جذبہ کو سلام ! حجاب کی پابندی کے ساتھ آٹو رکشا چلاتی ہیں شبانہ ، معاشرے میں ہے ان کی منفرد شناخت

Mar 08, 2017 07:34 PM IST
1 of 10
  • اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑے کارنامے ہی انسان کو شہرت وعزت عطا کرتے ہیں ، لیکن کئی ایسے چھوٹے کام بھی ہیں ، جو کسی کی عزت و شہرت کا باعث بنتے ہیں ۔ مہاراشٹر کے امراوتی کی ایک مسلم خاتون عوام میں کافی مقبول ہیں کیوں کہ وہ اپنا گذر بسر کرنے کے لئے آٹو چلاتی ہیں ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑے کارنامے ہی انسان کو شہرت وعزت عطا کرتے ہیں ، لیکن کئی ایسے چھوٹے کام بھی ہیں ، جو کسی کی عزت و شہرت کا باعث بنتے ہیں ۔ مہاراشٹر کے امراوتی کی ایک مسلم خاتون عوام میں کافی مقبول ہیں کیوں کہ وہ اپنا گذر بسر کرنے کے لئے آٹو چلاتی ہیں ۔

  • سب سے خاص بات یہ ہے 40 سالہ شبانہ پروین حجاب کی پابندی کے ساتھ اپنے کام کو انجام دے رہی ہیں اور اسی کام سے ہی شبانہ پروین نے اپنی علاحدہ شناخت بنالی ہے ، جو  معاشرے میں شبانہ کی عزت و شہرت کا باعث بھی بن رہا ہے ۔

    سب سے خاص بات یہ ہے 40 سالہ شبانہ پروین حجاب کی پابندی کے ساتھ اپنے کام کو انجام دے رہی ہیں اور اسی کام سے ہی شبانہ پروین نے اپنی علاحدہ شناخت بنالی ہے ، جو معاشرے میں شبانہ کی عزت و شہرت کا باعث بھی بن رہا ہے ۔

  • شبانہ کے تین بچے ہیں اور تینوں ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ شبانہ کے شوہر عبدالجیل ذیابطیس کے مریض ہیں ۔ بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ مزدوری کرتے ہیں ، مگر ان کی آمدنی افراد خاندان اور بچوں کی پڑھائی کے لئے ناکافی ہے ۔

    شبانہ کے تین بچے ہیں اور تینوں ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ شبانہ کے شوہر عبدالجیل ذیابطیس کے مریض ہیں ۔ بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ مزدوری کرتے ہیں ، مگر ان کی آمدنی افراد خاندان اور بچوں کی پڑھائی کے لئے ناکافی ہے ۔

  • بات بچوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم کی ہو ، تو ہر ماں یہی چاہےگی کہ اس کی اولاد کو کسی قسم کی دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ایسا ہی کچھ اس ماں نے بھی کیا ۔

    بات بچوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم کی ہو ، تو ہر ماں یہی چاہےگی کہ اس کی اولاد کو کسی قسم کی دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ایسا ہی کچھ اس ماں نے بھی کیا ۔

  • حالات کی ماری شبانہ نے رکشا چلاکر اپنے گذر بسر کرنے میں ہی اپنے اور اپنے اہل و عیال کی بھلائی سمجھی ۔ آٹو رکشا چلاکر اپنا گذر بسر کرنے والی شبانہ کا ماننا ہے کہ آٹو رکشا چلانا ان کا ذریعہ معاش تو ہے ہی ، ساتھ ہی ساتھ سماجی خدمت کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔

    حالات کی ماری شبانہ نے رکشا چلاکر اپنے گذر بسر کرنے میں ہی اپنے اور اپنے اہل و عیال کی بھلائی سمجھی ۔ آٹو رکشا چلاکر اپنا گذر بسر کرنے والی شبانہ کا ماننا ہے کہ آٹو رکشا چلانا ان کا ذریعہ معاش تو ہے ہی ، ساتھ ہی ساتھ سماجی خدمت کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔

  • شبانہ کو اس کی ہمت اور سماجی خدمت کے جذبہ کے سبب گزشتہ تین سالوں میں کئی اعزاز سے نوازا جاچکا ہے۔

    شبانہ کو اس کی ہمت اور سماجی خدمت کے جذبہ کے سبب گزشتہ تین سالوں میں کئی اعزاز سے نوازا جاچکا ہے۔

  •  مسلم خاتون ہوکرآٹو رکشا چلانا کہاں تک درست ہے، اس پر شبانہ کہتی ہے کہ مذہب اسلام نے باحجاب رہ کر خاتون کو کام کرنے کی اجازت دی ہے اور ان کا مذہب یا ان کے مذہب کے لوگ کبھی ان کے اس کام کے بیچ دیوار نہیں بنے بلکہ معاشرے میں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، جو ان کے لئے قابل فخر بات ہے ۔

    مسلم خاتون ہوکرآٹو رکشا چلانا کہاں تک درست ہے، اس پر شبانہ کہتی ہے کہ مذہب اسلام نے باحجاب رہ کر خاتون کو کام کرنے کی اجازت دی ہے اور ان کا مذہب یا ان کے مذہب کے لوگ کبھی ان کے اس کام کے بیچ دیوار نہیں بنے بلکہ معاشرے میں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، جو ان کے لئے قابل فخر بات ہے ۔

  • شبانہ کرایہ پر رکشا لے کر چلاتی ہیں ،لیکن ایک خاتون ہونے کی وجہ سے رکشا مالکان ان کو آٹو رکشا کرایہ پر دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس لئے اس کی خواہش ہے کہ حکومت کسی اسکیم کے تحت انہیں قسطوں پر آٹو رکشا دیدے ، تاکہ ان کی  پریشانیاں کم ہوجائیں ۔

    شبانہ کرایہ پر رکشا لے کر چلاتی ہیں ،لیکن ایک خاتون ہونے کی وجہ سے رکشا مالکان ان کو آٹو رکشا کرایہ پر دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس لئے اس کی خواہش ہے کہ حکومت کسی اسکیم کے تحت انہیں قسطوں پر آٹو رکشا دیدے ، تاکہ ان کی پریشانیاں کم ہوجائیں ۔

  • علاقہ ودربھ کی پہلی خاتون آٹو رکشا ڈرائیور شبانہ کو دیکھ کر لوگ بھی اس کی ہمت کی داد دےرہے ہیں ۔

    علاقہ ودربھ کی پہلی خاتون آٹو رکشا ڈرائیور شبانہ کو دیکھ کر لوگ بھی اس کی ہمت کی داد دےرہے ہیں ۔

  • کسی جھجھک کے بغیر شبانہ بڑنیرہ سے امراوتی کے درمیان رکشا چلارہی ہیں ۔ (رپورٹ : قمر قاضی )۔

    کسی جھجھک کے بغیر شبانہ بڑنیرہ سے امراوتی کے درمیان رکشا چلارہی ہیں ۔ (رپورٹ : قمر قاضی )۔

  • سب سے خاص بات یہ ہے 40 سالہ شبانہ پروین حجاب کی پابندی کے ساتھ اپنے کام کو انجام دے رہی ہیں اور اسی کام سے ہی شبانہ پروین نے اپنی علاحدہ شناخت بنالی ہے ، جو  معاشرے میں شبانہ کی عزت و شہرت کا باعث بھی بن رہا ہے ۔
  • شبانہ کے تین بچے ہیں اور تینوں ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ شبانہ کے شوہر عبدالجیل ذیابطیس کے مریض ہیں ۔ بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ مزدوری کرتے ہیں ، مگر ان کی آمدنی افراد خاندان اور بچوں کی پڑھائی کے لئے ناکافی ہے ۔
  • بات بچوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم کی ہو ، تو ہر ماں یہی چاہےگی کہ اس کی اولاد کو کسی قسم کی دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ایسا ہی کچھ اس ماں نے بھی کیا ۔
  • حالات کی ماری شبانہ نے رکشا چلاکر اپنے گذر بسر کرنے میں ہی اپنے اور اپنے اہل و عیال کی بھلائی سمجھی ۔ آٹو رکشا چلاکر اپنا گذر بسر کرنے والی شبانہ کا ماننا ہے کہ آٹو رکشا چلانا ان کا ذریعہ معاش تو ہے ہی ، ساتھ ہی ساتھ سماجی خدمت کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔
  • شبانہ کو اس کی ہمت اور سماجی خدمت کے جذبہ کے سبب گزشتہ تین سالوں میں کئی اعزاز سے نوازا جاچکا ہے۔
  •  مسلم خاتون ہوکرآٹو رکشا چلانا کہاں تک درست ہے، اس پر شبانہ کہتی ہے کہ مذہب اسلام نے باحجاب رہ کر خاتون کو کام کرنے کی اجازت دی ہے اور ان کا مذہب یا ان کے مذہب کے لوگ کبھی ان کے اس کام کے بیچ دیوار نہیں بنے بلکہ معاشرے میں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، جو ان کے لئے قابل فخر بات ہے ۔
  • شبانہ کرایہ پر رکشا لے کر چلاتی ہیں ،لیکن ایک خاتون ہونے کی وجہ سے رکشا مالکان ان کو آٹو رکشا کرایہ پر دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس لئے اس کی خواہش ہے کہ حکومت کسی اسکیم کے تحت انہیں قسطوں پر آٹو رکشا دیدے ، تاکہ ان کی  پریشانیاں کم ہوجائیں ۔
  • علاقہ ودربھ کی پہلی خاتون آٹو رکشا ڈرائیور شبانہ کو دیکھ کر لوگ بھی اس کی ہمت کی داد دےرہے ہیں ۔
  • کسی جھجھک کے بغیر شبانہ بڑنیرہ سے امراوتی کے درمیان رکشا چلارہی ہیں ۔ (رپورٹ : قمر قاضی )۔

تازہ ترین تصاویر