ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام لکھنؤ میں تیسرا یک روزہ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

Feb 04, 2017 08:24 PM IST
1 of 6
  • ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام تیسرا ایک روزہ شمالی ہند ورکشاپ ،بعنوان’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ‘‘ زیر صدارت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و زیر نگرانی ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ،مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ آج  یارک ان ہوٹل، (لال کنواں)لکھنؤ، یوپی میں زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ورکشاپ میں شمالی ہند کی ریاستوں راجستھان،نئی دہلی، اترپردیش،علی گڈھ، مرادآباد،ہریانہ،پنجاب ،میرٹھ ،سہارنپور، سنبھل اور دیوبند کی خواتین نے شرکت کیں۔ ورکشاپ میں جملہ تین سیشن رکھے گئے ۔پہلے سیشن کا آغازمحترمہ میمونہ خالد خاں صاحبہ،طالبہ الہدی ماڈل کالج کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔

    ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام تیسرا ایک روزہ شمالی ہند ورکشاپ ،بعنوان’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ‘‘ زیر صدارت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و زیر نگرانی ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ،مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ آج یارک ان ہوٹل، (لال کنواں)لکھنؤ، یوپی میں زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ورکشاپ میں شمالی ہند کی ریاستوں راجستھان،نئی دہلی، اترپردیش،علی گڈھ، مرادآباد،ہریانہ،پنجاب ،میرٹھ ،سہارنپور، سنبھل اور دیوبند کی خواتین نے شرکت کیں۔ ورکشاپ میں جملہ تین سیشن رکھے گئے ۔پہلے سیشن کا آغازمحترمہ میمونہ خالد خاں صاحبہ،طالبہ الہدی ماڈل کالج کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔

  • محترمہ نکہت پروین خاں صاحبہ کوآرڈینیٹر ویمنس ونگ لکھنؤ، نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انھوں نے ورکشاپ میں،شمالی ہند کی مختلف ریاستوں سے آنے والی بہنوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آج کا یہ ورکشاپ یقیناً اس بات کی گواہی ہیکہ ہم مسلمان بہنیں اسلام کے صحیح پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے اکٹھا ہوئیں ہیں۔۔ دین کی خدمت،امربالمعروف و نہی عن المنکرکے کام میں مومن مردو مومن عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

    محترمہ نکہت پروین خاں صاحبہ کوآرڈینیٹر ویمنس ونگ لکھنؤ، نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انھوں نے ورکشاپ میں،شمالی ہند کی مختلف ریاستوں سے آنے والی بہنوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آج کا یہ ورکشاپ یقیناً اس بات کی گواہی ہیکہ ہم مسلمان بہنیں اسلام کے صحیح پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے اکٹھا ہوئیں ہیں۔۔ دین کی خدمت،امربالمعروف و نہی عن المنکرکے کام میں مومن مردو مومن عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

  • ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ورکشاپ میں ’’شریعت اسلامی کے اہم نکات ‘‘پر پاور پاؤئنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی نظریہ ازدواج نے نکاح کیلئے ایک سادہ قانون لوگوں کو پیش کیا۔جس کے تحت رشتہ ازدواج میں ہونے والے مسائل کا حل رکھا گیا ۔نکاح کو آسان و سہل کرکے بے حیائی اورناجائز راستوں کے تمام دروازوں کو بند کردیا گیا۔ اسلام میں نکاح مرد و عورت کے درمیان شرعی اصولوں پر کیا گیا ایک معاہدہ ہے۔ احکام نکاح ،طریقہ نکاح اور اصول نکاح سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ورکشاپ میں ’’شریعت اسلامی کے اہم نکات ‘‘پر پاور پاؤئنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی نظریہ ازدواج نے نکاح کیلئے ایک سادہ قانون لوگوں کو پیش کیا۔جس کے تحت رشتہ ازدواج میں ہونے والے مسائل کا حل رکھا گیا ۔نکاح کو آسان و سہل کرکے بے حیائی اورناجائز راستوں کے تمام دروازوں کو بند کردیا گیا۔ اسلام میں نکاح مرد و عورت کے درمیان شرعی اصولوں پر کیا گیا ایک معاہدہ ہے۔ احکام نکاح ،طریقہ نکاح اور اصول نکاح سمجھنے کی ضرورت ہے۔

  • دوسرے سیشن میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ جب سپریم کورٹ میں آیا تو حکومت اورمیڈیا کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ طلاق کے واقعات کوپرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور مسلم سماج کو بدنام کیا گیا اور قانون شریعت اور قانون طلاق کو نشانہ بنایا گیا۔  انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مسلمان مردوں اورخواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ پوری صلاحیت اور سلیقہ کے ساتھ دلیلوں کو پیش کرتے ہوئے مثبت جواب دیں، اپنے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ طلاق کا راستہ بند کرنے اور اس کو روکنے سے مسائل سماج میں کم نہیں ہونگے بلکہ خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی مزیدبڑھ سکتی ہے اور خواتین کی عزت اور تحفظ متأثرہوسکتی ہے۔

    دوسرے سیشن میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ جب سپریم کورٹ میں آیا تو حکومت اورمیڈیا کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ طلاق کے واقعات کوپرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور مسلم سماج کو بدنام کیا گیا اور قانون شریعت اور قانون طلاق کو نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مسلمان مردوں اورخواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ پوری صلاحیت اور سلیقہ کے ساتھ دلیلوں کو پیش کرتے ہوئے مثبت جواب دیں، اپنے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ طلاق کا راستہ بند کرنے اور اس کو روکنے سے مسائل سماج میں کم نہیں ہونگے بلکہ خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی مزیدبڑھ سکتی ہے اور خواتین کی عزت اور تحفظ متأثرہوسکتی ہے۔

  • انھوں نے کہا کہ شریعت میں طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے مگر اسکی گنجائش رکھی گئی ہے ،مسائل کی پیچیدگی کے وقت اسکو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ ایک متحدہ اور متفقہ پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مکاتب فکر ، مسالک اور جماعتوں کو متحدکیا گیا اور کوشش اس بات کی کی جاتی ہے کہ سب کا احترام کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ شریعت میں طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے مگر اسکی گنجائش رکھی گئی ہے ،مسائل کی پیچیدگی کے وقت اسکو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ ایک متحدہ اور متفقہ پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مکاتب فکر ، مسالک اور جماعتوں کو متحدکیا گیا اور کوشش اس بات کی کی جاتی ہے کہ سب کا احترام کیا جائے۔

  • محترمہ آمنہ رضوان صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ماڈل نکاح نامہ کے اصول الزوجین بتائے۔نکاح رسول ؐ اور انبیاء کی سنت ہے۔ اس لئے ضروری ہیکہ اسے مسنون طریقہ پر انجام دیں،اور تمام خلاف شرع امور سے بچا جائے،نکاح میں لڑکے یا اس کے سرپرستوں کی طرف سے نقد رقم، جہیزیا اس کے مہمانوں کیلئے دعوت کا مطالبہ کرنا خلاف شرع اور سخت گناہ ہے۔ نکاح کو آسان بنایا جائے اور فضول خرچی سے بچاجائے۔آپ ﷺ نے فرمایا وہ نکاح بابرکت ہے جس میں کم اخراجات ہوں۔ محترمہ سمیہ نعمانی صاحبہ رکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اغراض و مقاصد‘‘ پیش کئے۔محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’اصلاح معاشرہ ‘‘ پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ شریعت اسلامی کا بغور مطالعہ کریں ،قرآن و سیرت کی تعلیمات سے واقف ہوں اور اپنے گھر،خاندان و معاشرہ کی اصلاح کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔

    محترمہ آمنہ رضوان صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ماڈل نکاح نامہ کے اصول الزوجین بتائے۔نکاح رسول ؐ اور انبیاء کی سنت ہے۔ اس لئے ضروری ہیکہ اسے مسنون طریقہ پر انجام دیں،اور تمام خلاف شرع امور سے بچا جائے،نکاح میں لڑکے یا اس کے سرپرستوں کی طرف سے نقد رقم، جہیزیا اس کے مہمانوں کیلئے دعوت کا مطالبہ کرنا خلاف شرع اور سخت گناہ ہے۔ نکاح کو آسان بنایا جائے اور فضول خرچی سے بچاجائے۔آپ ﷺ نے فرمایا وہ نکاح بابرکت ہے جس میں کم اخراجات ہوں۔ محترمہ سمیہ نعمانی صاحبہ رکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اغراض و مقاصد‘‘ پیش کئے۔محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’اصلاح معاشرہ ‘‘ پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ شریعت اسلامی کا بغور مطالعہ کریں ،قرآن و سیرت کی تعلیمات سے واقف ہوں اور اپنے گھر،خاندان و معاشرہ کی اصلاح کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔

  • محترمہ نکہت پروین خاں صاحبہ کوآرڈینیٹر ویمنس ونگ لکھنؤ، نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انھوں نے ورکشاپ میں،شمالی ہند کی مختلف ریاستوں سے آنے والی بہنوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آج کا یہ ورکشاپ یقیناً اس بات کی گواہی ہیکہ ہم مسلمان بہنیں اسلام کے صحیح پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے اکٹھا ہوئیں ہیں۔۔ دین کی خدمت،امربالمعروف و نہی عن المنکرکے کام میں مومن مردو مومن عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔
  • ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ورکشاپ میں ’’شریعت اسلامی کے اہم نکات ‘‘پر پاور پاؤئنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی نظریہ ازدواج نے نکاح کیلئے ایک سادہ قانون لوگوں کو پیش کیا۔جس کے تحت رشتہ ازدواج میں ہونے والے مسائل کا حل رکھا گیا ۔نکاح کو آسان و سہل کرکے بے حیائی اورناجائز راستوں کے تمام دروازوں کو بند کردیا گیا۔ اسلام میں نکاح مرد و عورت کے درمیان شرعی اصولوں پر کیا گیا ایک معاہدہ ہے۔ احکام نکاح ،طریقہ نکاح اور اصول نکاح سمجھنے کی ضرورت ہے۔
  • دوسرے سیشن میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تین طلاق کا مسئلہ جب سپریم کورٹ میں آیا تو حکومت اورمیڈیا کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ طلاق کے واقعات کوپرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور مسلم سماج کو بدنام کیا گیا اور قانون شریعت اور قانون طلاق کو نشانہ بنایا گیا۔  انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مسلمان مردوں اورخواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ پوری صلاحیت اور سلیقہ کے ساتھ دلیلوں کو پیش کرتے ہوئے مثبت جواب دیں، اپنے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ طلاق کا راستہ بند کرنے اور اس کو روکنے سے مسائل سماج میں کم نہیں ہونگے بلکہ خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی مزیدبڑھ سکتی ہے اور خواتین کی عزت اور تحفظ متأثرہوسکتی ہے۔
  • انھوں نے کہا کہ شریعت میں طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے مگر اسکی گنجائش رکھی گئی ہے ،مسائل کی پیچیدگی کے وقت اسکو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ ایک متحدہ اور متفقہ پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مکاتب فکر ، مسالک اور جماعتوں کو متحدکیا گیا اور کوشش اس بات کی کی جاتی ہے کہ سب کا احترام کیا جائے۔
  • محترمہ آمنہ رضوان صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ماڈل نکاح نامہ کے اصول الزوجین بتائے۔نکاح رسول ؐ اور انبیاء کی سنت ہے۔ اس لئے ضروری ہیکہ اسے مسنون طریقہ پر انجام دیں،اور تمام خلاف شرع امور سے بچا جائے،نکاح میں لڑکے یا اس کے سرپرستوں کی طرف سے نقد رقم، جہیزیا اس کے مہمانوں کیلئے دعوت کا مطالبہ کرنا خلاف شرع اور سخت گناہ ہے۔ نکاح کو آسان بنایا جائے اور فضول خرچی سے بچاجائے۔آپ ﷺ نے فرمایا وہ نکاح بابرکت ہے جس میں کم اخراجات ہوں۔ محترمہ سمیہ نعمانی صاحبہ رکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اغراض و مقاصد‘‘ پیش کئے۔محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’اصلاح معاشرہ ‘‘ پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ شریعت اسلامی کا بغور مطالعہ کریں ،قرآن و سیرت کی تعلیمات سے واقف ہوں اور اپنے گھر،خاندان و معاشرہ کی اصلاح کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔

تازہ ترین تصاویر