادیں ۔ ان اسامیوں میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر امیگریشن سے متعلق ملازمتیں شامل ہیں۔ان اسامیوں پر ہائی اسکول کی سند کی حامل صرف سعودی خواتین ہی درخواست دینے کی اہل ہیں اور ان کی عمر 25 سال سے کم اور 35 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

  • اکیلی خاتون کو بھی سیاحتی ویزاکی اجازت  : سعودی عرب میں ایک اور اہم قدم کے تحت اکیلی خاتون کو بھی سیاحتی ویزا کی اجازت دی گئی ہے ۔ قومی ورثہ سیاحت و ثقافت کے مطابق 25سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین اکیلے سیاحتی ویزے کی اہل ہوں گی جبکہ 25سال سے کم عمر لڑکی کے ہمراہ خاندان کے کسی فرد کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ سیاحتی ویزا ہر شخص کےلئے علیحدہ ہو گا اور اس کی میعاد 30 دن ہو گی۔

    اکیلی خاتون کو بھی سیاحتی ویزاکی اجازت : سعودی عرب میں ایک اور اہم قدم کے تحت اکیلی خاتون کو بھی سیاحتی ویزا کی اجازت دی گئی ہے ۔ قومی ورثہ سیاحت و ثقافت کے مطابق 25سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین اکیلے سیاحتی ویزے کی اہل ہوں گی جبکہ 25سال سے کم عمر لڑکی کے ہمراہ خاندان کے کسی فرد کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ سیاحتی ویزا ہر شخص کےلئے علیحدہ ہو گا اور اس کی میعاد 30 دن ہو گی۔

  • خواتین پہلی مرتبہ کھیل کے میدانوں میں داخل: سعودی عرب میں مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو کھیل کے میدانوں میں براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی ۔ اجازت ملنے کے بعد سعودی فٹ بال لیگ کے 17 ویں راؤنڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ خواتین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم پہنچیںاور میچ کا لطف اٹھایا ۔ ابتدائی طور پر اس تاریخی نوعیت کے فیصلہ کا اطلاق تین شہروں ریاض ، جدہ اور دمّام میں کیا گیا ہے ۔

    خواتین پہلی مرتبہ کھیل کے میدانوں میں داخل: سعودی عرب میں مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو کھیل کے میدانوں میں براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی ۔ اجازت ملنے کے بعد سعودی فٹ بال لیگ کے 17 ویں راؤنڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ خواتین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم پہنچیںاور میچ کا لطف اٹھایا ۔ ابتدائی طور پر اس تاریخی نوعیت کے فیصلہ کا اطلاق تین شہروں ریاض ، جدہ اور دمّام میں کیا گیا ہے ۔

  •  بطور ڈرائیور خواتین کو ملازمت :سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے بعد اب گھریلو ڈرائیور کے طور پر خواتین ملازمین کو بھی مملکت بلوانے کی اجازت دیدی گئی ہے ، جو ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کے بعد ایک بڑی تبدیلی شمار کی جا رہی ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق گھریلو ملازمین میں شامل ڈرائیوروں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اب تک کوئی گھریلو ڈرائیور خاتون اس میں شامل نہیں۔ تاہم اب اس کی اجازت کے بعد تعداد میں کافی اضافہ کا امکان ہے۔

    بطور ڈرائیور خواتین کو ملازمت :سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے بعد اب گھریلو ڈرائیور کے طور پر خواتین ملازمین کو بھی مملکت بلوانے کی اجازت دیدی گئی ہے ، جو ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کے بعد ایک بڑی تبدیلی شمار کی جا رہی ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق گھریلو ملازمین میں شامل ڈرائیوروں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اب تک کوئی گھریلو ڈرائیور خاتون اس میں شامل نہیں۔ تاہم اب اس کی اجازت کے بعد تعداد میں کافی اضافہ کا امکان ہے۔

  • پہلی مرتبہ خواتین کیلئے کاروں کی نمائش : حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیے جانے کے بعد سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ  خواتین کیلئے مختص کاروں کی ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔ جدہ میں منعقدہ اس نمائش کو خواتین کو مد نظر رکھتے ہوئے زرد اور نارنجی رنگ کے غباروں سے سجایا گیا۔نمائش کے بعد میڈیا میں بہت سی ایسی تصاویر سامنے آئیں ، جس میں خواتین کو کاروں کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دیکھاگیا ۔

    پہلی مرتبہ خواتین کیلئے کاروں کی نمائش : حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیے جانے کے بعد سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کیلئے مختص کاروں کی ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔ جدہ میں منعقدہ اس نمائش کو خواتین کو مد نظر رکھتے ہوئے زرد اور نارنجی رنگ کے غباروں سے سجایا گیا۔نمائش کے بعد میڈیا میں بہت سی ایسی تصاویر سامنے آئیں ، جس میں خواتین کو کاروں کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دیکھاگیا ۔

  •  عسکری ملازمتوں کا اعلان : سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق اقدامات کے تحت   ان کیلئے عسکری ملازمتوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ اعلان سات ریاستوں ریاض، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ، قصیم، عسیر، باحہ اور شرقیہ کیلئے کیا گیا ہے۔ درخواست گزار خواتین کیلئے شرائط میں خاتون کا سعودی ہونا، مملکت میں پرورش پانا، کم از کم تعلیم انٹرمیڈیٹ ہونا اور عمر کا 25 سے 35 برس تک ہونا لازم ہے۔
  • عائلی قانون میں ترمیم : سعودی عرب میں شادی سے متعلق عائلی قانون میں اہم تبدیلی کی گئی ہے ، جس کی رو سے اب بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف شوہر اپنے گھر لانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ شادی قانون کے تحت گھریلو اطاعت گذاری کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد عورت کے پاس دو اختیارات ہوں گے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اولا وہ شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ خلع حاصل کرنے کے لئے اپنا حق مہر لوٹا کر خود کو شادی کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے۔
  • مردوں کی اجازت کے بغیر کاروبارکی اجازت  :سعودی عرب میں خواتین اب اپنے شوہر یا کسی قریبی مرد رشتے دار کی اجازت کے بغیر بھی اپنا کاروبار شروع کرسکتی ہیں۔ سعودی حکومت نے خواتین سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اب تک سعودی میں نافذ العمل سرپرستی کے نظام کے تحت خواتین کو حکومت کے یہاں کاغذات جمع کرانے ، سفر یا تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے مرد سرپرست..... بالعموم خاوند ، باپ یا بھائی...... سے حاصل کردہ اجازت نامے کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا تھا ۔
  • پبلک پراسیکیوشن میں خواتین تفتیشی افسروں کی بھرتی  :سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے خواتین کو بطور تفتیشی افسر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کیلئے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں ۔   منتخب ہونے والی خواتین کو تفتیش جرائم ، عدالتوں میں بیانات ، فوجداری مقدمات کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی ، جیلوں کے معائنے، قیدیوں کی شکایات کی سماعت ، ان کے رہائی کے عمل کی نگرانی سمیت مختلف خصوصی فرائض انجام دینے ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ خواتین وزیر داخلہ کو اہم رپورٹس کے بارے میں بھی آگاہ کریں گی ۔
  • نظامت عامہ برائے پاسپورٹس میں خواتین کو جگہ :اصلاحاتی اقدامات کے بعد عسکری کے علاوہ نظامت عامہ برائے پاسپورٹس  میں بھی خواتین کی تقرری کی جارہی ہے ۔ قابل تعجب بات یہ بھی ہے کہ صرف ایک ہفتہ کے دوران ہی محض 140 خالی اسامیوں کیلئے  107000 خواتین  نے درخواستیں جمع کرادیں ۔ ان اسامیوں میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر امیگریشن سے متعلق ملازمتیں شامل ہیں۔ان اسامیوں پر ہائی اسکول کی سند کی حامل صرف سعودی خواتین ہی درخواست دینے کی اہل ہیں اور ان کی عمر 25 سال سے کم اور 35 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
  • اکیلی خاتون کو بھی سیاحتی ویزاکی اجازت  : سعودی عرب میں ایک اور اہم قدم کے تحت اکیلی خاتون کو بھی سیاحتی ویزا کی اجازت دی گئی ہے ۔ قومی ورثہ سیاحت و ثقافت کے مطابق 25سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین اکیلے سیاحتی ویزے کی اہل ہوں گی جبکہ 25سال سے کم عمر لڑکی کے ہمراہ خاندان کے کسی فرد کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ سیاحتی ویزا ہر شخص کےلئے علیحدہ ہو گا اور اس کی میعاد 30 دن ہو گی۔
  • خواتین پہلی مرتبہ کھیل کے میدانوں میں داخل: سعودی عرب میں مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو کھیل کے میدانوں میں براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی ۔ اجازت ملنے کے بعد سعودی فٹ بال لیگ کے 17 ویں راؤنڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ خواتین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم پہنچیںاور میچ کا لطف اٹھایا ۔ ابتدائی طور پر اس تاریخی نوعیت کے فیصلہ کا اطلاق تین شہروں ریاض ، جدہ اور دمّام میں کیا گیا ہے ۔
  •  بطور ڈرائیور خواتین کو ملازمت :سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے بعد اب گھریلو ڈرائیور کے طور پر خواتین ملازمین کو بھی مملکت بلوانے کی اجازت دیدی گئی ہے ، جو ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کے بعد ایک بڑی تبدیلی شمار کی جا رہی ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق گھریلو ملازمین میں شامل ڈرائیوروں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اب تک کوئی گھریلو ڈرائیور خاتون اس میں شامل نہیں۔ تاہم اب اس کی اجازت کے بعد تعداد میں کافی اضافہ کا امکان ہے۔
  • پہلی مرتبہ خواتین کیلئے کاروں کی نمائش : حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیے جانے کے بعد سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ  خواتین کیلئے مختص کاروں کی ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔ جدہ میں منعقدہ اس نمائش کو خواتین کو مد نظر رکھتے ہوئے زرد اور نارنجی رنگ کے غباروں سے سجایا گیا۔نمائش کے بعد میڈیا میں بہت سی ایسی تصاویر سامنے آئیں ، جس میں خواتین کو کاروں کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دیکھاگیا ۔

تازہ ترین تصاویر