آکولہ :25 سالوں سے بلا مذہب و ملت مریضوں کی خدمت انجام دے رہے ہیں ناصر بھائی

Apr 27, 2017 11:00 PM IST
1 of 10
  • دنیا میں اپنوں کے لئے ہر کوئی جیتا ہے ، لیکن دوسروں کے لئے جینے میں جو مزہ آتا ہے ، اسکو بیاں نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ جذبہ بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔  مہاراشٹر کےآکولہ کے ایک ایسے ہی شخص نے اپنی زندگی دوسروں کے لئے وقف کردی ہے ۔ آکولہ شہر میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ناصر بھائی کو نہ جانتا ہو۔

    دنیا میں اپنوں کے لئے ہر کوئی جیتا ہے ، لیکن دوسروں کے لئے جینے میں جو مزہ آتا ہے ، اسکو بیاں نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ جذبہ بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مہاراشٹر کےآکولہ کے ایک ایسے ہی شخص نے اپنی زندگی دوسروں کے لئے وقف کردی ہے ۔ آکولہ شہر میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ناصر بھائی کو نہ جانتا ہو۔

  • ناصر بھائی آکولہ کے سرکاری اسپتال میں گزشتہ 25 سالوں سے بلا تفریق مذہب و ملت ایک خادم بن کر مریضوں کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ آج کی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں انسان دوسروں کے لئے تو چھوڑیئے اپنوں کے لئے بھی وقت نہیں دے پا رہا ہے۔ ایسے میں غریب اور ضرورت مند مریضوں کا خادم بن کر خدمت کرنے کا ناصر بھائی کا جذبہ واقعی قابل ستائش ہے۔

    ناصر بھائی آکولہ کے سرکاری اسپتال میں گزشتہ 25 سالوں سے بلا تفریق مذہب و ملت ایک خادم بن کر مریضوں کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ آج کی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں انسان دوسروں کے لئے تو چھوڑیئے اپنوں کے لئے بھی وقت نہیں دے پا رہا ہے۔ ایسے میں غریب اور ضرورت مند مریضوں کا خادم بن کر خدمت کرنے کا ناصر بھائی کا جذبہ واقعی قابل ستائش ہے۔

  • آکولہ کے ضلع کا سرکاری اسپتال مہنگے علاج کا خرچ برداشت نہ کرنے والےغریب لوگوں کیلئے فقط ایک آسرا ہے ۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے یہاں مریض اسی امید کے ساتھ یہاں آتے ہیں کہ ان کے مرض کا بہترعلاج یہاں ہوگا۔ یہی وجہ کہ ریاست میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں جو سرکاری اسپتال مشہور ہیں ،  ان میں سے ایک آکولہ کا یہ سرکاری اسپتال بھی ہے ۔

    آکولہ کے ضلع کا سرکاری اسپتال مہنگے علاج کا خرچ برداشت نہ کرنے والےغریب لوگوں کیلئے فقط ایک آسرا ہے ۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے یہاں مریض اسی امید کے ساتھ یہاں آتے ہیں کہ ان کے مرض کا بہترعلاج یہاں ہوگا۔ یہی وجہ کہ ریاست میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں جو سرکاری اسپتال مشہور ہیں ، ان میں سے ایک آکولہ کا یہ سرکاری اسپتال بھی ہے ۔

  • اسی اسپتال میں مریضوں کا خادم بن کر کام کرنا والا ایک شخص ناصر بھائی سبھی کی نظروں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ ناصربھائی غریبوں اور ضرورت مند لوگوں کی رات دن خدمت کرتے رہتے ہیں ۔

    اسی اسپتال میں مریضوں کا خادم بن کر کام کرنا والا ایک شخص ناصر بھائی سبھی کی نظروں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ ناصربھائی غریبوں اور ضرورت مند لوگوں کی رات دن خدمت کرتے رہتے ہیں ۔

  • ذات پات اورمذہب کو درکنار رکھ کر صرف انسانیت کو ترجیح دینے والے ناصر بھائی میں مریضوں کو مسیحا نظر آتا ہے۔ کوئی بھی مریض خواہ پھر وہ جانکار ہو یا انجانا ، اگرناصر بھائی کولگتا ہےکہ اس مریض کاعلاج ٹھیک سے نہیں ہو پا رہا ہے ، تو اس کے لئے وہ خون کے رشتوں سے بھی زیادہ جدوجہد کرتے ہیں اور جب تک مریض تندرست ہوکر گھر نہیں جاتا ، جب تک ناصر بھائی بے چین سے رہتے ہیں ۔

    ذات پات اورمذہب کو درکنار رکھ کر صرف انسانیت کو ترجیح دینے والے ناصر بھائی میں مریضوں کو مسیحا نظر آتا ہے۔ کوئی بھی مریض خواہ پھر وہ جانکار ہو یا انجانا ، اگرناصر بھائی کولگتا ہےکہ اس مریض کاعلاج ٹھیک سے نہیں ہو پا رہا ہے ، تو اس کے لئے وہ خون کے رشتوں سے بھی زیادہ جدوجہد کرتے ہیں اور جب تک مریض تندرست ہوکر گھر نہیں جاتا ، جب تک ناصر بھائی بے چین سے رہتے ہیں ۔

  •  گزشتہ 25 سالوں سے صبح کے نو بجے سے ہی ناصر بھائی مریضوں کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں ۔ پھر اس کام کے لئے انھیں رات بھی ہو جاتی ہے ، تو کبھی دوسرا دن بھی نکل آتا ہے۔ لیکن اسکے باوجود ناصر بھائی کی چہرے پر تھکان نظر آتی اور نہ کسی پر احسان کرنے کا احساس دکھائی دیتا ہے۔

    گزشتہ 25 سالوں سے صبح کے نو بجے سے ہی ناصر بھائی مریضوں کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں ۔ پھر اس کام کے لئے انھیں رات بھی ہو جاتی ہے ، تو کبھی دوسرا دن بھی نکل آتا ہے۔ لیکن اسکے باوجود ناصر بھائی کی چہرے پر تھکان نظر آتی اور نہ کسی پر احسان کرنے کا احساس دکھائی دیتا ہے۔

  • اسپتال میں مریضوں کو خون کی معلومات ہو یا پھر اسپتال کے مختلف محکموں کی معلومات ، ان سب سوالوں کا ناصر بھائی کے پاس تسلی بخش جواب ہوتا ہے۔

    اسپتال میں مریضوں کو خون کی معلومات ہو یا پھر اسپتال کے مختلف محکموں کی معلومات ، ان سب سوالوں کا ناصر بھائی کے پاس تسلی بخش جواب ہوتا ہے۔

  • علاج مکمل ہونے کے بعد کئی غریب مریضوں کے پاس گھر جانے لیے پیسے نہیں بچتے ، تو اس کا حل نکالنے کے لئے پائی پائی جمع کرکے ناصر بھائی نے تین سال قبل قسطوں پر ایک آٹو خریدا ، جس سے تندرست مریض کو اس کے گھر چھوڑتے ہیں اور اس خوشی کا احساس ان کے چہرے پر جھلکتا ہے۔

    علاج مکمل ہونے کے بعد کئی غریب مریضوں کے پاس گھر جانے لیے پیسے نہیں بچتے ، تو اس کا حل نکالنے کے لئے پائی پائی جمع کرکے ناصر بھائی نے تین سال قبل قسطوں پر ایک آٹو خریدا ، جس سے تندرست مریض کو اس کے گھر چھوڑتے ہیں اور اس خوشی کا احساس ان کے چہرے پر جھلکتا ہے۔

  • ناصر بھائی نے مریضوں کے لیے اسپتال کے اعلیٰ افسران سے کئی مرتبہ لڑائی تک کی ہے۔

    ناصر بھائی نے مریضوں کے لیے اسپتال کے اعلیٰ افسران سے کئی مرتبہ لڑائی تک کی ہے۔

  • نماز اور روزہ کے پابند ناصر بھائی آکولہ کے آکوٹ فیل کی ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے کمزور ناصر بھائی خدمت خلق کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ خدمت خلق بھی ایک عبادت ہے اورمریضوں کی دعاوں سے ہی ان کا گھر چلتا ہے۔ (تصاویر اور رپورٹ : قمر قاضی )۔

    نماز اور روزہ کے پابند ناصر بھائی آکولہ کے آکوٹ فیل کی ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے کمزور ناصر بھائی خدمت خلق کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ خدمت خلق بھی ایک عبادت ہے اورمریضوں کی دعاوں سے ہی ان کا گھر چلتا ہے۔ (تصاویر اور رپورٹ : قمر قاضی )۔

  • ناصر بھائی آکولہ کے سرکاری اسپتال میں گزشتہ 25 سالوں سے بلا تفریق مذہب و ملت ایک خادم بن کر مریضوں کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ آج کی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں انسان دوسروں کے لئے تو چھوڑیئے اپنوں کے لئے بھی وقت نہیں دے پا رہا ہے۔ ایسے میں غریب اور ضرورت مند مریضوں کا خادم بن کر خدمت کرنے کا ناصر بھائی کا جذبہ واقعی قابل ستائش ہے۔
  • آکولہ کے ضلع کا سرکاری اسپتال مہنگے علاج کا خرچ برداشت نہ کرنے والےغریب لوگوں کیلئے فقط ایک آسرا ہے ۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے یہاں مریض اسی امید کے ساتھ یہاں آتے ہیں کہ ان کے مرض کا بہترعلاج یہاں ہوگا۔ یہی وجہ کہ ریاست میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں جو سرکاری اسپتال مشہور ہیں ،  ان میں سے ایک آکولہ کا یہ سرکاری اسپتال بھی ہے ۔
  • اسی اسپتال میں مریضوں کا خادم بن کر کام کرنا والا ایک شخص ناصر بھائی سبھی کی نظروں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ ناصربھائی غریبوں اور ضرورت مند لوگوں کی رات دن خدمت کرتے رہتے ہیں ۔
  • ذات پات اورمذہب کو درکنار رکھ کر صرف انسانیت کو ترجیح دینے والے ناصر بھائی میں مریضوں کو مسیحا نظر آتا ہے۔ کوئی بھی مریض خواہ پھر وہ جانکار ہو یا انجانا ، اگرناصر بھائی کولگتا ہےکہ اس مریض کاعلاج ٹھیک سے نہیں ہو پا رہا ہے ، تو اس کے لئے وہ خون کے رشتوں سے بھی زیادہ جدوجہد کرتے ہیں اور جب تک مریض تندرست ہوکر گھر نہیں جاتا ، جب تک ناصر بھائی بے چین سے رہتے ہیں ۔
  •  گزشتہ 25 سالوں سے صبح کے نو بجے سے ہی ناصر بھائی مریضوں کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں ۔ پھر اس کام کے لئے انھیں رات بھی ہو جاتی ہے ، تو کبھی دوسرا دن بھی نکل آتا ہے۔ لیکن اسکے باوجود ناصر بھائی کی چہرے پر تھکان نظر آتی اور نہ کسی پر احسان کرنے کا احساس دکھائی دیتا ہے۔
  • اسپتال میں مریضوں کو خون کی معلومات ہو یا پھر اسپتال کے مختلف محکموں کی معلومات ، ان سب سوالوں کا ناصر بھائی کے پاس تسلی بخش جواب ہوتا ہے۔
  • علاج مکمل ہونے کے بعد کئی غریب مریضوں کے پاس گھر جانے لیے پیسے نہیں بچتے ، تو اس کا حل نکالنے کے لئے پائی پائی جمع کرکے ناصر بھائی نے تین سال قبل قسطوں پر ایک آٹو خریدا ، جس سے تندرست مریض کو اس کے گھر چھوڑتے ہیں اور اس خوشی کا احساس ان کے چہرے پر جھلکتا ہے۔
  • ناصر بھائی نے مریضوں کے لیے اسپتال کے اعلیٰ افسران سے کئی مرتبہ لڑائی تک کی ہے۔
  • نماز اور روزہ کے پابند ناصر بھائی آکولہ کے آکوٹ فیل کی ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے کمزور ناصر بھائی خدمت خلق کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ خدمت خلق بھی ایک عبادت ہے اورمریضوں کی دعاوں سے ہی ان کا گھر چلتا ہے۔ (تصاویر اور رپورٹ : قمر قاضی )۔

تازہ ترین تصاویر