کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ منقطع، پہاڑی سے پھسلنے کے باعث 5 فوجی اہلکار لاپتہ

Dec 12, 2017 07:54 PM IST
1 of 8
  •  برف باری  اور بارش کے باعث وادی کا بیرون دنیا سے زمینی رابطہ منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی منقطع رہا۔ تین سو کلو میٹر طویل سری نگر جموں قومی شاہراہ اور 86 کلو میٹر طویل مغل روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت دوسرے دن بھی معطل رہی۔ دوسری جانب شمالی کشمیر کے درجنوں دوردراز علاقے بدستور اپنے ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹروں سے کٹے ہوئے ہیں۔ خطہ لداخ کو سری نگر سے جوڑنے والی قومی شاہراہ 10 دسمبر کو موسم سرما کے مہینوں کے لئے گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کی گئی۔

    برف باری اور بارش کے باعث وادی کا بیرون دنیا سے زمینی رابطہ منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی منقطع رہا۔ تین سو کلو میٹر طویل سری نگر جموں قومی شاہراہ اور 86 کلو میٹر طویل مغل روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت دوسرے دن بھی معطل رہی۔ دوسری جانب شمالی کشمیر کے درجنوں دوردراز علاقے بدستور اپنے ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹروں سے کٹے ہوئے ہیں۔ خطہ لداخ کو سری نگر سے جوڑنے والی قومی شاہراہ 10 دسمبر کو موسم سرما کے مہینوں کے لئے گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کی گئی۔

  • ایک ٹریفک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بدستور معطل ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات بشمول جواہر ٹنل، قاضی گنڈ اور شیطان نالہ کے نذدیک قریب ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوگئی ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن (بی آر او) نے اسے آمدورفت کے قابل بنانے کے لئے اپنی مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگادیا ہے۔

    ایک ٹریفک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بدستور معطل ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات بشمول جواہر ٹنل، قاضی گنڈ اور شیطان نالہ کے نذدیک قریب ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوگئی ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن (بی آر او) نے اسے آمدورفت کے قابل بنانے کے لئے اپنی مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگادیا ہے۔

  • انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کردی جائے گی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ کے دونوں اطراف سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہوکر رہ گئی ہیں جن میں زیادہ تعداد ٹرکوں کی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کردی جائے گی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ کے دونوں اطراف سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہوکر رہ گئی ہیں جن میں زیادہ تعداد ٹرکوں کی ہے۔

  • جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ اضلاع سے جوڑنے والے تاریخی مغل کو بھی مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’مغل روڑ منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔

    جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ اضلاع سے جوڑنے والے تاریخی مغل کو بھی مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’مغل روڑ منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔

  •  پیر کی گلی اور دوسرے مقامات پر درمیانہ سے بھاری درجے کی برف باری کے بعد اس روڑ کو پیر کے روز گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا تھا‘۔ شدید برف باری کے باعث شمالی کشمیر کے بیشتر بالائی علاقوں کا اپنے ضلعی اور تحصیل ہیدکوارٹروں سے رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔

    پیر کی گلی اور دوسرے مقامات پر درمیانہ سے بھاری درجے کی برف باری کے بعد اس روڑ کو پیر کے روز گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا تھا‘۔ شدید برف باری کے باعث شمالی کشمیر کے بیشتر بالائی علاقوں کا اپنے ضلعی اور تحصیل ہیدکوارٹروں سے رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔

  • وہیں، شمالی کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 فوجی اہلکار برف کا تودہ گرنے جبکہ 2 دیگر پہاڑی سے پھسلنے کے باعث لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اس دوران ضلع بانڈی پورہ کے سرحدی قصبہ گریز میں ایک آرمی پورٹر پہاڑی سے پھسلنے کے باعث جاں بحق ہوگیا۔

    وہیں، شمالی کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 فوجی اہلکار برف کا تودہ گرنے جبکہ 2 دیگر پہاڑی سے پھسلنے کے باعث لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اس دوران ضلع بانڈی پورہ کے سرحدی قصبہ گریز میں ایک آرمی پورٹر پہاڑی سے پھسلنے کے باعث جاں بحق ہوگیا۔

  • وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا کہ باگٹو گریز میں واقع فوج کی منی پوسٹ گذشتہ رات برفانی تودے کی زد میں آگئی۔ انہوں نے بتایا ’چوکی میں موجود تین اہلکار برفانی تودے کے ملبے تلے دب گئے ہیں‘۔

    وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا کہ باگٹو گریز میں واقع فوج کی منی پوسٹ گذشتہ رات برفانی تودے کی زد میں آگئی۔ انہوں نے بتایا ’چوکی میں موجود تین اہلکار برفانی تودے کے ملبے تلے دب گئے ہیں‘۔

  • دفاعی ترجمان نے بتایا کہ لاپتہ فوجی اہلکاروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے علاقہ میں بچاؤ مہم شروع کی گئی ہے، جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔  انہوں نے بتایا ’ایک الگ واقعہ میں ضلع کپواڑہ کے نوگام سیکٹر میں ایک فوجی گشتی پارٹی میں شامل دو فوجی اہلکار پہاڑی سے پھسل کر لاپتہ ہوگئے۔ انہیں ڈھونڈ نکالنے کی کوششیں جاری ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ رواں برس کے 25 جنوری کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں دو فوجی چوکیوں اور فوج کی ایک گشتی پارٹی کے بھاری برکم برفانی تودوں کی زد میں آنے سے کم از کم 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    دفاعی ترجمان نے بتایا کہ لاپتہ فوجی اہلکاروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے علاقہ میں بچاؤ مہم شروع کی گئی ہے، جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔ انہوں نے بتایا ’ایک الگ واقعہ میں ضلع کپواڑہ کے نوگام سیکٹر میں ایک فوجی گشتی پارٹی میں شامل دو فوجی اہلکار پہاڑی سے پھسل کر لاپتہ ہوگئے۔ انہیں ڈھونڈ نکالنے کی کوششیں جاری ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ رواں برس کے 25 جنوری کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں دو فوجی چوکیوں اور فوج کی ایک گشتی پارٹی کے بھاری برکم برفانی تودوں کی زد میں آنے سے کم از کم 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

  • ایک ٹریفک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بدستور معطل ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات بشمول جواہر ٹنل، قاضی گنڈ اور شیطان نالہ کے نذدیک قریب ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوگئی ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن (بی آر او) نے اسے آمدورفت کے قابل بنانے کے لئے اپنی مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگادیا ہے۔
  • انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کردی جائے گی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ کے دونوں اطراف سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہوکر رہ گئی ہیں جن میں زیادہ تعداد ٹرکوں کی ہے۔
  • جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ اضلاع سے جوڑنے والے تاریخی مغل کو بھی مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’مغل روڑ منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا۔
  •  پیر کی گلی اور دوسرے مقامات پر درمیانہ سے بھاری درجے کی برف باری کے بعد اس روڑ کو پیر کے روز گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا تھا‘۔ شدید برف باری کے باعث شمالی کشمیر کے بیشتر بالائی علاقوں کا اپنے ضلعی اور تحصیل ہیدکوارٹروں سے رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔
  • وہیں، شمالی کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 فوجی اہلکار برف کا تودہ گرنے جبکہ 2 دیگر پہاڑی سے پھسلنے کے باعث لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اس دوران ضلع بانڈی پورہ کے سرحدی قصبہ گریز میں ایک آرمی پورٹر پہاڑی سے پھسلنے کے باعث جاں بحق ہوگیا۔
  • وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا کہ باگٹو گریز میں واقع فوج کی منی پوسٹ گذشتہ رات برفانی تودے کی زد میں آگئی۔ انہوں نے بتایا ’چوکی میں موجود تین اہلکار برفانی تودے کے ملبے تلے دب گئے ہیں‘۔
  • دفاعی ترجمان نے بتایا کہ لاپتہ فوجی اہلکاروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے علاقہ میں بچاؤ مہم شروع کی گئی ہے، جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔  انہوں نے بتایا ’ایک الگ واقعہ میں ضلع کپواڑہ کے نوگام سیکٹر میں ایک فوجی گشتی پارٹی میں شامل دو فوجی اہلکار پہاڑی سے پھسل کر لاپتہ ہوگئے۔ انہیں ڈھونڈ نکالنے کی کوششیں جاری ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ رواں برس کے 25 جنوری کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں دو فوجی چوکیوں اور فوج کی ایک گشتی پارٹی کے بھاری برکم برفانی تودوں کی زد میں آنے سے کم از کم 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

تازہ ترین تصاویر