مہاگٹھ بندھن امانت ہے، مضبوط اپوزیشن کی کوشش جاری رہے گی: شرد یادو

Aug 19, 2017 07:46 PM IST
1 of 7
  •  بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کرنے کے بعد مسٹر نتیش کمار کے فیصلے سے باغی ہوئے جنتاد ل یونائٹیڈ کے سابق قومی صدر شرد یادو نے پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے متوازی میں مہاگٹھ بندھن کو امانت بتاتے ہوئے اس کے ٹوٹنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بحران سے دوچارملک اور جمہوریت کو بچانے کے لئے مضبوط اپوزیشن ضروری ہے اور وہ اس سمت میں ’مشترکہ وراثت‘ کے ذریعہ شروع کردہ کوشش کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

    بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کرنے کے بعد مسٹر نتیش کمار کے فیصلے سے باغی ہوئے جنتاد ل یونائٹیڈ کے سابق قومی صدر شرد یادو نے پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے متوازی میں مہاگٹھ بندھن کو امانت بتاتے ہوئے اس کے ٹوٹنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بحران سے دوچارملک اور جمہوریت کو بچانے کے لئے مضبوط اپوزیشن ضروری ہے اور وہ اس سمت میں ’مشترکہ وراثت‘ کے ذریعہ شروع کردہ کوشش کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

  • مسٹر یادو نے آج یہاں شری کرشنا میموریل ہال میں جنتا دل یو کے باغی گروپ کی طرف سے منعقد’ عوامی عدالت کا فیصلہ مہاگٹھ بندھن جاری ہے‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کا قیام امانت کی طرح تھا لیکن یہ بکھر گیا۔ مہاگٹھ بندھن کا بکھرنا کافی افسوس ناک ہے ۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد انہوں نے ملک بھر میں لوگوں سے مل کران کی رائے لی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں لیا اور کہا کہ ان کی لڑائی کسی خاص شخص سے نہیں ہے ۔ وہ نظریہ اور جمہوریت کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

    مسٹر یادو نے آج یہاں شری کرشنا میموریل ہال میں جنتا دل یو کے باغی گروپ کی طرف سے منعقد’ عوامی عدالت کا فیصلہ مہاگٹھ بندھن جاری ہے‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کا قیام امانت کی طرح تھا لیکن یہ بکھر گیا۔ مہاگٹھ بندھن کا بکھرنا کافی افسوس ناک ہے ۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد انہوں نے ملک بھر میں لوگوں سے مل کران کی رائے لی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں لیا اور کہا کہ ان کی لڑائی کسی خاص شخص سے نہیں ہے ۔ وہ نظریہ اور جمہوریت کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

  • جنتا دل کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ملک آج سنگین بحران کے دور سے گذر رہا ہے ۔ آزادی کے ستر سال بعد بھی بہار میں ابھی بھی سیلاب کا مسئلہ برقرار ہے اور اس سے اب تک ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو’جوان‘ بتاتے ہیں جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے لیکن ساٹھ فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں کام نہیں ہونے سے گھر اور باہر انہیں طعنہ سننا پڑتا ہے۔

    جنتا دل کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ملک آج سنگین بحران کے دور سے گذر رہا ہے ۔ آزادی کے ستر سال بعد بھی بہار میں ابھی بھی سیلاب کا مسئلہ برقرار ہے اور اس سے اب تک ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو’جوان‘ بتاتے ہیں جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے لیکن ساٹھ فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں کام نہیں ہونے سے گھر اور باہر انہیں طعنہ سننا پڑتا ہے۔

  • مسٹر یادو نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا برا حال ہوگیا ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ مرکز میں حکمراں جماعت نے ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کے مطابق اب تک چھ کروڑ یا پانچ سال میں دس کروڑ نوجوانوں کو روزگار مل جاتا ۔ اس طرح ہر خاندان میں اگر پانچ شخص بھی ہو تو اس سے ملک کے قریب پچاس کروڑ لوگوں کی زندگی سنور سکتی تھی۔ جنتا دل یو کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ جمہوریت میں سچی باتیں بولنی چاہئے۔ مہاتما گاندھی نے بھی کہا تھا کہ قول اور فعل میں فرق ہو تو جمہوریت نہیں چلے گی۔ آج عوام سے صرف جھوٹے وعدے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسان خودکشی کررہے ہیں اور مذہب کے نام پر قتل ہورہے ہیں۔

    مسٹر یادو نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا برا حال ہوگیا ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ مرکز میں حکمراں جماعت نے ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کے مطابق اب تک چھ کروڑ یا پانچ سال میں دس کروڑ نوجوانوں کو روزگار مل جاتا ۔ اس طرح ہر خاندان میں اگر پانچ شخص بھی ہو تو اس سے ملک کے قریب پچاس کروڑ لوگوں کی زندگی سنور سکتی تھی۔ جنتا دل یو کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ جمہوریت میں سچی باتیں بولنی چاہئے۔ مہاتما گاندھی نے بھی کہا تھا کہ قول اور فعل میں فرق ہو تو جمہوریت نہیں چلے گی۔ آج عوام سے صرف جھوٹے وعدے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسان خودکشی کررہے ہیں اور مذہب کے نام پر قتل ہورہے ہیں۔

  • مسٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کے سامنے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ کسان کبھی خودکشی نہیں کیا کرتے تھے لیکن آج کھیت ہی ان کی موت کا سبب بن گئی ہے ۔ کئی ہزار کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ انہوں نے پونا میں مردہ جانور کی کھال اتارنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جانور کی کھال اتارنے پر مذہب کے نام پر اس شخص کی پٹائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک مذہب سے اور ذات سے نہیں بنا ہے۔ بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر نے آئین تو بنا دیا لیکن اگر اسے نافذ کرنے والے ایماندار نہیں ہیں تو ملک کا بھلا نہیں ہوگا۔

    مسٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کے سامنے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ کسان کبھی خودکشی نہیں کیا کرتے تھے لیکن آج کھیت ہی ان کی موت کا سبب بن گئی ہے ۔ کئی ہزار کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ انہوں نے پونا میں مردہ جانور کی کھال اتارنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جانور کی کھال اتارنے پر مذہب کے نام پر اس شخص کی پٹائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک مذہب سے اور ذات سے نہیں بنا ہے۔ بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر نے آئین تو بنا دیا لیکن اگر اسے نافذ کرنے والے ایماندار نہیں ہیں تو ملک کا بھلا نہیں ہوگا۔

  •   جنتا دل یو ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ بہار میں گٹھ بندھن تھا جو اب بکھر گیا لیکن ان کی کسی سے شکایت نہیں یہ۔ ملک میں کئی بڑے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب وہ مدھے پورا سے لوک سبا کا الیکشن ہارے تھے تبھی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ ایسی طاقتوں کو روکنے کے لئے مہاگٹھ بندھن بنانا ضروری ہے ۔ اس پر مسٹر نتیشن کمار نے بھی اتفاق کیا تھا اور اس کے بعد مہاگٹھ بندھن بناتھا۔جس میں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یو شامل ہوئی۔ مسٹر یادو نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مہاگٹھ بندھن بننے کے بعد بہار میں بی جے پی کے کامیابی کے رتھ کو روک دیا گیا۔ ریاست کے لوگوں نے دو تہائی اکثریت سے مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کو الیکشن میں کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن بننے کے بعد ملک بھر میں اس کا چرچا ہورہا تھا لیکن آج صورت حال مختلف ہوگئی ہے۔ گٹھ بندھن توڑ کر اب سرکاری پارٹی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی یہ خوبی ہے کہ اپوزیشن مضبوط رہے تبھی تمام لوگوں کا بھلا ہوگا۔

    جنتا دل یو ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ بہار میں گٹھ بندھن تھا جو اب بکھر گیا لیکن ان کی کسی سے شکایت نہیں یہ۔ ملک میں کئی بڑے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب وہ مدھے پورا سے لوک سبا کا الیکشن ہارے تھے تبھی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ ایسی طاقتوں کو روکنے کے لئے مہاگٹھ بندھن بنانا ضروری ہے ۔ اس پر مسٹر نتیشن کمار نے بھی اتفاق کیا تھا اور اس کے بعد مہاگٹھ بندھن بناتھا۔جس میں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یو شامل ہوئی۔ مسٹر یادو نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مہاگٹھ بندھن بننے کے بعد بہار میں بی جے پی کے کامیابی کے رتھ کو روک دیا گیا۔ ریاست کے لوگوں نے دو تہائی اکثریت سے مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کو الیکشن میں کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن بننے کے بعد ملک بھر میں اس کا چرچا ہورہا تھا لیکن آج صورت حال مختلف ہوگئی ہے۔ گٹھ بندھن توڑ کر اب سرکاری پارٹی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی یہ خوبی ہے کہ اپوزیشن مضبوط رہے تبھی تمام لوگوں کا بھلا ہوگا۔

  •   جنتاد ل یو کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ گٹھ بندھن لوگوں کے دلوں میں قائم رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد جب وہ بہار میں لوگوں سے جن سمواد پروگرام کے لئے نکلے تو ان کے ساتھ سابق وزیر رمئی رام، سابق ممبر پارلیمنٹ ارجن رائے سمیت کئی لوگوں کوپارٹی سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں بھی جنتا دل یو سے بے گھر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر جنتا دل یو کے باغی راجیہ سبھا رکن علی انور ، سابق وزیر پروین امان اللہ ، رام دھنی سنگھ، رمئی رام، ارجن رائے، رام دیو یادو ، سابق ممبر پارلیمنٹ راج ونشی مہتو، سابق ممبر اسمبلی پرمیشوری پرساد نرالا اور پارٹی معطل قومی جنرل سکریٹری ارون سریواستو نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔

    جنتاد ل یو کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ گٹھ بندھن لوگوں کے دلوں میں قائم رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد جب وہ بہار میں لوگوں سے جن سمواد پروگرام کے لئے نکلے تو ان کے ساتھ سابق وزیر رمئی رام، سابق ممبر پارلیمنٹ ارجن رائے سمیت کئی لوگوں کوپارٹی سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں بھی جنتا دل یو سے بے گھر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر جنتا دل یو کے باغی راجیہ سبھا رکن علی انور ، سابق وزیر پروین امان اللہ ، رام دھنی سنگھ، رمئی رام، ارجن رائے، رام دیو یادو ، سابق ممبر پارلیمنٹ راج ونشی مہتو، سابق ممبر اسمبلی پرمیشوری پرساد نرالا اور پارٹی معطل قومی جنرل سکریٹری ارون سریواستو نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔

  • مسٹر یادو نے آج یہاں شری کرشنا میموریل ہال میں جنتا دل یو کے باغی گروپ کی طرف سے منعقد’ عوامی عدالت کا فیصلہ مہاگٹھ بندھن جاری ہے‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کا قیام امانت کی طرح تھا لیکن یہ بکھر گیا۔ مہاگٹھ بندھن کا بکھرنا کافی افسوس ناک ہے ۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد انہوں نے ملک بھر میں لوگوں سے مل کران کی رائے لی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں لیا اور کہا کہ ان کی لڑائی کسی خاص شخص سے نہیں ہے ۔ وہ نظریہ اور جمہوریت کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
  • جنتا دل کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ملک آج سنگین بحران کے دور سے گذر رہا ہے ۔ آزادی کے ستر سال بعد بھی بہار میں ابھی بھی سیلاب کا مسئلہ برقرار ہے اور اس سے اب تک ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو’جوان‘ بتاتے ہیں جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے لیکن ساٹھ فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں کام نہیں ہونے سے گھر اور باہر انہیں طعنہ سننا پڑتا ہے۔
  • مسٹر یادو نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا برا حال ہوگیا ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ مرکز میں حکمراں جماعت نے ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کے مطابق اب تک چھ کروڑ یا پانچ سال میں دس کروڑ نوجوانوں کو روزگار مل جاتا ۔ اس طرح ہر خاندان میں اگر پانچ شخص بھی ہو تو اس سے ملک کے قریب پچاس کروڑ لوگوں کی زندگی سنور سکتی تھی۔ جنتا دل یو کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ جمہوریت میں سچی باتیں بولنی چاہئے۔ مہاتما گاندھی نے بھی کہا تھا کہ قول اور فعل میں فرق ہو تو جمہوریت نہیں چلے گی۔ آج عوام سے صرف جھوٹے وعدے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسان خودکشی کررہے ہیں اور مذہب کے نام پر قتل ہورہے ہیں۔
  • مسٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کے سامنے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ کسان کبھی خودکشی نہیں کیا کرتے تھے لیکن آج کھیت ہی ان کی موت کا سبب بن گئی ہے ۔ کئی ہزار کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ انہوں نے پونا میں مردہ جانور کی کھال اتارنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جانور کی کھال اتارنے پر مذہب کے نام پر اس شخص کی پٹائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک مذہب سے اور ذات سے نہیں بنا ہے۔ بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر نے آئین تو بنا دیا لیکن اگر اسے نافذ کرنے والے ایماندار نہیں ہیں تو ملک کا بھلا نہیں ہوگا۔
  •   جنتا دل یو ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ بہار میں گٹھ بندھن تھا جو اب بکھر گیا لیکن ان کی کسی سے شکایت نہیں یہ۔ ملک میں کئی بڑے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب وہ مدھے پورا سے لوک سبا کا الیکشن ہارے تھے تبھی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ ایسی طاقتوں کو روکنے کے لئے مہاگٹھ بندھن بنانا ضروری ہے ۔ اس پر مسٹر نتیشن کمار نے بھی اتفاق کیا تھا اور اس کے بعد مہاگٹھ بندھن بناتھا۔جس میں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یو شامل ہوئی۔ مسٹر یادو نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مہاگٹھ بندھن بننے کے بعد بہار میں بی جے پی کے کامیابی کے رتھ کو روک دیا گیا۔ ریاست کے لوگوں نے دو تہائی اکثریت سے مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کو الیکشن میں کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن بننے کے بعد ملک بھر میں اس کا چرچا ہورہا تھا لیکن آج صورت حال مختلف ہوگئی ہے۔ گٹھ بندھن توڑ کر اب سرکاری پارٹی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی یہ خوبی ہے کہ اپوزیشن مضبوط رہے تبھی تمام لوگوں کا بھلا ہوگا۔
  •   جنتاد ل یو کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ گٹھ بندھن لوگوں کے دلوں میں قائم رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد جب وہ بہار میں لوگوں سے جن سمواد پروگرام کے لئے نکلے تو ان کے ساتھ سابق وزیر رمئی رام، سابق ممبر پارلیمنٹ ارجن رائے سمیت کئی لوگوں کوپارٹی سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں بھی جنتا دل یو سے بے گھر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر جنتا دل یو کے باغی راجیہ سبھا رکن علی انور ، سابق وزیر پروین امان اللہ ، رام دھنی سنگھ، رمئی رام، ارجن رائے، رام دیو یادو ، سابق ممبر پارلیمنٹ راج ونشی مہتو، سابق ممبر اسمبلی پرمیشوری پرساد نرالا اور پارٹی معطل قومی جنرل سکریٹری ارون سریواستو نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔

تازہ ترین تصاویر