سعودی عرب : اب آپ نہیں کر پائیں گے نوکری ، سرکار نے بنایا یہ سخت قانون ! یہ چیزیں بھی گئی ہیں بدل

Feb 07, 2018 06:56 PM IST
1 of 9
  • سعودی عرب کی محنت اور سماجی ترقی کی وزارت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے 12 شعبوں میں روزگار پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اب صرف سعودی شہری ہی ان شعبوں میں کام کرسکیں گے۔غور طلب ہے کہ اس سال کی شروعات سے اب تک سعودی عرب حکومت نے کئی بڑے قدم اٹھائے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی وہاں کی حکومت نے پہلی مرتبہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے سے وہاں جاکر کام کرنے والے لوٹتے وقت خوب سارا سامان لاتے تھے ، لیکن اب یہ سب بندہوسکتا ہے ۔

    سعودی عرب کی محنت اور سماجی ترقی کی وزارت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے 12 شعبوں میں روزگار پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اب صرف سعودی شہری ہی ان شعبوں میں کام کرسکیں گے۔غور طلب ہے کہ اس سال کی شروعات سے اب تک سعودی عرب حکومت نے کئی بڑے قدم اٹھائے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی وہاں کی حکومت نے پہلی مرتبہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے سے وہاں جاکر کام کرنے والے لوٹتے وقت خوب سارا سامان لاتے تھے ، لیکن اب یہ سب بندہوسکتا ہے ۔

  • ان 12 شعبوں میں نہیں کرسکیں گے کام : گھڑی کی دکان ، چشمے کی دکان ، میڈیکل اسٹور ، الیکٹریکل اور الیکٹرانک دکانیں ، کار اسپیئر پارٹس ، تعمیراتی مواد ، کارپٹ ، آٹو موبائل اور موٹر سائیکل کی دکانیں ، ہوم فرنیچر اور ریڈی میڈ آفس مٹیریل ، ریڈیمیڈ گارمنٹ ، برتن کی دکان ، کیک اور پیسٹری۔

    ان 12 شعبوں میں نہیں کرسکیں گے کام : گھڑی کی دکان ، چشمے کی دکان ، میڈیکل اسٹور ، الیکٹریکل اور الیکٹرانک دکانیں ، کار اسپیئر پارٹس ، تعمیراتی مواد ، کارپٹ ، آٹو موبائل اور موٹر سائیکل کی دکانیں ، ہوم فرنیچر اور ریڈی میڈ آفس مٹیریل ، ریڈیمیڈ گارمنٹ ، برتن کی دکان ، کیک اور پیسٹری۔

  • ان چیزوں پر نہیں لگے گا ٹیکس : ٹیکس سے کچھ چیزوں کو ابھی بھی باہر رکھا گیا ہے ، جیسے کہ مکان کا کرایہ ، رئیل اسٹیٹ ، کچھ دوائیں ، ائیر لائن کی ٹکٹ  اور  اسکول کی ٹیوشن فیس ۔ حالانکہ یو اے ای میں اعلی تعلیم پر ٹیکس لگے گا۔ اس کے علاوہ بچوں کی یونیفارم ، اسکول بس کا کرایہ اور لنچ جیسی چیزوں پر ٹیکس دینا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ میں سودے کیلئے دی جانے والی کمیشن پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے ۔ اب ایسی امید کی جارہی ہے کہ خلیج کے دیگر ممالک بھی جلد ہی ویٹ نافذ کریں گے ۔

    ان چیزوں پر نہیں لگے گا ٹیکس : ٹیکس سے کچھ چیزوں کو ابھی بھی باہر رکھا گیا ہے ، جیسے کہ مکان کا کرایہ ، رئیل اسٹیٹ ، کچھ دوائیں ، ائیر لائن کی ٹکٹ اور اسکول کی ٹیوشن فیس ۔ حالانکہ یو اے ای میں اعلی تعلیم پر ٹیکس لگے گا۔ اس کے علاوہ بچوں کی یونیفارم ، اسکول بس کا کرایہ اور لنچ جیسی چیزوں پر ٹیکس دینا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ میں سودے کیلئے دی جانے والی کمیشن پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے ۔ اب ایسی امید کی جارہی ہے کہ خلیج کے دیگر ممالک بھی جلد ہی ویٹ نافذ کریں گے ۔

  • سعودی عرب میں رہنے والوں پر بڑھے گا بوجھ : ابو ظہبی کے اخبار دی نیشنل کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں رہنے کا خرچ اگلے سال سے ویٹ کی وجہ سے تقریبا 2.5 فیصد بڑھ جائے گا ۔ تاہم تنخواہ اتنی ہی رہنے کا امکان ہے ۔ یو اے ای ٹیکس سے تقریبا 3.3 کھڑب امریکی ڈالر کی کمائی کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔

    سعودی عرب میں رہنے والوں پر بڑھے گا بوجھ : ابو ظہبی کے اخبار دی نیشنل کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں رہنے کا خرچ اگلے سال سے ویٹ کی وجہ سے تقریبا 2.5 فیصد بڑھ جائے گا ۔ تاہم تنخواہ اتنی ہی رہنے کا امکان ہے ۔ یو اے ای ٹیکس سے تقریبا 3.3 کھڑب امریکی ڈالر کی کمائی کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔

  • تنخوہ پر ٹیکس لگانے کا منصوبہ : سعودی عرب میں غیر ملکی لوگوں کی تعداد تقریبا ایک تہائی ہے جبکہ یو اے ای میں غیر ملکی لوگ مقامی لوگوں سے بھی زیادہ ہیں ۔ ویٹ سے گھبرائے غیر ملکی لوگوں کو حکومت نے یقین دہائی کرائی ہے کہ فی الحال پے رول ٹیکس لگانے کا ارادہ نہیں ہے ، جس کے لگنے پر ہنر مند ملازمین کے وہاں سے ہجرت کرنے کا اندیشہ ہے۔

    تنخوہ پر ٹیکس لگانے کا منصوبہ : سعودی عرب میں غیر ملکی لوگوں کی تعداد تقریبا ایک تہائی ہے جبکہ یو اے ای میں غیر ملکی لوگ مقامی لوگوں سے بھی زیادہ ہیں ۔ ویٹ سے گھبرائے غیر ملکی لوگوں کو حکومت نے یقین دہائی کرائی ہے کہ فی الحال پے رول ٹیکس لگانے کا ارادہ نہیں ہے ، جس کے لگنے پر ہنر مند ملازمین کے وہاں سے ہجرت کرنے کا اندیشہ ہے۔

  • بجٹ میں کیا گیا تھا یہ اعلان : سعودی عرب نے حال ہی میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا تھا ۔ اس میں 2018 کیلئے 261 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ حکومت نے ویٹ لگاکر آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ہی سبسڈی میں کٹوتی کا بھی اعلان کیا ہے ۔ حالانکہ اس کے باوجود سعودی عرب کو کم سے کم 2023 تک بجٹ خسارہ کا سامنے کرنا پڑے گا۔

    بجٹ میں کیا گیا تھا یہ اعلان : سعودی عرب نے حال ہی میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا تھا ۔ اس میں 2018 کیلئے 261 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ حکومت نے ویٹ لگاکر آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ہی سبسڈی میں کٹوتی کا بھی اعلان کیا ہے ۔ حالانکہ اس کے باوجود سعودی عرب کو کم سے کم 2023 تک بجٹ خسارہ کا سامنے کرنا پڑے گا۔

  • آئی ایم ایف نے دئے ہیں بڑے مشورے : خلیج کے تیل برآمد کنندہ ممالک کو آئی ایم ایف نے ٹیکس لگانے کا مشورہ دیا ہے ۔ تاکہ تیل کے علاوہ بھی ریوینو حاصل ہوسکے ۔ آئی ایم ایف نے خلیجی ممالک سے کارباروباری فائدہ پر ٹیکس لگانے یا ٹیکس میں اضافہ کا مشورہ دیا ہے۔

    آئی ایم ایف نے دئے ہیں بڑے مشورے : خلیج کے تیل برآمد کنندہ ممالک کو آئی ایم ایف نے ٹیکس لگانے کا مشورہ دیا ہے ۔ تاکہ تیل کے علاوہ بھی ریوینو حاصل ہوسکے ۔ آئی ایم ایف نے خلیجی ممالک سے کارباروباری فائدہ پر ٹیکس لگانے یا ٹیکس میں اضافہ کا مشورہ دیا ہے۔

  • آئی ایم ایف کے مشورہ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای نے تمباکو مصنوعات اور انرجی ڈرکنس پر 100 فیصدی اور سافٹ ڈرنکس پر 50 فیصدی ٹیکس لگایا ہے ۔ حالانکہ دونوں ممالک میں جو ویٹ لگایا جارہا ہے ، اس کا دائرہ کافی وسیع ہے ۔

    آئی ایم ایف کے مشورہ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای نے تمباکو مصنوعات اور انرجی ڈرکنس پر 100 فیصدی اور سافٹ ڈرنکس پر 50 فیصدی ٹیکس لگایا ہے ۔ حالانکہ دونوں ممالک میں جو ویٹ لگایا جارہا ہے ، اس کا دائرہ کافی وسیع ہے ۔

  • دوبئی میں کیٹر پلر نام کی ایک کمپنی نے تاجرین کیلئے ٹریننگ شروع کی ہے ، جس میں انہیں ٹیکس اور کھاتوں کے قوانین پر عمل کرنے کے سلسلہ میں معلومات دی جائے گی ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں 500 سے زیادہ لوگوں نے ان کے یہاں داخلہ لیا ہے۔

    دوبئی میں کیٹر پلر نام کی ایک کمپنی نے تاجرین کیلئے ٹریننگ شروع کی ہے ، جس میں انہیں ٹیکس اور کھاتوں کے قوانین پر عمل کرنے کے سلسلہ میں معلومات دی جائے گی ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں 500 سے زیادہ لوگوں نے ان کے یہاں داخلہ لیا ہے۔

  • ان 12 شعبوں میں نہیں کرسکیں گے کام : گھڑی کی دکان ، چشمے کی دکان ، میڈیکل اسٹور ، الیکٹریکل اور الیکٹرانک دکانیں ، کار اسپیئر پارٹس ، تعمیراتی مواد ، کارپٹ ، آٹو موبائل اور موٹر سائیکل کی دکانیں ، ہوم فرنیچر اور ریڈی میڈ آفس مٹیریل ، ریڈیمیڈ گارمنٹ ، برتن کی دکان ، کیک اور پیسٹری۔
  • ان چیزوں پر نہیں لگے گا ٹیکس : ٹیکس سے کچھ چیزوں کو ابھی بھی باہر رکھا گیا ہے ، جیسے کہ مکان کا کرایہ ، رئیل اسٹیٹ ، کچھ دوائیں ، ائیر لائن کی ٹکٹ  اور  اسکول کی ٹیوشن فیس ۔ حالانکہ یو اے ای میں اعلی تعلیم پر ٹیکس لگے گا۔ اس کے علاوہ بچوں کی یونیفارم ، اسکول بس کا کرایہ اور لنچ جیسی چیزوں پر ٹیکس دینا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ میں سودے کیلئے دی جانے والی کمیشن پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے ۔ اب ایسی امید کی جارہی ہے کہ خلیج کے دیگر ممالک بھی جلد ہی ویٹ نافذ کریں گے ۔
  • سعودی عرب میں رہنے والوں پر بڑھے گا بوجھ : ابو ظہبی کے اخبار دی نیشنل کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں رہنے کا خرچ اگلے سال سے ویٹ کی وجہ سے تقریبا 2.5 فیصد بڑھ جائے گا ۔ تاہم تنخواہ اتنی ہی رہنے کا امکان ہے ۔ یو اے ای ٹیکس سے تقریبا 3.3 کھڑب امریکی ڈالر کی کمائی کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔
  • تنخوہ پر ٹیکس لگانے کا منصوبہ : سعودی عرب میں غیر ملکی لوگوں کی تعداد تقریبا ایک تہائی ہے جبکہ یو اے ای میں غیر ملکی لوگ مقامی لوگوں سے بھی زیادہ ہیں ۔ ویٹ سے گھبرائے غیر ملکی لوگوں کو حکومت نے یقین دہائی کرائی ہے کہ فی الحال پے رول ٹیکس لگانے کا ارادہ نہیں ہے ، جس کے لگنے پر ہنر مند ملازمین کے وہاں سے ہجرت کرنے کا اندیشہ ہے۔
  • بجٹ میں کیا گیا تھا یہ اعلان : سعودی عرب نے حال ہی میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا تھا ۔ اس میں 2018 کیلئے 261 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ حکومت نے ویٹ لگاکر آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ہی سبسڈی میں کٹوتی کا بھی اعلان کیا ہے ۔ حالانکہ اس کے باوجود سعودی عرب کو کم سے کم 2023 تک بجٹ خسارہ کا سامنے کرنا پڑے گا۔
  • آئی ایم ایف نے دئے ہیں بڑے مشورے : خلیج کے تیل برآمد کنندہ ممالک کو آئی ایم ایف نے ٹیکس لگانے کا مشورہ دیا ہے ۔ تاکہ تیل کے علاوہ بھی ریوینو حاصل ہوسکے ۔ آئی ایم ایف نے خلیجی ممالک سے کارباروباری فائدہ پر ٹیکس لگانے یا ٹیکس میں اضافہ کا مشورہ دیا ہے۔
  • آئی ایم ایف کے مشورہ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای نے تمباکو مصنوعات اور انرجی ڈرکنس پر 100 فیصدی اور سافٹ ڈرنکس پر 50 فیصدی ٹیکس لگایا ہے ۔ حالانکہ دونوں ممالک میں جو ویٹ لگایا جارہا ہے ، اس کا دائرہ کافی وسیع ہے ۔
  • دوبئی میں کیٹر پلر نام کی ایک کمپنی نے تاجرین کیلئے ٹریننگ شروع کی ہے ، جس میں انہیں ٹیکس اور کھاتوں کے قوانین پر عمل کرنے کے سلسلہ میں معلومات دی جائے گی ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں 500 سے زیادہ لوگوں نے ان کے یہاں داخلہ لیا ہے۔

تازہ ترین تصاویر